Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
64 - 243
 (۲۰) شرح تجرید کرمانی(۲۱) فتاوٰی ہندیہ(۲۲) مراقی الفلاح علامہ شرنبلالی میں ہے:
التنفل بصلٰوۃ الجنازۃ غیرمشروع۳؎
نماز جنازہ بطور نفل جائز نہیں۔
 (۳؎ فتاوٰی ہندیۃ     الفصل الخامس فی الصّلٰوۃ علی المیت نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۶۳)
 (۲۳) امام محمد محمد محمد بن امیرالحاج حلیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
  المذھب عنداصحابنا ان التنفل بھا غیر مشروع۴؎۔
ہمارے اماموں کا مذہب یہ ہے کہ نماز جنازہ نفلاً روا نہیں۔
(۴؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
 (۲۴) بحرالعلوم ملک العلماء رسائل الارکان میں فرماتے ہیں :
لوصلوا لزم التنفل بصلٰوۃ الجنازۃ ذاغیرجائز ۵؎۔
پھر پڑھیں تو نماز جنازہ بطور نفل پڑھنی لازم آئیگی اور یہ ناجائز ہے۔ ردالمحتار کی عبارت نوعِ ششم میں آئےگی۔
 (۵؎ رسائل الارکان    فصل فی حکم الجنازۃ         مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۱۵۵)
نوع سوم: یہاں تک کہ اگر سب مقتدی بے طہارت یا سب کے کپڑے نجس تھے یا نجس جگہ کھڑے تھے یا عورت امام اورمرد مقتدی تھے، غرض کسی وجہ سے جماعت بھر کی نماز باطل اورفقط امام کی صحیح ہوئی، اب اعادہ نہیں کرسکتے کہ اکیلے امام سے فرض ساقط ہوگیا، ہاں اگر قوم میں کوئی وجہ بطلان نہ تھی امام میں تھی تو پھر پڑھی جائیگی کہ جب امام کی صحیح نہ ہوئی کسی کی صحیح نہ ہوئی۔
 (۲۵) خلاصہ(۲۶) بزازیہ(۲۷) محیط (۲۸) بدائع امام ملک العلماء ابو بکر مسعود کاسانی (۲۹) شامل للامام البیہقی (۳۰) تجریدللامام ابی الفضل (۳۱) مفتاح (۳۲) جواہراخلاطی(۳۳) قنیہ(۳۴) مجتبٰی(۳۵) شرح التنویر للعلائی(۳۶) اسمٰعیل مفتی دمشق تلمیذصاحبِ درمختار(۳۷) ردالمحتار(۳۸) ہندیہ(۳۹) بحر(۴۰) حلیہ(۴۱) رحمانیہ میں ہے۔
بعضہم یزید علٰی بعض والنظم للدر امّ بلاطھارۃ والقوم بھا اعیدت  وبعسکہ لاکمالو امت امراۃ ولو امۃ لسقوط فرضھابواحد۱؎۔
امام طہارت سے نہ تھا اورمقتدی طہارت پر تو نماز پھیری جائے اورعکس میں نہیں جبکہ عورت امام ہو اگرچہ کنیز ہوکہ فرض ایک کے پڑھ لینے سے ساقط ہوگیا۔
(۱؎ درمختار  باب صلٰوۃ الجنائز   مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۱۲۱)
محیط وبحرالرائق کے لفظ یہ ہیں:
لوکان الامام علی طہارۃ والقوم علی غیرھالاتعادلان صلٰوۃ الامام صحت فلواعادوا تتکررالصلٰوۃ وانہ لایجوز۲؎۔
امام طہارت پر ہو اور مقتدی بے طہارت تو نماز نہ پھیری جائےگی کہ امام کی نماز صحیح ہوگئی۔اب اگر پھیریں تو نمازجنازہ دوبار ہوگی اور یہ ناجائز ہے۔
(۲؎ بحرالرائق  فصل السلطان احق بصلٰوتہ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۷۹)
شامل بیہقی کے لفظ یہ ہیں:
وان کان القوم غیرطاھر لاتعادلان الاعادۃ لاتجوز۳؎۔
اگر مقتدی بے طہارت ہوں نما زنہ پھیریں کہ یہ نماز دوبار جائز نہیں۔
(۳؂ شامل بیہقی)
نوع چہارم: جب ولی خود یا اس کے اذن سے دوسرا نماز پڑھائے یا ولی خودہی تنہا پڑھ لے تو اب کسی کو نماز جنازہ کی اجازت نہیں۔(۴۲)کنزالدقائق(۴۳) وافی للامام اجل ابی البرکات النسفی (۴۴) وقایہ(۴۵) نقایہ(۴۶) غرر للعلامہ مولٰی خسرو(۴۷) تنویر الابصارو جامع البحار، شیخ الاسلام ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی(۴۸) ملتقی الابحر(۴۹) اصلاح للعلامہ ابن کمال پاشا(۵۰)فتح القدیر للامام المحقق علی الاطلاق(۵۱) شرح منیہ ابن امیر الحاج(۵۲) شرح نورالایضاح للمصنف میں ہے :
واللفظ لمتن العلامۃ ابراہیم لایصلی غیر الولی بعد صلاتہ۱؎۔
    (علامہ ابراہیم حلبی کے متن کے الفاظ یہ ہیں۔ت) ولی کے بعد کوئی شخص نماز جنازہ نہ پڑھے۔
 (۱؎ ملتقی الابحر  فصل فی الصلٰوۃ علی المیت   موسسۃ الرسالۃ بیروت   ۱ /۱۵۹)
امام ابن الہمام کے الفاظ یہ ہیں:
ان صلی الولی ان کان وحدہ لم یجز لاحد ان یصلی بعدہ۲؎۔
 ولی اگر چہ تنہا نماز پڑھ لے اس کے بعد کسی کو پڑھنا جائز نہیں۔
  (۲؎ فتح القدیر   فصل فی الصلٰوۃ علی المیت  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۸۴)
یوں ہی مراقی الفلاح میں فرمایا:
لایصلی احد علیہم بعدہ وان صلی وحدہ ولی۳؎۔
 ولی اکیلا ہی پڑھ چکا جب بھی اس کے بعد کوئی نہ پڑھے۔
 (۳؎ مراقی الفلا ح مع حاشیہ الطحطاوی   فصل السلطان احق بصلٰوتہ   نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی  ص۳۲۴)
حلیہ کی عبارت یہ ہے:
قال علماؤنااذاصلی علی المیت من لہ ولایۃ ذلک لاتشرع الصلٰوۃ علیہ ثانیا لغیرہ۴؎۔
ہمارے علماء نے فرمایا جب میّت پرصاحبِ حق نماز پڑھ لے پھر کسی کو اس پر نماز مشروع نہیں۔
 (۴؎ حلیۃ المحلی شرح  منیۃ المصلی)
 (۵۳)مختصر(۵۴) ہدایہ للامام الاجل ابی الحسن بن عبدالجلیل الفرغانی(۵۵) نافع متن مستصفٰی للامام ناصرالدین ابی القاسم المدنی السمرقندی(۵۶) شرح الکنز للعلامۃ ابن نجیم(۵۷) شرح الملتقی للعلامہ شیخی زادہ (۵۸) شرح النقایہ للقہستانی(۵۹) ابراہیم الحلبی علی المنیہ(۶۰) شرح مسکین للکنز(۶۱) برجندی شرح نقایہ میں ہے:
ان صلی علیہ الولی لم یجز لاحد ان یصلی بعدہ۱؎۔
اگر جنازے پر ولی نماز پڑھ لے تو اب کسی کو پڑھنا جائز نہیں۔
 (۱؎ المختصر للقدوری   باب الجنائز    مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور بھارت        ص ۴۵)

(الہدایہ   فصل فی الصلوٰۃ علی المیت     المکتبۃ العربیۃ کراچی            ۱ /۱۶۰)

(شرح النقایہ للبرجندی        فصل فی الصلوٰۃ الجنائز        منشی نولکشور لکھنؤ            ۱ /۱۸۱)
غنیـہ کے لفظ یہ ہیں:
عدم جواز صلٰوۃ غیرالولی بعد ہ مذھبنا۲؎۔
ولی کے بعد سب کو نماز ناجائز ہونا ہمارا مذہب ہے۔
 (۲؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الجنائز        سہیل اکیڈمی لاہور   ص۵۸۵)
 (۶۲) مستصفی للامام النسفی(۶۳) شلبیہ علی الکنز میں ہے :
لولم یحضر السلطان وصلی الولی لیس لاحد الاعادۃ۳؎۔
اگر سلطان حاضر نہ ہو اور ولی پڑھ لے اب کوئی اعادہ نہیں کرسکتا۔
 (۳؎ شلبی علی الکنز علٰی ھامش تبیین الحقائق باب الجنائز    مطبعہ کبرٰی امیریہ مصر            ۱ /۲۳۸)
نوعِ پنجم:کچھ و لی کی خصوصیت نہیں۔ حاکمِ اسلام یا امامِ مسجد جامع یا امام مسجد محلہ میت کے بھی، پھر دوسروں کو اجازت نہیں کہ یہ بھی صاحب حق ہیں۔

(۶۴) امام فخر الدین عثمان نے شرح کنز میں بعد مسئلہ ولی فرمایا :
وکذا بعد امام الحی وبعد کل من یتقدم علی الولی۴؎۔
یعنی یونہی اگر مسجد محلہ میّت کا امام یا سلطان وغیرہ حکامِ اسلام نمازِ جنازہ پڑھ لیں تو پھر اوروں کو نماز کی اجازت نہیں۔
 (۴؎ تبیین الحقائق           باب الجنائز    مطبعہ کبرٰی امیریہ مصر            ۱ /۲۴۰)
 (۶۵) فاتح شرح قدوری (۶۶) ذخیرۃ العقبی علٰی صدر الشریعۃ (۶۷)حواشی سیّد حموی میں ہے:
تخصیص الولی لیس بقید لانہ لوصلی السلطان اوغیرہ ممن ھواولٰی من الولی لیس لاحد ان یصلی بعدہ۱؎۔
کچھ ولی کی خصوصیت نہیں بلکہ سلطان وغیرہ جو ولی سے اولٰی ہیں اُن کے بعد کسی کو پڑھنا جائز نہیں۔
 (۱؎ ذخیرۃ العقبی علی صدرالشریعۃ    باب الجنائز        منشی نولکشور کانپور        ۱ /۱۱۸)
 (۶۸)فتح القدیر(۶۹)فتح اﷲالمعین میں ہے:
اذامنعت الاعادۃ بصلٰوۃ الولی فبصلٰوۃ من ھومقدم علی الولی اولٰی۲؂۔
جب ولی کے دوسرے کو اجازت نہیں تو سلطان وغیرہ کہ اس سے بھی مقدم ہیں، ان کے بعد اجازت نہ ہونا بدرجہ اولٰی۔
 (۲؎ فتح القدیر         فصل فی صلوٰۃ علی المیت     مکتبہ نوریہ رضویہ لکّھر        ۲ /۸۴ 

 فتح اﷲ المعین بحوالہ سیّد حموی    فصل فی السلطان احق بصلوٰ تہ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۵۳)
 (۷۰)قہستانی علٰی مختصر الوقایہ میں ہے:
لایجوزان یصلی غیرالاحق بعد صلٰوۃ الولی والاحق وغیرہ۳؎۔
جو اس نماز میں صاحب حق ہیں ان میں کسی کے پڑھنے کے بعد غیر کو پڑھنا جائز نہیں۔حلیہ کی عبارت نوع چہارم میں گزری۔
 (۳؎ جامع الرموز        فصل الجنائز        مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۲۸۴)
Flag Counter