Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
44 - 243
یہاں تو بحمد اﷲ نہ صرف اطلاق بلکہ صراحۃً تعمیمِ زمانہ ہے جس میں نمازِ جنازہ سے قبل وبعد متصل ومنفصل سب اوقات قطعاً داخل، تو جس وقت دعا کیجئے بلاشبہ عین مامور بہ اور حسن فی حدذاتہ ہے، تو جب تک کسی خاص وقت کی ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہ ہو منع وانکارِ حکم شرع کارد وابطال ہے۔ اب وہ عدمِ نقل خصوص وعدم درودخاص کا شگوفہ جس سے حضرات منکرین امثال مسائل میں اکثر مغالطہ دیتے ہیں، رأساًہباء منثور ہوگیا کہ جب بہ تصریح تعمیم امرشر ع وارد تو جمیع ازمنہ تحت امرداخل، پھر کسی خاص میں عدمِ ورود کیا معنی، بہ استناد اگرہوگا  تو ایسا ہوگا کہ زید کہے اگرچہ قرآن عظیم میں اقیموا الصلٰوۃوغیرہابصیغہ عموم وارد مگر خاص میرا نام لے کر حکم کہاں ہے، تو مجھ پر فرضیتِ نماز کا ثبوت نہیں ۔آپ سے ذی ہوش سے یہی کہا جائے گا کہ جب عام نازل توتُوبھی داخل۔ اگر مدعی خروج ہے خروج ثابت کر۔ غرض ایسا مکابرہ تو مقیاس الجنون کے اعلٰی نمبر سے کچھ ہی درجے گھٹا ہوگا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ حسن فی ذاتہ کو کبھی خارج سے کوئی امرمزاحم حسن عارض ہوتاہے، جوکسی خاص مادہ میں اس کا دعوٰی کرے وہ مدعی ہے بارِ ثبوت اس کے ذمّہ ہے۔ پھر ظاہر کہ عارض اپنے عروض ہی تک مزاحم رہے گا زائل ہوتے ہی اصل حسن کا حکم عود کرے گا۔
کما لایخفی علی من لہ ادنی نصیب من عقل مصیب
 (جیسا کہ ہراس شخص پر واضح ہے جسے عقل صحیح کا کوئی بھی حصہ نصیب ہوا ہے۔ت) ا س مقدمہ واضحہ کے بعد اُن کلماتِ فقہا ء پر نظر ڈالئے جن سے بے مایہ صاحبوں کو دھوکا ہو یا ہوشیار لوگ دانستہ عوام کو مغالطہ دیں۔
اقول عامہ کتب میں یہ عامہ اقوال ہرگز اطلاق وارسال پر نہیں کہ بعد نماز جنازہ مطلقاً دعا کو مکروہ لکھتے ہیں، اور کیونکہ لکھتے کہ خود حضور پُرنور سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وصحابہ وائمہ سلف وخلف کے اقوال وافعال کثیرہ متواترہ اور انہیں فقہاء کی تصریحاتِ وافرہ وکلماتِ متظافرہ ۔ خلاصہ یہ کہ نصوصِ شریعت و اجماعِ اُمّت اس تعمیم واطلاق کے رَد پر شاہد عدل ہیں، معلوم نہیں حضرات منکرین کے یہاں زیارت قبور نمازِجنازہ کے بعد ہوتی ہے یا پیشگی ہولیتی ہے، اگر بعد ہی ہوتی ہے تو شاید اُس وقت دعائے اموات میں جواحادیث واقوالِ علماء وفقہائے قدیم وحدیث وارد ہیں اپنے ظہور بین کے سبب اظہار سے غنی ہوں تو اطلاق کا تو کوئی محل ہی نہ تھا۔ ہاں انہوں نے تقیید کی اور کاہے سے کی، بلفظِ قیام یعنی یہ کہا کہ نمازِ جنازہ کے بعد دعا کے لئے قیام برائے دعا نہ کرے، نہ یہ کہ بعد نماز جنازہ دعاہی نہ کرے۔جامع الرموز میں ہے :
لایقوم داعیا  لہ ۱؂
 ( میت کے لئے دعا کرتے ہوئے نہ ٹھہرے ت)ذخیرہ کبری و محیط وقنیہ میں ہے :
لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ۲؎
 (نمازِ جنازہ کے بعد دعا کے لئے نہ ٹھہرے۔ت)کشف الغطاء میں ہے:
قائم نشود بعد ازنماز برائے دعا کذا فی اکثرالکتب۳؎
 (نماز کے بعد دُعا کے لئے نہ ٹھہرے، ایسا ہی اکثر کتابوں میں ہے۔ت) اُسی میں منقول ہے:
منع درکتب بلفظ قیام واقع شدہ۴؎
 (کتابوں میں ممانعت لفظِ قیام کے ساتھ آئی ہے۔ت)تو مانع مطلق اگر ان اقوال سے استدلال کرے، صریح مخالف سے تمسک واستناد کرے گا
ولکن النجدیۃ قوم  یجھلون
(مگرنجدیہ ایسی قول ہے جس کے پاس علم نہیں۔ت)
 (۱؎جامع الرموز    فصل فی الجنائز         مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران        ۱/۲۸۳)

