نوع نہم:اگر ولی نے نمازپڑھ لی اور سلطان وحکام کہ اس سے اولٰی ہیں بعد کو آئے اب وہ بھی بالاتفاق اعادہ نہیں کرسکتے، ہاں اگر وہ موجود تھے اوراُن کے بے اذن ولی نے پڑھ لی اور وہ شریک نہ ہوئے تو ایک جماعت علماء کے نزدیک انہیں اختیار اعادہ ہے۔
وھومحمل مافی الدرعن المجتبٰی و فی النھایۃ والجوھرۃ ثم الہندیۃ والطحطاوی وفی العنایۃ والبرجندی عن النھایۃ وفی الفاتح شرح القدوری وفی ابی سعید علی الدررعن المجتبٰی وغیرہ۔
یہی اس کلام کا مطلب ہے جودرمختار میں مجتبٰی سےمنقول ہے، اورنہایہ، جوہرہ پھر ہندیہ اورطحطاوی میں ہے اور عنایہ وبرجندی میں نہایہ کے حوالے سے ہے، اورفاتح شرح قدوری میں ہے اورحاشیہ ابو سعید علی الدرر میں مجتبی وغیرہ سے منقول ہے۔(ت)
اور ایک جماعت علماء کے نزدیک اب بھی سلطان وغیرہ کسی کو اختیارِ اعادہ نہیں،معراج الدرایہ میں اسی کی تائید کی، ردالمحتار میں اسی کو ترجیح دی۔ اور یہی ظاہر اطلاق متون اور ظاہراً من حیث الدلیل اقوٰی ہے تو حاصل یہ ٹھہرا کہ سلطان نے پڑھ لی تو و لی نہیں پڑھ سکتا ولی نے پڑھ لی تو سلطان نہیں پڑھ سکتا، غرض ہر طرح اعادہ وتکرار کا دروازہ بندفرماتے ہیں:
(۱۳۶) غایۃ البیان شرح الہدایہ للعلامۃ الاتقانی میں ہے :
ھذا علٰی سبیل العموم حتی لا تجو ز الاعادۃ لالسلطان ولا لغیرہ۱؎۔
یعنی ولی کے بعد کسی کو نماز کی اجازت نہ ہونے کا حکم عام ہے یہاں تک کہ پھر سلطان وغیرہ کسی کو اعادہ جائز نہیں۔
(۱؎ ردالمحتاربحوالہ غایۃ البیان باب صلٰوۃ الجنائز دارالطباعۃ المصریہ مصر ۱ /۵۹۲)
(۱۳۷)صغیری میں ہے:
ان صلی ھوفلیس لغیرہ ان یصلی بعدہ من السلطان فمن دونہ۲؎۔
ولی پڑھ لے تو پھر کسی کو پڑھنے کا حق نہیں سلطان ہو یا اور کوئی ۔
(۲؎ صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۸۹)
سراج وہاج شرح قدوری میں ہے :
من صلی الولی علیہ لم یجز ان یصلی احد بعدہ سلطانا کا ن او غیرہ ۳
ولی کے بعد کسی کو نمازجائز نہیں سلطان ہو یا اس کا غیر ۔
(۳؎ بحرالرائق بحوالہ سراج الوہاج فصل السلطان احق بصلٰوتہٖ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۸۲)
(۱۳۹و ۱۴۰) ابوالسعود میں نافع وغیرہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا:
اطلق فی الغیر فعم السلطان فمفادہ عدم اعادۃ السلطان بعد صلٰوۃ الولی وبہ جزم فی السراج وغایۃ البیان والنافع۱؎۔
کنز میں امام ماتن نے غیرکو مطلق رکھا جو سلطان کو بھی شامل ،تواس کا مفادیہ ہے کہ ولی کے بعد سلطان بھی اعادہ نہ کرے، اوراسی پر حدادی و اتقانی ونافع نے جزم کیا۔
(۱؎ فتح المعین علٰی شرح ملامسکین فصل فی الصلٰوۃ علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۵۳)
(۱۴۱)مستصفی للامام النسفی(۱۴۲) شلبی علی الکنز میں ہے :
