عام مومنین کاحق ایسا ہونا آسان کہ حضار سے بعض نے ادا کردیا اداہوگیا مگرمولائے نعمت ہردوجہاں محمد رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کاحق عظیم کہ بعد حضرتِ حق عزوجل اعظم حقوق ہے ۔اگر حضار پر لازم عین ہو، کیا مستبعد معہذا،اعظم مقاصد مہمہ سے ہر مسلمان حاضر کا بالذات اس شرفِ اجل واعظم سے مشرف ہونا ہے۔ ہم اوپر متعدداحادیث بیان کرچکے کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ مقبول کو بعد وفات پہلا تحفہ بارگاہِ عزّت سے ملتاہے یہ ہے کہ جتنے لوگ اس کے جنازہ کی نماز پڑھتے ہیں اﷲ عزوجل سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ۲؎۔
(۲؎ نوادرالاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل الرابع والخمسون الخ دارصادر بیروت ص۷۸)
نہ کہ نبی کا جنازہ نہ کہ سیّدالانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃٰ والثناء کا، اس کے فضل کی مقدار کون قیاس کرسکتاہے ! شریعت محمدیہ علٰی صاحبہا افضل الصلٰوۃ والتحیۃ مسلمانان کے لئے خیر محض ونفعِ خاص لے کر آئی ہے نہ کہ معاذاﷲ انہیں ایسے فضل عظیم سے محروم کرنا تو حکمتِ شرعیہ اسی کی مقتضی تھی کہ یہاں اجازتِ عامہ دی جائے۔حجرہ اقدس میں جگہ کتنی اورحضارتیس ہزار، کما ورد فی حدیث جیساکہ ایک حدیث میں آیا ہے۔ت)،اب اگر یہ حکم ہوتا کہ اوّل بار جو پڑھ لیں پڑھ لیں تو ہزار صحابہ کی محرومی، دوسرے اس پر تنافس شدید واقع ہونا مظنون بلکہ یقینی ، جب معلوم ہوتا کہ یہاں بھی مثل تمام جنائز ایک ہی بار کی اجازت ملے گی تو ہر ایک یہ چاہتا کہ میں ہی پڑھ لوں،لہذا محمد رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کاعلم عظیم وجودِ عمیم، مقتضی ہوا کہ اپنے معاملہ میں خود فوج فوج حاضری کی وصیّت فرمادی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔یہی سرِّ جلیل جنازہ اقدس پر جنازہ نہ ہونے کی بھی ایک حکمت نفسیہ ہے تاکہ تمام حضار ِبالذات بلاواسطہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے شرفیاب ہوں ۔امامِ اجل سُہیلی یہاں امامت نہ ہونے کی وجہ فرماتے ہیں:
اخبراﷲ انہ وملٰئکتہ یصلون علیہ صلی اﷲ علیہ وسلم وامرکل واحدمن المومنین ان یصلی علیہ فوجب علی کل واحد ان یباشر لصلٰوۃ علیہ منہ الیہ والصلٰوۃ علیہ صلی اﷲعلیہ وسلم بعد موتہ من ھذاالقبیل۱؎۔نقلہ فی شرح الموطا۔
یعنی اﷲ عزّوجل نے خبر دی کہ وہ اوراس کے فرشتےمحبوب صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم پر ردرود بھیجتے ہیں اور ہر مسلمان کو حکم فرمایا کہ ان پر درود بھیجے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی آلہٖ وبارک وسلم۔تو ہر شخص پرواجب ہوا۔کہ محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایسے درود بھیجے کہ بلاتوسط دیگرے اُس شخص کی طرف سے محبوب صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچے اللہم صل وسلم وبارک علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وامتہ اجمعین۔ اور محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم پر بعد وصال شریف صلٰوۃ بھی اسی قبیل سے ہے۔ یعنی تواُس کابھی بے وساطت احدے ہونا چاہئے۔اسے شرح موطا میں نقل کیا۔
(۱؎ شرح الزرقانی علی موطاالامام مالک ماجاء فی دفن المیت المکتبہ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۲ /۶۶)
بالجملہ یہ محل، اعلٰی مواطن خصوص سے ہے ولاجرم علامہ سید ابوالسعود محمدالزہری نے حواشی کنز میں فرمایا:
تکرار الصلاۃ علی النبی عیلہ الصّلوۃ والسلام،کان مخصوصابہ۲؎۔
نبی اکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم پر تکرار نماز ان ہی کے ساتھ مخصوص تھی۔(ت)
(۲؎ فتح المعین فصل فی الصلٰوۃ علی االمیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۵۳)
سابعاپھر تنبیہ کی جاتی ہے کہ مجتہد صاحب اپنے مذہب کی فکر کریں۔وہ واقعہ جوان کے مسلک مذکور کارَد ہو مثلاً مہینہ بھر بعد نماز پڑھنا
کما علٰی ام سعد
جیسے ام سعد پر۔ت)یا مہینوں برسوں پیچھے
کما علٰی اھل البقیع
(جیسے بقیع والوں پر۔ت)یا آٹھ برس گزرے
کماعلٰی اھل احد
(جیسے احد والوں پر۔ت) علاوہ اور جوابوں کے خوداُن کا رَد ہوگا۔ نہ اُن کی سند، کہ یہاں اُن سے مطالبہ اپناادعا ثابت کرنے کا ہے
وانی لہ ذٰلک واﷲ الھادی الٰی اَقوم المسالک
(اور ان سے یہ کہاں ہوسکے گا؟ اور خداہی راست ترین راہ کی ہدایت فرمانے والا ہے۔ت)
