لایعیدمع لہ حق التقدم من صلی مع غیرہ لان التنفل بھا غیر مشروع۴؎۔
جو اور کے ساتھ پڑھ چکا صاحبِ حق کے ساتھ نہ پڑھے کہ اس نمازمیں نفل مشروع نہیں۔
(۴؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل السلطان احق بالصلٰوۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۲۴)
ایضاح و عالمگیریہ میں ہے:
لایصلی علی میت الامرۃ واحدۃ والتنفل بصلٰوۃ الجنازۃ غیرمشروع۵؎۔
کسی میّت پر ایک بار کے سوا نماز نہ پڑھی جائے اور نمازِ جنازہ نفل ادا کرنا غیر مشروع ہے۔
(۵؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل فی الصلٰوۃ علی المیت مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۶۳)
فتاوٰی امام قاضی خان و ظہیریہ و شرح نقایہ برجندی وخلاصہ و والوالجیہ وتجنیس و واقعات و بحرالرائق وغیرہا میں ہے:
ان کان المصلی سلطانا اوالامام الاعظم اوالقاضی او والی المصر امام حیہ لیس للولی ان یعید۱؎۔
یعنی اگر بادشاہِ اسلام یا امیرا لمومنین یا قاضی شرع یا اسلامی حاکم مصر یا امام الحی نماز پڑھ چکاتو اب ولی کو بھی اعادہ کا اختیار نہیں۔
(۱؎ بحرالرائق فصل السلطان احق بصلوٰتہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۸۱)
شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے:
لایصلی علی میت الّامرّۃ۲؎
(کسی مردے پر ایک سے زیادہ نماز نہ پڑھی جائے۔
(۲؎ جامع الرموز فصل فی الجنازۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ /۲۸۵)
سراج وہاج وبحرالرائق و ردالمحتار وجامع الرموزوجوہرہ نیّرہ وہندیہ و مجمع الانہر وغیرہ میں ہے:
واللفظ للبحرعن السراج ان صلی الولی علیہ لم یجز ان یصلی احد بعدہ۳؎۔
سراج وہاج سے بحرالرائق کے الفاظ ہیں کہ اگر ولی نے اس پر نماز پڑھ لی تو اس کے بعد اب کسی کو جائز نہیں کہ نماز جنازہ پڑھے۔
(۳؎ بحرالرائق فصل السلطان احق بصلٰوتہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۸۲)
ان سب کتابوں میں بلفظ
لم یجز، ولایجوز
تعبیرمیں فرمایا یعنی ناجائز ہے۔ ایسا ہی عبارات ہدایہ سے گزرا۔ اور یہی
لایصلی ولایعید ولیس لہ
کامفاد اور یہی غیر مشروع سے مراد، مگر اس میں صاف تصریح ہے جس سے تمام اوہام منصرف اور باقی عبارات کی بھی مراد منکشف ۔ یونہی قدوری۱، ہدایہ۲، منیہ۳، وقایہ۴نقایہ۵،وافی۶،کنز۷،غرر۸، اصلاح۹،الملتقی۱۰، تنویر۱۱، نورالایضاح۱۲۔ ان بارہ۱۲ متنوں اوران کی غیرسب میں تصریح ہے کہ نماز جنازہ جب ایک بار ہوچکی ،فوت ہوگئی۔
مختصر : یجوز التیمم للصحیح المقیم اذاحضرت الجنازۃ والولی غیرہ فخاف ان اشتغل بالطہارۃ ان تفوتہ الصلٰوۃ ۴؎،
ھدایۃ، تیمم الصحیح فی المصراذاحضرت الخ وقال بالطہارۃ مکان بالوضوء وھواشمل۵؎،
(۱) مختصر قدوری: تندرست مقیم کے لئے تیمم جائزہے جب جنازہ آجائے اور ولی دوسراہو، اندیشہ ہو اگر وضو میں لگے تو نماز جنازہ فوت ہوجائےگی۔
(۲) ہدایہ: تندرست شہر میں تیمم کرلے جب جنازہ آجائے طہارت میں مشغول ہوتو فوت کا اندیشہ ہو۔صاحبِ ہدایہ نے''وضو'' کی جگہ''طہارت'' کہا، یہ زیادہ جامع ہے۔
(۴؎ مختصر القدوری باب التیمم مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور ص۱۱)
(۵؎ الہدایۃ باب التیمم مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/۳۸)
(۳) منیہ: تندرست شہر کے اندر نمازِ جنازہ کے لئے تیمم کرے گا جب فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو مگر ولی کےلئے یہ نہیں۔
