مطلقا فی ای جمیع الصور المتقدمۃ کما فی الفتح عن الخلاصۃ وفی مختارات النواز سواء کان المیت فیہ اوخارجہ و ظاہر الروایۃ ، وفی روایۃ لایکرہ اذاکان المیت خارج المسجد ۲؎۔
مطلقاً یعنی گزشتہ تمام صورتوں میں، جیسا کہ فتح القدیر میں خلاصہ سے منقول ہے ۔اورمختارات النوازل میں ہے کہ خواہ میت مسجد کے اندر ہو یا باہر، یہی ظاہرالروایۃ ہے-- اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جب میت مسجد کے باہر ہو تو مکروہ نہیں(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنازۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۲۵)
اشباہ میں ہے :
منع ادخال المیت فیہ والصحیح ان المنع لصلاۃ الجنازۃ وان لم یکن المیت فیہ الا لعذر مطر ونحوہ ۱؎۔
مسجد میں میت کو لے جانا منع ہے اور صحیح یہ ہے کہ ممانعت نماز جنازہ کی وجہ سے ہے، اگرچہ میّت مسجد کے اندر نہ ہو ، مگر بارش وغیرہ کاعذر ہو تو رخصت ہے۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد مطبوعۃ ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کراچی ۲/ ۲۳۰)
بحرالرائق میں بعد بیان مذہب مختار فرمایا:
وقیل لایکرہ اذاکان المیت خارج المسجد وھومبنی علی ان الکراھۃ الاحتمال تلویث المسجد والاول ھوالاوفق لاطلاق الحدیث کذا فی الفتح القدیر ۲؎۔
اور کہا گیاکہ جب میت مسجد کے باہر ہو تو مکروہ نہیں، اس قول کی بنیاد اس پر ہے کہ کراہت کا حکم آلودگیِ مسجد کے احتمال کی وجہ سے ہے، اور پہلا قول ہی اطلاقِ حدیث کے مطابق ہے۔ ایسا ہی فتح القدیر میں ہے۔(ت)
(۲؎ بحرالرائق صل السلطان احق بصلاتہ مطبوعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۸۷)
ہدایہ میں ہے :
لایصلی علٰی میت فی مسجدجماعۃ لقول النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من صلی علٰی جنازۃ فی المسجد فلااجرلہ ولانہ بنی لاداء المکتوب ولانہ یحتمل تلویث المسجد و فیہا اذاکان المیت خارج المسجد اختلف المشائخ ۳؎۔
مسجدِجماعت میں کسی میت کی نمازجنازہ نہ پڑھی جائے گی اس لئے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی اس کے لئے اجر نہیں-- اور اس لئے کہ مسجد فرض نمازوں کی ادائیگی کے لئے بنی ہے—اور اس لئے اس میں مسجد کی آلودگی کا احتمال ہے۔ اور ہدایہ ہی میں ہے :جب میت مسجد کے باہر ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے ۔ (ت)
(۳؎ الہدایۃ فصل فی الصلٰوۃ علی المیت مطبوعۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/۱۶۱)
مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی سے حلیہ میں ہے :
عندنا اذاکانت الجنازۃ خارج المسجد لم یکرہ ان یصلی الناس علیہا فی المسجد انماالکرھۃ فی ادخال الجنازۃ فی المسجد ۱؎ ۔
جب جنازہ مسجد کے باہر ہو تو ہمارے نزدیک یہ مکروہ نہیں کہ لوگ مسجد کے اندر اس کی نماز پڑھیں کراہت اسے مسجد کے اندر داخل کرنے ہی کی صورت میں ہے۔(ت)
(۱؎ کتاب المبسوط باب غسل المیت مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۶۸)
برجندی شرح نقایہ میں ہے :
کرھت صلٰوۃ الجنازۃ فی مسجد جماعۃ اتفاقا اذاوضعت الجنازۃ فیہ ولو وضع خارجہ اختلف المشائخ فیہ وذلک لان علۃ الکراھۃ اما توھم التلوث اوکون المسجد مبینا لاداء المکتوبۃ ۲؎ اھ ملخصا۔
مسجدجماعت میں جنازہ رکھ کر نماز جنازہ پڑھنا بالاتفاق مکروہ ہے، اور اگر جنازہ باہر رکھا ہو تواس میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ یہ اختلاف اس لئے ہے کہ کراہت کی علّت آلودگی مسجد کا احتمال ہے یا یہ کہ مسجد فرائضِ وقتیہ کی ادائیگی کے لئے بنی ہے اھ بہ تلخیص (ت)
(۲؎ شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱/۱۸۱)
عبارت غرر ( مسجد میں جنازہ رکھا ہو تواس میں جنازہ مکروہ) میں کہتاہوں یہاں کراہت پر ہمارے مشائخ کا اتفاق ہے، جیسا کہ عنایۃ میں ہے۔(ت)
