اقول اماالجواب فلایمس ماینحوالیہ ابوالولید فانہ لایدعی احالتہ الصّلٰوۃ المعروفۃ علیہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وانھا لاوجہ لھا حتی یثبت جوازھا ویذکر توجیھا وانمایقول ان لترکھا اوجھا ان وقع وہو کذلک ولاینافیہ ان لفعلھا ایضاوجہ اووجوھا۔
اقول امام ابوالولید کا جومطمحِ نظر ہے اس سے جواب کو مس نہیں، اس لئے کوہ اسکے مدعی نہیں کہ حضورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی نماز جنازہ محال ہے، اور اس کی ادائیگی کوئی وجہ نہیں رکھتی، جواباً اس کا جواز ثابت کیاجائے اورا س کی کوئی وجہ ظاہرکی جائے---وُہ صرف یہ فرما رہے ہیں کہ اگر سرکار کی نماز نہیں پڑھی گئی تواسکی ایک وجہ ہے--اور وہ اس طرح ہے--اب اگر ادائے نماز کی بھی ایک وجہ یا چندوجہیں ہیں تو یہ ان کے بیان کے منافی نہیں۔
ان ماذکر المجیب متمش فی الشہیدایضاوالکلام علی مذہب من یقول لایصلی علیہ اما قبول الزیادۃ فبدیھی واماانتفاع المسلیمین فکذلک وقدروی الامام الترمذی محمد بن علی عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اوّل تحفۃ المومن ان یغفر لمن صلی علیہ۱؎
اورمجیب نے جو ذکر کیا ہے وُہ شہید کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے-- یہ کلام ان لوگوں کے مذہب پر ہوگا جو شہید کی نمازِ جنازہ کے قائل نہیں--شہید کا زیادتی کمال کے قابل ہونا تو بدیہی ہے-- رہا مسلمانوں کا فائدہ پانا تو وہ بھی ایساہی تھا --امام ترمذی محمد بن علی حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی سے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مومن کا سب سے پہلا تحفہ یہ ہے کہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے والوں کی مغفرت کردی جاتی ہے
(۱؎ نوادر الاصول الاصل الرابع والخمسون دارصادر بیروت ص ۷۸)
ورواہ الدارقطنی فی الافراد عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بلفظ اوّل مایتحف بہ المومن اذادخل قبرہ ان یغفر لمن صلی علیہ ۱؎
اور اسے دارقطنی نے افراد میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی روایت سے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ان الفاط میں روایت کیا ہے کہ:مومن جب قبر میں داخل ہوتا ہے تواس کو سب پہلا تحفہ یہ دیا جاتا ہے کہ اس کی نماز پڑھنے والوں کی مغفرت کردی جاتی ہے
ورواہ عبدبن حمید والبزاروالبیہقی فی شعب الایمان عنہ رضی اﷲ عنہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بلفظ ان اوّل مایجازی بہ المومنین بعد موتہ ان یغفر لجمیع من تبع جنازۃ ۲؎
اور اسے عبدبن حمید،بزار اورشعب الایمان میں بیہقی نے ان ہی(حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما) کی روایت سے نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے ان الفاظ میں روایت کیا کہ:مومن کوبعد موت سب سے پہلا صلہ یہ دیاجاتا ہے کہ اس کے جنازہ کے پیچھے چلنے والے سب لوگوں کو بخش دیا جاتا ہے
(۲؎ شعب الایمان باب فی الصلٰوۃ علی من مات حدیث ۹۲۵۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷ /۷)
ورواہ ابن ابی الدنیافی ذکر الموت والخطیب عن جابر بن عبداﷲرضی اﷲتعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بلفظ ان اوّل تحفۃ المؤمن ان یغفرلمن خرج فی جنازتہ۳؎
اور ابن ابی الدنیا نے ذِکر موت میں اورخطیب نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی روایت سے نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے کہ: مومن کا سب سے پہلا تحفہ یہ ہے کہ جو لوگ اس کے جنازہ میں نکلے ان کی مغفرت کردی جاتی ہے
(۳؎ تاریخ بغداد ترجمہ نمبر۲۷۶۸ محمد بن راشدالبغدادی دارالکتاب العربی بیروت ۵ /۲۷۴)
وروی الدیلمی فی مسند الفردوس عنہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذامات الرجل من اھل الجنۃ استحی اﷲ عزوجل ان یعذب من حملہ ومن تبعہ ومن صلی علیہ۴؎
