Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
46 - 243
یہاں سے صاف ثابت کہ ایسے شبہہ کے رفع کو اُس جگہ سے ہٹ جانا بس ہے تو بعض نقض صفوف اس علت کی اصلاً گنجائش نہیں۔لاجرم معنی یہ ہیں کہ نمازِ جنازہ کے بعد اسی ہیئت پر بدستور صفیں باندھے وہیں کھڑے ہوئے دُعا نہ کریں کہ زیادت فی الصلاۃ سے مشابہت نہ ہو۔ یہ معنی صحیح وسدید، بے غبار و فساد ہیں، اور عقلِ سلیم کے نزدیک نفس عبارتِ دلیل سے بالتعین مستفاد۔ یہاں سے روشن ہوا کہ اس قسم کے اقوال میں قیام  بمعنی استادن بے تکلف درست اور وجہِ تقلید بھی منکشف ہوگئی، اور بعض علماء کا وُہ استظہار بھی ظاہر ہوگیا کہ
اگر نشستہ دُعا کند جائز باشد
 (اگر بیٹھ کر دعا کرے جائز ہوگا۔ت) بلاکراہت فی الواقع بیٹھ جانا بھی نمازِ جنازہ سے فاصل بیّن ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد شبہہ زیادت نہیں، مگر نقض صفوف اس سے بھی اتم و اکمل ہے
کما لایخفی
 (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
اب بحدم اﷲ تعالٰی تمام کلماتِ علماء منظّم ہوگئے اور مسئلہ کی صور و وجوہ مع دلائل شمس وامس کی طرح روشن ہوگئیں۔ بحمد اﷲ نہ کلماتِ علماء میں باہم اختلاف ہے نہ اصول وقواعد شرع عقل سے خلاف۔ ہر ایک اپنے اپنے محل پر درست وبجا ہے اور منکرینِ زمانہ کی جہالت و سفاہات سے  پاک و جدا۔
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی  ولی التوفیق
 (اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے برتر ہی توفیق کا والی ہے۔ت) اور ایک نہیں کیا صدہا جگہ دیکھے گا کہ کلماتِ علمائے کرام بظاہر سخت مضطرب و متخالف معلوم ہوتے ہیں، یہاں تک کہ ناواقف یا سہل گزر جانے والاشدّت تصادم سے  پریشان ہو جائے یا رجما باًلغیب خواہ پیشِ خویش کوئی وجہ رجحان سمجھ کر بعض کے اختیار باقی سے اغراض و انکار  پر آئے اور جب میزان نقد و تحقیق اُس کے ہاتھ میں پہنچے جسے مولاتعالٰی جل وعلا نظرِ تنقیحی سے بہرہ وافی بخشے وہ ہر کلام کو اس کے ٹھیک محل پر اتارے اور بکھرے موتیوں کو متسق نظام میں گوندھ کر سلکِ معنی سنوارے جس سے وہی مختلف کلمات خود بخود رنگِ ایتلاف پائیں اور سب خدشے خرخشے آفتاب کے حضور شبِ دیجور کی طرح کافور  ہوجائیں۔
ذلک فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم ۵ رب او زعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علیّ وعلٰی والدی وان اعمل صالحاترضٰہ واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیک وانی من المسلمین۔
وہ اﷲ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطافرماتا ہے اورخدا بڑے فضل والا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے  یہ نصیب کرکہ میں اُس احسان کا شکر ادا کروں جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ  پر کیا، اور  یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند فرمائے۔ اور میرے لئے میری اولاد میں نیکی  پیداکر، بے شک میں تیری جانب رجوع لایا، اور یقیناً میں مسلمانوں سے ہوں (ت)
ہاں باقی رہی امام ابن حامد سے ایک حکایت کہ زاہدی نے قنیہ میں ذکر کی،
  حیث قال عن ابی بکربن حامد، ان الدعاء بعد الصلٰوۃ الجنازۃ مکروہ ۱؎۔
اس کی عبارت یہ ہے کہ ابو بکر بن حامد سے منقول ہے کہ نمازِ جنازہ کے بعد دعا مکروہ ہے(ت)
 (۱؎ قنیہ   باب الجنائز    مطبوعہ مشتہرہ بالمہانندیہ        ص۵۵   و  ۵۶ )
یہ تو حضرات مانعین کی خوشی کی چیز ہے کہ اس میں قیدِ قیام بھی نہیں،
اقول وباﷲ التوفیق
 (میں کہتا ہوں اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ت) یہ تو حضرات منکرین پر بڑی تشنیع کی جگہ ہے کہ اس میں قید قیام بھی نہیں، جس نے ہمارا کلام بالابنظرِ امعان و اتقان دیکھا ہے اُس پر  روشن ہے کہ انکار میں جس قدر اطلاق زائد، مستدل صاحبوں  پر اُتنی ہی آفت سخت ، کیا نمازِ جنازہ کے بعد مطلقاً دعا کی کراہت باجماع امّت باطل نہیں، کیا نصوصِ قولیہ و فعلیہ حضور معلّٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و اقوال تمام ائمہ سلف وخلف اس کے بطلان پر شاہد عادل نہیں، کیا یہ اطلاق یونہی عنان گسستہ رہے تو دعائے زیارتِ قبور اس میں داخل نہیں، تو واجب ہوا کہ مطلق بعدیت مراد نہ ہو، بلکہ وہی بعدیت متصلہ بے فاصل بیّن، اب قیدِ قیام خود ہی آگئی کہ یہ بعدیت بے بقائے قیام متصور نہیں کما قررنا (جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ت) تواس کا مرجع بعینہٖ انہیں اقوال قسم اول کی طرف اور شبہہ مانعین یکسر برطرف۔ تحقیق نظر فقہی تو بحمد اﷲ یہاں تک بروجہ اتم واجل مذکور ہُوئی مگر مخالف متعسفم اس کی حکایت کے ظاہر لفظ میں بالکل آزادی دیکھ کر  اپنے موافق ہی کیا چاہے، اور خواہی نخواہی اطلاق و توسیع بعدیت کی طرف کھینچتے تو بہت بہتر۔ بعونہٖ تعالٰی ہم سے ایرادت مناظرانہ لے ۔
فاقول اّولاً بعدیت متصلہ ہے یا مطلقہ یا بین بین اول مخالف کو مضر اور ثانی اجماع  و نصوص متواترہ کے غلاف اورثالث غیر منضبط، نہ ایک تقیید دوسری سے اولٰی بالمقبول تو کلام مجمل اور استناد مہمل، بہر حال مخالف کو گنجائش تمسک نہیں۔
ثانیاً(بعبارت اخری) جب نہ تقیید سے چارہ نہ تسلیم اطلاق کا یاراکہ زیارتِ قبور کے وقت دعاللاموات مخالف بھی جائز مانتاہوگا، تو اب نظر تعین تقیید میں رہی، قید اتصال کے ظہور و انضباط سے قطع نظر بھی کیجئے تو اقل درجہ احتمال مساوی ہے اور مخالفِ مستدل۔
واذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال
 (جب کلام میں کئی احتمال آگئے تو  ایک پر اس سے استدلال باطل ہوا۔ت)
