Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
47 - 243
مسئلہ نمبر  ۶:  ازجالندھر محلہ راستہ دروازہ     بھگواڑہ ۔    مرسلہ محمد احمد خاں صاحب   ۶  رمضان المبارک ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں، پنجاب کے اکثر شہروں میں دستور ہے کہ نمازِ جنازہ سے فارغ ہوکر بعد سلام کے اُسی جگہ جہاں نمازِ جنازہ ادا کی گئی ہے میّت کے لئے دعائے مغفرت کی جاتی ہے اور بعض لوگ پیشتر دُعا کے سورہ فاتحہ ایک بار سورہ اخلاص تین باریاگیارہ دفعہ پڑھکر میّت کے لئے مغفرت کی دعاکرتے ہیں،اور ہمیشہ سے یہی دستور چلا آیا اب فرقہ غیرمقلدین اس دستور کے ہٹانے میں کوشش کر رہے ہیں، اس کے عدمِ جواز میں غیر مقلدین یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس کاثبوت کسی حدیث سے نہیں بلکہ فقہ کی کتابوں کی عبارتیں سناتے ہیں، منجملہ ان کے مستندات  کے ایک یہ ہے :
اذافرغ من الصلٰوۃ لایقوم بالدعاء  ۱؎ سراجیہ،
قدوری کے حاشیہ پر ہے :
الدعا بعدصلاۃ الجنازۃ مکروہ ۲؎ کذا فی البرجندی لایقوم بالدعاء بعدصلاۃ الجنائز لانہ دعا مرۃ لان اکثرھا دعاء ۳؎۔
جب نماز جنازہ سے فارغ ہوجائے تو دعا کے لئے  نہ کھڑا ہو۔ (ت) بزازیہ جلد اول برحاشیہ عالمگیری دعا بعد نماز جنازہ مکروہ ہے۔ جیساکہ برجندی میں ہے نماز جنازہ کے بعد دعاکے لئے کھڑا نہ ہو کہ ایک مرتبہ دُعا کرچکا ہے کیونکہ نمازِ جنازہ کا اکثر حصّہ دعا ہی ہے۔(ت)جواب مدلّل بدلائل بحوالہ کتب معتبرہ اور تحریر عبارات معتمدہ تحریرفرماکر ممنون  و مشکور فرمائیں۔
بینوابالدیل والتفصیل توجرابالاجرالجزیل
 (۱؎ فتاوی سراجیہ    باب الصلٰوۃ علی الجنازۃ    مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ        ص۲۳)

(۲؎ برجندی شرح نقایہ        فصل فی صلٰوۃ الجنازہ    مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ      ۱ /۱۸۰)