اوردیلمی نے مسندالفردوس میں انہی(جابر بن عبداﷲ) کی روایت سے نبی کریم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ جب اہل جنت کاکوئی شخص انتقال کرتا ہے تو اﷲ عزوجل حیافرماتاہے کہ ان لوگوں کو عذاب دے جو اس کا جنازہ لے کر چلے او رجو اس کے پیچھے چلے اور جنہوں نے اس کی نماز پڑھی ۔
وروی ابوبکر بن ابی شیبۃ وابوالشیخ وابن حبان فی کتاب الثواب عن سلمان فارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ان اول مایبشربہ المومن ان یقال ابشرولی اﷲبرضاوالجنۃ قدمت خیرمقدم قدغفراﷲ لمن تبعک واستجاب لمن استغفرلک وقبل من شھد لک۱؎۔
اورابوبکر بن ابی شیبہ ، ابوالشیخ اورابن حبان نے کتاب الثواب میں بروایت سلمان فارسی رضی اﷲتعالٰی عنہ نبی کریم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ : سب سے پہلے مومن کوجو بشارت دی جاتی ہے وہ یہ ہےکہ اس سے کہاجاتاہے اے خداکے ولی! تجھے اس کی خوشنودی کا مژدہ ہو، جنت تیرے خیرمقدم کو تیار ہے اور اﷲنے تیرے جنازے کے ساتھ چلنے والوں کی مغفرت فرمادی اور تیرے لئے استغفار کرنے والوں کی دُعا قبول کی اور تیرے لئے شہادت دینے والوں کو قبول فرمایا۔
واما تصحیح عیاض اقول لامتمسک فیہ للمخالف المدعی للاجتھاد وکیف یجوزلہ ان یقلد عیاضاوھولایقلد من یقلدہ عیاض اعنی الامام مالک ولامن ھواکبرمنہ اعنی الامام الاعظم رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
رہی قاضی عیاض کی تصحیح، تو میں کہتاہوں اس میں مخالف مدعی اجتہاد کے لئے کوئی جائے تمسک نہیں، اس کےلئے قاضی عیاض کی تقلید کیسے روا ہوگی جب کہ وہ ان کی بھی تقلید نہیں کرتا جن کے قاضی عیاض مقلّد ہیں یعنی امام مالک رضی اﷲتعالٰی عنہ ، نہ ان کی جوان سے بزرگ ہیں یعنی امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ثم حسبنافی قبول التصحیح ان نقول نعم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صلٰوۃ الجنازۃ مرۃ وذلک حین تمت البیعتہ علٰی یدالصدیق رضی اﷲتعالٰی عنہ صحت ولایتہ اماقبل ذلک فما کان الناس لایدعون وینصرفون ثم اذاصلی الصدّیق لم یصل علیہ احد بعدکما سنذکر الجزم بہ عن الامام شمس الائمہ السرخسی رحمۃ اﷲ علیہ۔
پھر ہمارے لئے قبول تصحیح کے معاملے میں یہ کہنا کافی ہے کہ ہاں ایک بار حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھی گئی-- وُہ اس وقت جب حضرت صدیق اکبر رضی اﷲتعالٰی عنہ کے ہاتھ پر بیعت تمام ہوئی اور ان کی ولایت صحیح ہوگئی۔ اس سے قبل صرف یہ تھا کہ لوگ آکر دعا کرتے اورلوٹ جاتے ۔ پھر جب حضرت صدیق نے نماز ادا کی تو اس کے بعد کسی نے حضور کی نماز جنازہ نہ پڑھی-- جیسا کہ شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ سے اس پر جز م ہم آگے نقل کریں گے۔
ثالثاثبوت دینا ہوگا کہ پہلی نماز ولی احق نے خود پڑھی تھی پھر اعادہ کی ،قطع نظر اس سے کہ جب نماز اوّل نہ ولی احق نے خود پڑھی نہ اس کے اذن سے ہُوئی تواُسے ہمارے نزدیک بھی اعادہ کا اختیار ہے۔ ان مجتہدصاحب کاوہ حکم واصرار صحیح ٹھہرانا خاص اسی صورت کے ثبوت پر موقوف کہ یہاں واقعہ یہی تھا۔
اقول وباﷲ التوفیق
زمانہ اقدس حضور سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میں تمام مسلمین کے ولی احق واقدم خود حضور پُرنورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ہیں۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسھم۱۱؎
(نبی مسلمانوں کے انکی جانوں سے زیادہ مالک ہیں۔ت)
(۱؎ القرآن ۳۳ /۶)
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انااولٰی بالمؤمنین من انفسھم۲؎۔ رواہ احمدوالشیخان والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہوں۔اسے امام احمد، بخاری،مسلم، نسائی، ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا(ت)
