حالانکہ پیش ازنماز دُعا خود احادیثِ صحیحہ میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت
وقد مر بعضھا فی الفتوی الاولٰی
(بعض حدیثیں پہلے فتوے میں گزر چکیں۔ت) اور کھڑے ہوکر دعاء بھی صحابہ کرام سے گزری، دلائلِ احکام بھی دو۲ ملے، کہیں نمازِ جنازہ میں زیادت کا شبہ
کمافی المحیط والقنیۃ وغیرھما
(جیسا کہ محیط اورقنیہ وغیرہما میں ہے۔ت)کہیں یہ کہ ایک بار دُعا کرچکا
کمانقل عن وجیز الکردری
(جیسا کہ وجیز کردری سے منقول ہے ۔ ت) یا اس سے افضل دعا کرے گا
کما مر عن التجنیس
(جیسا کہ تجنیس کے حوالے سے گزرا۔ت)
اب جو اصول و فروغ شرع پر نظر کیجئے تو ایک بار دعا کرنے یا آئندہ دعائے افضل کا قصد رکھنے کو منع وانکارِدعا میں اصلاً مؤثر نہ پایا ورنہ ایک بار سے زیادہ دُعاجائز نہ ہوتی یا مکروہ ٹھہرتی، حالانکہ نصوص متواترہ و اجماعِ امت سے اس کی تکثیر محبوب، یا نماز پنجگانہ کے بعد دعا ممنوع و مکروہ قرار پائے گی کہ قعدہ اخیرہ میں دُعا کرچکا ہے حالانکہ احادیث میں اس کاحکم اور زمانہ اقدس سے تمام مسلمین کا اس پر عمل بلکہ قعدہ اخیرہ میں دعا مسنون نہ ہوتی کہ فاتحہ میں اس سے افضل واکمل دُعاہوچکی ، خاص محلِ سخن میں نظر کیجئے تو خود میّت کے لئے بھی قبل ازنماز جنازہ وبعد از نماز دونوں وقت دعا فرمانا اور اس کا حکم دیناحضور پُرنورسیّد یوم النشور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے ثابت
کما اسلفنافی الفتوی الاولی
(جیساکہ ہم نے پہلے فتوے میں بیان کیا۔ت) حضور والا صلٰوۃ اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ نے خیال نہ فرمایا کہ ایک بار تو ہم دعا کرچکے ہیں یا افضل و اکمل دعافرمانے والے ہیں۔ معہذا ان وجوہ پر قیام و قعود سب یکساں، کیا بیٹھ کر دعا کرے گا تو یہ بات نہ رہے گی کہ افضل دعاکرچکا ہے یا کرنیوالا ہے تو کیا قید قیام پر تظافر کتب غلط وتغلیط ہے یا یہ دلائل دعوٰیسے بیگانہ۔ ایسی مہمل وجہ پر کلامِ علماء کا حمل جس سے وہ نصوص متواترہ و اجماعِ امّت اور خود اپنی تصریحات کثیرہ اور نیز انسانی کلام وتطابق دلیل و دعوٰی سے صراحۃً دور پڑیں ان کی شان میں کھلی گستاخی اور معاذاﷲ ان کے کلام کو کلامِ مجانین سے ملحق کردیتا ہے، جب نظرِ صحیح نے بعونہٖ تعالٰی سب کانٹے راہِ حق سے صاف کرلئے، قائد توفیق کے مبارک ہاتھ میں ہاتھ دے کر حکم بالجزم کیا کہ اس قسم کے اقوال میں قیام بمعنی وقوف و درنگ ہی ہے۔ اتنا کہتے ہی بحمداﷲ تعالٰی سب اعتراض واشکال دفعۃً اُٹھ گئے اور بات میزانِ شرع وعقل پر پوری جچ گئی، فی الواقع نماز کے علاوہ کسی دُعائے طویل کی غرض سے تجہیز جنازہ کو درنگ وتعویق میں ڈالنا شرع مطہر ہرگز پسند نہ فرمائے گی۔ تکثیر دُعا بیشک محبوب ہے مگر اس کے لئے تعویق مطلوب نہیں جس طرح جنائز پر تکثیر جماعت قطعاً مطلوب ہے، مگر اس کے لئے تاخیر محبوب نہیں، جیسے بعض لوگ میت جمعہ کے دن دفن ونماز میں تاخیر کرتے ہیں تاکہ بعد میں جماعتِ عظیم شریکِ جماعتِ جنازہ ہو۔
تنویرالابصار میں ہے :