 (۲؎ قنیہ         باب الجنائز            مطبوعہ مشتہرہ بالمہانندیہ (انڈیا)        ص۵۶)

 (۳؎ کشف الغطاء    فصل ششم نماز جنازہ    مطبع احمدی دہلی  ص۴۰)

 (۴؎کشف الغطاء    فصل ششم نماز جنازہ         مطبع احمدی دہلی            ص۴۰)
ثم اقول وباﷲ التوفیق
 ( پھر میں کہتا ہو ں، اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ت)اب نظر بلند تدقیق پسند تنقیح مناط میں گرم جولاں ہوگی کہ وُہ کیا قیام ہے جس کی قید سے فقہاء یہ حکم دے رہے ہیں۔آخر نفسِ دُعا اصلاً صالح ممانعت نہیں۔نہ وہ خود اس کے نفس پر حکم کرتے ہیں، شاید کھڑے ہوکر دُعا منع ہو، یہ غلط ہے۔
قال اﷲتعالٰی :
یذکرون اﷲقیاماوقعودا وعلٰی جنوبہم۵؎۔
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے : وہ کھڑے بیٹھے اورلیٹے اﷲ کا ذکر کرتے ہیں۔
 (۵؎ القرآن       ۳ /۱۹۱)
وقال تعالٰی :
  وانہ لما قام عبداﷲ یدعوہ کادوا یکونون علیہ لبدا ۱؎۔
اور اﷲ تعالٰی فرماتا ہے : بے شک جب وُہ بندہ خدا اس سے دعا کرتا کھڑاہو۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس پر یہ تہ بہ تہ ٹوٹ پڑیں گے (ت)
(۱؎ القرآن    ۷۲/۱۹)
شاید خاص میّت کے لئے استادہ دعا منع ہو، یہ بھی غلط۔خودحضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کھڑے ہوکر میّت کے لئے مروی۔خود فقہاء فرماتے ہیں: قبر کے پاس کھڑے ہوکر دعا سنت ہے---فتح القدیر میں ہے :
المعھود منھا (ای من السنۃ) لیس الا زیارتھا والدعاء عندھاقائماکماکان یفعل رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فی الخروج الی البقیع۲؎۔
سنت سے معہود صرف قبروں کی زیارت ہے اور  وہاں کھڑے ہوکر دعا کرنا جیسے بقیع تشریف لے جانے کے  وقت رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا عمل مبارک تھا۔(ت)
 (۲؎ فتح القدیر    باب الشہید     مطبوعہ نوریہ رضویہ سکّھر     ۲/۲۰۲)
مسلک متقسط میں ہے :
من اٰداب الزیارۃ ان یسلم ثم یدعوا قائما طویلا اھ ملخصا۳؎۔
زیارت قبور کے آداب سے یہ ہے کہ سلام کرے پھر کھڑے ہوکر دیر تک دُعا کرے اھ ملخصاً (ت)
 (۳؎ المسلک المتقسط مع ارشاد الساری   فصل یستحب زیارۃ اہل المعلی مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ص۳۴-۳۳۳)
شاید یہ ممانعت صرف نمازِ جنازہ کی حالت میں ہو، بعد دفن اجازت ہو، یہ بھی غلط ۔ ہم نے فتوی اولٰی میں حدیث صحیحین ذکر کی کہ صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم نے نعش مبارک امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے گرد ہجوم کیا اور چار طرف سے احاطہ کرکے کھڑے ہوئے امیرا لمومنین شہید کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ پھر سب سے قطع نظر کیجئے تو اس عارض میں مزاحمت حسن وایراث قبیح کی صلاحیت بھی ہو، یا خواہی نخواہی یونہی مزاحم ہوجائے گا۔آخر قیام میں کیا خصوصیت ہے کہ اس کا انضمام دعائے میّت کو کہ شرعاً مطلوب و مندوب تھی مکروہ  و معیوب کردے گا۔اب نظر نے ان سب احتمالات کو ساقط پاکر اتنا تو جزم کرلیا کہ کوئی معنی خاص مقصود ہے جو مناط و منشاء حکم ہوسکے۔ پھر  وُہ  ہے کیا اس کے لئے اس نے باریک راہ تدقیق نکالی اور معانی قیام  و مناہج کلام  و دلائل احکام  پر نگاہ ڈالی، معانیِ قیام دو۲ نظر آئے :
برپا استادن کہ مخالف خفتن ونشستن ہے
 (یعنی پاؤں پر کھڑا ہونا جو سونے بیٹھنے کے مخالف ہے۔ت)اور توقف ودرنگ کہ مخالفِ مقابلِ عجلت وشتاب ہے ،
کما بیّناہ فی الفتوی الاولی ومنہ قول القائل ؎ولایقوم علٰی ذل یرادبہ

