اقول نماز جنازہ کے جو فضائل جلیلہ ہیں صدیق وفاروق وصحابہ رضی اﷲتعالی عیلہم پر مخفی نہ تھے نہ اُن سے توقع کہ ایسے فضل جلیل کے لئے تشریف بھی لائیں اور پھر باوصف قدرت اُسے چھوڑ کر چلے جائیں، اگر نمازِ جنازہ دوبارہ جائزہوتی تو تنگی مصلّی کیا حرج کرتی واپس جانے کی کیاوجہ تھی۔ جب پہلے لوگ پڑھ چکے اس کے بعد دوسریجماعت فرمالیتے۔
رابعاً عن عبداﷲ بن سلام لمافاتتہ الصّلوۃعلی عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال ان سبقت بالصلٰوۃ فلم اسبق بالدعاء لہ ۲؎۔ ذکرہ السیدالازھری فی فتح اﷲ المعین وقد کان ھذا الحدیث فی ذکری والاستنادبہ فی خاطری حتی رأیت الازھری تمسک بہ فاسندتہ الیہ ولم یحضرنی الان من غیرہ۔
یعنی عبداﷲ بن سلام رضی اﷲتعالٰی عنہ کو جب امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کے جنازہ مبارک پر نماز میرے آنے سے پہلے ہوچکی تو کہا کہ دعا کی بندش تو نہیں میں ان کے لئے دعا کروں گا۔اسے فتح اللہ المعین میں سیدازہری نے ذکر کیا،یہ حدیث مجھے یاد تھی اوراس سے استناد میرے ذہن میں تھا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ سید ازہری نے اس سے استدلال کیاہے تو میں نے انہی کی طرف اس کی نسبت کی اور بروقت اس کاکوئی اور حوالہ میرے ذہن میں نہیں(ت)
(۲؎فتح اللہ المعین0 فصل فی الصلٰوۃ علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۵۳)
خامساًشاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناء عشریہ میں لکھتے ہیں:
در بعض روایات آمدہ کہ روزِ دیگر ابوبکر صدیق و عمر فاروق ودیگر اصاحب بخانۂ علی مرتضٰی بجہت تعزیت آمدند شکایت کردند کہ چرا ماراخبر نہ کردی تاشرفِ نماز وحضوری دریافتم۔علی مرتضٰی گفت فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا وصیت کردہ بود کہ چوں ازدنیا بروم مرابہ شب دفن کنی تاچشم نامحرم برجنازہ من نیفتد،پس بموجب وصیت وے عمل کردم۔این ست روایت مشہور۱؎۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ دوسرے دن حضرات ابوبکر صدیق و عمرفاروق ودیگر صحابہ حضرت علی مرتضٰی کے گھر تعزیت کے لئے آئے اور شکایت فرمائی کہ ہمیں خبر کیوں نہ دی کہ ہم نماز اور حاضری کا شرف حاصل کرتے علی مرتضٰی نے فرمایا:فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا نے وصیت کی تھی کہ جب میں دنیا سے جاؤں تو مجھے رات میں دفن کریں تاکہ میرے جنازے پر نامحرم کی نظر نہ پڑے، تو میں نے ان کی وصیت کے مطابق عمل کیا۔یہ ہے روایت ِمشہور۔(ت)
اقول ان روایات سے بھی روشن کہ صدیق وفاروق و عبداﷲ بن سلام ودیگر اصحاب کبار رضی اﷲتعالٰی عنہم دوبارہ نماز ِجنازہ ناجائز جانتے ورنہ فوت ہونا کیا معنی، اور شکایت وافسوس کا کیا محل۔
سادساًابوبکربن ابی شیبہ اپنی مصنف اور امام اجل ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے موقوفاً اور ابن عدی کامل میں بروایت ابن عباس حضور سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے راوی:
وھذاحدیث الطحاوی بطریق عمربن ایّوب الموصلی عن مغیرہ بن زیاد عن عطاء بن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما فی الرجل تفجاء الجنازۃ وھوعلٰی غیروضوء قال یتیمم ویصلی علیھا۲؎۔
(اور یہ امام طحاوی کی حدیث ہے جس کی سند یہ ہے عمر بن ایوب موصلی ، مغیرہ بن زیاد، عطاء، ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے۔ت)یعنی جس شخص کے پاس ناگاہ جنازہ آجائے اور اُسے وضو نہ ہو وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے۔
(۲؎ شرح معانی الآثار باب ذکر الجنب والحائض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۴)
ابن ابی شیبہ کی روایت یہ ہے:
حدثنا عمر بن ایوب الموصلی عن مغیرۃ بن زیاد عن عطاء عن ابن عباس قال اذاخفت ان تفوتک الجنازۃ وانت علٰی غیروضوء فتیمم وصل۱؎۔
(ہم سے عمر بن ایوب موصلی نے مغیرہ بن زیاد سےروایت کی انہوں نےعطاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے ، انہوں نے فرمایا۔ت)جب تجھے نمازِ جنازہ کے فوت ہونے کا اندیشہ ہواور وضو نہیں تو تیمم کرکے پڑھ لے۔
(۱؎ المصنف لابن ابی شیبہ فی الرجل یخاف ان تفوتہ الصلٰوۃ علی الجنازۃ ادارۃ القرآن کراچی ۳/۳۰۵)
ابن عدی کی حدیث یوں ہے :
عن معافی بن عمران عن مغیرۃ بن زیاد عن عطاء عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قال اذا فجأتک الجنازۃ وانت علی غیر وضوء فتیمم۲؎۔قال ابن عدی ھذا مرفوع غیر محفوظ والحدیث موقوف علی ابن عباس۳؎۔