کرہ تاخیر صلاتہ و دفنہ لیصلی علیہ جمع عظیم بعد صلاۃ الجمعۃ ۱؎۔
اس خیال سے کہ نماز جمعہ کے بعد ایک عظیم جماعت نمازِ جنازہ میں شریک ہوگی نمازِ جنازہ اور دفن میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔(ت)
(۱؎ دُرمختار شرح تنویرالابصار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۲۴)
غرض شرع مطہر میں تعجیلِ تجہیز بتاکید تمام مطلوب اور بے ضرورت شرعیہ اس کی تاخیر سے ممانعت،اور
نماز کے علاہ وشرعاً ضروری و واجب نہیں جس کے لئے قیام و درنگ پسند کریں۔ شرع میں جتنی دعا ضروری تھی یعنی نمازِ جنازہ، وہ ہوچکی یا ہونے والی ہے تو اس کے سوا اور دعائے طویل کے لئے کیوں رکھ چھوڑیں، بحمداﷲ یہ معنی ہیں کلام علماء کے کہ دعا ہوچکی یا ہونے والی ہے
ھکذا ینبغی ان یفھم الکلام واﷲ ولی الھدائۃ والانعام
(کلامِ علماء اسی طرح سمجھنا چاہئے اور خداہی ہدایت وانعام کا والی ہے۔ت) اور واقعی جو اس معنی قیام پر کلام فرمائیں ان کا مطلق رکھنا
کما فعل الشمس القھستانی
(جیسا کہ شمس قہستانی نے کیا۔ت) یا بالتصریح قبل وبعد نماز دونوں وقت کو لے لینا
کما صنع الامام البرھان الفرغانی
(جیسا کہ امام برہان الدین فرغانی نے کیا۔ت) کچھ بے جا نہ ہوا بلکہ یہی احسن و ازین تھاکہ بایں معنی قیام قبل وبعد کسی وقت پسندیدہ نہیں اگرچہ اس تقدیر پر عبارات غیر معللہ بشبہ زیادت میں تقیید بعد کا یہ منشا ٹھہرا سکتے ہیں کہ قبل نماز عادۃ جنازہ مہیا نہیں ہوتا۔امور ضروریہ غسل وکفن جاری ہوتے ہیں تو اس وقت دُعائے طویل میں حرج نہیں کہ تاخیر بغرض دعا نہ ہوگی بخلاف بعد نماز کہ غالباً کوئی حالتِ منتظرہ لے چلنے سے مانع نہیں ہوتی اور کلامِ فقہاء اکثر امورِ غالبہ پر مبتنی ہوتا ہے،
ومع ھذافالوجہ الاظھر عد جمیع المقیدات من القسم الاٰتی فانہ ھوالافعد الاوفق کما لایخفی۔
اس کے باوجود زیادہ ظاہر ضرورت یہ ہے کہ تمام قیدوں کو قسم آئندہ سے شمار کیا جائے، اس لئے کہ وہ زیادہ مطابق و موافق ہے ،جیسا کہ واضح ہے۔(ت)
یہ اس قسم اقوال پر کلام تھا--- رہی قسم اوّل یعنی جن کلمات میں تخصیص بعدیت اور شبہہ زیادت سے تمسک ہے
اقول وباﷲالتوفیق
(میں کہتا ہوں اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ت) بدیہیاتِ جلیہ سے ہے کہ یہاں مطلق بعدیت کا ارادہ ہرگز وجہِ صحت نہیں رکھتا کہ استحالاتِ سالفہ کے علاوہ نفسِ تعلیل ہی اس سے آبی کیا آج نماز ہوچکی، کل استادہ دُعا کرو، تو نماز میں کچھ بڑھادینے کا اشتباہ ہو، لاجرم بعدیت بلافاصل ہی مقصود جس میں نقض سے صفوف وتفرق رجال بروجہ اولٰی داخل کہ جب صفیں کھل گئیں لوگ ہٹ گئے تو اس کے بعد کسی فعل کو نماز میں زیادت سے کیا مشابہت رہی۔
کما بیناہ فی الفتوی الاولٰی وھوبین بنفسہ عند اولی النھی وان تتبغ زیادۃ فاستمع لما یتلی ۔
جیسا کہ ہم نے اسے پہلے فتوے میں بیان کیا، اور اہل عقل کے نزدیک وہ خود ہی واضح ہے۔ اوراگر مزید وضاحت مطلوب ہو تو بیان آئندہ بغور سنو(ت)