 الا الاذلان عیر النجد  والوتد

 فلیس المراد ان حمار النجد عند ارادۃ الذل بہ یقوم ولایقعد بخلاف غیرہ وانہ یقعد انما اراد ان الحمار النجدی یدوم ویصبر علی الذل اماغیرہ فلایرضی بہ ۔
جیسا کہ ہم نے اسے پہلے فتوے میں بیان کیا اور اسی سے شاعر کا یہ شعر ہے ؂ اُس ذلّت پر، جس کا اس کے ساتھ ارادہ کیاجائے قائم نہیں رہتے مگر دو۲ ذلیل تر نجد کاگدھا اور اس کے باندھنے کا کُھونٹا۔ س کا مطلب یہ نہیں کہ جب نجد کے گدھے کے ساتھ ذلّت کا ارادہ کیا جاتا ہے تو  وہ کھڑا رہتا ہے  بیٹتھا نہیں ہے اور دوسرابیٹھ جاتاہے۔بلکہ مقصود یہ ہےکہ نجدی گدھا ذلّت پر دائم وصابر رہتا ہے اوردوسرا ذلّت سے راضی نہیں ہوتا ۔ (ت)
مناہج کلام بھی دو۲ قسم پائے، کہیں تو بعد صلاۃ الجنازہ کی تخصیص ہے :
کما فی اکثرالعبارات المذکورۃ
(جیساکہ اکثر مذکورہ عبارتوں میں ہے۔ت)اور کہیں حکم مطلق
کما فی عبارۃ القہستانی
 (جیسا کہ قہستانی کی عبارت میں ہے ہے۔ت) بلکہ کہیں قبل نماز کے بھی صاف تصریح،
فی کشف الغطا و  پیش از نماز نیز  بدعانہ ایستد زیراچہ دعامیکند بدعائیکہ او فرو اکبر است ببودن دعایعنی نماز جنازہ کذافی التجنیس ۱؎۔
کشف الغطا میں ہے : اور نماز سے پہلے بھی دُعا کے لئے نہ کھڑا ہو اس لئے کہ اسے وہ دعاء کرنی ہے جو اس دعا سے زیادہ وافراوربڑی ہے یعنی نمازِ جنازہ، ایسا ہی تجنیس میں ہے۔(ت)
 (۱؎ کشف الغطاء     فصل ششم نماز جنازہ         مطبع احمدی دہلی        ص۴۰۴)
Flag Counter