یہ چالیس ۴۰ کتابوں کی عبارتیں ہیں اورخود کثرتِ نقول کی کیا حاجت کہ مسئلہ واضح اورظاہر، اور تمام کتب مذہب متون و شرح وفتاوٰی میں دائر وسائر صورتِ مستفسرہ میں کہ خود ولی پڑھ چکاتھا دوبارہ اعادہ نماز ہمارے سب ائمہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کے اتفاق سے ناجائز وگناہ واقع ہوا، ایسی ناواقفی مانع گناہ نہیں کہ مسائل سے ناواقف رہنا خود گناہ ہے،اس لئے حدیث میں آیا:
ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان قیل ولم یا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم العالم یعذب علٰی رکوبہ الذنب والجاھل یعذب علٰی رکوبہ الذنب وترک التعلم۱؎۔رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
یعنی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا عالم کا ایک گناہ اور جاہل کا گناہ دو گناہ کسی نے عرض کی:یا رسول اﷲ! کس لئے؟ فرمایا عالم پر وبال اسی کا ہے کہ گناہ کیوں کیا،اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کا اور دوسرا نہ سیکھنے کا۔اسے دیلمی نے مسندالفردوس میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
(۱؎ الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۱۳۴۵ درالباز مکۃ المکرمۃ ۲ /۲۴۸)
عالم جس نے تاکید واصرار کرکے ان لوگوں سے نماز جنازہ کی تکرار کرائی اگر مدعی حنفیت ہے تو خود اپنے ہی مذہب کے حکم سے گنہگار ہے، اور فرقہ غیر مقلدین سے تو گناہگار درکنار بدمذہب وگمراہ ہے، اور ان دونوں صورتوں میں اس عالم پر اتنے گناہ لازم ہوئے جس قدر شمار حصارِ جماعت ثانیہ کا تھا ، اور اس پر ایک زائد ، مثلاً دوسری دفعہ اس کے اصرار سے سَو آدمیوں نے نماز پڑھی تو ان میں سے ہر ایک پردو دوگناہ، ایک گناہِ فعل دوسرا گناہِ جہل۔ اور اس عالم پر ایک سوا یک گناہ، ایک اپنا اور سو ان کے فعل کے۔ آخری یہی داعی بگناہ ہوا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا الٰی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اٰثام من تبعہ لاینقص ذلک من اٰثامھم شیئأ۲؎۔رواہ الائمۃ الاحمد ومسلم والاربعۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو کسی ضلالت کی طرف بلائے سب ماننے والوں کے برابر گُناہ اُس پر ہوا وران کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں آئی۔اسے امام احمد ،مسلم، ترمذی،نسائی، ابوداؤد،ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
(۲؎ جامع الترمذی ابواب العلم امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۹۲)
یعنی یہ نہ ہوگا کہ اس کی ترغیب کے باعث گناہ ہونے کے سبب وہ گناہ سے بچ رہیں یا اس پر صرف اپنے ہی فعل کا گناہ ہو ، بلکہ وہ سب اپنے اپنے گناہ میں گرفتار اوراُن سب کے برابر اس ترغیب دہندہ پر بار،
والعیاذ باﷲالعزیز الغفار -
اوربالفرض شافعی المذہب بھی ہوتا تو سخت جاہل تھا کہ دوسرے مذہب والوں کو ایسے امر پر مصر ہُواجوان کے مذہب میں تو گناہ تھا اوراس کے اپنے مذہب میں بھی مکروہ۔امام ابویوسف اردبیلی شافعی'' کتاب الانوار لاعمال الابرار''میں فرماتے ہیں:
