(نمازِ جنازہ کے بعد دُعا کرنے پر انعامات کی تقسیم)
مسئلہ نمبر ۶۴: استفتاء ازکانپور
بشرف ملاحظہ جامع المعقول والمنقول، واقف الفروع والا صول حضرت مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب مدظلہ العالی، پس ازتسلیم معروض، براہِ کرم اس کا جواب مرحمت فرمائےگا۔والتسلیم محمد عبدالوہاب ازکانپور، مدرسہ فیض عام۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ان دنوں جو بلاد دکن وغیرہ میں یہ امر مروج ہے کہ بعد سلام نمازجنازہ قبل تفرق صفوف یعنی امام ومقتدی دونوں رُوبقبلہ اسی ہیئتِ معلومہ صلاۃ جنازہ پر قائم رہتے ہیں اور میّت کے حق میں چند دعائیں وسورہ فاتحہ وغیرہ پڑھ کر بخشتے ہیں آیا یہ امر شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ امید کہ اس کا شافی جواب بحوالہ عباراتِ کتبِ معتبرہ مذہب حنفیہ مرحمت ہو۔بینواتوجروا۔
اﷲ کے نام سے شروع نہایت مہربان، رحم والا۔ سب خوبیاں خداکےلئے جو دعائیں قبول فرمانے والا ہے، اور بہتر درود، کامل ترین تحیتیں ہوں اُن پر جو زندوں کی پناہ گاہ، مردوں کا مرجع،خالص اور محض خیروبرکت ہمیں دنیاکی زندگی میں اور بعد موت کی بالاتر زندگی میں، اور ان کے بزرگ صفات والے آل واصحاب پر، جب تک کوئی گزرنے والادُور اورآنے والا قریب ہوتا رہے الٰہی قبول فرما۔(ت)
اواخر ماہِ فاخر حضرت مفیض المفاخر شہر ربیع الآخر ۱۳۱۱ ہجری میں اس مسئلہ کے متعلق ایک سوال بعض اہل علم
وسنت نے بمبئی سے بھیجا جس کا اجمالی جواب قدرے تحقیق حدیثی پر مشتمل دیا گیا،اب کہ ۱۲رجب المرجب۱۳۱۱ھ کو یہ سوال کانپور مدرسہ فیض عام سے آیا اس میں صورت نازلہ شکل مسئلہ بمبئی سے جدا ہے،وہاں یہ تھا کہ بعد نماز جنازہ کے صفوف توڑ کر یہ دعا
اللھم لا تحرمنا اجرہ وتفتنابعدہ واغفرلنا ولہ
یامثل اس کے کی جاتی ہے، یہاں یُوں ہے کہ قبل تفرق صفوف روبقبلہ اسی ہیئت معلومہ پر قائم رہتے ہیں الخ ادائے حقِ افتاء کو بس تھا کہ اس صورت خاصہ کا حکم لکھتا مگر ممکن کہ فتوی نظرگاہ عامہ تک پہنچے اور فقیر کو تجربہ ہے کہ بہت عوام تمایز صور سے غفلت کرتے اور بعض ناظرین قصداً بھی انہیں غلط میں ڈالتے ہیں، لہذا ایسی جگہ ہمیشہ پوری بات کا ذکر کرنا مناسب کہ
من لم یعرف اھل زمانہ فھوجاھل
(جو اپنے زمانہ والوں سے نا آشنا ہووہ جاہل ہے۔ت) وہاں تحقیق حدیثی تھی یہاں بعونہٖ عزّوجل ایک مقدمہ تمہید کرکے تنقیح فقہی سے کام لیجئے کہ باوصف تکرار، تکرار بھی نہ ہو اور ایضاح مرام وازاحتِ اوہام بھی بحمداﷲ تعالٰی نہایت کو پہنچے۔
فاقول وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق
(تو میں کہتا ہوں اور خداہی کی جانب سے توفیق ہے اور اسی کی مدد سے بلندی تحقیق تک رسائی ہے۔ت) سلفاً وخلفاً ائمہ اہلسنّت وجماعت رضی اﷲتعالٰی عنہم وعنابہم کا اجماع ہے کہ امواتِ مسلمین کے لئے دعامحبوب اور شرعاً مطلوب، نصوص شرعیہ آیۃً وحدیثاً بارہ ارسال مطلق واطلاق مرسل پر واردجن میں کسی زمانہ کی تقلید وتجدید نہیں کہ فلاں وقت تو مستحب ومشروع ہے او ر فلاں وقت ناجائز وممنوع۔ چند حدیثیں فتوٰی اولٰی میں گزریں، یہاں بعض احادیث تازہ ذکر کردوں کہ فیض وعطائے حضرت رسالت علیہ الصّلٰوۃ والتحیۃ محدود نہیں۔
حدیث۱: حضور پرنور سید العالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اکثر الدعاء ۱؎ الحاکم فی مستدرک عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما وصححہ ورمزالامام السیوطی لصحتہ۔
دعا بکثرت کر۔ اسے حاکم نے مستدرک میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا اور اسے صحیح کہا۔امام سیوطی نے بھی اس کے صحیح ہونے کا نشان (رمز)لگایا۔
(۱؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء مطبوعہ دارالفکربیروت ۱/۵۲۹)
حدیث ۲ : فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
اذاسأل احدکم فلیکثر فانما یسأل ربہ ۱؎۔ ابن حِبّان فی صحیحہ والطبرانی فی الاوسط عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲتعالٰی عنہا بسند صحیح ۔
جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے تو بکثرت کرے کہ اپنے رب سے ہی سوال کررہا ہے۔اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور طبرانی نے معجم اوسط میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے بسند صحیح روایت کیا۔
(۱؎ مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الاوسط باب سؤال العبد حوائجہ کلّہا الخ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۱۰/۱۵۰)
