Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
61 - 243
تنویر الابصار میں ہے:
وکرہ تاخیر صلاتہ ودفنہ لیصلی علیہ جمع عظیم بعد صلٰوۃ الجمعۃ۴؎۔
اس مقصد سے کہ جمعہ کے بعد جماعتِ عظیم شریکِ جنازہ ہونمازِ جنازہ اور دفن میں تاخیر مکروہ ہے۔(ت)
 (۴؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب صلٰوۃ الجنائز    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۲۴)
نیز جنازے پر تکثیرِ جماعت شرعاً بہت محبوب کہ اس میں میت کی اعانت جسیم اوراُس کے لئے عفو سیئات و رفع درجات کی امید عظیم ہے،چالیس نمازیوں اورسَو نمازیوں کی تین حدیثیں اوپر گزریں، اور احمد اورابوداؤدو ترمذی وابن ماجہ حضرت مالک بن ہبیرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ،رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ما من مومن یموت فیصلی علیہ امۃ من المسلمین یبلغون ان یکونوا  ثلثۃ صفوف الاغفرلہ۵؎۔
جس مسلمان کے جنازے پر مسلمانوں کا ایک گروہ کہ تین صف کی مقدار کو پہنچتا ہو نماز پڑھے اس کی مغفرت ہوجائے گی۔
  (۵؎ سنن ابی داؤد        باب فی الصفوف علی الجنازۃ        آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۹۵)
ترمذی کی روایت میں ہے:
من صلی علیہ ثلثۃ صفوف اوجب۱؎۔
جس پر تین صفیں نماز پڑھیں اُس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
 (۱؎ جامع الترمذی        ابواب الجنائز         امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۱ /۱۲۲)
ابن ماجہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
من صلی علیہ مائۃ من المسلمین غفرلہ۲؎۔
جس پر سو مسلمان نماز پڑھیں بخشا جائے۔
 (۲؎ سنن ابن ماجہ   باب ماجاء فیمن صلی علیہ جماعۃ من المسلمین    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۰۸)
نسائی ام المومنین میمونہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے راوی،رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن میّت یصلی علیہ امّۃ من الناس الاشفعوافیہ۳؎۔
جس مُردے پر مسلمانوں کا ایک گروہ نماز پڑھے اُ ن کی شفاعت اس کے حق میں قبول ہو۔
(۳؎ سنن النسائی   فضل من صلی علیہ مائۃ   نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/۲۸۲)
راوی حدیث ابو الملیح نے کہا:گروہ چالیس آٓدمی ہیں۔
طبرانی معجم کبیر میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی ،رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن رجل یصلی علیہ الاغفراﷲ لہ۴؎۔
جس مسلمان پر سَو آدمی نماز پڑھیں اﷲ عزوجل اُس کی مغفرت فرمادے۔
 (۴؎ مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر    باب فیمن صلی علیہ جماعۃ     دارالکتاب بیروت        ۳ /۳۶)
لہذا شریعتِ مطہرہ نے صرف فرضیت کفایہ پر اکتفا نہ فرمایا بلکہ نماز جنازہ میں نمازیوں کے لئے عظیم واعظم افضالِ الٰہیہ کے وعدے دئے کہ لوگ اگر نفع میّت کے خیال سے جمع نہ ہوں گے اپنے فائدے کے لئے دوڑیں گے، اس بارے میں چھ میں چھ حدیثیں اوپر گزریں، اورصحاح ستّہ میں ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من شھدالجنازۃ حتی یصلی علیھا فلہ قیراط ومن شہدھاحتی تدفن فلہ قیراطان قیل وما قیراطان قال مثل الجبلین العظیمین۱؎۔ ولمسلم اصغرھا مثل احد۲؎۔
جونماز ہونے تک جنازہ میں حاضر رہے اس کے لئے ایک دانگ ثواب ہے اور دفن تک حاضر رہے تو دو دانگ ،جیسے بڑے۲دو پہاڑ ،ان میں کا چھوٹا کوہِ احد کے برابر۔
 (۱؎ صحیح مسلم  کتاب الجنائز        نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۳۰۷)