لایستحب لمن صلی جماعۃ او منفرداً اعادتھا جماعۃ اوانفراداً بل یکرہ۱؎۔
یعنی جس نے نمازجنازہ جماعت سے خواہ تنہا پڑھ لی اس کے لئے دوبارہ جماعت میں خواہ تنہا پڑھنی پسندیدہ نہیں بلکہ مکروہ ہے۔(ت)
(۱؎ کتاب الانوار لاعمال الابرار کتاب الجنائز فصل الصلٰوۃ الجنازۃ مطبعہ جمالیہ مصر ۱ /۱۲۳)
اور اگر کراہت نہ بھی لیجئے تو اس قدر تو ضرور کہ باجماع تمام امت مرحومہ کسی کے نزدیک ضروری نہ تھا۔ پھر آپ نے کس آیت و حدیث کس امام کے قول سے اختیار کیا تھا کہ غیر مذہب والوں سے بااصرار ایسے امر کا ارتکاب کرائے جواُن کے مذہب میں ناجائز اوراپنے نزدیک محض بے حاجت ، شافعیہ وغیرہم بعض علماء اگرچہ اُس کے لئے جس نے ہنوز نمازِ جنازہ نہ پڑھی نماز اول ہوجانے کے بعد بھی اجازت نماز دیتے ہیں مگر اس مدعیِ علم کا پڑھ چکنے والوں پریہ اصرار خصوصاً اس حالت میں کہ خود ولی اقرب بھی ا نہیں میں ہے اوراسکا وہ علٰی رؤس الاشہاد زعم واظہار کہ تین روز تک جتنی بار چاہے نماز پڑھے، جیسا کہ فاضل سائل نے اپنے خط میں ذکرفرمایا یہ حنفی ،شافعی،مالکی ،حنبلی اصلاً مذہب کے مطابق نہیں، نہ شرع مطہر سے اس پر کوئی دلیل، اگر سچّاہے تو اس اصراراور اس اظہار کی دلیل پیش کرے ورنہ اپنے جہل وسفاہت اورامرِ شرع میں بیباکی وجرأت کا مقرہو
قل ھاتوابرھانکم ان کنتم صادقین۲؎
(کہو اپنی دلیل لاؤ اگرتم سچّے ہو۔ت)
(۲؎ القرآن ۲۷/۶۴)
حضرات غیر مقلدین بلکہ تمام طوائف مبطلین کی عادت ہے کہ جب کچھ اپنے مفید مطلب نہیں پاتے الغریق یتشبث بالحشیش ڈوبتا سوار پکڑتا ہے نری بے علاقہ باتیں، جنہیں ان کے دعوٰی سے اصلاً مس نہیں بلکہ جوشِ غضب میں مدہوش ہوکر اپنے مضرومخالف دلیلوں سے استناد کربیٹھتے ہیں، جیسے ان کے شیخ الکل میاں نذیر حسین صاحب دہلوی سے ان کی سب سے بڑی تالیف معیار وغیرہ میں بکثرت و بے شمار واقع ہوا، نمونہ درکارہو فقیر کا رسالہ ملاحظہ ہو
حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصّلاتین
جس کا لقب تاریخی بعض ظرفا نےحجۃ الحین عہ علٰی نذیر حسین رکھا،
عہ حین بالفتح بمعنی مرگ ۱۲منہ(م۱۲)
دوبرس ہوئے بعض غیر مقلدین نے سفر میں ظہر وعصر اور مغرب و عشاء ملا کر پڑھنے پر زور دیا اوراس مسئلہ کی تقریر جودہلوی صاحب نے معیار میں بہت چمک کر کی اُس پر ناز تھا، فقیرغفراﷲ تعالٰی سے سوال ہوا اس کے جواب میں یہ عجالہ لکھا گیا جس میں بحمداﷲتعالٰی مذہب حنفیہ کااحقاق و اثبات اورخلاف ومخالفت کا ایہان واسکات بعون باری روشن وجہ پر واقع ہُواکہ اس رسالہ کے سوا کہیں نہ ملے گا۔اُس کو دیکھنے سے ان محدث صاحب کی حدیث دانی کے جلوے کھلتے ہیں،ایک ہی مسئلہ کی بحث سے روشن ہوتا ہے کہ حضرت کو نہ احادیث پر نظر نہ اسانید سے خبر، نہ علمِ رجال نہ طریق استدلال۔ مفید وعبث میں تمیز درکنار، نافع ومضر میں فرق دشوار۔ مگر ائمہ امّت وکبرائے ملّت پر مُنہ آنے کو تیار
کذلک یطبع اﷲ علٰی کل قلب متکبر جبار
(خدااس طرح ہر متکبر زبردستی والے کے دل پر مہر کردیتا ہے۔ت)