الحق الی الاولیاء حیث قال لیس لاحد بعدہ الاعادۃ بطریق العموم سلطانا کان اوغیرہ۲؎۔
اصل حق ولی کا ہے ولہذا ماتن یعنی صاحب الفقہ النافع نے عام فرمایا کہ ولی کے بعد کسی کو اعادہ کا اختیار نہیں،سلطان ہو یا کوئی۔
(۲؎ شلبی علی الکنز علی ہامش تبیین الحقائق فصل السلطان احق بصلوٰتہ ٖ مطبعۃ کبرٰی امیریہ مصر ۱ /۲۳۸)
(۱۴۳و ۱۴۴) ردالمحتار میں معراج الدرایہ وغیرہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا :
اذا صلی الولی فھل لمن قبلہ کالسلطان حق الاعادۃ،فی السراج والمستصفی لاویدل علی ھذا قول الھدایۃ ان صلی الولی لم یجز لاحد ان یصلی بعدہ ونحوہ فی الکنز وغیرہ فقولہ لم یجزلاحدیشمل السلطان ونقل فی المعراج عن النافع (عہ)لیس للسلطان الاعاۃ ثم اید روایۃ النافع۳؎ اھ ملخصا۔
کیا ولی کے بعد سلطان وغیرہ جواس سے مقدم ہیں اعادہ کا حق رکھتے ہیں،سراج و مستصفی میں منع فرمایا۔ اور ہدایہ کاقول اس پر دلیل ہے کہ فرمایا ولی کے بعد کسی کو جائزنہیں ،اور یونہی کنزوغیرہ میں ہے، کسی میں سلطان بھی آگیا،اور معراج میں منافع سے سلطان کومنع اعادہ نقل کرکے اس کی تائید فرمائی۔
(۳؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبعۃ کبرٰی امیریہ مصر ۱ /۹۲-۵۹۱)
عہ : المنافع ھذاھوالمستصفی للامام اجل ابی البرکات النسفی شرح الفقہ النافع الشہیر بالنافع للامام ناصرالدین ابی القاسم المدنی السمرقندی وقد قال رحمہ اﷲ تعالٰی فی اٰخرکتابہ المصفی شرح المنظومۃ النسفیۃ لما فرغت من جمع المنافع واملائہ وھوالمستصفٰی سألنی بعض اخوانی ان اجمع للمنظومۃ شرحا مشتملا علی الدقائق فشرحتہا وسمیتہ المصفی فظھران المستصفٰی والمنافع شیئ واحد وھوشرح النافع، والمصفی غیرہ وھوشرح المنظومۃ فلیس عین المستصفی ولا اختصارہ ،ولا المستصفی شرح المنظومۃ وقد وقع ھھناغلط من العلامۃ الکاتبی فی کشف الظنون فتنبہ ومن اشد العجب ان استدل ماادعاہ من المستصفی شرح المنظومۃ وان المصفی اختصارہ بمامرمن کلامہ رحمہ اﷲتعالٰی فی اٰخرالمصفی مع انہ شاھد باعلی نداء علٰی نقیض ماادعاہ ثم اعاد ذکرالمستصفی فی النافع فجعلہ شرحہ علی الصواب وذکر قیلا انہ المصفی ولیس بالصواب فاعلم ۱۲منہ (م)
منافع ،یہی امام اجل ابوالبرکات نسفی کی مستصفٰی ہے جوامام ناصرالدین ابولقاسم مدنی سمرقندی کی کتاب ''الفقہ النافع''مشہور بَہ''نافع'' کی شرح ہے۔امام نسفی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ نے اپنی کتاب ''المصفی شرح منظومہ نسفیۃ '' کے آخر میں لکھا ہے کہ: جب میں منافع –وہی مستصفٰی ہے --کی تالیف واملاسے فارغ ہُواتو بعض عزیزوں نے مجھ سے چاہا کہ منظومہ کی ایک ایسی شرح لکھ دُوں جو اس کے دقائق کے بیان پر مشتمل ہو، تو میں نے منظومہ کی شرح لکھی اوراس کا نام ''مصفّی''رکھا--اس عبارت سے واضح ہے کہ مستصفی اور منافع ایک ہی ہیں اور یہ''نافع'' کی شرح ہے ، اورمصفی دوسری کتاب ہے وہ منظومہ کی شرح ہے بعینہٖ مستصفی یاا س کا اختصار نہیں ہے۔