Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
49 - 243
مسئلہ نمبر  ۷۱ :  از سنیا ضلع بریلی مسئولہ  امیر  علی صاحب    ۱۶شوال ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ بریلی کی جامع مسجد میں نبی خانہ میں نمازِ جنازہ پڑھائی جائے اور امام نبی خانہ میں ہو اور مقتدی جامع مسجد میں اور نبی خانہ میں برابر صف بندی ہو ،درست ہے یا نہیں؟
الجواب

صحیح یہ ہے کہ مسجد میں نہ جنازہ ہو نہ امامِ جنازہ ،نہ صفِ جنازہ۔یہ سب مکروہ ہے ۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۲  تا۷۸: از قادری گنج	 ضلع  بیر بھوم ملک بنگال،    مرسلہ سید ظہورالحسن صاحب قادری رزاقی ، مرشدی،کرمانی ۲۲جمادی الاولٰی۱۳۳۶ھ

(۱) مسجد کے باہر  پورب جانب جو سامنے  پختہ صحن بناہوا ہے اکثر گرمیوں میں وہاں پر مغرب کی نماز  پڑھی جاتی ہے

 اُس جگہ جنازہ کی نماز  پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

(۲) اور لکڑی کا صندوق جو  بمنزلہ تابوت کے ہوتا ہے اس کے اندر میّت رکھ کر صندوق  بند کیا ہو نماز  پرھنا جائز ہے یا نہیں؟

(۳و۴) اور کسی ولی یا سادات یا علماء کی قبریں  پختہ باندھنا اور کسی ملک سے دوسرے ملک یا شہر سے دوسرے شہر لے جاکر دفن کرنا درست ہے یا نہیں؟

(۵) اور میّت کو لکڑی کے صندوق میں رکھ کر دفن کرنا جائز ہے یا نہیں؟

(۶) اور قبر میں میّت کے سینہ کفن کے نیچے شجرہ پیرانِ طریقت رکھ کر دفن کرنا جائز ہے یا نہیں؟

(۷) اور بزرگانِ دین نے جو ا پنے وصال سے قبل اپنا کفن تابوت وقبر پختہ اندر سے صحن پختہ کرکے تیار کررکھا ہے ایساقبل سے ان چیزوں کو ایسی حالتوں میں تیار رکھنا جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب 

(۱) صحن مسجد یقینا مسجد ہے، فقہائے کرام اُسے مسجد صیفی یعنی گرمیوں کی اور مسقـف درجہ کو  مسجد شتوی یعنی جاڑوں کی مسجد کہتے ہیں۔ اور نمازِ جنازہ مسجد میں مطلقاً مکروہ ہے کما فی التنویر والدر وغیرھما(جیسا کہ تنویرالابصار اوردرمختار وغیرہما میں ہے۔ت) ہاں حدِ مسجد سے باہر فنائے مسجد میں جائز ہے۔

(۲) میّت اگر تابوت کے اندر ہو نماز اس پر اسی طرح جائز ہے کھولنے کی حاجت نہیں۔
 (۳و۴) قبر جس قدر میّت سے متصل ہوئی اس اندرونی حصہ کو پختہ کرنا ممنوع ہے اور باہر سے پختہ کرنے میں حرج نہیں،اور معظمان دینی کے لئے ایسا کرنے میں بہت مصالح شرعیہ ہیں۔لاش کا ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانا توبڑی بات دوسرے شہر  کو  لے جانا بھی ممنوع ہے،میل یا دومیل تک لیجانے میں حرج نہیں
کما فی العالمگیریۃ وغیرھا
(جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہا میں ہے۔ت)
 (۵) تابوت میں دفن کرنا مکروہ وخلافِ سنت ہے مگر اُس حالت میں کہ وہاں زمین بہت نرم ہو تو حفاظت کے لئے حرج نہیں
کما فی الھندیہ وغیرہا
(جیساکہ ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت)
(۶) بہتر  یہ ہے کہ قبر طاق کھود کر اس میں شجرہ رکھا جائے اور تبرکات اگر سینہ پر رکھیں تو اُس کی ممانعت بھی ثابت نہیں
والتفصیل فی الحرف الحسن
(اور تفصیل ہمارے رسالہ''الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن'' میں ہے۔ت)
(۷) کفن پہلے سے تیار رکھنے میں حرج نہیں اور قبر پہلے سے نہ  بنانا چاہئے
کما فی الدرالمختار وغیرہ
(جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ت)
قال اﷲ تعالٰی
وما تدری نفس بایّ ارض تموت ۱؎۔
( اﷲ تعالٰی فرماتا ہے :کوئی جان نہیں جانتی کہ اس کی موت کس زمین میں ہوگی۔ت) واﷲتعالٰی  اعلم
 (۱؎ القرآن    ۳۱/۳۴ )
مسئلہ نمبر ۷۹ تا ۸۰ :  از ریا ست وٹہ  راجپوتانہ محلہ چند گڑھ    مسئولہ فضل احمد صاحب  ۶محرم ۱۳۳۹ھ