(۲؎ صحیح مسلم    کتاب الجنائز        نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۳۰۷)
اسی کے مثل مسلم وابن ماجہ نےحضرت ثوبان اورامام احمدنے بسندِ صحیح،قیراط نماز کی حدیث حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲتعالٰی عنہم سے روایت کی اور طبرانی معجم اوسط میں حضرت جابر رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اتبع جنازۃ حتی یقضی دفنھاکتب لہ ثلثۃ قراریط،القیراط منھااعظم من جبل اُحد۳؎۔
جو کسی جنازے کے ساتھ رہے یہاں تک کہ دفن ہوچکے اس کےلئے تین قیراط اجر لکھا جائے، ہرقیراط کوہ احد سے بڑا۔
 (۳؎ مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط     باب تجہیز المیت        دارالکتاب بیروت        ۳ /۲۰)
بزار کی  یہاں حدیث موقوف ابی ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ میں ہے:جو کسی جنازہ میں اہل جنازہ کے پاس تک جائے اُس کے لئے ایک قیراط ہے، پھر اگر جنازہ کے ساتھ تک چلے تو ایک قیراط اور ملے اور نماز پر تیسرا اور دفن پر انتظار تک چوتھا قیراط پائے۔
ابن ماجہ امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی ،
من غسل میتا وکفنہ وحنطہ وحملہ وصلی علیہ ولم یفش علیہ ماراٰی خرج من خطیتہ مثل ماولدتہ امہ۴؎۔
جو کسی میّت کو نہلائے، کفن پہنائے، خوشبو لگائے، جنازہ اٹھائے،نماز پڑھے اور جو ناقص بات نظر آئے اُسے چھُپائے وُہ اپنے گناہوں سے ایساپاک ہوجائے جس دن ماں کے پیٹ سے پیداہواتھا۔
 (۴؎ سنن ابن ماجہ         باب ماجاء فی غسل المیت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص ۱۰۶)
اب اگر نمازِ جنازہ میں تکرار کی اجازت دیتے ہیں تولوگ تسویف وکسل کی گھاٹی میں پڑیں گے۔ کہیں گے کہ جلدی کیا ہے اگر ایک نماز ہوچکی ہم دوبارہ پڑھ لیں گے، اس تقدیر پر اگر لوگوں کا انتظار کیا جائے تو جنازہ کودیر ہوتی ہے اور جلدی کی جائےتو جماعت ہلکی رہتی ہے اور دونوں باتیں مقصود شرع کےخلاف، لاجرم مصلحتِ شرعیہ اسی کی مقتضی ہُوئی کہ تکرار کی اجازت نہ دیں۔جب لوگ جانیں گے اگر نماز ہوچکی تو پھر نہ ملے گی اور ایسے افضال عظیمہ ہاتھ سے نکل جائیں گے تو خواہی نہ خواہی جلدی کرتے حاضر آئیں گے اور میّت کے فائدے اور اپنے بھلے کے لئے جلد جمع ہوجائیں گے اور شرع مطہر کے دونوں مقصد باحسن وجوہ رنگ ظہور پائیں گے۔
الحمدﷲ! یہ ایک ادنٰی شمہ ہے اُس الٰہی عالم ، ربانی حاکم،کی نظر حقائق نگر کا ،جومصداق اعلٰی عظیم بشارت والا  اُس حدیث صحیح کا ہے کہ حضور سیدا لمرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لوکان العلم معلقا بالثریا لتناولہ قوم من ابناءِ فارس۱؎۔رواہ الامام احمد فی المسند وابونعیم فی الحلیۃ عن ابی ھریرۃ والشیرازی فی الالقاب عن قیس بن سعد رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
علم اگر ثریا پر معلق ہوتا تو اولادِ فارس سے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی لے آتے۔ اسے امام احمد نے مسند میں اورابو نعیم نے حلیہ میں حضرت ابوہریرہ سے اورشیرازی نے القاب میں حضرت قیس بن سعد سے روایت کیا۔رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل         مروی از ابوہریرہ        دارالفکر بیروت        ۲ /۲۹۷،۴۲۰ ،۴۲۲،۴۶۹

حلیۃ الاولیاء        ترجمہ نمبر ۳۲۸شہر بن حوشب    دارالکتاب العربی بیروت    ۶ /۶۴

جامع الصغیر مع فیض القدیر    حدیث ۷۴۶۴      دارالمعرفۃ بیروت        ۵ /۳۲۳)
اعنی امام الائمہ سراج الامّہ کاشف الغمّہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ جن کی رائے منیر ونظر بے نظیر تمام مصالح شرعیہ کو محیط وجامع،اور مومنین کے لئے ان کی حیات وموت میں خیر محض ونافع
فجزاہ اﷲعن الاسلام والمسلمین کل خیر وقاہ وتابعیہ بحسن الاعتقاد کل ضروضیراٰمین یاارحم الراحمین والحمدﷲ ربّ العٰلمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدناومولٰنا محمد واٰلہ وصحابتہ ومجتھدی ملۃ اجمعین اٰمین!
تو خدا اسلام اور مسلمانوں کی جانب سے انہیں خیر کا صلہ دے اور انہیں اور حسنِ اعتقاد کے ساتھ ان کا اتباع کرنے والوں کو ہر تکلیف اور نقصان سے بچائے ،اور سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! قبول فرما۔اور سب خوبیاں اﷲکے لئے جوسارے جہانوں کامالک ہے۔ اورخدائے برتر ہمارے آقا ومولاحضرت محمد، ان کی آل،ان کے صحابہ اور ان کے دین کے مجتہدین سب پر درود وسلام نازل فرمائے،الٰہی ! قبول فرما!
الحمدﷲکہ یہ مجمل ومختصر عجالہ ،سلخ رجب کوغرہ سمائے تمام ہُوا اور بلحاظ تاریخ النھی الحاجز عن تکرارصلٰوۃ الجنائزنام ہوا۔
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
Flag Counter