نہ ہی مستصفٰی، منظومہ کی شرح ہے۔--یہاں کشف الظنون میں علامہ کاتبی سے غلطی ہوگئی ہے اس لئے متنبہ رہنا چاہئے--انہوں نے یہ لکھ دیا کہ مستصفٰی، منظومہ کی شرح ہے اور مصفی اس کا (مستصفی کا)اختصار ہے اور سخت حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دعوے کی دلیل میں انہوں نے آخر مصفی کی یہی عبارت پیش کی ہے جو ابھی ذکر ہوئی حالانکہ وُہ بہ آواز بلند ان کے دعوے کے خلاف شہادت دے رہی ہے--اس کے بعد''النافع''کے تحت کاتبی نے مستصفے کو دوبارہ ذکر کیا وہاں بجاطور پر اس کی شرح بتایا اور ایک ضعیف قول کا ذکر کیا کہ وہ مصفے ہی ہے اور یہ درست نہیں-- تو یہ معلوم رہے۱۲(ت)
(۱۴۵) بحرالرائق میں ہے:
صلی الولی ثم جاء المقدم علیہ فلیس لہ الاعادۃ ۱؎۔
ولی پڑھ چکا پھر سلطان وغیرہ وُہ لوگ آئے جو ولی پر مقدم ہیں انہیں اعادہ کا اختیار نہیں۔
(۱؎ بحرالرائق فصل السلطان احق بصلوٰتہٖ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۸۲)
وبھذاحاول البحر التوفیق فحمل مافی النھایۃ والعنایۃ علٰی مااذا تقدم الولی بمحضرالسلطان من دون اذنہ ومافی السراج والمستصفی علٰی مااذا تقدم وھم غیب ثم حضروا ونازعہ فی النھربان کلماتھم متفقۃ علٰی ان لاحق للسلطان فمن دونہ قبل الولی الّا عندحضورھم فالخلاف انماھواذا حضروا۔
اسی سے صاحبِ بحر نے تطبیق دینا چاہا ہے، انہوں نے نہایہ وغیرہ کی عبارت کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب سلطان کے موجود ہوتے ہوئے اس کی اجازت کے بغیر ولی پڑھادے-- اورسراج و مستصفی کے کلام کو اس صورت پر محمول کیاہے جب ولی انکی غیر موجودگی میں پڑھادے بعد میں وہ آجائیں--صاحب نہر نے اس پراعتراض کیا ہے کہ کلماتِ علماء اس بارے میں متفق ہیں کہ سلطان وغیرہ کو ولی پر حقِ تقدم اُسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ موجود ہوں تو اختلاف موجودگی ہی کی صورت میں ہوگا۔
اقول کیف ماکان الامر فالذی یقول باعادۃ السلطان انما یقول اذاحضروتقدم الولی بلااذنہ قال فی الحلیۃ فی تصویر ھذا الخلاف صلی الولی والسلطان اوامام الحی ومن بینھما حاضر ولم یتابعہ۱؎ الخ
اقول جیسابھی ہو جوسلطان کے لئے دوبارہ پڑھنے کا حق مانتا ہے وہ یہی کہتا ہے کہ جب سلطان موجود ہو اور ولی اس کی اجازت کے بغیر پڑھادے تو وہ پھر پڑھ سکتا ہے --حلیہ میں اس اختلاف کی صورت یوں پیش کی ہے ''ولی نے نماز پڑھائی اور سلطان یا امامِ محلہ یا وُہ جن کا درجہ ان کے مابین ہے موجود ہیں اور انہوں نے ولی کی متابعت نہ کی''الخ۔