(۱) کیافرماتے ہیں علمائے دن اس مسئلہ میں کہ پہلے ایک حصہ خام تھا اب بالکل ملحقہ مسجد کرکے سب پختہ   بنا دیا گیا آیا یہ مسجد میں داخل ہے  یا نہیں،اوریہاں نمازِ جنازہ جائز ہے  یا نہیں اور صحن مسجد ہے یا نہیں؟

(۲) خانہ کعبہ اور مسجد اقدس نبوی میں نماز جنازہ کیوں ہوتی ہے؟ اور جب کعبہ شریف میں نماز پڑھتے ہیں تو مسجد میں کیا حرج ہے؟
الجواب

(۱) یہ جگہ مسجد سے خارج تھی اُسے پختہ کرکے صحنِ مسجد سے ملادینا مسجد کے طور  پر نہیں بلکہ صرف اس لئے کہ جمعہ و عیدین میں نمازیوں کو آرام ہو تو وہ بدستور مسجد سے خارج ہے اور اس میں نمازِ جنازہ جائز ہے،اور اگر تمام مسلمانوں کی رائے سے اُسے مسجد کرلیا گیا تو اب اس میں نمازجنازہ جائز نہیں ۔واﷲتعالٰی اعلم۔

(۲) وہاں شافعیہ کے طور  ہوتی حنفیہ کے نزدیک جائز نہیں۔  واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۱: ازبلند شہر بالائے کوٹ محلہ قاضی واڑہ     مرسلہ محمد عبدالسلام صاحب ۳۰ رمضان ۱۳۳۷ھ

حوض مسجد کے اندر ہے اوراس کے چاروں طرف فرش ہے اس کی پٹری پر چارپائی رکھ کر نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے،آیا یہ نماز درست ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب

قول راجح تریہ ہے کہ نماز مذکورہ مکروہ ہے اور ایسا کرنا منع ہے۔تنویرالابصار و درمختارمیں ہے :
کرھت تحریمافی مسجد جماعۃ ھوای المیت فیہ واختلف فی الخارجۃ عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم والمختار الکراھۃ مطلقا خلاصۃ  ۲؎ الخ
مسجدِ جماعت میں نماز جنازہ مکروہ تحریمی ہے جبکہ جنازہ مسجد کے اندر  ہو، اور اگر تنہا  جنازہ یا جنازہ مع کچھ نمازیون کے بیرون مسجد ہو تواس بارے میں اختلاف ہے،مختار یہ ہے کہ مطلقاً مکروہ ہے خلاصہ الخ(ت)
 (۲؎ درمختار        باب صلٰوۃ الجنازہ     مطبوعہ مطبع مجتبائی ہلی     ا /۱۲۳)
اور دوسرے قول پر صورت مذکورہ میں یہ حرج تو نہیں اس لئے کہ میت بیرون مسجد ہے
فلا کراھۃ فی الصلٰوۃ قال فی الغنیۃ ھوالمختار وذکر علیہ العمل
 (تو نماز میں کراہت نہیں، غنیـہ میں ہے : یہی مختار ہے اور اسی پر  عمل بتایا۔ت)مگر جب فرشِ مسجد چاروں طرف محیط ہے تو  اس پٹری تک جنازے کا لے جانا مسجد کے اندر ہی ہوگا اور یہ باتفاق حنفیہ مکروہ ہے۔ یہ سب اُس وقت ہے کہ وسط مسجد میں حوض خودبانی مسجد نے قبل مسجدیت بنایا ہو ، ورنہ اگر مسجد ہوچکی اس کے بعد وسط میں حوض بنوایا اگر چہ بانی نے بنایا ہو تو اس کا بنانا حرام، اوراُس سے وضو کرنا حرام، اور نمازِ جنازہ بالاتفاق مکروہ ہے
وتحقیقہ فی ماعلقناعلی ردالمحتار
 (اس کی تحقیق ہمارے حاشیہ ردالمحتار میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۸۲ : از بانٹوہ ملک کاٹھیا واڑ مولوی عبدالمطلب صاحب    یکم شعبان ۱۳۳۶ھ

یہاں نمازِ جنازہ کے لئے جو جگہ تعمیر کی گئی شہر سے دُور فاصلہ پر ہے، بارش اورگرمی میں بڑی دقت ہوتی ہے لہذا برائے رفع تکالیف بستی کے جو پرانا صد سالہ قبرستان ہے کہ جس کے اندر قبریں منہدم ہوچکی ہیں، بسبب انہدام کے لوگ کُوڑا کرکٹ اس کے اندر ڈالتے ہیں اگر وہاں نماز جنازہ کے لئے چبوترہ بنایا جائے تو جائز ہوگا یا چگونہ؟
الجواب

قبور پر نماز ہرگز جائز نہیں،نہ اُن پر کوڑا کرکٹ ڈالنا جائز ، بند وبست کریں ،ممانعت کریں،ہاں اگر وہاں یا اس کے قریب کوئی قطعہ، زمین ایسا ہو جہاں قبریں نہ تھیں تو وہاں نماز کی اجازت ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter