نوع ششم: ولی وغیرہ ذی حق جس صورت میں اپنے حق کے لئے اعادہ کرسکتے ہیں۔ اس حال میں بھی جو پہلے پڑھ چکا ان کی نماز میں شریک نہیں ہوسکتا۔
(۷۱) نورالایضاح(۷۲) درمختار(۷۳) بحرالرائق(۷۴) قنیہ(۷۵) شرح مختصرالوقایۃ للعلامۃ عبدالعلی(۷۶) شرح الملتقی للعلامہ عبدالرحمن رومی(۷۷) غنیـہ ذوی الاحکام للعلامۃ الشرنبلالی (۷۸) شرح منظومہ ابن وہبان للعلامۃ ابن الشحنہ(۷۹) خادمی علی الدررمیں ہے :
واللفظ لہ لیس لمن یصلی والاان یعید مع الولی۴؎۔
(اور ان کے الفاظ یہ ہیں۔ت)جو ایک بار پڑھ چکا وہ ولی کے ساتھ اعادہ نہیں کرسکتا۔
(۴؎ خادمی علی الدرر باب الجنائز مطبعہ عثمانیہ دارسعادت ترکی ص۹۹)
(۸۰) فتح القدیر میں ہے :
ولذاقلنالم یشرع لمن صلی مرۃ التکرر۱؎۔
اسی لئے ہمارا مذہب ہے کہ جو ایک بار پڑھ چکا اُسے پھر پڑھنا جائز نہیں۔
(۱؎ فتح القدیر فصل الصّلٰوۃ علی المیت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۸۴)
(۸۱) شامی علی الدرمیں ہے :
لان اعادتہ تکون نفلا من کل وجہ بخلاف الولی لانہ صاحب الحق۲؎۔
اس لئے کہ اس کا اعادہ ہر طرح نفل ہی ہوگا اور یہ جائز نہیں بخلاف ولی کے کہ صاحبِ حق ہے۔
(۲؎ ردالمحتار باب صلوٰۃ الجنائز مصطفی البابی مصر ۱ /۶۵۲)
نوع ہفتم: جب ولی نے دوسرے کو اذن دے دیا اگرچہ آپ شریکِ نماز نہ ہوا، یا کوئی اجنبی بے اذنِ ولی خود ہی پڑھ گیا مگر ولی شریکِ نماز ہوگیاتو ان صورتوں میں ولی بھی اعادہ نہیں کرسکتا۔
(۸۲) جوہرہ میں ہے:
ان اذن الولی لغیرہ فصلی لا تجوز لہ الاعادۃ ۳؎۔
اگر ولی کے اذن سے دوسرے نے پڑھ لی تو اب ولی کو بھی اعادہ کی اجازت نہیں۔
(۳؎ الجوہرۃ النیرہ باب التیمم مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۲۷)
(۸۳) بحرمیں ہے:
اذن لغیرہ بالصلٰوۃ لاحق لہ فی الاعادۃ۴؎۔
ولی جب دوسرے کو نماز کا اذن دے دے اب اسے اعادہ کا حق نہیں۔
(۸۴) فتاوٰی قاضی خان (۸۵) فتاوٰی ظہیریہ (۸۶) فتاوٰی ولوالجیہ (۸۷) واقعات (۸۸) تجنیس للامام صاحب ہدایہ (۸۹) فتاوٰی عتابیہ (۹۰) فتاوٰی خلاصہ (۹۱) عنایہ شرح ہدایہ (۹۲) نہایہ اول شروح ہدایہ(۹۳) منبع (۹۴) عبدالحلیم رومی علی الدرر(۹۵) شلبی علٰی زیلعی الکنز (۹۶) حلیہ (۹۷) برجندی (۹۸) بحر (۹۹) رحمانیہ (۱۰۰) شرح علائی(۱۰۱) ہندیہ میں ہے :
واللفظ للعنایۃ عن الولوالجی وللشلبی عن النھایۃ الولوالجی والظہیریۃ والتجنیس وللبحر عنھم وعن الواقعات رجل صلی علی جنازۃ والولی خلفہ و لم یرض بہ ان تابعہ وصلی معہ لایعید لانہ صلی مرّۃ۱؎۔
(الفاظ ،عنایہ،شلبی اوربحر کے ہیں۔عنایہ سے والوالجی سے منقول ہے اورشلبی میں نہایہ سے اُس میں ولوالجی،ظہیریہ اورتجنیس سے نقل ہے۔اوربحرمیں ان سب سے اور واقعات سے نقل ہے۔ت)ایک شخص نے نماز پڑھائی اور ولی راضی نہ تھا لیکن شریک ہوگیا تو اب اعادہ نہ کرے گا کہ ایک بار پڑھ چکا۔
(۱؎ العنایۃ علٰی ہامش فتح القدیر فصل فی الصلوٰۃ علی المیت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۸۳)
نوع ہشتم: یونہی اگر سلطان وغیرہ ذی حق کہ ولی سے مقدم ہیں پڑھ لیں یا خود نہ پڑھ لیں۔ان کے اذن سے کوئی پڑھ دے جب بھی ولی کو اختیار اعادہ نہیں۔(۱۰۲ تا۱۱۹) ۸۴ سے ۱۰۱ تک تمام کتبِ مذکورہ (۱۲۰)فتح القدیر(۱۲۱)فتح المعین میں ہے:
