دیکھو ان امام نے بآنکہ انکار حوادث میں مبالغہ شدیدہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ بعض جگہ حد سے تجاوز واقع ہوگیا،
کما نص علیہ الامام المحقق جلال الملۃ والدین السیوطی
(جیساکہ امام محقق جلال الدین سیوطی نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ت) بعدنماز جنازہ میت کے لئے نفسِ دعا پر انکار نہ فرمایا بلکہ تطویلِ دعا کی ممانعت فرمائی کہ منافی تعجیل ہے بعض فتاوٰی میں کہ واقع ہوا
لایقوم داعیالہ، لایقوم للدعاء بعد صلٰوۃ الجنازۃ
(دعاکرتے ہوئے کھڑا نہ ہو--یا--بعد نماز جنازہ دعاکے لئے کھڑانہ ہو۔ت) بعض علماء نے اُسے منع قیام، بمعنی انتصاب، پر محمول کرکے بیٹھ کر دعاکو، اس ممانعت میں داخل نہ ہونے کا استظہار کیا۔
کما نقل عن بعضھم بمانصہ چوں منع درکتب بلفظ قیام واقع شدہ شاید کہ دراں اشارت باشدباآں کہ ا گر نشستہ دُعاکند جائز باشد۱؎۔
جیسا کہ بعض سے منقول ہے عبارت یہ ہے:چونکہ کتابوں میں لفظِ قیام کے ساتھ ممانعت آئی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ اُس وقت یہ اشارہ کہ اگر بیٹھ کر دُعا کرے تو جائز ہے (ت)بلکہ کراہت اس قدر سے بھی اطلاق منع مانعین میں خلل واقع
(۱؎ کشف الغطاء فصل ششم نماز جنازہ مطبع احمدی دہلی ص۴۰)
وانا اقول وباﷲالتوفیق
(اور میں کہتا ہو ں اور یہ اﷲ کی توفیق سے ہے۔ت) قیام، ان کلماتِ علماء میں بمعنی توقف ودرنگ ہے کہ ان معنی مین بھی اس کا استعمال شائع،
قال تعالی
حسنت مستقرا ومقاما ۲
ای موضع قرار،لامحل انتصاب، اذلامحل لہ، وکذاقولہ تعالٰی حاکیا عن الکفار،
باری تعالٰی کا ارشاد ہے: جنت کیا ہی عمدہ ٹھکانہ اور مقام ہے۔ مقام کا معنی ٹھہرنے کی جگہ، کھڑے ہونے کی جگہ نہیں اس لئے کہ اس کا موقع نہیں۔ اسی طرح قولِ کفار کی حکایت فرماتے ہوئے ارشادِباری ہے: اے اہل یثرب! تمہارے لئے مقام نہیں یعنی جائے قرار نہیں-- اور ارشاد باری ہے: نماز قائم کرتے ہیں۔یعنی اس پر مداومت کرتے اور ہمیشگی برتتے ہیں-- اور اس سے باری تعالٰی کے اسماء قیوم، قیّام،قیم ہیں--یعنی دوام والا،ہمیشہ مخلوق کی تدبیر فرمانے والا--
(۲؎ القرآن ۲۵/۶) (۳؎ القرآن ۳۳/۱۳) (۴؎ القرآن ۳۱/۵)
(۵؎ مجمع البحار تحت لفظ قوم منشی نولکشور لکھنؤ ۳ /۱۸۱)
ومنہ حدیث فی معجزاتہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لولم تکلہ لقام لکم ۶؎ ای دام وثبت ولم ینفذ ومنہ حدیث، سنۃ قائمۃ۱؎ای دائمۃ مستمرۃ
اسی سے حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے معجزات کی ایک حدیث ہے:اگر تم اسے نہ ناپتے تو وہ تمہارے لئے قائم رہتا یعنی وہ غلہ دائم وثابت رہتا اور ختم نہ ہوتا-- اسی سے یہ حدیث ہے۔سنت قائمہ یعنی دائمی اور ہمیشہ رہنے والا طریقہ --
(۶؎ صحیح مسلم کتاب الفضائل مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲ /۲۴۶)
