مسئلہ ۸۳:ازکٹرہ پرگنہ منورہ ڈاکخانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ مولٰنا مولوی کریم رضاصاحب رجب ۱۳۱۵ھ
بملاحظہ اقدس مولانا صاحب راس العلماء تاج الفضلاء جامع کمالات صوریہ ومعنویہ جنا ب مولانا مولوی احمد رضا خان صاحب ادام اﷲ تعالٰی بالافادۃ، السلام علیکم! عرض ضروری یہ ہے مولوی اسماعیل مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کے بھانجے اور شاگرد جو ایک مدّت سے قصبہ مرہٹ میں اقامت رکھتے ہیں غیرمقلد ہیں اور بیچارے غریب مقلدین کو اپنے مذہب میں لانا چاہتے ہیں، چنانچہ فی الحال ایک رئیس کی لڑکی مرگئی توان کے اصرار سے دوبارہ نماز جنازہ پڑھی گئی انہوں نے علٰی رؤس الاشہاد کہہ دیاکہ تین روز تک جتنی بار جی چاہے نماز پڑھے۔اس لئے حضور کو تکلیف دیتا ہوں کہ جوابِ استفتاء تحریر فرمائیے کہ افحام واسکات مخالفین ہو۔ اور ترجمہ عبارات بھی تحریر فرمائے کہ جس مقام میں یہ فتوٰی بھیجا جائے گا وہاں کے لوگ اردو، فارسی جانتے ہیں۔
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ولیِ میّت نے ایک بار نماز جنازہ کی لوگوں کے ساتھ پڑھی پھردوسری بار انہی لوگوں کے ساتھ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بامامتِ شخص آخر نمازجنازہ پڑھی، تو یہ تکرارِ نمازجنازہ جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر ولی اس مسئلہ سے ناواقف ہے اور بسبب اصرار کسی عالم کے اس نے دوبارہ نماز پڑھی تووہ گناہگار ہوگا یا عالم یا دونوں میں کوئی نہیں؟اور نماز جنازہ تین روز تک جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
الحمد ﷲ الذی جعل الارض کفاتاواکرم المومنین احیاء وامواتاً والصلٰوۃ والسلام علی من عمرالقلوب بصلٰوتہ ونورالقلوب بصلوتہ وعلی اٰلہٖ وصحبہٖ واھلہٖ وحزبہٖ اجمعین اٰمین!
سب خوبیاں اﷲتعالٰی کے لئے جس نے زمین کوجمع کرنے والی بنایا، اور اہل ایمان کو حیات وموت دونوں حالتوں میں عزت بخشی، اوردرود و سلام ہو اُن پرجنہوں نے دلوں کو اپنے تعلقات سے آباد فرمایا اورقبروں کو اپنی نماز سے روشن کیا،اور ان کی آل، ان کے اصحاب، ان کے اہل، ان کے گروہ سب پر درود وسلام،الٰہی !قبول فرما(ت)نماز جنازہ کی تکرارہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک تومطلقاً ناجائز ونامشروع ہے، مگر جب کہ اجنبی غیراحق نے بلااذن و بلامتابعت ولی پڑھ لی ہو تو ولی اعادہ کرسکتاہے۔امام اجل برہان الملۃ والدّین ابوبکر ہدایہ میں فرماتے ہیں:
ان صلی غیرالولی والسلطان اعادالولی ان شاء لان الحق للاولیاء وان صلی الولی لم یجز لاحدٍ ان یصلی بعدہ لان الفرض یتادی بالاول والتنفل بہا غیر مشروع ولہذا رأینا الناس ترکوامن اٰخرھم الصلٰوۃ علی قبرالنبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وھوالیوم کماوضع۱؎۔
یعنی اگر ولی وحاکم اسلام کے سوا اور لوگ نمازِ جنازہ پڑھ لیں تو ولی کو اعادہ کا اختیار کہ حق اولیاء کاہے اور اگر ولی پڑھ چکا تو اب کسی کو جائز نہیں کہ فرض تو پہلی نماز سے اداہوچکا اوریہ نماز بطورنفل پڑھنی مشروع نہیں ولہذا ہم دیکھتے ہیں کہ تمام جہان کے مسلمانوں نےنبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے مزار اقدس پر نماز چھوڑدی حالانکہ حضور آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے جس دن قبر مبارک میں رکھے گئے تھے۔
