Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
62 - 243
مسئلہ نمبر۸۴: ازشہر چاٹگام موضع چرباکلیہ مکان روشن علی مستری    مرسلہ منشی محمد اسمٰعیل ۱۳شوال۱۳۳۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ آنحضرت صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے جنازہ کی نماز کَے مرتبہ پڑھی گئی۔اور اول کس شخص نے پڑھائی تھی؟بینواتوجروا
الجواب

صلی اﷲ تعالٰی علٰی حبیبہ واٰلہٖ وبارک وسلم۔
سائل کو جوابِ مسئلہ سے زیادہ نافع یہ بات ہے کہ درود شریف کی جگہ  جو عوام و جہال صلعم یا ع  یام  یا ص یا صللم لکھا کرتے ہیں،محض مہمل و جہالت ہے،
القلم احدی اللسانین
(قلم دو۲ زبانوں میں سے ایک ہے۔ت)جیسے زبان سے درود شریف کے عوض یہ مہمل کلمات کہنا درود کو ادا نہ کرے گا یوں ہی ان مہملات کا لکھنا،درود لکھنے کاکام نہ دے گا، ایسی کوتاہ قلمی سخت محرومی ہے۔ میں خوف کرتاہوں کہ کہیں ایسے لوگ
فبدل الذین ظلموا قولاغیرالذی قیل لہم۱؎
 (تو ظالموں نے بدل ڈالی وُہ بات جو  ان سے کہی گئی تھی ۔ت)میں نہ داخل ہوں ۔نام پاک کے ساتھ ہمیشہ پورا درود لکھا جائے صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ۔
(۱؎ القرآن      ۲ /۵۹)
جنازہ اقدس پر نماز کے باب مختلف ہیں۔ ایک کے نزدیک یہ نماز معروف نہ ہوئی بلکہ لوگ گروہ در گروہ حاضر آتے اور صلٰوۃ وسلام عرض کرتے بعض احادیث بھی اس کی مؤید ہیں
کما بیناھا فی رسالتنا النھی الحاجز عن تکرار صلٰوۃ الجنائز
 (جیساکہ انہیں ہم نے اپنے رسالہ
النھی الحاجز عن تکرار صلٰوۃ الجنائز
میں بیان کیا ہے۔ت)اور بہت علماء یہی نماز معروف مانتے ہیں،امام قاضی عیاض نے اسی کی تصحیح فرمائی۔
کما فی شرح الموطا للزرقانی
 (جیساکہ علامہ زرقانی کی شرح موطامیں ہے۔ت) سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ تسکینِ فتن وانتظام امّت میں مشغول ، جب تک ان کے دستِ حق پرست پر بیعت نہ ہوئی تھی، لوگ فوج فوج آتے اور جنازہ انور پر نماز پڑھتے جاتے، جب بیعت ہولی، ولی شرعی صدیق ہوئے، انہوں نے جنازہ مقدس پر نماز پڑھی ،پھر کسی نے نہ پڑھی کہ بعد صلٰوۃ ولی پھر اعادۂ نمازِ جنازہ کااختیار نہیں۔ان تمام مطالب کی تفصیلِ قلیل، فقیر کے رسالۂ مذکورہ میں ہے۔
مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی میں ہے:
ان ابابکر رضی اﷲتعالٰی عنہ کان مشغولا بتسویۃ الامور وتسکین الفتنۃ فکانوا یصلون علیہ قبل حضورہ وکان الحق لہ لا نہ ھو الخلیفۃ فلما فرغ صلی علیہ ثم لم یصل احد بعدہ علیہ۱؎۔
حضرت ابو بکر رضی اﷲتعالٰی عنہ معاملات درست کرنے اور فتنہ فرو کرنے میں مشغول تھے لوگ ان کی آمد سے پہلے آکر صلٰوۃ پڑھتے جاتے، اورحق ان کا تھا اس لئے کہ وُہ خلیفہ تھے،تو جب فارغ ہوئے نماز پڑھی ،پھر اس کے بعد نماز نہ پڑھی گئی۔(ت)
(۱؎ مبسوط امام سرخسی         باب غسل المیت        دارالمعرفۃ بیروت        ۲ /۶۷)
بزار و حاکم وابن منیع وبیہقی اور طبرانی معجم اوسط میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذاغسلتمونی وکفنتمونی فضعونی علٰی سریری ثم اخرجوا عنی فان اول من یصلی علیّ جبرئیل ثم میکائیل ثم اسرافیل ثم ملک الموت مع جنودہ من الملٰئکۃ باجمعھم ثم ادخلوا علیّ فوجا بعد فوج فصلواعلی وسلمواتسلیما۲؎۔
جب میرے غسل وکفن سے فارغ ہو مجھے نعش مبارک پر رکھ کر باہر چلے جاؤ۔ سب سے پہلے جبرئیل مجھ پر صلٰوۃ کریں گے پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر ملک الموت اپنے سارے لشکروں کے ساتھ پھر گروہ گروہ میرے پاس حاضر ہوکر مجھ پر درود وسلام عرض کرتے جاؤ۔  واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
 (۲؎ المستدرک علی الصحیحین    کتاب المغازی        دارالفکر بیروت        ۳ /۶)

شرح الزرقانی علی موطا لامام مالک   بحوالہ البزار باب ۱۴۹  المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر    ۲ /۶۶)
Flag Counter