ثالثاً یہ اطلاق کلمات باقین کے مخالف اگر بوجہ اتحاد و حکم  و حادثہ حمل علی المقید کیجئے تو یہ بھی اسی طرف راجع والکلام الکلام  ورنہ بسبب مخالفت اکثرین ناقابل قبول ۔
فی الدرالمختار من باب التعزیر مطلق فیحمل علی المقید لیتفق کلامھم ۱؎اھ
درمختار باب التعزیر میں ہے : یہ مطلق ہے تو  مقید  پر محمول کیا جائےگا تاکہ کلمات علماء میں باہم اتفاق ہوجائے اھ
(۱؎ درمختار      باب التعزیر     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۲۶)
وقبیل فصل فی الحائط المائل، یحمل اطلاق الفتاوی علی ماوقع مقیدا لاتحاد الحکم والحادثۃ  ۲؎اھ
جُھکی ہوئی دیوار  سے متعلق فصل سے ذرا  پہلے ہے : فتاوٰی کا اطلاق اس  پر محمول ہوگا جو مقید واقع  ہے کیونکہ حکم اور حادثہ ایک ہی ہے اھ—
 (۲؎ درمختار      قبل فصل الحائط المائل   مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۲ /۳۰۱)
ونقل نحوہ فی ردالمحتار ۳؎ اٰخرمضاربۃ عن مجموعۃ ملاعلی المولٰی علی قاری فی المسلک المتقسط اطلاقہم لاینا فی تقلید الکرمانی۴؎ اھ
اسی کے  ہم معنی ردالمحتار  آخرِ  مضاربت میں مجموعہ ملّاعلی سے نقل کیا-- اور مولاناعلی قاری مسلک متقسط میں فرماتے ہیں : ان حضرات کا اطلاق کرمانی کی تقیید کے منافی نہیں اھ –
 (۳؎ ردالمحتار بحوالہ ملا علی     آخر باب المضارب    مطبوعہ مصطفی البابی مصر     ۴ /۵۴۹)

(۴؎ ردالمحتار بحوالہ المسلک المتقسط     باب الجنایات    مطبوعہ مصطفی البابی مصر     ۲ /۲۴۹)
قال الشامی ای لیحمل المطلق علی المقید ۱؎ اھ  و ذکر نحوہ بعد ھذا بقلیل ، قبیل باب الاحصار و قال قبیل باب الیتمم قد صرحوا بان العمل بما علیہ الاکثر ۲؎ اھ وفی باب صلاۃ المریض عن امداد الفتاح للعلامۃ الشرنبلالی من ان القاعدۃ العمل بما علیہ الاکثر ۳؎ اھ واول باب صلٰوۃ الخوف لایعمل بہ لانہ قول البعض ۴ ؎ اھ
اس پر شامی نے لکھا : مراد یہ ہے کہ مطلق مقید پرمحمول کردیاجائے گا اھ— اسی کے ہم معنی اس سے ذرا  بعد باب الاحصار سے تھوڑا پہلے ذکر کیا اور باب التیمم سے ذرا قبل لکھا: علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ عمل اُسی  پر ہوگا جس پر اکثر ہیں اھ باب صلاۃ المریض میں علامہ شرنبلالی کی امدادالفتاح سے نقل ہے : قاعدہ یہ ہے کہ عمل اس  پر ہوگا جس پر اکثر ہوں اھ— شروع باب صلٰوۃ الخوف میں ہے : اس  پر عمل نہ ہوگاکیونکہ یہ صرف بعض کا قول ہے اھ--
 (۱؎ ردالمحتار    باب الجنایات     مطبوعہ مصطفی البابی مصر     ۲ /۲۵۰)

(۲؎ ردالمحتار       قبیل باب التیمم      مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۱۶۶)

(۳؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ المریض    مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ۱/ ۵۶۲)

(۴؎ ردالمحتار       باب صلوۃ الخوف         مطبوعہ مصطفی البابی مصر       ۱/۶۲۵)
وقال العلامۃ البیری فی شرح الاشباہ من قاعدۃ ان الاصل فی الکلام الحقیقۃ لایجوز لاحدالاخذ بہ ان المقررعندالمشائخ انہ متی اختلف فی مسئلۃ فالعبرۃ بماقالہ الاکثر ۵ ؎اھ  نقلہ فی العقود الدریۃ اٰخرالباب الاول من الوقف۔
علامہ بیری شرح اشباہ میں قاعدہ''کلام میں اصل حقیقت ہے'' کے تحت ایک جگہ لکھتے ہیں: کسی کے لئے اسے اخذ کرنا درست نہیں اس لئے کہ مشائخ کے نزدیک طے شدہ یہ ہے کہ جب مسئلہ میں اختلاف ہو تو اعتبار اس کا ہوگا جس کے قائل اکثر ہوں اھ اسے العقود الدرایۃ میں کتاب الوقف باب اول کے آخر سے نقل کیا (ت)
 (۵؎ العقود الدریۃ بحوالہ العلامۃ البیری    مطلب فی اختلف فی مسئلۃ الخ    حاجی عبدالغفار وپسران تاجران کتب ار گ بازار قندھار        ۲ /۱۷۵)
رابعاً اس روایت کا حاکی زاہدی محکی فیہ قنیہ و  زاہدی معتمد نہ قنیہ معتبر خصوصاً ایسی حکایت میں کہ بمعنی مفیدِ مخالف، اصلاً  قواعدِ  شرع سے مطابق نہیں۔
فی ردالمحتار اول الطھارۃ کتاب القنیۃ مشھور  بضعف الروایۃ ۶؎ اھ
ردالمحتار شروع کتاب الطہارۃ میں ہے: کتاب ''قنیہ''ضعفِ روایت میں مشہور ہے اھ،
 (۶؂ردالمحتار        کتاب الطہارۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۵۹)
وفی العقود الدریۃ اٰخر الکتاب ذکر ابن وھبان انہ لایلتفت مانقلہ صاحب ا لقنیۃ یعنی الزاھدی مخالفا للقواعد مالم یعضدہ نقل من غیرہ ومثلہ فی النھر ۱؎ ایضا اھ  ونقلہ ایضافی الدر عن المصنف عن ابن وہبان ، وفی صوم الطحطاوی قبل فصل العوارض  بنحو ورقہ، القنیۃ لیست من کتب المعتمدہ ۲؎۔
العقود الدریۃ  آخر کتاب میں ہے : ابن و ہبان نے ذکر کیا ہے کہ صاحب قنیہ یعنی زاہدی خلاف قواعد  جو  نقل کرے اسکی جانب التفات نہ ہوگا جب تک کسی اور  سے کوئی نقل اس کی تائید میں نہ ملے-- اسی کے مثل نہر میں بھی ہے۔ اسےدرمختار میں مصنف کے حوالے سے ابن وہبان سے نقل کیا ہے -- اورطحطاوی کتاب الصوم میں فصل عوارض میں قریباً ایک ورق پہلے ہے : قنیہ کتب معتمدہ سے نہیں ۔(ت)
  (۱؎ العقود الدریۃ    نقل الزاہدی لایعارض نقل المعتبرات    مطبوعہ حاجی عبدالغفار وپسران تاجرانِ کتب ارگ بازار قندھار    ۲/ ۳۶۵)

(۲؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    قبیل فصل فی العوارض       مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت   ۱/۴۶)
خامساً زاہدی اس مسئلہ میں بالخصوص متہم کہ وہ مذہب کا معتزلی ہے اور معتزلہ خذلہم اﷲ تعالٰی کے نزدیک امواتِ مسلمین کے لئے دعا محض بیکار
کما نص علیہ فی شرح العقائد وشرح الفقہ الاکبر وغیرھما
 (جیسا کہ شرح عقائد اور شرح فقہ اکبر و غیرہما میں اس کی تصریح ہے۔ت) اُس کی یہ عادت ہے کہ مسائل اعتزل اپنی کتاب میں داخل کرتا ہے۔
کمافعل فی مسئلۃ فی الاشربۃ ومسئلۃ فی الذبائح و مسئلۃ فی الحج وغیرہ ذلک کما بینہ فی الدرالمختار وردالمحتار وغیرہما فی مواضعہ ۔
