اوّلاًآپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ پہلے اس جنازہ پر صلٰوۃ ہوچکی تھی، مجرد استبعاد کہ بھلا صحابہ اس وقت نہ پڑھتے۔
اقول وباﷲ التوفیق یہ کافی نہ ہوگا کہ نمازِ جنازہ ہمیشہ سے فرض نہ تھی۔حضرت ام المومنین خدیجۃ الکبرٰی رضی اﷲتعالٰی عنہا کے جنازہ مقدس پر اس لئے نماز نہ ہوئی کہ اس وقت تک اس کی فرضیت ہی نہ تھی، تو ایک تو بہ سندِ صحیح یہ ثابت کیجئے کہ یہ کب،کس سال، کس ماہ میں اس کی فرضیت اتری۔مجرد حکایات بے سند مسموع نہ ہوں گی کہ آپ مجتہد ہوکر قیل وقال کی تقلید نہیں کرسکتے،پھر بدلیل صریح یہ مبرہن کیجئے کہ یہ واقعہ عین بعد فرضیت ہی تھا، مجرد وقوع صلٰوۃ مفید فرضیت نہ ہوگا۔شرع میں اس کی نظائر موجود کہ بعض افعال بلکہ خاص نماز کا قبل فرضیت وقوع ہُوا بعد کو فرضیت اتری، جیسے اسعد بن زرارہ وغیرہ انصار کرام اہل مدینہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا قبل فرضیتِ جمعہ،جمعہ پڑھنا،
کمارواہ عبدالرزاق ومن طریقہ عبدبن حمیدفی تفسیرہ بسند صحیح وقد بیناہ فی رسالتنا لوامع البھافی المصر للجمعۃ والاربع عقیبھا۔
جیساکہ اسےعبدالرزاق نے اوران ہی کے طریق سےعبد بن حمید نے اپنی تفسیر میں بسند صحیح روایت کیا اور اسے ہم نے اپنے رسالہ ''لوامع البہافی المصرللجمعۃ والابع عقیبہا'' میں بیان کیا۔(ت)
حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے جماعت تراویح اسی خیال سے ترک فرمادی کہ مداومت کئے سے فرض نہ ہوجائے۱؎۔
کما رواہ السنۃ من زید بن ثابت والشیخان عن ام المؤمنین رضی اﷲتعالٰی عنہا
(جیسا کہ اسے اصحاب ستّہ (بخاری،مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے حضرت زید بن ثابت سے اورشیخین (بخاری، مسلم) نے حضرت ام المؤمنین رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب فضل من قام رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۹)
(صحیح مسلم الترغیب فی قیامِ رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۹)
اگر کہے نماز میں نفسِ وقوع ہی فرضیت بتادے گا کہ یہ نماز شرع میں فرض ہی ہوکر معہود ہوئی ہے نفلی طور پر اصلاً مشروع نہیں اقو ل اب راہ پر آگئے اسی لئے تو ائمہ کرام اس کی تکرار کونامشروع فرماتے ہیں کہ شرع مطہر میں یہ نماز بروجہ تنفل نہیں اور اس کی فرضیت بالاجماع بسبیل الکفایہ ہے، اورفرض کفایہ جب بعض نے ادا کرلیا ادا ہوگیا، اب جو پڑھے گا نفل ہی ہوگا۔اوراس میں تنفل مشروع نہیں۔
ثانیاً ثبوت دیجئے کہ اُس واقعہ میں صلاۃ بمعنی ارکان مخصوصہ تھی ، صلاۃ علٰی فلاں بمعنی دعا نصوص شرعیہ میں شائع و ذائع ہے۔
قال تعالٰی
خذمن اموالھم صدقۃ تطھرھم وتزکیہم بہا وصل علیہم ان صلاتک سکن لھم۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اے نبی! مسلمانوں کے مال سے زکوٰۃ تحصیل فرماکر اس کے سبب تُو ان کو پاک اور ستھرا کرے اوران پرصلاۃ کر، بیشک تیری صلاۃ اُن کے لئے چین ہے۔
(۲؎ القرآن ۹ /۱۰۳)
اسی آیت کے حکم سے جب لوگ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے پاس زکوٰۃ حاضر کرتے حضور ان کے حق میں دُعا فرماتے :
اللھم صل علٰی فلان۳؎کمارواہ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ وغیرھم عن عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اللہ تعالی عنہ
اے اﷲ! فلاں پر رحمت نازل فرما۔جیسا کہ اسے امام احمد، بخاری، مسلم ، ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ وغیرہم نے حضرت
ابی اوفٰی رضی اﷲ عنہمارضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت کیا۔(ت)
ان اﷲ وملٰئکتہ یصلون علی النبی یایھاالذین اٰمنواصلواعلیہ وسلمواتسلیما۱؎۔
بیشک خدا اوراس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں اے ایما ن والو! تم بھی ان پر درود پڑھو اور خوب خوب سلام بھیجو۔(ت)
(۱؎ القرآن ۳۳ /۵۶)
اللھم صل وسلم وبارک علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ وکل منتم الیہ۔
اے اﷲ! ان پر درود وسلام وبرکت نازل فرما اور ان کی آل واصحاب اوران سے ہرنسبت وتعلق رکھنے والے پر بھی۔(ت)کریمہ
ھوالذی یصلی علیکم وملٰئکۃ ۲؎
(وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر اوراس کے فرشتے۔ت) کریمہ
ومن الاعراب من یؤمن باﷲ والیوم الاٰخر ویتخذماینفق قربات عنداﷲ وصلواۃ الرسول۳؎
(اور کچھ گاؤں والے وُہ ہیں جواﷲ پر اور روزِقیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جوکچھ خرچ کریں اسے اﷲ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں۔ت) وغیرہ صلٰوۃبمعنی دُعا ہے، علماء نے حدیث مؤطائے امام مالک وسنن نسائی عن ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا میں رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
انی بعثت الی اھل البقیع لاصلّ علیہم۴؎۔
میں اہل بقیع کی طرف بھیجا گیاکہ ان پر صلٰوۃ کروں۔ صلٰوۃکوبمعنی استغفار ودُعا لیا۔
(۲؎ القرآن ۳۳ /۴۳) (۳؎ القرآن ۹ /۹۹)
(۴؎ سنن النسائی کتاب الجنائز نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۸۷)
اقول بلکہ سُنن نسائی کی دوسری روایت میں ہے:
ان جبریل اتانی (فذکر الحدیث قال) فامرنی ان اٰتی البقیع فاستغفرلھم قلت لہ کیف اقول یارسول اﷲ قال قولی السلام علی اھل الدارمن المؤمنین والمسلمین ویرحم اﷲ المستقدمین مناوالمستاخرین وانا ان شاء اﷲ بکم لاحقون ۱؎۔
یعنی حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایاجبرئیل میرے پاس آئے مجھے حکم فرمایا کہ بقیع جاکر اہل بقیع کے لئے دعا ئے مغفرت کروں، ام المومنین فرماتی ہیں میں نے عرض کیایارسول اﷲ! کس طرح کہوں،حضور نے دعاءِ زیارتِ قبور تعلیم فرمائی
السلام علٰی اھل الدارمن المؤمنین والمسلمین ویرحم اﷲ المستقدمین مناوالمستاخرین وانا ان شاء اﷲبکم لاحقون۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الجنائز نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ۱ /۲۸۷)
یہ توخود حدیثِ بخاری ومسلم و ابی داؤد والنسائی
عن عقبۃ بن عامران النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم خرج یوماً فصلی علی اھل احدصلٰوتہ علی المیّت۲؎
(حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ایک دن احد تشریف لے جاکر اہلِ احد پر صلٰوۃ پڑھی جیسے میّت پر صلٰوۃ پڑھی جاتی ہے۔ت)میں بھی علماء نے صلٰوۃبمعنی دُعا لی۔
(۲؎ سنن النسائی کتاب الجنائز نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ۱ /۲۷۷)
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے:
زاد(البخاری)فی غزوۃ احد من طریق حَیْوَۃ بن شریح عن یزید بعد ثمان سنین والمراد انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دعاء لہم بدعاء صلٰوۃ المیّت ولیس المراد صلٰوۃ المیت المعھودۃ کقولہ تعالٰی وصل علیہم الاجماع یدل لہ لانہ لایصلی علیہ عندناوعند ابی حنیفۃ المخالف لایصلی علی القبر بعد ثلثۃ الایام۳؎۔
امام بخاری نے غزوہ اُحد کے بیان میں بطریق حَیْوَہ بن شریح عن یزید ''آٹھ سال بعد'' کا اضافہ کیا، یعنی اہلِ اُحد کے لئے صلٰوۃ مذکور کا واقعہ ان کی شہادت کے آٹھ سال بعد کا ہے---اور صلٰوۃسے مرادیہ ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ان کے لئے وہی دعا کی جو نمازِ میّت میں ہوتی ہے، معروف نمازِ جنازہ مراد نہیں۔ جیسے ارشاد باری تعالٰی '' صل علیہم''کا معنی ان کے لئے دعاکرو۔اس مراد کی دلیل اجماع ہے اسلئے کہ ہمارے نزدیک شہید کی نماز جنازہ نہیں، اورامام ابوحنیفہ جو اس بارے میں ہمارے مخالف ہیں ان کے نزدیک تین دن کے بعد قبر پر نمازِجنازہ نہیں۔(ت)
(۳؎ ارشاد الساری شرح البخاری باب الصلٰوۃعلی الشہید دارالکتاب العربی بیروت ۲/۴۴۰)
پھر امام نووی شرح مہذب پھر امام سیوطی مرقاۃ الصعود شرح سنن ابی داؤد میں فرماتے ہیں:
قال اصحابنا وغیرھم ان المراد من یہاں الصّلوۃ ھٰھنا الدعاء وقولہ صلوتہ علی المیّت ای دعاء لھم کدعاء صلٰوۃ المیت ولیس المراد صلاۃ الجنازۃ المعروفۃ بالاجماع ۱؎ اھ مختصرا۔
ہمارے علماء اور دیگر حضرات نے فرمایا کہ یہاں صلٰوۃسے مراد دعا ہے اور صلٰوتہ علی المیت کامعنی یہ ہے کہ جیسے نمازِ میّت میں دُعا ہوتی ہے وہی دعا ان کے لئے کی، اور معروف نمازِ جنازہ بالاجماع مراد نہیں اھ مختصراً(ت)
(۱؎ شرح المہذب للنووی فرع فی مذاہب العلماء فی غسل الشہید الخ المکتبہ السلفـیہ مدینہ منورہ ۵ /۱۲۹۵)