(۱؎ الہدایہ فصل فی الصّلٰوۃ علی المیت مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۶۰)
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
لوکان مشروعالمااعرض الخلق کلھم من العلماء والصالحین والراغبین فی التقریب الیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام بانواع الطرق عنہ فھذادلیل ظاھر علیہ فوجب اعتبارہ۱؎۔
یعنی اگر نمازِ جنازہ کی تکرار مشروع ہوتی تو مزار اقدس پر نماز پڑھنے سے تمام جہان اعراض نہ کرتا جس میں علماء وصلحاء اور وہ بندے ہیں جوطرح طرح سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرنے کی رغبت رکھتے ہیں تو یہ تکرار کی مشروعی پر کھلی دلیل ہے پس اس کاا عتبار واجب ہوا۔
(۱؎ فتح القدیر فصل فی الصلٰوۃ علی المیت مطبوعہ المکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۸۴)
اقول حاصل کلام یہ کہ نماز جنازہ جیسی قبل دفن ویسی بعد دفن قبر پر۔ ولہذا اگر کوئی شخص بے نماز پڑھے دفن کردیاگیا تو فرض ہے کہ اس کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھیں جب تک ظن غالب رہے کہ بدن بگڑ نہ گیا ہو گا اور نماز جنازہ ایک تو ہر مسلمان کاحق ہے،رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حق المسلم علی المسلم خمس وذکرمنھا اتباع الجنائز۲ وسیأتی۔
مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں، ان میں نمازِ جنازہ کو بھی ذکرفرمایا، حدیث آگے آرہی ہے۔(ت)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل مروی از ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲/ ۵۴۰)
دوسرے مقبول بندوں کی نماز میں وہ فضل ہے کہ پڑھنے والوں کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ ہم عنقریب انس بن مالک و عبداﷲبن جابروسلمان فارسی رضی اﷲتعالٰی عنہم سے متعدد احادیث ذکر کریں گے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:''مومن صالح کو پہلا تحفہ یہ دیا جاتاہے کہ جتنے لوگوں نے اس کےجنازہ کی نمازپڑھی سب بخش دئے جاتے ہیں۔اﷲ عزوجل حیا فرماتا ہے کہ اُن میں کسی پر عذاب کرے'' اب اگر حق کا لحاظ کیجئے تو محمد رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے حق کے برابر تمام جہان میں کس کا ہو سکتا ہے، اور فضل کو دیکھئے تو افضل المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کے برابر کس مقبول پر نماز پڑھنی ہوسکتی ہے، ہاں قبر پر نماز پڑھنے سے مانع یہ ہوتا ہے کہ اتنی مدت گزر جائے جس میں میّت کا بدن سلامت ہونامظنون نہ رہے، اسی کو بعض روایات میں دفن کے بعد تین دن سے تقدیر کیا،اور صحیح یہ کہ کچھ مدّت معین نہیں، جب سلامت وعدمِ سلامت مشکوک ہوجائے نماز ناجائز ہوجائیگی،مگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں معاذاﷲ اس کا اصلاً احتمال نہیں وہ آج بھی یقینا ایسے ہی ہیں جیسے روزِ دفن مبارک تھے۔ وہ خودارشادفرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم:
ان اﷲ حرّم علی الارض ان تاکل اجسادالانبیاء ۳؎۔رواہ احمد وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم و الد ارقطنی و ابونعیم و صححہ ابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم و الد ارقطنی وابن دِحیۃ وحسنہ عبدالغنی المنذری وغیرھم ۔
