حضور شافع شفیع صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذاکان یوم القٰیمۃ کنت امام النبین وخطیبہم وصاحب شفاعتھم غیر فخر۳؎رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم باسانید صحیحۃ عن ابی بن کعب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
روزِ قیامت تمام انبیاء کا امام اوران کا خطیب اور اُن کی شفاعت کا مالک ہوں اور یہ بات کچھ براہ فخر نہیں فرماتا۔اسے امام احمد،ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے صحیح سند وں سے حضرت ابی بن کعب رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
تو جوشفاعت بے اذنِ والا کوئی کرے وہ فضولی کا تصرف ہے کہ اذنِ مالک پرموقوف رہے گا۔مالک اگر جائز کردے جائز ہوجائے گا اوراگر آپ ابتدائے تصرف کرے تو باطل،
فان البات اذطرء علٰی موقوف ابطلہ کمانص علیہ الفقہاء فی غیرمامسئلہ۔
اس لئے کہ قطعیت والا جب کسی موقوف پر طاری ہوتو اسے باطل کردیتا ہے جیساکہ فقہا نے متعدد مسائل میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔(ت)مثلاًعمرو ملک زید بے اذنِ زید بیع کردے، زید خبر پاکر روارکھے رواہے،اور اگر خوداز سرنو عقدِ بیع کرے تو ظاہرہوگا کہ عقد فضولی پر قناعت نہ کی اب عقد یہی عقدِ مالک ہوگا، نہ عقد فضولی۔تو صورتِ مذکور میں جس میّت پر حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم خود نماز پڑھیں۔یہ اعادہئ نماز نہ ہوگا، بلکہ نمازِ اوّل یہی قرار پانی چاہئے۔بحمداﷲ تعالٰی یہی معنٰی ہیں ہمارے بعض ائمہ کے فرمانے کے کہ نمازِ جنازہ کا فرض حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں بےحضور کے پڑھے ساقط نہ ہوتاتھایعنی حضورخودپڑھیں یا دوسروں کو اذن دیں،
کما فعل فی الغال وکان یفعل اولافی من مات مدیوناًولم یترک وفاء۔
جیسا کہ مالِ غنیمت کے ا ندر خیانت کرنے والے کے ساتھ کیا پہلے اس مدیون کے ساتھ ایسا کرتے تھے جوادائے عین کےلئے کچھ چھوڑ نہ جائے(ت)اوراگر بے اطلاعِ حضور پُر نور لوگ خود پڑھ لیں، تووہ شفاعت بے اذن کا مالک ہے کافی ومسقط فرض نہیں۔
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ شریف میں ہے:
رأیت السیوطی ذکرفی انموذج اللبیب، انہ ذکربعض الحنفیۃ ان فی عہدہ علیہ الصلٰوۃ والسلام لایسقط فرض الجنازۃ الابصلاتہ فیؤل الٰی ان صلاۃ الجنازۃ فی حقہ فرض عین وفی حق غیرہ فرض کفایۃ واﷲ ولی الہدایۃ۱؎۔
میں نے دیکھا کہ امام سیوطی نے انموذج اللبیب میں لکھا ہے کہ بعض حنفیہ نے بیان کیا کہ حضور اقدس علیہ الصّلٰوۃ والسلام کے عہد پاک میں فرضِ جنازہ حضور کی نماز کے بغیر ساقط نہ ہوتا--اورخدا ہی ہدایت کا مالک ہے(ت)
(۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المشی بالجنازۃ والصلٰوۃ علیہا مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ /۵۰)
اقول لایؤل الیہ وکیف وقدثبت ماذکرنامن امرالغال والمدیون ولم یقل للقائل، ان فرض الجنازۃ کان لایسقط عنہ الابصلاتہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ولو ارادھذالکان تقییدہ بعدہ صلی اﷲ علیہ وسلم عبثا مستغنی عنہ انما المعنی ماقررناان الفرض لم یکن یسقط عن احدفی عھدہ مالم یصل اویأ ذن، لکونہ ھومالک الشفاعۃ صلی اﷲعلیہ وسلم۔