(۳؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ    الخامس والعشرون فی الجنائز الخ    نورانی کتب خانہ پشاور  ۴ /۸۰)
الجواب:گیارہ ۱۱سال ہوئے یہ مسئلہ ۱۳۱۱ھ میں معرکۃ الآراء رہا،بمبئی وکانپور سے اس کے بارہ میں بار بار سوالات مختلف صورتوں میں آئے فقیر نے جواب کبھی تحقیقِ حدیث اور کبھی تنقیحِ فقہ سے کام لیا اور بالآخر اس کے باب میں ایک موجز وکافی رسالہ
مسمّی بہ بذل الجوائز علی الدعاء بعدصلاۃ الجنائز
لکھا جس میں تحقیق حکم فقہی وتوضیح معانی عبارات مذکورہ سراجیہ وغیرہا کتب فقہ کوبعونہٖ عزوجل ذروہ عُلیا تک پہنچایا اور بفضلہ تعالٰی عرش تحقیق مسقر کر دکھایا کہ میّت کے لئے دعا قبل نمازِ جنازہ وبعد نمازجنازہ ہمیشہ مطلقاً مستحب ومندوب ہے ۔اور اس سے اصلاً ممانعت نہیں۔خودحضور پُرنور سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم و صحابہ کرام رضوان اﷲتعالٰی علیہم اجمعین سے قبل وبعد نماز دونوں وقت میّت کے لئے دعا فرمانا اوراس کا حکم دینا ثابت ہے،فقہائے کرام ہرگز  اسے منع نہیں فرماتے، یہاں ممانعت تحریمی خواہ تنزیہی صرف  دو۲ صورتوں کے لئے ہے اور وہی عبارات مذکورہ وغیر مذکورہ فقیہہ میں علی التنوع مقصود ہیں۔ ایک یہ کہ خاص دعاطویل کی غرض سے بعد نماز خواہ قبل نماز تجہیز میّت کو تعویق میں ڈالنا، مثلاً نماز ہوچکی اور کوئی حالت منتظرہ لے چلنے کے لئے باقی نہیں رہی، صرف دعا کے لئے جنازہ رکھ چھوڑیں اور درنگ وتطویل کریں یہ ممنوع ہے،اکثر عبارات اُسی طرف ناظر ہیں،دوسرے یہ کہ بعد نماز اُسی ہیئت پر بدستور صفیں باندھے امام  و مقتدی وہیں کھڑے دُعاکریں یہ نامناسب ہے کہ نماز  پر شبہہِ زیادت نہ ہو۔ بعض عبارات اُسی طرف ناظر ہیں، ان کے سوا تمام صور جن میں نہ خاص دُعاء کی غرض سے درنگ وتعویق کریں نہ بعد نماز اُسی انداز میں ہو بلکہ صفیں توڑ کر دعاءِ قلیل یا بوجہ دیگر جنازہ میں دیر کی حالت میں دعاء طویل اصلا مضائقہ نہیں رکھتے، نہ کلماتِ علماء میں اس کا انکار ،بلکہ وہ عام مامور بہ کے حکم میں داخل اور مستحب شرعی کا فرد ہے۔ یہ رسالہ بمبئی مطبع گلزار حسینی میں چھپ کر شائع ہوچکا۔ ان تمام مراتب کی تفصیل تام اُسی رسالہ اور اُس کے پہلے  کے فتوٰی میں ملے گی۔
کشف الغطاء میں بعد ذکر عبارات قنیہ وغیرہا فرمایا:
فاتحہ و دعابرائے میت  پیش ازدفن درست است  وہمیں است روایت معمولہ، کذا فی الخلاصۃالفقہ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
میت کے لئے دفن سے قبل فاتحہ ودعا درست ہے اوریہی روایت معمول بھا ہے۔ایسا ہی خلاصۃ الفقہ میں ہے(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؂ کشف الغطاء   فصل ششم نماز جنازہ   مطبع احمدی دہلی ص۴۰)
مسئلہ نمبر۶۶: ازبنارس محلہ کندی گڑٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ  ۶جمادی الاخرۃ ۱۳۱۲ھ

بخدمت لازم البرکۃ جامع معقول ومنقول، حاوی فروغ واصول جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مداﷲ فیضانہ از جانب خادم الطلبہ عبدالغفور ، سلام علیک قبول باد۔کچھ مسائل میں یہاں علماء کے درمیان اختلاف ہے لہذا مسئلہ ارسال خدمت لازم البرکۃ ہے امید ہے کہ جواب سے مطلع فرمائیں، زید کہتا ہے نمازِجنازہ عندالحنفیہ اندر مسجد کے پڑھنی علی العموم خواہ میّت مرض ہیضہ اسہال میں مرا ہو یا دوسرے مرض میں بچند وجوہ مکروہ ہے۔ منجملہ اسکے ایک وجہ تلویثِ مسجد ہے۔ عمرو کہتا ہے جو شخص مرض ہیضہ اسہال یا کسی اور مرض امراضِ معدہ کی وجہ سے مرا اُس کا جنازہ مسجد میں پڑھنا البتہ موجب احتمال تلوث مسجد کا ہے اور اس کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھنی مکروہ ہے، نہ علی العموم
الجواب

قولِ زید صحیح ہے۔عمرو کا مریضانِ معدہ میں حصر تو محض غلط ، ہاں سیّدنا امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی علیہ کی روایت نادرہ بعض کتب میں یوں نقل کی گئی کہ خوفِ تلوّث نہ ہو تو مسجد میں جائز۔ یہ عبارت بظاہر اُس بحثِ علامہ طحطاوی کی مؤید کہ قولِ تعلیل بہ تلوث پر ظنِ تلوث سے تقیید مناسب، شبہ وتوہم مانع نہیں ۔اس عبارت وروایتِ شاذہ پر بھی امراضِ معدہ وامعاء و رحم و زخم و ریم وغیرہا ہر مظنہ تلوث بالاتفاق داخلِ کراہت ۔
حلیہ میں فرمایا :
ونقل فی الد رایۃ عن ابی یوسف روایۃ انہ لاتکرہ صلاۃ الجنازۃ فی المسجد اذالم یخف خروج شیئ یلوث المسجد فعلی ھذا اذامن ذلک لم یکرہ علی سائرالوجوہ الخ ۱؎
درایہ میں امام ابویوسف سے ایک روایت یہ نقل ہے کہ جب مسجد کو آلودہ کرنے والی کسی چیز کے نکلنے کا اندیشہ نہ ہو تو مسجد میں نمازِ جنازہ مکروہ نہیں۔ اس کی بنیاد  پر جب اس سے اطمینان ہو تو تمام صورتوں میں کراہت نہیں الخ (ت) 

حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے :
ینبغی تقیید الکراھۃ بظن التلویث فاما توھمہ اوشکہ فلا تثبیت بہ الکراھۃ ۲؎ ۔
  کراہت کو آلودگی کے ظن مین مقید کرنا چاہئے اگر اس کا وہم یا شک ہو تو اس سے کراہت ثابت نہ ہوگی۔(ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

 (۲؎حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح  فصل السلطان  احق بصلٰوتہٖ  مطبوعہ نور محمد کاخانہ تجارت کتب کراچی   ص ۳۲۷)
مگر عامہ کتبِ مذہب میں جہاں تک اس وقت نظرِ فقیر نے جولان کیا یہ روایت نوادر بھی برسبیل اطلاق وتعمیم بے تشقیق وتفصیل ماثور و منقول، جو علماء اس کے ترجیح و تصحیح واختیار کی طرف گئے جنازہ کا مسجد میں لانا مطلقاً مکروہ بتاتے ہیں۔ معللین اُسے احتمال وتواہم تلویث سے تعلیل فرماتے ہیں۔ تقیید  و تخصیص حالتِ ظن کا پتا نہیں دیتے، علمائےکرام اختلافِ مشائخ کو اُس حالت سے مقید کرتے ہیں کہ جنازہ مسجد کے باہر ہو اور مطلقاً صاف تصریح فرماتے ہیں کہ جنازہ کا مسجد میں ہونا بالاتفاق مکروہ،
اقول وباﷲ التوفیق
 (میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالٰی ہی سے ہے۔ت)یہاں اطلاق ہی اوفق واحق والصق بدلیل ہے کہ امعاء غالباً فضلات سے خالی نہیں ہوتیں اور موت مزیل استمساک وموجب استرخائے تام ہے اور جنازہ لے چلنے کی حرکت مؤید خروج، تو ہر میت میں خوفِ تلویث موجود۔ باقی کس خاص وجہ سے غلبہ ظن کی کیا حاجت، ناسمجھ بچّوں کو مسجد میں لانا مطلقاً ممنوع ہُوا  کہ سب میں احتمال تلویث قائم، کچھ یہ شرط نہیں کہ جس بچہ کو اسہال وغیرہ کا عارضہ لاحق ہو وہی مسجد میں نہ لایا جائے، یونہی میت بلکہ اس سے بھی زائد
کما لا یخفی علی افطن
 (جیساکہ زیرک پر پوشیدہ نہیں۔ت) پھر یہ بھی امام ثانی سے ایک روایت نادرہ ہے ظاہر الراویۃ میں ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک مسجد میں جنازہ مطلقاً مکروہ ہے اگر چہ میّت بیرونِ مسجد ہو، یہی ارجح واصح ومختار وماخوذ ہے :
فان الفتوی متی اختلفت وجب المصیر الٰی  ظاہرالروایۃ کما افادہ فی البحر والدر و غیرہما۔
اس لئے جب فتوٰی میں اختلاف ہو تو ظاہرالروایۃ کی طرف رجوع ضروری ہے، جیسا کہ بحر اوردرمختار  وغیرہما میں افادہ کیا۔(ت)
اب عبارتِ علماء سُنئے ۔ تنویرالابصارودرمختار میں ہے  :
کرھت تحریما وقیل تنزیھافی مسجد جماعۃ ھوای المیت فیہ وحدہ او مع القوم واختلف فی الخارجۃ عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم  والمختارالکرھۃ مطلقا خلاصۃ ۱؎۔
مکروہ تحریمی-- اورکہا گیا کہ تنزیہی ہے مسجدِجماعت میں، جس میں تنہامیّت ہویا پڑھنے والوں کے ساتھ ہو،اوراس جنازہ کے بارے میں اختلاف ہے جو  تنہا یا بعض لوگوں کے ساتھ بیرونِ مسجد ہو،اور مختاریہ ہے کہ مطقاً مکروہ ہے۔ خلاصہ۔(ت)
 (۱؎ درمختار   باب صلٰوۃ الجنازۃ   مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱ / ۱۲۳)
Flag Counter