الحمدﷲ! ان چند جمل نفیسہ، مجملہ مختصرہ، نے صرف مجتہدینِ زمانہ ہی کی آنکھ کان نہ کھولے بلکہ بحمداﷲتعالٰی بنظرِ انصاف دیکھئے تو مسئلہ کا فیصلہ بحث کا تصفیہ کاملہ کر دیا۔وﷲالحمداب بتوفیق اﷲ تعالٰی بعضے نکات وتمسّکات کے اس مسئلہ میں فیض قدیر سے قلبِ فقیر پر فائز ہوئے ذکر کرکے کلام ختم کروں جو بعونہٖ تعالٰی اصل مسئلہ اعنی ممانعت تکرار جنازہ میں تائید مذہب حنفیت کریں یا مسلک طریقہ مجتہد جدید کا ابطال کلی خواہ ابطال کلیت۔
فاقول وباﷲالتوفیق وبہ الوصول الیذری التحقیق
(تو میں کہتا ہوں، اور توفیق خدا ہی سے ہے اور اسی کی مدد سے بلندی تحقیق تک رسائی ہے۔ت)
اوّلاًنماز جنازہ اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں میّت کی شفاعت ہے
کما قدمنا علی الحدیث
(جیساکہ حدیث سے اس کو ہم پیش کر آئے۔ت) اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
من ذاالذی یشفع عندہ الّا باذنہ
کون ہے جو اﷲ کے یہاں شفاعت کرے مگراس کے اذن سے۔ )نسخہ میں الف مذکور نہیں(اور صورتِ مذکورہ کااذن کہیں ثابت ہو یا سید المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے اذن قولی یا فعلی یا تقریری سے،اور صورتِ مذکورہ کا اذن کہیں ثابت نہیں
ومن ادعی فعلیہ البیان
(جو دعوٰی کرے دلیل اس کے ذمّہ۔ت) لاجرم ان مجتہد صاحب نے بے ثبوت اذنِ الٰہی بارگاہِ عزّت میں شفاعت پر جرأت و بیباکی اور اپنے ساتھ اور مسلمان کو بھی اس بلا میں ڈالا اور
من ذاالذی یشفع شفاعۃ سیئۃ یکن لہ کفل منھا۱؎
(جو کوئی بری سفارش کرے اسے بھی اس کا حصہّ ملے۔ت) سے حصہ لیادیا،
(۱؎ القرآن ۴/۸۵)
وھذادلیل ان استقصی ادی الی اثبات المذھب تادیۃ صریحۃ ونفی قول کل من خالف فعلیک بتطلیب الصریحۃ۔
یہ ایسی دلیل ہے کہ اگر اسکی تہ تک جائیں تو صراحۃً اثبات مذہب تک پہنچائے اور ہر مخالف کے قول کی تردید کردے، تو صریح کی تلاش تمہارے ذمّے ہے۔(ت)
ثانیاًمسندامام احمدو سنن ابی داؤد میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے مروی رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتصلواصلٰوۃ فی یوم مرتین۲؎۔
کوئی نماز ایک دن میں دو بار نہ پڑھو
(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل ازعبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲ /۱۹
سنن ابی داؤد باب اذاصلی فی جماعۃ ثم ادرک جماعۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۸۶)
نیز حدیث میں ہے:
لایصلی بعد صلاۃ مثلھا۳؎۔رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ عن امیرالمؤمنین عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ من قولہ وظاہر کلام الامام محمد انہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قال الامام ابن الھمام ومحمد اعلم بذلک منّا۔
کسی نماز کے بعد اس کے مثل نہ پڑھی جائے۔اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے امیرالمومنین عمر رضی اﷲ عنہ سے ان کے قول کی حیثیت سے نقل کیا، اورامام محمد کے ظاہر کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔امام ابن الہمام فرماتے ہیں:امام محمد ہم سے زیادہ اس کا علم رکھتے ہیں(ت)
(۳؎ مصنف ابن ابی شیبہ من کرہ ان یصلی بعدا لصلٰوۃ مثلہا ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کراچی ۲ /۲۰۶)
اقول یہ حدیثیں بھی نفی تکرار پر صریح دال ہیں، حدیث ثانی تو عام مطلق ہے اور اول میں فی یوم کی قید اس نظر سے کہ مثلاً ظہر کی نمازوں کی تکرار سے تو آپ ہی مکرر ہوگی، کل کی ظہر اور آج کی اورکہ ان کا سبب وقت ہے،جب وقت دوبارہ آیا دوبارہ آئی، مگر ایک ہی سبب یعنی ایک ہی وقت میں مکرر نہ ہوگی، نمازِ جنازہ کا سبب مسلم میّت ہے۔ جب میت متکرر ہو نماز متکرر ہوگی مگر ایک ہی میّت پر مکرر نہیں ہوسکتی۔
ثالثاًابوبکر بن ابی شیبہ استادامام بخاری و مسلم نے روایت کی:
عن صالح مولی التوأمۃ عمن ادرک ابابکروعمررضی اﷲتعالٰی عنہما انھم کانوااذاتضایق بھم المصلی انصرفواولم یصلواعلی الجنازۃ فی المسجد۱؎۔
یعنی ابوبکرصدیق وعمر فاروق ودیگر صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم کی عادت کریمہ تھی کہ جب نمازِ جنازہ میں مصلّی تنگی کرتا اس میں گنجائش نہ پاتے واپس جاتے اور نماز جنازہ مسجد میں نہ پڑھتے۔
(۱؎ المصنف لابن ابی شیبہ من کرہ الصلٰوۃ علی الجنائز فی المسجد ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۳ /۳۶۵)