اقول یہ مآل نہ ہوگا، یہ کیسے ہوسکتاہے جب وہ جو ہم نے خائن اور مدیون کا معاملہ ذکر کیا وُہ ثابت ہے--اُس قائل نے یہ نہیں کہا کہ حضور سے بغیر نمازِ حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے فرض ساقط نہ ہوتا، اگر اس کا مقصد یہ ہوتاتوحضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے عہدِ مبارک کی قید لگانے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی، مقصود وہ ہے جو ہم نے بیان کیا کہ سرکار کے عہد مبارک میں کسی سے یہ فرض ساقط نہ ہوتا جب تک حضور خود نہ پڑھیں یادوسرے کو اذن نہ دیں اس لئے کہ شفاعت کے مالک وہی ہیں، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔(ت)
اقول بنظرِ ارشادمذکور کہ ہمیں خبر کردینا، اوراطلاع واقع نہ ہوئی،شرع سے اس کیلئے ایک اور نظیر مل گئی، مسجدِ محلہ میں اہل محلہ جب جماعتِ صحیحہ غیرمکروہہ بالاعلانِ اذان اداکرچکیں تو دوسروں کو باعادہ اذان وہاں جماعت کی اجازت نہیں، اور اگر پہلی جماعت بے اذان یا باخفائے اذان واقع ہوئی توانہیں روا ہے کہ اذان بروجہ مسنون دے کر محراب میں جماعت قائم کریں کہ جب وہ جماعت برخلاف حکم سنّت تھی تو اب یہ اعادہ جماعت نہیں بلکہ یہی جماعتِ اولٰی ہے
کما بیّناہ فی رسلتنا القطوف الدانیۃ لمن حسن الجماعۃ الثانیۃ
(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ''القطوف الدانیۃ لمن احسن الجماعۃ الثانیۃ''میں بیان کیا ہے۔ت) یہی وجہ ہے ان تقریراتِ نفسیہ سے بحمداﷲ تعالٰی حدیثِ سکینہ اور اس کی نظراء کی بحث کا تصفیہ تمام ہوگیا اور نہ صرف ان مجتہد صاحب کے اختراع بلکہ تمسکِ شافعیہ کا بھی جواب تمام،
وبہ ظہر، ان لوثبت ان الذین صلوامن قبل ان کانواھم المصطفین خلف المصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لم یکن فیہ ماینکر بہ علٰی شیئ من مذھبناولاحاجۃ بناالی الجواب الذی اورد العلامۃ القسطلانی فی ارشاد الساری وارتضاہ المولی علی القاری فی المرقاۃ وذکرہ الفاضل الزرقانی فی شرح الموطا ان صلٰوۃ غیرہ صلی اﷲ علیہ وسلم وقعت تبعالہ صلی اﷲعلیہ وسلم وبہ انحلت بحمداﷲتعالٰی عقدۃ استصعبھا المحقق حیث اطلق فی الفتح واﷲ سبحانہ ولی التوفیق والفتح والحمد ﷲ ربّ العٰلمین۔
اور اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اگر یہ بھی ثابت ہوجائے کہ جولوگ جنازہ پہلے اداکرچکے تھے وہی بعد کوسرکار مصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ تھے تو اس میں کوئی ایسی بات نہ ہوگی جو ہمارے مذہب پر گرد اعتراض بٹھاسکے---اور ہمیں اس جواب کی ضرورت نہیں جوعلامہ قسطلانی نے ارشاد الساری میں ذکر کیا اور مولانا علی قاری نے مرقاۃ میں اسے پسند کیا اورفاضل زرقانی نے شر ح موطاء میں اسے بیان کیا کہ'' دوسرے حضرات کی نمازحضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی تبیعت میں تھی''--اور اسی سے بحمد اﷲتعالٰی ایک اور عقدہ حل ہوگیا جسے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں دشوار قرار دیا ہے۔اور خدائے پاک ہی توفیق اور کشف کا مالک ہے، اور ساری خوبیاں اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کا مالک ہے۔(ت)
تنبیہ:اقول وباﷲ التوفیق ولایتِ میّت یا بذریعہ وراثت مال ہے ولہذا جو وراثت میں مقدم، ولایت میں اقدم یا بطور نیابت ولی احق ووالی مطلق صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے یعنی خلافتِ امام وسلطنت ِ اسلام بمعنی اول، حضور اقدس صلی تعالٰی علیہ وسلم کو کوئی ولی نہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ ولم فرماتے ہیں:
لانورث ماترکناہ صدقۃ ۱؎۔رواہ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی عن ابی بکر صدیق وابوداؤد عن ام المؤمنین ونحوہ عن الزبیر واحمد والشیخان وابوداؤد عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا ہم جو چھوڑ جائیں گے صدقہ ہے، اسے امام احمد، بخاری، مسلم اورابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ سے بھی روایت کیا رضی اﷲتعالٰی عنہم۔
(۱؎ صحیح مسلم شریف کتاب الجہاد باب حکم الفیئ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲/۹۱)
(سنن ابوداؤد کتاب الخراج والفیٔ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۶۰)
حدیث اُمّ المؤمنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا میں ہے:
فاذامت فھوالٰی ولی الامر من بعدی۲؎۔
جب میں انتقال فرماجاؤں تو میرے ترکے کا اختیار اُسے ہے جو میرے بعد ولیِ امروخلیفہ ہوگا۔
(۲؎ سنن ابوداؤد کتاب الخراج والفیٔ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۶۰)
رہی ولایت ِ خلافت وہ ہنوز کسی کو نہ تھی، یہاں تک صدیق اکبر رضی اﷲتعالٰی عنہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئی،اگر یہی مانئے کہ جنازہ اقدس پر نماز ہوئی تو غیروالی احق سے، بے اذن ولی احق تھی، ہاں یہ ثابت کیا جائے کہ صدیق اکبرنے بعد خلافت نماز ادا کی اورپھر اعادہ کی گئی، مگر حاشااس کا ثبوت کہاں-- الحمداﷲ تعالٰی اس تقریر کے بعد فقیرغفراﷲتعالٰی نے مبسوط امام شمس ائمہ سرخسی سے پایا کہ بعینہٖ اسی جواب کی طرف اشارہ فرمایا۔منحۃ الخالق میں مبسوط سے ہے۔
لاتعاداالصلٰوۃ علی المیت الاان یکون الولی ھوالذی حضر،فان الحق لہ ولیس لغیرہ ولایۃ اسقاط وھوتاویل فعل رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فان الحق لہ قال اﷲ تعالٰی النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم وھکذا تاویل فعل الصحابۃ رضی اﷲتعالٰی عنہم فان ابابکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کان مشغولا بتسویۃ الامور وتسکین الفتنۃ فکانوایصلون علیہ قبل حضورہ وکان الحق لہ لانہ ھوالخلیفۃ فلمافرغ صلی علیہ ثم لم یصل احد بعدہ علیہ۱؎اھ
نمازِ جنازہ دوبارہ نہیں مگر یہ کہ ولی ہی بعد میں آیا تو اسے حق اور دوسرے کو اس کا حق ساقط کرنے کا اختیار نہیں---یہی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے فعل کی تاویل ہے کیونکہ حق سرکار کا تھا، اﷲتعالٰی فرماتا ہے: نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں-- اور اسی طرح صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم کے فعل کی تاویل ہے اس لئے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالٰی عنہ معاملات درست کرنے اور فتنہ فرو کرنے میں لگے ہوئے تھے توان کی آمد سے پہلے لوگ صلٰوۃ پڑھتے جاتے اور حق صدیق کاتھا کیونکہ خلیفہ وہی ہوئے تو جب فارغ ہوئے سرکار کی نمازِ جنازہ پڑھی پھر کسی نے حضور کی نماز نہ پڑھی۔
(۱؎ منحۃ الخالق حاشیہ علی البحرالرائق فصل السلطان احق الصلٰوتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۸۲)