Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
56 - 243
اقول وباﷲ التوفیق
ابن حبان اپنی صحیح اورحاکم مستدرک میں حضرت یزید بن ثابت انصاری برادر اکبر زید بن ثابت رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی ہیں:
قال خرجنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلما وردنا البقیع اذاھو بقبر فسأل عنہ فقالو فلانۃ فعرفھافقال الااٰذنتمونی بھاقالواکنت قائلاصائماقال فلاتفعلوالاعرفن مامات منکم میت ماکنت بین اظھرکم الااٰذنتمونی بہ فان صلاتی علیہ رحمۃ۱؎۔
یعنی ہم ہمراہ رقابِ اقدس حضور سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم باہر چلے جب بقیع پر پہنچے ایک قبر تازہ نظر آئی حضور پُرنورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: لوگوں نے عرض کی :فلاں عورت۔حضور نے انہیں پہچانا،فرمایا:مجھے کیوں خبر نہ دی؟ عرض کی :حضور دوپہر کو آرام فرماتے تھے اورحضور کاروزہ تھا۔ فرمایا :توایسا نہ کرو جب تم میں کوئی مسلمان مرے مجھے خبر کردیاکرو کہ اُس پر میرانماز پڑھنا رحمت ہے۔
 (۱؎ الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان    حدیث ۳۰۸۶    موسستہ الرسالہ بیروت        ۶ /۳۵)
ظاہر ہے کہ یہ واقعہ واقعہ حضرت سکینہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کا غیر ہے، وہاں یہ تھا کہ اندھیری رات تھی ہمیں گوارا نہ ہوا کہ حضور کو جگائیں، یہاں یہ ہے کہ دوپہر کا وقت تھا حضور آرام فرماتھےحضور کو روزہ تھا اور دونوں حدیثوں میں وہی ارشاد اقدس ہے کہ ایسا نہ کرو ہمیں اطلاع دیا کرو۔ اب خواہ یُوں ہوکہ ایک واقعہ کےحضار اور تھے اور دوسرے واقعہ کے لوگوں کو اس حکم کی خبر نہ تھی خواہ یوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس امر کو ارشادی محض ،بہ نظرِ رحمت تامہ حضور رؤف رحیم علیہ افضل الصّلٰوۃ والتسلیم خیال کیا، نہ ایجابی۔ لہذا جہاں تکلیف کا خیال ہوا ادب وآرام کومقدم رکھا، بہر حال ایسے وقائع اُن سب وجوہ مذکور کے مورد ہیں۔ ایک بار کے فرمان سے ، کہ خبر دے دیا کرو، باقی بار کا اطلاع اقدس ہونا ثابت نہیں ہوسکتا،
کما لا یخفی،
لاجرم طبرانی نے حصین بن وَحوَح انصاری رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی:
ان طلحۃ بن البراء مرض، فاتاہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یعودہ فقال انی لارٰی طلحۃ الاقدحدث فیہ الموت فاذنونی بہ وعجلو افلم یبلغ النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بنی سالم بن عوف حتی توفی، وکان قال لاھلہ لمادخل اللیل اذامت فادفنونی ولاتدعو رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فانی اخاف علیہ الیہود ان یصاب بسببی فاخبر النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم حین اصبح۱؎ ملخصاالحدیث۔
یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت طلحہ بن براء رضی اﷲتعالٰی عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور یہ فرماگئے کہ اب اُنکا وقت آیامعلوم ہوتاہے، مجھے خبر کردینا اور تجہیز میں جلدی کرنا۔حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم محلہ بنی سالم تک نہ پہنچے تھے کہ اُن کا انتقال ہوگیا اورانہوں نے رات آنے پر اپنے گھروالوں کو وصیت کردی تھی کہ جن میں مروں تو مجھے دفن کردینا اورحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو نہ بلانا، رات کاوقت ہے مجھے یہود سے اندیشہ ہے مباداحضور کو میرے سبب سے کوئی تکلیف پہنچے۔ ان کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ،صبح نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو خبرہوئی  ۔وباﷲ التوفیق
 (۱؎ المعجم الکبیر     حصین بن وحوح انصاری    حدیث ۳۵۵۴    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۴ /۲۸)
ثمّ اقول وباﷲ استعین
 (پھر میں اﷲ تعالٰی کی مدد سے کہتاہوں۔ت)حقیقتِ ولایت سے قطع نظر کرکے یہاں ایک لطیف تر تقریر ہے کہ فیضِ قدیر سے قلبِ فقیر پر فائز ہوئی، نمازِ جنازہ شفاعت ہے
کما صرحت بہ الاحادیث
 (جیساکہ احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ت) احمدومسلم و ابوداؤدوابن ماجہ کی حدیث میں عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
مامن رجل مسلم یموت فیقوم علی جنازتہ اربعون رجلا لایشرکون باﷲ شیئا الاشفعھم اﷲ فیہ۲؎۔
جس مسلمان کے جنازے میں چالیس مسلمان نماز میں کھڑے ہوں اﷲ تعالٰی اس کے حق میں اُن کی شفاعت قبول فرمائے۔
 (۲؎ صحیح مسلم     کتاب الجنائز                نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۳۰۸)
احمدومسلم و نسائی نے ام المومنین وانس بن مالک رضی اﷲتعالٰی عنہما اورترمذی نے صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت کی رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
مامن میت تصلی علیہ اُمۃ من المسلمین یبلغون مائۃ کلھم یشفعون لہ الاشفعوافیہ۳؎۔
جس میّت پر سَو مسلمان نمازِ جنازہ میں شفیع ہوں ان کی شفاعت اُس کے میں قبول ہو۔
 (۳؎ صحیح مسلم     کتاب الجنائز                نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۳۰۸)
اور مالکِ شفاعت صرف حضور شفیع یوم النشور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ہیں، اور جوکوئی شفاعت کرے حضور

صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی نیابت سے کرے گا ۔شفیع المذنبین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اعطیت الشفاعۃ ۱؎۔رواہ البخاری ومسلم والنسائی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فی حدیث اعطیت خمساًلم یطعہن احدٌ من الانبیاء قبلی۲؎۔
شفاعت مجھے عطافرمادی گئی ہے۔اسے بخاری ،مسلم اورنسائی نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔اس حدیث میں کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کے انبیاء کو نہ ملیں۔
 (۱؎ صحیح البخاری باب قول النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم   جعلت لی الارض مسجدا  قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۶۲)

(۲؎ صحیح البخاری باب قول النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم   جعلت لی الارض مسجدا  قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۶۲)
Flag Counter