بیشک اﷲتعالٰی نے زمین پر حرام فرمادیاہے انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کا جسم مبارک کھانا۔ اسے امام احمد،ابوداؤد ، نسائی،ابن ماجہ ، ابن خزیمۃ ،ابن حبان ،حاکم ،اور ابو نعیم نے روایت کیا ۔ ابن خزیمہ ، ابن حبان ، حاکم دارقطنی اور ابن دحیہ نے صحیح کہا، اور اسے عبدالغنی اور منذری وغیرہم نے حسن کہا (ت)
(۳؎ سنن ابن ماجہ ذکروفاتہٖ ودفنہٖ صلی اﷲتعالٰی علیہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۹)
جب مانع مفقود اورمقتضی اس درجہ قوت سے موجود، تو اگر نمازِ جنازہ کی تکرارشرع میں جائز ہوتی تو صحابہ وتابعین سے لے کر آج تک تمام جہان تمام طبقات کے تمام علماء اوراولیاء وصلحا اور عاشقانِ مصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا اُس کے ترک پرا جماع کیا معنی، جن میں لاکھوں بندے خدا کے وُہ گزرے اوراب بھی ہیں جنہیں دن رات یہی فکر رہتی ہے کہ جہاں تک مل سکیں وُہ طریقے بجالائیں کہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں تقرب پائیں، لاجرم تیرہ سو برس کا یہ اجماع کلی دلیل ظاہر ہے کہ تکرارِ نماز جنازہ جائز نہیں، اس لئے مجبوراً سب باقیماندہ کواس فضل عظیم سے محروم ہونا پڑا۔امام اجل نسفی وافی اوراس کی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
لم یصل غیرہ بعدہ ای ان صلی الولی لم یجزلغیرہ ان یصلی بعدہ لان حق المیت یتادی بالفریق الاول وسقط الفرض بالصلٰوۃ الاولٰی فلوفعلہ الفریق الثانی لکان نفلا واذاغیر مشروع کمن صلی علیہ مرۃ۱؎ الخ
اگر ولی نے نمازِ جنازہ پڑھ لی تو اس کے بعد دوسرے کو پڑھنا جائز نہیں، اس لئے کہ میّت کا حق پہلے فریق سے اداہوچکا، اور پہلی نماز سے فرض ساقط ہوگیا، اب اگر کوئی دوسرافریق اداکرے تو یہ نفل ہوگی اور یہاں نفل مشروع نہیں، جیسے وہ جس کی ایک بار نماز پڑھی جاچکی ہو الخ(ت)
(۱؎ کافی شرح وافی)
امام محمد محمد محمد بن حلبی ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں:
قال علماؤنا اذاصلی علی المیّت من لہ ولایۃ ذلک لاتشرع الصلٰوۃ علیہ ثانیا لغیرہ۲؎۔
ہمارے علماء نے فرمایا جب میت پر صاحب حق نماز پڑھ چکے پھر اورکوئی اس پر نماز مشروع نہیں۔
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
علامہ ابراہیم حلبی غنیـہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں:
لا یصلی علیہ لئلایودی الی تکرار الصلٰوۃ علی میت واحد فانہ غیر مشروع۱؎۔
اُس پر نماز نہ پڑھی جائے کہ ایک میت پر دو بار نماز نہ ہو کہ یہ نا مشروع ہے۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۹۰)
درر شرح غرر و مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
الفرض یتادی بالاولٰی والتنفل بھاغیرمشروع ۲؎۔
فرض تو پہلی نماز سے ادا ہوگیا اور یہ نماز نفلی طور پر مشروع نہیں۔
(۲؎ الدررالحکام فی شرع غررالاحکام باب الجنائز مطبوعہ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ۱ /۱۶۵)
دُرمختار وفتح اﷲ المعین میں ہے:
لیس لمن صلی علیہا ان یعید مع الولی لان تکرارھا غیر مشروع۳؎۔
جو پہلے پڑھ چکا وُہ ولی کے ساتھ بھی اعادہ کا اختیار نہیں رکھتا کہ اس کی تکرار غیر مشروع ہے۔