امامن ذکرنا لفظھم اٰنفافبالفاظ متفقۃ والباقون بمعانی متقاربۃ، وھذا لفظ الخانیۃ ان کان المصلی سلطانا اوالامام الاعظم اوالقاضی او والی مصراوامام حیہ لیس للولی ان یعید فی ظاھر الراویۃ ۲؎ زادالذین سقنالفظہم لانھم اولی بالصلٰوۃ منہ۳
جن کی عبارت ابھی ہم نے ذکر کی وہ بہ الفاظ متفقہ اور باقی بمعانی متقاربہ بیان کرتے ہیں اور یہاں عبارت خانیہ کی ہے۔ت) اگر امیرالمومنین یا سلطانِ اسلام یاقاضی یا والیِ شہر یا امام مسجد محلہ نے نماز پڑھ لی تو ہمارے ائمہ سے ظاہر الروایۃ میں ولی کو بھی اعادہ کا اختیار نہیں کہ یہ لوگ اس نماز کے حق میں ولی سے مقدم ہیں۔
(۲؎ فتاوٰی قاضی خان باب فی غسل المیت الخ منشی نو لکشور لکھنؤ ۱ /۹۲)
(۳؎ بحر الرائق فصل فی السلطان احق بصلوٰتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۸۱)
(۱۲۲) غنیـہ(۱۲۳) حلیہ (۱۲۴) بحر (۱۲۵) طحطاوی علٰی مراقی الفلاح سب کے باب تیمم میں ہے:
لوصلی من لہ حق التقدم کالسلطان ونحوہ لایکون لہ حق بالاعادۃ۴؎۔
سلطان وغیرہ جو ولی پر مقدم ہیں ان کے پڑھ لینے کے بعد ولی کو حق اعادہ نہیں۔
(۴؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۱)
کفایہ و مستخلص کی عبارت نوعِ دہم میں آتی ہے۔امام عتابی نے مثل عبارت مذکورہ خانیہ ذکر کیا اور ان کی گنتی میں جو ولی پر مقدم ہیں امام مسجد جامع کو بھی بڑھایا۔ اوردرایہ پھر نہر پھر درمختاراورجوامع الفقہ اور پھر شرنبلالیہ میں تصریح فرمائی کہ اما مِ جامع مسجد امامِ محلہ پر مقدم ہے۔
(۱۲۶) درایہ شرح ہدایہ(۱۲۷) شلبیہ علی الکنز میں ہےـ:
ولوصلی امام المسجد الجامع لاتعاد۱؎۔
جامع مسجد کا امام پڑھ لے تو پھر اعادہ نہیں۔
(۱؎ شلبی علی الکنز علی ھامش تبیین الحقائق فعل السلطان احق بصلوٰتہ مطبعۃ کبرٰی امیریہ مصر ۱ /۲۴۰)
(۱۲۸) مجمع البحار (۱۲۹) شرح مجمع (۱۳۰) بحر (۱۳۱) ردالمحتار میں ہے :
امام الحی کالسلطان فی عدم اعادۃ الولی۲؎۔
امامِ محلہ بھی اس امر میں مثلِ سلطان ہے کہ اس کے بعد ولی کو اعادہ جائز نہیں۔
(۲؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مصطفی البابی مصر ۱ /۶۵۲)
تنبیہ:امام عتابی نے ولی پر تقدیمِ امام میں یہ شرط لگائی کہ ولی سے افضل ہو ورنہ ولی ہی اولٰی ہے۔یہ شرط شرنبلالیہ میں معراج الدرایہ اوردُرمختار میں مجتبٰی وشرح المجمع لمصنفہ سے نقل فرمائی۔حلیہ میں اسےعتابی سے بحوالہ شرح مجمع اورامام بقالی سے بحوالہ مجتبٰی نقل کرکے فرمایاوھواحسن یہ کلام عمدہ ہے۔اسی طرح بحرالرائق میں فرمایا۔
(۱۳۲) خانیہ (۱۳۳) وجیزکردری(۱۳۴) عالمگیریہ (۱۳۵) خزانۃ المفتین میں ہے :
واللفظ للوجیز مات فی غیربلدہ فصلی علیہ غیراھلہ ثم حملہ الٰی منزلہ ان کانت الصلٰوۃ الاولٰی باذن الوالی اوالقاضی لاتعاد۳؎۔
(عبارت ''وجیز''کی ہے۔ت)غیر شہر میں مرا اجنبی لوگوں نے نماز پڑھ لی پھر اس کے اقارب آئے اسے اس کے وطن لے آئے، اگر پہلی نماز حاکمِ اسلام یا قاضی کے اذن سے ہوئی تھی تو اب اقارب اعادہ نہ کریں ۔
(۳؎ فتاوٰی بزازیہ ہامش فتاوٰی ہندیۃ الخامس والعشرون فی الجنائز نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۸۰)
(فتاوٰی ہندیۃ الفصل الخامس فی الصلوٰۃ علی المیت نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۶۴)