جیسا کہ اشربہ کے ایک مسئلہ ، ذباح کے ایک مسئلہ،حج کے ایک مسئلہ میں، اور بھی مسائل میں اس نے ایسا کیا ہے، 

جیسا کہ درمختار و  ردالمحتار و غیرہما میں اس کے مقامات پر مذکور ہے۔ (ت)
اس کا استاذالاستاذ زمحشری بھی اس کا خوگر ہے۔ فرق اتنا ہے کہ وہ آپ کچھ بکے مگر نقل میں ثقہ ہے بخلاف زاہدی کے اس کی نقل پر بھی اعتماد نہیں ۔ ان  سفہا نے حنفیت کا نام بدنام کرکے فروغ میں بعض وہ خفی شرارتیں بھر دیں جن سے بعض مصنفین نے بھی دھوکا کھایا اور شدہ شدہ وہ نقول متعدد کتب میں پھیل گئیں جو  آج تک حضرات نجدیہ وامثالہم کے نزدیک علق نفیس وغنیمت بار وہ ہیں اس کا بعض بیان فقیر غفراﷲ تعالٰی اپنی کتاب
حیاۃ المواۃ فی بیان سماع الاموات
میں کیا وباﷲ التوفیق
سادساً وہ بیچارہ خود بھی اس حکایت کو بلفظ عن کہ مشیر غرابت وتمریض ہے نقل کرتا آخر میں اسی قولِ اکثر کی راہ پر چلتا ہے۔
حیث قال بعد ما مر و قال محمد بن الفضل لاباس بہ ظ ولایقوم الرجل بالدعاء بعد صلٰوۃ الجنازۃ قال رضی اﷲتعالٰی  عنہ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلٰوۃ الجنازۃ ۱؎ اھ فافھم
اس طرح کزشتہ عبارت کے بعد وہ کہتا ہے : اور محمد بن فضل نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں، ظ ۔ اوربعد نمازجنازہ آدمی دُعا کے لئے نہ ٹھہرے، امام موصوف رضی اﷲتعالٰی عنہ نے فرمایا اس لئے کہ یہ نمازِجنازہ میں زیادتی واضافہ سے مشابہت رکھتا ہے اھ۔ اسے سمجھو ۔ (ت)
     (۱؎ قنیہ    باب الجنائز    مطعۃ المشتہرۃ بالمھانندیۃ    ص۵۶)
سابعاً  سب جانے دو، توغایت درجہ یہ بھی بعض مشائخ سے ایک حکایت سہی، اب ترجیــح مطلوب ہوگی۔ کتبِ فقہ میں فتوٰی جانبِ جواز ہے۔کشف الغطاء میں بعد ذکر عبارت قنیہ وغیرہا لکھا :
فاتحہ ودُعا برائے میّت پیش از دفن درست است و ہمیں است روایت معمولہ کذافی الخلاصۃ الفقہ انتہی ۲؎۔
میّت کے لئے دفن سے پہلے فاتحہ ودعادرست ہے اور یہی روایت معمول بہا ہے۔ایسا ہی خلاصۃ الفقہ میں ہے انتہٰی(ت)
(۲؎ کشف الغطاء    فصل ششم نماز جنازہ    مطبع احمدی دہلی        ص۴۰)
علامہ شامی افادہ فرماتے ہیں کہ یہ لفظ فتوٰی یعنی ہمیں است روایت معمولہ (یہی روایت معمول بہا ہے۔ت) قوت وشوکت میں
علیہ الفتوی وبہ یفتی
 (فتوٰی اسی پر ہے۔ت)کے برابر ہے جو  آکد الفاظ افتاء ہیں ۔
فی الدرالمختار لفظ الفتوی اٰکدمن لفظ الصحیح والاصح والاشبہہ وغیرہا ۳؎ فی ردالمحتار ویظھرلی ان لفظ وعلیہ العمل مساوٍ للفظ الفتوی۴ ؎اھ۔
درمختار میں ہے : لفظ فتوٰی، لفظ صحیح، اصح ،اشبہ وغیرہا سے زیادہ مؤکد ہے—ردالمحتار میں ہے میرا خیال ہے کہ لفظ  ''علیہ العمل'' (اسی  پر عمل ہے ) لفظ فتوٰی کے برابر ہے اھ(ت)
 (۳؎ درمختار   مقدمۃ الکتاب    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۵)