صحیح مسلم شریف میں ہے سائب بن یزید رضی اﷲتعالٰی عنہ نے امیر معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پیچھے نمازِ جمعہ پڑھی ،سلامِ امام ہوتے ہی سنتیں پڑھنے کھڑے ہوگئے،امیر رضی اﷲتعالٰی عنہ نے بلا کر فرمایا:
لا تعد لمافعلت اذاصلیت الجمعۃ فلاتصلھا الصلاۃ حتی تکلم او تخرج فان رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم امرنا بذلک ان لانوصل صلٰوۃ بصلٰوۃ حتی نتکلم او نخرج ۱؎۔
اب ایسا نہ کرنا جب جمعہ پڑھو تو اُسے اور نماز سے نہ ملاؤ یہاں تک کہ بات کرو یا اس جگہ سے ہٹ جاؤ کہ ہمیں حضور پُر نورسیّد المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ایک نماز دوسری نماز سے نہ ملائیں یہاں تک کہ کچھ گفگو کریں یا جگہ سے ہٹ جائیں
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الجمعۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ /۲۸۸)
علماء فرماتے ہیں وصل سے نہیں اس لئے ہے کہ ایک نماز دوسری نماز کا تمہ نہ معلوم ہو، جمعہ میں دو۲ رکعت پر زیادت نہ موہوم ہو۔امام اجل ابو زکریا نووی منہاج میں فرماتے ہیں:
افضلہ التحول الٰی بیتہ والا فموضع اٰخر من المسجد اوغیرہ لیکثر مواضع سجود ولتنفصل صورۃ النافلۃعن صورۃ الفریضۃ ۲؎۔
بہتر تو یہ ہے کہ گھر جاکر پڑھے، ورنہ مسجد ہی میں یا بیرونِ مسجد کسی اور جگہ پڑھے تاکہ اپنی سجدہ گاہوں کی تعداد بڑھا سکے اور تاکہ نفل کی صورت فرض کی صورت سے جُدا ہوجائے۔(ت)
(۲؎ منہاج النووی شرح صحیح مسلم مع مسلم کتاب الجمعۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ /۲۸۸)
مولانا علی قاری مراقاۃ میں فرماتے ہیں :
(اذا صلیت الجمعۃ ) ھی مثال اذغیرہا کذلک، ویؤیدہ ما یاتی من حکمۃ ذلک کذا ذکر الجمعۃ بعد خصوص الواقعۃ للتاکید الزائد فی حقھا، لاسیما ویوھم انہ یصلی اربعا وانہ الظہر، وھذا فی مجتمع العام سبب للایھام (فلاتصلھا، بصلٰوۃ حتی تکلم) ای احدا من الناس فان بہ یحصل الفصل لابالتکلم بذکراﷲ (اوتخرج) ای حقیقۃ اوحکما بان تتاخرعن ذلک المکان والمقصود بھما الفصل بین الصلاتین لئلا یوھم الوصل فالامرللاستحباب والنھی للتنزیہ ۱؎اھ ملخصا
(جب نمازِ جمعہ پڑھو) یہ بطورِ مثال ہے اس لئے کہ غیرجمعہ کا بھی یہی حکم ہے، اس کی تاکید اس سے ہوتی ہے جو اس کی حکمت بیان کی گئی ہے-- اسے ابن حجر نے ذکر کیا-- اور ہوسکتا ہے کہ جمعہ کا ذکر اس لئے ہوکہ اس کے بارے میں زیادہ تاکید ہے، خصوصاً اس میں یہ وہم ہوسکتا ہے کہ وہ چار رکعت ظہر پڑھ رہا ہے-- اور یہ فعل مجمع عام میں وہم پیداکرنے کا سبب ہوگا--(تو اسے اور نماز سے نہ ملاؤ یہاں تک کہ کلام کرلو) یعنی کسی آدمی سے بات کرلو، اس لئے فرق اسی سے ہوگا، کلام بہ ذکر الٰہی سے فرق نہ ہوگا(یا اس جگہ سے نکل جاؤ) یعنی حقیقۃً، اس طرح کہ مسجد سے باہر چلے جاؤ--یاحکماً--اس طرح کہ اس جگہ سے ہٹ جاؤ—دونوں کا مقصد یہ ہے کہ دونوں نمازوں میں فصل ہوجائے، تاکہ وصل اور ملانے کا وہم نہ پیدا ہو، یہ حکم استحباب کےلئے ہے اور نہی برائے تنزیہ ہے اھ ملخصا(ت)
(۱ مرقات شرح مشکوۃ باب السنن وفضائلہا مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱۱۹)