تو جو نماز قبل اطلاع حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اور لوگ پڑھ لیں پھر اگر حضور پُرنورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اعادہ فرمائیں تو یہ وہی صورت ہے کہ نمازِاول غیر ولی احق نے پڑھی ،ولی احق اختیارِاعادہ رکھتا ہے اسے ان مجتہد صاحب کی صورت سے کچھ علاقہ نہ ہوگا خصوصاً جب کہ پہلے سے ارشاد فرمایا ہو کہ فلاں مریض جب انتقال کرے ہمیں خبر دینا کہ آخر یہ ارشاد اسی لئے تھا کہ خود نماز پرھنے کاقصد تھا تو اگر اوروں کاپڑھنا ثابت ہو تو صرف بے اذنِ ولی نہیں بلکہ خلافِ اذن ولی ہوگا، اگرچہ اُن کا اطلاع نہ دینا بمتقضائے ادب ومحبت ہو جیساکہ سکینہ سودأخادمہ مسجداُم محجن رضی اﷲتعالٰی عنہما کے معاملہ میں واقع ہوا۔ موطائے امام مالک وغیرہ میں حدیث ابی امامہ اسعد بن سہل بن حنیف رضی اﷲتعالٰی عنہما سے ہے، جب وُہ بیمار ہوئیں رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
اذاماتت فاٰذنونی
جب اس کا انتقال ہو مجھے خبر کردینا
(۳؎ موطاامام مالک التکثیرہ علی الجنائز میر محمد کتب خانہ کراچی ص۲۰۸)
ان کا جنازہ شب کو تیار ہوا،صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو جگانا خلافِ ادب جانا(ابن شیبہ کی روایت موصولہ میں حدیث سہل بن حنیف رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہے) یہ بھی خوف ہُواکہ رات اندھیری ہے زمین میں ہر طرح کے کیڑے ہوتے ہیں اس وقت حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا تشریف لے جانا مناسب نہیں،
قال فدفنھا۱؎
یہ خیال کرکے دفن کردیا)
(۱؎ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائز ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۳ /۳۶۱)
(التمہید لابن عبدالبر الصلٰوۃ علی القبر رویت علی ستتہ وجوہ المکتبہ القدوسیہ لاہور ۶ /۲۶۳)
صبح حضورکو خبر ہوئی فرمایا :الم امرکم ان تؤذنونی بھاکیامیں نے تم کو حکم نہ دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کردینا۔عرض کی :
یارسول اﷲ کرھنا ان نخرجک لیلا اونوقظک۲؎
یارسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم! ہمارے دلوں کو گوارا نہ ہُوا کہ رات میں حضور کو باہر آنے کی تکلیف دیں یا حضور کو خوابِ راحت سے جگائیں(کہ حضورکا خواب بھی تو وحی ہے کیا معلوم کہ اس وقت حضور خواب میں کیادیکھتے سنتے ہوں) صحیح بخاری شریف میں حدیث ابی ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہے:
فحقروا شانھا۳؎-
(۲؎ مؤطا الامام مالک التکثیر علی الجنائز میر محمد کتب خانہ کراچی ص۲۰۸)
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الجنائز قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۸)
صحیح مسلم میں انہی سے ہے :
وکانھم صغرواامرھا۴؎
یعنی یہ خیال کیا کہ وہ اس قابل تھی کہ اس کے جنازہ کےلئے حضور کو جگاکر اندھیری رات میں باہر لے جائیں۔مسند امام احمد میں حدیث عامر بن ربیعہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہے حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا:
فلا تفعلواادعونی لجنائزکم ۵؎
ایسا نہ کرو مجھے اپنے جنازوں کے لئے بلایا کرو۔
(۴؎ صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ /۳۱۰)
(۵؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث عامر بن ربیعہ دارالفکر بیروت ۳ /۴۴۴)
سنن ابن ماجہ میں حدیث زید بن ثابت انصاری رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہےحضور نے فرمایا:
فلا تفعلوالااعرفن مامات منکم میت ماکنت بین اظھرکم لا اٰذنتمونی بہ فان صلاتی لہ رحمۃ۶؎۔
ایسا کبھی نہ کرنا جب تک میں تم میں تشریف رکھوں جو شخص مرے مجھے خبر کردینا کہ میری نماز اس کے حق میں رحمت ہے صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۔
(۶؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلٰوۃ علی القبر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۱
التمہید لابن عبدالبر اباحۃ الصلٰوۃ علٰی قبر الخ المکتبۃ القدوسیہ لاہور ۶ /۲۷۲)