 (۴؎ ردالمحتار  مقدمۃ الکتاب  مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ۱/۵۴)
الحمد ﷲ کہ حق بہمہ وجوہ ظاہر وباہر اور ہرشک و وہم زائل وبائر ہوا۔ امید ہے کہ اس فتوے میں اول تا آخر جتنے جواہر زواہر ہدیہ انظار  اولی الابصار  ہوئے سب حصّہ خاصہ خامہ فقیر ہوں کہ اس تحریر کے سوا کہیں نہ ملیں۔
ذلک من فضل اﷲ علینا وعلی الناس ولکن اکثرالناس لایشکرون والحمدﷲ ربّ العٰلمین۵ والصلٰوۃ والسلام علی اجود الاجودین سیّدنا ومولٰنا محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین۔
یہ خدا کا فضل ہے ہم پر اور لوگوں  پر، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔اور ساری تعریف اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے، اوردرود وسلام سخی تر لوگوں میں سب سے زیادہ جود و سخا والے ہمارے آقا ومولا  اور ان کی تمام آل واصحاب پر (ت)
بالجملہ عباراتِ فقہاء صرف دو۲ صورتوں سے متعلق ہیں: ایک بعد نمازجنازہ اسی ہیئت پر بدستور صفیں باندھے وہیں کھڑے دُعا کرنا۔ دوسرے قبل نماز خواہ بعد نماز دعائے طویل کی خاص غرض سے امر تجہیز کو تعویق میں ڈالنا۔ ظاہراً اس صورت میں کراہت تحریمی تک ہوسکتی ہے اورصورت اولٰی میں تنزیہی۔ ابھی مرقاۃ سے گزرا کہ ایہام زیادت مورثِ کراہت تنزیہ ہے وبس، جس کاحاصل خلافِ اولٰییعنی بہتر نہیں، نہ یہ کہ ممنوع وناجائز ہو۔ بعض علمائے لکھنؤ نے جو اہنے بعض رسائل میں مکروہ تنزیہی کو گناہ صغیرہ لکھ دیا سخت ذلت کبیرہ  جس کے بطلان پر صدہا کلمات آیمہ و دلاءل شرعیہ رد میں چند مختصر سطور مسمی بہ
جُمُل مجلیۃ ان المکروہ تنزیھالیس بمعصیۃ
لکھیں۔ خیریہ دو۲ صورتیں تھیں جن سے کلماتِ فقہا باحث، ان کے سوا تمام صورِ دعاجن میں دُعا کی غرض سے تاخیر کریں نہ بعد نماز اُس انداز پر ہو بلکہ مثلاً صفیں توڑ کر دعائے قلیل یا بوجہ خاص جنازہ میں دیر کی حالت میں دعائے طویل اصلامضائقہ نہیں رکھتی، نہ کلماتِ علماء میں ان کا انکار، بلکہ وہ عام مامور بہ کے تحت میں داخل اور مستحب شرعی کی فرد ہے۔ باقی کلام فتوٰیاولٰیمیں مذکور ہوا،
وباﷲ التوفیق ،واﷲ سبحانہ، تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
الحمدﷲ
کہ یہ مبارک جواب موضع صواب چار دہم، رجب مرجب، روز جاں افروز دو شنبہ کو  وقت چاشت شروع اور وقتِ عشاء تمام اور بلحاظ تاریخ
بذل الجوائز الدعاء بعد الصلاۃ الجنائز
نام  ہوا۔
واٰخر دعوٰنا ان الحمد ﷲ رب العٰلمین والصلٰوۃ واکمل السلام علٰی سید المرسلین محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین۔اٰمین!
اور ہماری آخری پکار یہ ہے کہ ساری حمد خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا مالک ہے اور بہتر درود، کامل تر سلام رسولوں کے سردار حضرت محمد اوران کی تمام آل و اصحاب پر الٰہی قبول فرما (ت)
Flag Counter