اقول یہ حدیث سوال و مسئول دونوں میں تکثیر کی طرف ارشاد فرماتی ہے۔مسئول میں یوں کہ بہت کچھ مانگے، بڑی چیز مانگے کہ آخر ربِّ قدیر سے سوال کرتا ہے، اور سوال میں یوں بار بار مانگے، بکثرت مانگے کہ آخر کریم سے مانگ رہاہے، وہ تکثیر سوال سے خوش ہوتاہے بخلاف ابن ِ آدم کے کہ باربار مانگنے سے جھنجھلا جاتاہے
فللّٰہ الحمد وحدہ
(تو خدائے یکتا ہی کے لئے ساری خوبیاں ہیں۔ت)
حدیث ۳: فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
اکثر من الدعاء فان الدعاء یرد القضاء المبرم۲؎ ۔ابوالشیخ عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
دعا بکثرت مانگ کر دُعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے۔اسے ابوالشیخ نے حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
(۲؎ کنزالعمال بحوالہ ابی الشیخ عن انس رضی اﷲ عنہ حدیث ۳۱۲۰ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۲ /۶۳)
اقول اس معنی کی تحقیق کہ یہاں قضاء مبرم سے کیا مراد ہے،فقیر نے اپنے رسالہ ذیل المدعٰیلاحسن الوعاء میں ذکر کی۔
حدیث ۴ : فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم :
لقد بارک اﷲلرجل فی حاجۃ اکثرالدعاء فیھا۳؎۔البیہقی فی الشعب والخطیب فی التاریخ عن جابر رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
بیشک اﷲتعالٰی نے برکت رکھی آدمی کی اس حاجت میں جس میں وُہ دعا کی کثرت کرے۔اسے بیہقی نے شعب الایمان میں اورخطیب نے تاریخ میں حضرت جابر رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا
حدیث ۵: کثرت دعا سے گھبرا کر دعا چھوڑ دینے والے کو فرمایا: ایسے کی دعا قبول نہیں ہوتی۔فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم :
لا یزال یستجاب للعبد مالم یدع باثم اوقطعیۃ رحم مالم یستعجل قیل یارسول اﷲ ماالاستعجال یقول قددعوت فلم اریستجیب لی فیستحسر عندذلک ویدع الدعاء ۱؎۔مسلم عن ابی ہریرۃرضی اﷲتعالٰی عنہ واصل الحدیث عندالشیخین وابی داؤد والترمذی وابن ماجۃ جمیعاعنہ وفی الباب وغیرہ۔
بندےکی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک کہ کسی گناہ یا قطعِ رحم کا سوال نہ کرے اور جب تک کہ جلد بازی نہ کرے۔
عرض کیا یا رسول اﷲ جلد بازی کیا ہے؟ فرمایا جب بندہ کہنے لگے کہ میں نے باربار دعا کی، قبول ہوتی نظر نہیں آتی،اُس وقت اُکتاکر چھوڑ دے۔ یہ حدیث امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی۔ اوراصل حدیث بخاری ، مسلم، ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ سبھی کے یہاں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے موجود ہے اور اس باب میں اس کے علاوہ اور حدیثیں ہیں۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم شریف کتاب الذکر والدعاء مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲ /۳۵۲)
حدیث ۶ و ۷: حدیثِ حسن میں تصریحاً ارشاد فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم :
اطلبوا الخیر دھرکم کلہ وتعرضوا النفحات رحمۃ اﷲفان ﷲ نفحات من رحمۃ یصیب بھا من یشاء من عبادہ۲؎۔
ہر وقت ہر گھڑی عمر بھر خیر مانگے جاؤ اور تجلیات رحمتِ الٰہی کی تلاش رکھو کہ اﷲعزوجل کے لئے اس کی رحمت کی کچھ تجلیاں ہیں کہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے۔
(۲؎ نوادرالاصول الاصل الرابع والثمانون والمائۃ فی طلب الخیر مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۲۲۳)
ابوبکر بن ابی الدنیا فی الفرج بعد الشدۃ والامام الاجل عارف باﷲ سیدی محمد الترمذی فی نوادرالاصول والبیہقی فی شعب الایمان وابونعیم فی حلیۃ الاولیاء عن انس بن مالک وفی الشعب عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہما وتقدم نحوہ للطبرانی فی المعجم الکبیر عن محمد بن مسلمۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ فی الفتوی الاولی قال العامری حسن صحیح اقول وقولی حسن حسن صحیح لمارایت من تعدد طرقہ وقد حسن الشیخ محمد حجازی الشعرانی حدیث المعجم الکبیر۔
اسے ابوبکر بن ابی الدنیا نے''الفرج بعد الشدۃ '' میں،امام اجل عارف باﷲ سیّدی محمد ترمذی نے نوادرالاصول میں، بیہقی نے شعب الایمان میں ، ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں انس بن مالک سے اور شعب الایمان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہما سے بھی روایت کیا۔ اور اسی کے ہم معنی حدیث طبرانی کی معجم کبیر کے حوالے سے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کی روایت پہلے فتوٰی میں گزر چکی ہے۔عامری نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
اقول اورمیرا اسے حسن کہنا اچّھا اور درست ہے، کیونکہ اس کے متعدد طریق ہیں۔ اور شیخ محمد حجازی شعرانی نے معجم کبیر کی حدیث کو حسن کہا ہے۔(ت)