(معافی بن عمران، مغیرہ بن زیادسے وہ عطاءسے،وہ ابن عباس سے، وہ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے راوی ہیں۔ت) یعنی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:''جب ناگہانی تیرے سامنے جنازہ آجائے اور تجھے وضو نہ ہو تو تیمم کرلے''،(ابن عدی نے کہا یہ مرفوع غیر محفوظ ہے اور حدیث حضرت ابن عباس پر موقوف ہے۔ت)
دارقطنی و بیہقی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی :
انہ اتی الجنازۃ وھوعلٰی غیر وضوء فتیمم ثم صلی علیہا۴؎۔
یعنی ان کے پاس ایک جنازہ آیااُس وقت وضوء نہ تھا تیمم کرکے نماز میں شریک ہوگئے۔
(۴؎ سنن دارقطنی باب الوضوء والتیمم من آنیۃ المشرکین نشر السنۃ ملتان ۱ /۲۰۲)
اسی کے مثل ابن ابی شیبہ وامام طحاوی نے باسانیدکثیرہ امام حسن بصری وامام ابراہیم نخعی وابوبکر نے عکرمہ تلمیذ ابن عباس اور طحاوی نے عطاء بن ابی رباح وعامر و ابن شہاب زہری وحکم سات ائمہ تابعین سے روایت کیا اگر نمازِ جنازہ کی تکرار روا ہوتی تو فوت کے کیا معنی تھے؟ اور اُس کے لئے تندرست کو پانی موجود ہوتے ہوئے تیمم کیونکر جائز ہوتا؟حالانکہ رب جل وعلا فرماتا ہے:
ولم تجدوا ماء ۵؎
(اور تمہیں پانی نہ ملے۔ت)
(۵القرآن ۴ /۴۳)
اور رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایقبل اﷲ صلٰوۃ احدکم اذاحدث حتی یتوضأ ۱؎۔اخرجہ الشیخان وابوداؤد والترمذی عن ابوہریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
بے وضو جب تک وضو نہ کرے خدا اس کی نماز قبول نہیں فرماتا ۔ اسےبخاری ومسلم، ابوداؤد اورترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب لاتقبل الصلٰوۃ بغیر طہور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۵
صحیح البخاری کتاب الحیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۲۸)
اور خودحضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتقبل صلٰوۃ بغیرطھور ولاصدقۃ من غلول۲؎۔اخرجہ عنہ مسلم والترمذی وابن ماجۃ ۔
کوئی نماز بغیر طہارت کے اور کوئی صدقہ مالِ خیانت سے مقبول نہیں۔ اسے حضرت ابوہریرہ سے مسلم ،ترمذی اورابن ماجہ نے روایت کیا۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الطہارۃ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ /۱۱۹)
نمازِ جنازہ میں تعجیل شرعاً نہایت درجہ مطلوب ۔صحاح ستّہ میں ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اسرعوابالجنازۃ۳؎ ۔
جنازہ میں جلدی کرو۔
(۳؎ صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ /۳۰۷)
امام احمدو ترمذی و ابن حبان وغیرہم امیرالمومنین مولا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے راوی حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلاث لاتؤخرھن،الصّلٰوۃ اذا اٰتت والجنازۃ اذاحضرت والایم اذاوجدت لھاکفوا۴؎۔
تین چیزوں میں دیر نہ کرو:نماز جب اس کاوقت آجائے اور جنازہ جس وقت حاضر ہو، اورزنِ بے شوہر جب اس کا کفو ملے۔
(۴؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب النکاح دارالفکر بیروت ۲ /۱۶۲)
(جامع الترمذی ابواب الجنائز امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ /۱۲۷)
سنن ابی داؤد میں حصین بن وحوح انصاری رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی ،رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
عجلوافانہ لاینبغی لجیفۃ مسلم ان یحبس بین ظھرانی اھلہ ۱؎۔
جلدی کروکہ مسلمان کے جنازے کو روکنا نہ چاہئے۔
(۱؎ سنن ابی داؤد باب تعجیل الجنازہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۹۴)
طبرانی بہ سند حسن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے راوی ، میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوفرماتے سنا :
اذامات احدکم فلا تحسبوہ واسرعوابہ الی قبرہ۲؎۔
جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے نہ روکو اور جلدی دفن کو لے جاؤ۔
ولہذا علماء فرماتے ہیں:اگر روزِ جمعہ پیش از جمعہ جنازہ تیار ہوگیا جماعت کثیرہ کے انتظار میں دیر نہ کریں پہلے ہی دفن کردیں۔ اس مسئلہ کا بہت لحاظ رکھنا چاہئے کہ آج کل عوام میں اس کے خلاف رائج ہے،جنہیں کچھ سمجھ ہے وہ تو اسی جماعت کثیر کے انتظارمیں روکے رکھے ہیں، اور نرے جُہال نے اپنے جی سے اور باتیں تراشی ہیں، کوئی کہتا میّت بھی جمعہ کی نماز میں شریک ہوجائے،کوئی کہتا ہے نماز کے بعد دفن کریں گے تو میت کو ہمیشہ جمعہ ملتا رہے گا۔ یہ سب بے اصل وخلاف مقصد شرع ہیں۔ درمختار میں ہے۔
یسرع فی جنازۃ۳؎
(جنازے میں جلدی کرے۔ت)
(۳؎ درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۴)