(۳؎ غنیۃ ذوی الاحکام حاشیہ درالحکام باب الجنائز مطبوعہ احمد کامل الکائنہ دارالسعادت بیروت ۱/۱۶۵)
عبارات یہاں بکثرت ہیں
وفیما نقلناہ کفایۃ وقد ظہربہ کل ماالقیناعلیک
(اور جس قدر ہم نے نقل کردیا وُہ کافی ہے،اور اس سے وُہ ساری باتیں واضح ہوگئیں جو ہم نے بیان کیں۔ت) واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ نمبر ۶۷ تا ۷۰: از فیروز آباد ضلع آگرہ محلہ کوٹلہ مرسلہ مسکین تاج محمد ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱) رمضان المبارک کے الوداعی جمعہ کو جامع مسجد میں مسلمانوں کا جنازہ آیا، نمازیوں کی بہت زیادہ کثرت تھی، نماز جنازہ اگر بیرون مسجد پڑھائی جائےگی تو نہ صفیں سیدھی ہوں گی بسبب قبروں اور درختوں کے اور نہ نمازی آسکیں بسبب زیادتی کے، اور دھوپ تکلیف دی تھی روزہ داروں کو ،اس صورت مذکورہ عذرات کو مدنظر رکھتے ہوئے نمازِ جنازہ فرش مسجد پر پڑھائی جائے یا نہیں،اور ثواب ہوگا یا نہیں؟
(۲) اس شخص کے واسطے کیا حکم ہے کہ وہ جانتاہے کہ تمام مسلمانوں سے عذرات مذکورہ بالاصحیح ہیں اور اندورن مسجد جنازہ آگیا ہے اور نماز جمعہ بھی ہوچکی ہے مگر وہ جنازہ کو مسجد سے باہر کرتا ہے اور باہر کرکے نماز جنازہ پڑھاتا ہے اورجائے کی تنگی اور صفوں کی شکستگی اور روزہ داروں کے دھوپ میں کھڑے ہونے کی پروا ہ0 نہ کرتے ہوئے نمازیوں کی خواہش شرکت نماز جنازہ فوت کرے کیا حکم ہے؟
(۳) اگر کوئی عذر نہ ہو اور نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھ لی جائے تو نماز ہوگی یا نہیں، اور ثواب ہوگا یا نہیں؟
(۴) اگر بعد نمازِ جمعہ نمازِ جنازہ پڑھ لی جائے تو اولٰیہے یا سنت وغیرہ پڑھنے کے بعد نماز جنازہ پڑھنا اولٰی ہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب
(۱) جنازہ مسجد میں رکھ کر اس پر نماز مذہب حنفی میں مکروہ تحریمی ہے،
تنویرالابصار میں ہے :
نماز جنازہ بہت ہلکی اور جلد ہونے والی چیز ہے اتنی دیر دھوپ کی تکلیف ایسی نہیں کہ اُس کے لئے مکروہِ تحریمی گوارا کیا جائے اور مسجد کی بے حرمتی روا رکھیں۔ رہی نماز، وہ ادا ہوجائےگی، فرض اُتر جائے گااور مخالفت حکم کاگناہ اورنفسِ نماز کا ثواب اﷲ عزوجل کے ہاتھ، جیسے کوئی مغصوب زمین میں نمازِ پنجگانہ پڑھے۔
(۲) اُس نے مذہب پر عمل کیا، جوبات مذہب میں منع تھی اُس سے روکا، نمازِ جنازہ فرض کفایہ ہے جومسلمان تنگیِ جاکے سبب نہ مل سکے اور ملنے کی خواہش رکھتے تھے اور انہیں ان شاء اﷲ العزیز ملنے ہی کا ثواب ہے۔ حدیث میں ہے: جو جماعت کی نیت سے مسجد چلا ،نماز ہوچکی ،اس کے لئے ثواب لکھ گیا۔
قال اﷲتعالٰی
فقد وقع اجرہ علی اﷲ ۲؎۔
اﷲ تعالٰی کافرمان ہے: تواس کااجر خداکے ذمہ کرم پر ثابت ہے۔(ت)
(۲؎القرآن ۴ /۱۰۰)
وقال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم انمالکل امر مانوی ۱؎۔
اور رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی(ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲)
نماز ہوجائے گی، اور اب مخالفت کا گناہ اورزیادہ کہ محض بلاوجہ ہے، اور ثواب کا جواب اوپر گزرا۔
(۴) سنت سے فارغ ہوکر نمازِ جنازہ پڑھیں، نوافل و وظائف قطعاً بعد کو رکھیں۔
درمختار میں ہے :
فی البحر قبیل الاذان عن الحلبی الفتوی علی تاخیر الجنازۃ عن السنۃ ۲؎۔
بحر میں اذان سے ذرا پہلے حلبی صاحب حلیہ سے نقل ہے کہ فتوٰی اس پر ہے کہ جنازہ سنت کے بعد ہوگا۔(ت)
(۲؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۴)
ہاں اگر جنازہ کی حالت ایسی ہوکہ دیر میں متغیر ہوجائے گا تو پہلے جنازہ پڑھیں پھر سنت وغیرہ۔
اشباہ میں ہے :
اجتمعت جنازۃ و سنۃ وقتیۃ قدمت الجنازۃ ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جنازہ اورسنت وقتیہ دونوں جمع ہوں تو جنازہ مقدم ہوگا۔(ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
(۳؎ الاشباہ والنظائر القول فی الدین مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۶۱۸ ، ۶۱۷)