مسئلہ نمبر ۸۵تا۸۷: ازمعسکر بنگلور جامع مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب مدراسی ۲۳ ذی الحجہ ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے احناف رحمکم اﷲتعالٰی کہ حنفی مذہب میں نمازِ جنازہ مع اولیائے میت پڑھ لئے ہوں پھر دوبارہ پڑھنا،اور نماز جنازہ غائب پر پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر امام شافعی مذہب ہو تو اسکے اقتداء سے ہم حنفیوں کو یہ دونوں امر جائز ہوجائیں گے یا نہیں؟یہ حیلہ ہمارے مذہب میں کچھ اصل ہے یا نہیں؟ ہمارے بلاددکن اضلاع بنگلور و مدراس میں ان مسئلوں کی اشد ضرورت ہے، اُمید کہ عبارات عام فہم ہوں گی۔
الجواب
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
الحمدﷲ الذی لایشفع عندہ الاباذنہ والصّلٰوۃ والسّلام علی من امربالوقوف عندحدود دینہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ قدر کمالہ وحسنہ اٰمین ط
تمام تعریف اﷲ کے لئے جس کے حضور اس کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں، اور درود وسلام ہو ان پر جنہوں نے دین کی حدوں پررُک جانے کا حکم دیا، اوران کی آل واصحاب پر حضور کے حسن وکمال کے بقدر۔الٰہی قبول فرما۔
جواب سوالِ اوّل:مذہب مہذّب حنفی میں جبکہ ولی عہ ۱ نماز پڑھ چکا یا اس کے اذن سے ایک بار نماز ہوچکی(اگرچہ یونہی کہ دوسرے نے شروع کی ولی شریک ہوگیا) تو اب دوسروں کو مطلقاً جائز نہیں، نہ ان کو جو پڑھ چکے نہ اُن کو جو باقی رہے۔ائمۂ حنفیہ کا اس پر اجماع ہے، جو اس کا خلاف کرے مذہبِ حنفی کا مخالف ہے۔تمام کُتبِ مذہب متون وشروح وفتاوٰی اس کی تصریحات سے گونج رہی ہیں ۔اس مسئلہ کی پوری تحقیق وتنقیح فقیر کے رسالہ
النھی الحاجز عن تکرار صلٰوۃ الجنائز
میں بفضلہ بروجہ اتم ہوچکی ہے یہاں صرف نصوص وعبارات ائمہ و علمائے حنفیہ
خصہم اﷲ تعالٰی بالطافہ الخفیہ ،
ذکر کریں اور از انجاکہ یہ تحریرفائدہ جدیدہ سے خالی نہ ہو، ان میں جدّت وزیادت کا لحاظ رکھیں،وباﷲ التوفیق یہاں کلام
بنظرِ انتظام عہ۲ مرام چندانواع پر خواہان انقسام:
عہ۱: المراد بالولی ھٰھنا ھوالاحق وبغیرہ من لیس لہ الحق فاحفظ وسیأتی التفصیل ۱۲منہ(م)
یہاں ولی سے مراد وُہ ہے جو سب سے زیادہ حقدار ہے، اورغیر ولی سے مراد وُہ جس کاحق نہیں یہ ذہن نشین رہے تفصیل آگے آئیگی ۱۲منہ (ت)
عہ۲: ہرنوع بعونِ الٰہی نفیس وجلیل مسائل پر مشتمل ہوگی کہ اس باب میں جن کی حاجت واقع ہوئی اور محل خلاف میں قول ارجح کی طرف بھی اجمالی اشارہ ہوگا وباﷲ التوفیق ۱۲منہ(م)
نوع اوّل :نماز جنازہ دوبارہ روا نہیں۔ (۱) درمختار میں ہے:
تکرارھا غیر مشروع۱؎
نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں۔
(۱؎ درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۳)
(۲) غنیـہ شرح منیہ میں ہے:
تکرار الصلٰوۃ علٰی میّت واحد غیر مشروع ۲؎
ایک میت پر دوبارہ نماز ناجائز ہے۔
(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۹)
(۳) امام اجل مفتی الجنّ والانس سیّدی نجم الدین عمر نسفی اُستاذامام اجل صاحب ہدایہ رحمہمااﷲ تعالٰی منظومہ مبارکہ میں فرماتے ہیں:؎
باب فتاوی الشافعی وحدہ ومابہ قال وقلنا ضدّہ
وجائز فی فعلھا التکرار وفی القبور(عہ) یدخل الاوتار۱؎
یعنی نماز جنازہ کی تکرار جائز ہونا صرف امام شافعی کا قول ہے ہمارے نزدیک جائز نہیں۔
عہ: لایدخل القبر عندہ لوضع المیت الا الوتر و عندنا الوتر والشفع سواء۱۲ منہ(م)
امام شافعی کے نزدیک میت کو اتارنے کےلئے قبر میں جانے والوں کی تعداد طاق ہی ہوگی اور ہمارے نزدیک طاق اور جفت یکساں ہیں۱۲منہ(ت)
(۱؎ منظومۂ مبارکہ نجم الدین عمر بن محمد نسفی)
(۴) ایضاح امام ابوالفضل کرمانی (۵) فتاوٰی عالمگیریہ (۶) جامع الرموز میں ہے:
لا یصلی علی میّت الامرّۃ واحدۃ۲؎
کسی میّت پر ایک بار سے زیادہ نماز نہ پڑھی جائے۔
(۲؎ جامع الرموز فصل فی الجنائز مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ /۲۸۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الصّلٰوۃ علی المیت نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۶۳)
(۷) علامہ سیّد احمد طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں :
سقوط فرضھا بواحد فلواعادوا تکررت ولم تشرع مکررۃ۳؎۔
نماز جنازہ کا فرض ایک کے پڑھنے سے ساقط ہوجاتا ہے اب اگر پڑھیں تو مکرر ہوجائے گی اور وہ مکرر مشروع نہیں۔
(۳؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنائز دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۳۷۱)
بحرالرائق و شامل بیہقی وغیرہما کی عبارات نوع سوم میں آتی ہیں اور حلیہ کی چہارم اورعنایہ کی دہم میں۔
(۸) مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی(۹)نہایہ شرح ہدایہ (۱۰) منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق میں ہے:
لاتعادالصّلٰوۃ علی المیّت الا ان یکون الولی ھوالذی حضرفان الحق لہ ولیس لغیرہ ولایۃ اسقاط حقہ۔۴؎
کسی میت پر دو دفعہ نماز نہ ہو ،ہاں اگر ولی آئے تو حق اس کا ہے اور دوسرا اس کا حق ساقط نہیں کرسکتا
(۴؎ منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرالرائق فصل فی السلطان احق بصلوٰتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۸۲)
نوع دوم: دوبارہ پڑھیں تو نفل ہوگی اور یہ نماز بطورنفل جائز نہیں۔
(۱۱) ہدایہ (۱۲) کافی شرح وافی للامام الاجل ابی البرکات النسفی(۱۳)تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق للامام الزیلعی(۱۴) جوہرۂ نیّرہ شرح مختصر القدوری(۱۵) درر شرح غرر (۱۶) بحرالرائق شرح الکنز للعلامہ زین(۱۷)مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر
(۱۸) مستخلص الحقائق شرح کنز(۱۹) کبیری علی المنیہ میں ہے:
الفرض یتادی بالاول والتنفل بھا غیرمشروع (زادفی التبیین) ولہذا لایصلی علیہ من صلی علیہ مرۃ۱؎۔
فرض تو پہلی نماز سے ادا ہوجاتاہے اور یہ نماز نفل کے طور پر جائز نہیں اس لئے جو ایک بار پڑھ چکا دوبارہ نہ پڑھے۔
(۱؎ تبیین الحقائق باب الجنائز مطبوعہ کبرٰی امیریۃ مصر ۱ /۲۴۰)
کافی کے الفاظ یہ ہیں:
حق المیّت یتادی بالفریق الاول وسقط الفرض بالصلٰوۃ الاولٰی فلو فعلہ الفریق الثانی لکان نفلا وذاغیرمشروع کمن صلی علیہ مرّۃ۲؎۔
میّت کا حق پہلے فریق نے اداکردیا اور فرض کفایہ نماز اول سے ساقط ہوگیا، اب اور لوگ پڑھیں تو نماز نفل ہوگی اوریہ جائز نہیں جیسے ایک بار پڑھ چکنے والے کو دوبارہ اجازت نہیں۔