Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
58 - 243
رابعا: ًثبوت ہو کہ دوبارہ نماز پڑھنے والے خودو ہی ہیں جواول پڑھ چکے تھے کہ نئے لوگوں کا پڑھنا اگر چہ ولی احق کے بعد خلافیہ حنفیہ وشافعیہ ہو ان مجتہد صاحب کے مذہب وفتوٰی کا مصح نہیں ہوسکتا کہ انہوں نے تو پڑھ چکنے والوں کو دوبارہ پڑھوائی۔
خامسا:ہرتقدیر پر ضرور ہے کہ حدیث ہو صحیح فقہی ہو۔ مجرد وصحت حدیثی اثبات حکم کے لئے بس نہیں ہوتی، مجتہد صاحب اگر علم رکھتے ہوں گے صحت حدیثی و صحت فقہی کا فرق جانتے ہوں گے، ورنہ فقیر کا رسالہ
الفضل الموھبی فی معنی اذااصح الحدیث فھومذہبی ملقب بہ لقب تاریخی''اعزالنکات بجواب سوال ارکات''
جس کا سوال مقام ارکات سے آیا اس کے جواب میں لکھا گیا تھاملاحظہ فرمائیں، نہ مثل حدیث تعددالصلٰوۃ علی سیّدنا حمزہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کہ:
اوّلا:حدیث صحیح بخاری شریف کے صریح خلاف جس میں حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری شاہد ومشاہد مشہد اُحد رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی:
امر بد فنھم بدمائھم ولم یغسلواولم یصلوا علیھم۱؎۔و راہ ایضااحمد بسند جید والترمذی وصححہ والنسائی وابن ماجۃ ۔
رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ان شہدائے کرام کو ویسے ہی خون آلود دفن کرنے کا حکم فرمایا اور انہیں غسل نہ دیا گیا، نہ ان کی نماز ہوئی۔ اسے احمد نے سند جید کے ساتھ روایت کیا۔ترمذی نے روایت کرکے صحیح قرار دیا۔نسائی اورابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری        باب الصّلٰوۃ علی الشہید        قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۱۷۹)
مجتہدین زمانہ کے مسلک کے بالکل خلاف ہے کہ حدیث صحیح بخاری کے رَد کے لئے ادھر کی روایات پر عمل حلال جانیں۔
ثانیاً:اُس کی خود حالت یہ کہ اس کی کوئی سند مسند مقال سے خالی نہیں اور متن بشدت مضطرب اگر اس کی تفصیل کیجئے ایک رسالہ مستقل ہوتا ہے، مجتہد صاحب کو ہوس ہوئی تو بعونہٖ تعالٰی تسکین کافی کی جائے گی وباﷲ التوفیق لاجرم.ان مجتہدین تازہ کے بزرگوار ابن تیمیہ کے جدِّ امجد نےمنتقی میں کہا:
قدرویت الصلٰوۃ علیہم باسانیدلاتثبت۲؎۔
شہدائے اُحد کی نماز ہونا ایسی سندوں سے مروی ہے جو ثابت نہیں۔(ت)
 (۲؎ منتقی الاخبار مع نیل الاوطار    ترک الصّلٰوۃ علی الشہید            مصطفی البابی مصر        ۴ /۴۸)
ہاں تو ایک اثر مرسل ابوداؤد نے مراسیل میں بسند ثقات ابومالک غفاری تابعی سے روایت کیا:
ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صلی علٰی قتلٰی اُحد، عشرۃ عشرۃ ،فی کل عشرۃ حمزۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ حتی صلی علیہ سبعین صلٰوۃ ۳؎۔
نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے شہدائے اُحد پر دس دس آدمی کرکے نماز پڑھی،ہردس میں حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہوتے، یہاں تک کہ ان پر ستّر بار نماز پڑھی ۔(ت)
(۳؎ السنن الکبرٰی     کتاب الجنائز باب من زعم ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی احد الخ دارصادر بیروت   ۴ /۱۲)
یہ ایک تو مرسل ، اور مرسل ان صاحبوں کے نزدیک مہمل، اور دوسرے فی نفسہٖ مشکل۔ شہدائے اُحد رضی اﷲتعالٰی عنہم ۷۰ ستر تھے جب دس دس پر نماز ہوئی تو سات نمازیں ہوں گی ستّر کیونکر !