(۴) وقایہ :تیمم بے وضو، جنب، حائض اور نفاس والی کے لئے ہے جب انہیں پانی پر قدرت نہ ہو اور غیرولی کو نمازِ جنازہ فوت ہونے کا اندیشہ کے وقت بھی ہے(۵)اصلاح: اس کی عبارت بھی وقایہ کے مثل ہے فرق یہ ہے کہ اس میں کہا ہے جب یہ پانی سے عاجز ہوں
(۱؎ منیۃ المصلی فصل فی التیمم مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۵۸)
(۲؎ وقایہ مع شرح الوقایہ باب التیمم مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی ۱ /۹۵ تا ۹۷)
(۳؎ اصلاح )
(۶)نقایہ: جوفوت ہو اور اس کا کوئی بدل نہ ہو، جیسے غیر ولی کے لئے نماز جنازہ، کا کوئی بدل نہ ہو،(اس کے لئے تیمم روا ہے)( ۷)کنز: نماز جنازہ فوت ہونے کا اندیشہ کے وقت تیمم درست ہے(۸)تنویر: نماز جنازہ فوت ہونے کے وقت تیمم جائز ہے۔
(۴؎ نقایۃ مختصر الوقایۃ فصل التیمم مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی ص۶)
(۵؎ کنز الدقائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷ )
(۶؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب التیمم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۴۳)
(۹) وافی: اس کی عبارت کنز کے مثل ہے اور یہ اضافہ ہے جب خود ولیِّ جنازہ نہ ہو(۱۰)غرر: تیمم جائز ہے بے وضو، جنب اورحائض کے لئے جو پانی سے عاجز ہوں اورغیرولی کے لئے نماز جنازہ کے فوت ہونے کے اندیشہ سے ۔
(۱۱)ملتقی: نماز جنازہ کے فوت ہونے کے اندیشہ سے(۱۲) نورالایضاح: تیمم کو مباح کرنے والا عذر نمازِ جنازہ فوت ہونے کا اندیشہ ہے(ت)
نمازِ جنازہ وعید فوت ہوں تو ان کا کوئی بدل نہیں اس لئے ان کی قضا نہیں ہوتی تو عجز متحقق ہے۔بحر۔(ت)
مراقی الفلاح و برجندی میں ہے:
لانھا تفوت بلاخلف۳؎
(اس لئے کہ جنازہ بلا بدل فوت ہوجاتاہے۔ت)
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب التیمم مطبوعہ داراحیاالتراث العربی بیروت ۱ /۴۱۴)
(۲؎ کافی وشرح وافی)
(۳؎ مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی باب التیمم مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۶۳
شرح النقایہ للبر جندی فصل التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ /۴۶)
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
لایجوز التیمم مع وجود الماء الافی موضع یخشی الفوات لاالٰی خلف کصلٰوۃ الجنازۃ۴؎۔
پانی ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں مگر ایسی جگہ جہاں بلا بدل فوت کا اندیشہ ہوجیسے نماز جنازہ۔(ت)
(۴؎ فتاوٰی خیریہ باب التیمم مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۵)
عندالتحقیق ان سب عبارات کا بھی وہی حاصل کہ نماز جنازہ دوبارہ پڑھنی صرف مکروہ ہی نہیں بلکہ محض ناجائز ہے۔ برہان شرح مواہب الرحمن پھر شرح نظم الکنز للعلامۃ المقدسی پھر حاشیہ علامہ نوح آفندی پھر ردالمحتار شامی میں ہے:
مجرد الکراھۃ لایقتضی العجز المقتضی لجوازالتیمم لانھالیست اقوی من فوات الجمعۃ والوقتیۃ مع عدم جوازہ لھما۵؎۔
محض کراہت اُس عجز کی مقتضی نہیں جو تیمم کاجواز چاہتا ہے اس لئے کہ وہ جمعہ اور نماز وقتیہ کے فوت ہونے سے زیادہ قوی نہیں باوجود یکہ ان دونوں کے لئے تیمم جائز نہیں(ت)
(۵؎ ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی ۱ /۱۷۷)