بھلااس مسئلہ میں شیخ صاحب کے لئے سلف موجود تھا کتبِ شافعیہ وغیرہ گداگری اجتہاد کا بھرت پورا کرلیا۔ اس مسئلہ میں یہ مدعی صاحب ایجاد بندہ بنانے کو کسی کا تیار مال نہ پائیں گے، ظاہرہے جوکچھ جوہر علم وعقل دکھائیں گے فضول و بے معنی کلمات کے رد میں خواہی نخواہی تضیعِ اوقات ہوتی ہے لہذا قصر مسافت ودفع کثافت کے لئے پہلے ہی چند ہدایتیں مناسب کہ اگر چہ بعد تنبیہ بھی اُن سے عدول ہوتو ہمارا یہی کلام اُ سکا پیشگی جواب معقول ہو۔ان مجتہد صاحب کے دعوے یہ ہیں کہ نماز جنازہ اگرچہ بروجہ کامل ہوچکی اگر چہ ولی احق اداکرچکا ہو مگر پھر اُسے اور سب پڑھ چکنے والوں کو چاہئے کہ دوبارپڑھیں، اصرار نہ ہوگا مگر کسی امر ضروری یالااقل مستحب پر معہذا جو نماز شرعاً ماذون فیہاہوگی کم ازکم مستحبہ ہوگی، کہ یہ نماز مباح محض جس کے کرنے نہ کرنے میں کسی ثواب وفضل کی اصلاً امید نہ ہو ، شرعاً زنہار معہود نہیں،ا ور یہ تکرار تین روز تک متواتر جائز اور تین روز پر شرعاً محدود ، پچھلے دعووں کے ثبوت میں جو کچھ درکار وہ خود آشکار، دلیل معتمد شرعی چاہئے جو تین روز کی اجازت دے اوراسی قدر تحدید کرے، بیچارے بے علم مسلمانوں کے سامنے جومنہ پر آئے کہہ دے آسان ہے،ثبوت دیتے حال کھلتا ہے۔رہا پہلا دعوٰی اسکے لئے کوئی حدیث دکھائیں کہ حضور پرنور سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہو نماز جنازہ کئی کئی بارپڑھا کرو، اتنا ہی ارشاد فرمایا ہو کہ جب نماز جنازہ پڑھ لو پھر اعادہ کرو، یا اسی قدر سہی کہ پڑھنے والو! جو ولی احق کے ساتھ یااس کے اذن سے ادا کر چکے ہو پھر اعادہ کرو تو بہتر ہے یا اسی قدر کہ تمہارے لئے حرج نہیں یا نہ سہی، اتناہی آیا ہوکہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نمازِ جنازہ باربار یا دو۲ ہی بار پڑھاکرتے یا اس سے درگزر کرے اسی قدر ثابت ہوکہ ولی احق پڑھ چکا تھا بعدہ پھراُسی نے اور دیگر پڑھ چکنے والوں یا صرف اُسی نے یا صرف اور بعض مصلیوں نےحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے سامنے دوبار پڑھی اورحضور نے منع نہ فرمایا، حضورکو خبر پہنچی اور حضور
نے جائز رکھا۔ یہ سات صورتیں ثبوت کی ہیں جن میں چار پہلے ثبوت قولی اور پانچویں فعلی اور دو باقی تقریری۔ ان میں جس ہلکی سے ہلکی، آسان سے آسان صورت پر قدرت پاؤ پیش کرواور جب جان لوکہ سب راہیں بند ہیں تو پھر شرع مطہر پرافترایا اقل درجہ احکام ا ﷲ میں بیباکی واجترا کا اقرار کرنے سے چارہ نہیں۔ مسلمان ان مجتہد صاحب سے بے ثبوت لئے نہ مانیں، اگر ساتوں وجہ سے عاجز پائیں تو اتنا دریافت کردیکھیں کہ حدیث سنن دارمی میں رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
اجرؤکم علی الفتیااجرؤکم علی النار۱؎۔
جو تم میں فتوٰی دینے پر زیادہ جری ہے آتشِ دوزخ پر زیادہ جرأت رکھتا ہے۔
(۱؎ سنن الدارمی باب الفتیاومافیہ من الشدۃ نشرالسنۃ ملتان ۱ /۵۳)
اس میں آپ حضرات تو داخل نہیں؟
اگر بحکم آنکہ ع:وقتِ ضرورت چونماند گریز
(ضرورت پر بھاگنے کے سوا چارہ نہیں۔ت)مجبوراً یہ کسی واقعہ حال کا دامن پکڑلے تواتنا یاد رہے کہ واقعہ عین لاعموم لہا، وقائعِ خاصہ احکامِ عامہ نہیں ہوتے، وُہ ہرگونہ احتمال کے محل ہوتے ہیں۔