ثمّ اقول وباﷲ التوفیق
بعدتسلیم ِ صحتِ حدیث غایت درجہ جو ثابت ہوگا وہ اس قدر کہ شہداء پر نعشیں بدل کر نمازیں ہوا کیں اور نعش مبارک سیدالشہداء رضی اﷲتعالٰی عنہم بدستور رکھی رہی، مجرد نہ اٹھایاجانا مستلزم اعادہ صلٰوۃ نہیں کہ یہ امر نیت حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے علم پر موقوف اور نیت غیبت ہے اور غیبت پر اطلاع نہیں، ممکن کہ اُن کی نعش ہربار کے برکات نازلہ میں شمول کے لئے رکھی گئی ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسی جگہ رویت کا مبلغ صرف صورتِ ظاہرہ تک ہے، نہ معنی باطن تک، اور مطلب مستدل کا ثبوت اُسی معنی باطن پر موقوف، اور اس کی دلیل نہیں، تو استدلال راساً ساقط۔ ہاں اگرحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم خود اپنی زبان مبارک سے ایسے بیان فرماتے تو احتجاج صحیح تھا
واذالیس فلیس
اورجب وُہ نہیں تو یہ بھی نہیں۔ت)
سادسا: ذرا بھی یہ ملحوظ رہے کہ وہ محل، متحمل اختصاص نہ ہو خصوصاً جہاں خصوص پر قرینہ قریبہ قائم ہو، جیسےحدیثِ خادمہ مسجد رضی اﷲتعالٰی عنہماوغیرہاجن کی قبر پرحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر وجہ خودارشاد فرمائی :
ان ھذہ القبور مملوہ علٰی اھلھا ظلمۃ وانی انورھا بصلٰوتی علیہم۱؎صلی اﷲعلیہ وسلم قدر نورہ وجمالہ وجودہ ونوالہ علیہ وعلی اٰلہ اجمعین رواہ مسلم وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ واصل احدیث متفق علیہ۔
بیشک یہ قبریں اپنے ساکنوں پر اندھیرے سے بھری ہیں اور بیشک میں اپنی نماز سے انہیں روشن کردیتا ہوں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ۔اﷲ تعالٰی ان پردرود وسلام نازل فرمائے ان کے نو روجمال اور جودونوال کے اندازے سے اوران کی آل واصحاب سب پر۔یہ حدیث مسلم اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی۔ او راصل حدیث بخاری ومسلم کی متفق علیہ ہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم   کتاب الجنائز    نور محمد اصح المطابع کراچی   ۱ /۳۱۰)
زید بن ثابت ویزید بن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیثوں میں گزرا کہ بے میری اطلاع کے دفن نہ کردیا کرو کہ میری نماز اس کے حق میں ر حمت ہے۔
اقول خودبنظر ایمانی گواہ ہے کہ کروڑوں صلحاء واتقیاء کسی جنازہ کی نماز پڑھیں مگر وہ بات کہاں جوحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے پڑھنے میں ہے، وُہ برکات وہ درجات ومثوبات دوسرے کی نماز میں حاصل نہیں ہوسکتیں، اور حضور پُرنورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بہ نص قطعی قرآن ِ عظیم
عزیز علیہ ماعنتم حریصٌ علیکم بالمؤمنین رؤف رَّحیم۲ ؂
ہیں کہ ہر مسلمان کی کلفت اُن پر گراں، ایک ایک امتی کی بھلائی پر حریص، ہر مومن پرنہایت نرم دل مہربان۔
 (۲؎ القرآن         ۹ /۱۲۸)
وُہ کیونکر گوارافرمائیں کہ دُنیا میں اُن کے تشریف رکھتے ہوئے مسلمان سخت منزل کاسفر کرے اوران کی رحمت اُن کی برکت کا توشہ اُس کےساتھ نہ ہو اوروں کی نماز اُن کی نماز سے کیا مانع ہوسکتی ہے تو اس فعل کا وجہ خاص ہی سے ناشی ہونا ظاہرولامع، وزید وعمرکا مصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم پر قیاس باطل وضائع۔شرح موطائے امام مالک میں ہے:
والدلیل علی الخصوصیت مازاد مسلم (فذکرہ قال) وھذالایتحقق فی غیرہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ۱؎۔
خصوصیت کی دلیل وُہ ہے جو مسلم نے مزید روایت کیا(اس کے بعد حدیث مذکور بیان کی پھر کہا) اور یہ بات حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے میں متحقق نہیں(ت)
 (۱؎ شرح الزرقانی علٰی موطاالامام مالک     لاتکبیر علی الجنائز        التجاریۃ الکبرٰی مصر        ۲ /۶۰)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں علامہ ابن مالک سے ہے :
صلاتہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کانت لتنویر القبروذالایوجد فی صلٰوۃ غیرہ۲؎۔
حضوراقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی نماز قبر کو روشن کرنے کے لئے تھی اور یہ بات دوسرے کی نماز میں نہیں۔(ت)
 (۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ         باب المشی بالجنازۃ والصلٰوۃ علیہا    مکتبہ امدادیہ ملتان        ۴ /۵۱)
اقول اس سے زائد محل خصوص،خصوص واقعہ سید اہل خصائص ہے صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ۔وہاں تو ان معاملات میں بہت باتیں خصوصیات سے واقع ہوئیں۔ نعش مبارک کا مقابر کی طرف نہ لے جانا، جہاں روح اقدس نے رفیق اعلٰی کی طرف رجوع فرمایا،خاص اس جگہ دفن ہونا، نہلانے میں قمیص مقدس بدنِ اقدس سے نہ جدا کیا جانا، سب صحابہ کے مشرف ہولینے کے لئے جنازہ مبارک کا پونے دودن رکھا رہنا۔ جنازہ اقدس پر کسی کی امامت روا نہ نہ ہونا انہیں خصوصیات میں، یہ بھی سہی، خصوصاً جبکہ حدیث میں وارد ہے کہ یہ صورت حسب وصیّت اقدس واقع ہوئی
کما قدمنامن حدیث عبداﷲ رضی  اﷲتعالٰی عنہ
(جیسا کہ حضرت عبداﷲ رضی اﷲتعالٰی عنہ کی حدیث سے ہم اس کو پیش کرچکے۔ت)نمازِ جنازہ مسلمان کاحق مسلمان پر ہے۔رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حق المسلم علی المسلم خمس ردّالسلام وعیادۃ المریض واتباع الجنازۃ و اجابۃ الدعوۃ وتشمیت العاطس۱؎۔رواہ الشیخان عن ابی ہریرہ  رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں(۱) سلام کا جواب دینا(۲)بیماری میں عیادت کرنا(۳) جنازہ کے

پیچھے ہونا(۴) دعوت قبول کرنا(۵) چھینک پر تحمید کا جواب دینا۔اسےبخاری ومسلم نےحضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کاکیا،(ت)
 (۱؎ الصحیح البخاری            کتاب الجنائز        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۶۶)
Flag Counter