(۱؎ مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ ابی داؤد ابن ماجہ کتاب العلم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۵
مجمع البحار تحت لفظِ قوم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۳ / ۱۸۱)
وفی دعاء الاذان والصلاۃ القائمۃ ای الدائمۃ التی لایعتریھانسخ وفی حدیث حکیم بن حِزام رضی اﷲتعالٰی عنہ بایعت رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ان لااخرالاقائما۲؎ ای لااموت الا ثابتا علی الاسلام۳؎قالہ المجدفی القاموس وقال قام الماء ،جمد والدابۃ وقفت واقام بالمکان اقامۃ وقامۃ دام والشیئ ادامہ ومالہ قیمۃ، اذالم یدم علی شیئ۴؎ (ملخصا) اھ
اور دعائے اذان میں ہے:والصلٰوۃ القائمۃ--یعنی دائمی نماز جسے نسخ عارض ہونے والا نہیں-- حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے : میں نے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے اس پربیعت کی کہ زمین پر نہ گروں گا مگر قائم رہ کر--یعنی نہ مروں گا مگر اسلام پر برقرار اور ثابت رہ کر-- اسے مجد الدین فیروز آبادی نے القاموس المحیط میں ذکر کیا-- اور مزید لکھا : قام الماء--پانی جم گیا--قام الدابۃ--جانور ٹھہرا--اقام بالمکان--اس جگہ ہمیشہ رہا--اقام الشیئ--اس شیئ کو ہمیشہ رکھا--مالہ قیمۃ--اسے کسی چیز پر دوام نہیں اھ--
(۲؎ مسند احمد بن حنبل مروی ازحکیم بن حزام مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ /۴۰۲)
(۳؎ القاموس المحیط باب المیم فصل القاف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۴ /۱۷۰)
(۴؎ القاموس المحیط باب المیم فصل القاف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۴ /۱۷۰)
وقال فی مجمع بحار الانوار،وح قوموا الٰی سیدکم، فیہ استحباب القیام عنددخول الافضل وھوغیرالقیام المنھی لان ذلک بمعنی الوقوف وھذابمعنی النھوض ط(للطیبی شارح المشکٰوۃ) لیس ھومن القیام المنہی عنہ انماھوفیمن یقومون علیہ وھو جالس ویمثلون قیاماطول جلوسہ۵؎(ملخصاً)
مجمع بحر الانوار میں ہے:حدیثاپنے سردار کے لئے قیام کرو--اس حدیث سے افضل کی آمد کے وقت قیام کا مستحب ہوناثابت ہوتا ہے-- اور یہ قیامِ ممنوع سے جدا ہے اس لئے کہ وُہ قیام بمعنی وقوف ہے اور یہ بمعنی نہوض (اٹھنا) ہے—طیبی شارح مشکوٰۃ نے فرمایا: یہ قیام ممنوع سے نہیں، وہ تو ان لوگوں کے بارے میں ہے جو کسی کے بیٹھے رہنے کی حالت میں جب تک وُہ بیٹھا رہے اُس کے سامنے سیدھے کھڑے رہتے ہیں(ت)
(۵؎ مجمع بحارالانوار تحت لفظِ قوم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۳/ ۱۸۲)
پس عبارات اسی منع تطویل دعاکی طرف راجع ہیں جس کے باعث امر تجہیز وتعویق میں پڑے، ورنہ اگر کلماتِ یسیرہ کہے جائیں جیسا سوال میں مذکور یا ہنوز جنازہ لے چلنے میں کسی اورضرورت سے دیر ہو اور ایسی حالت میں دعائے تطویل کرتے رہیں تو ہرگز زیرِمنع داخل نہیں کہ صورتِ اولٰیمیں تاخیر ہی نہیں اور ثانیہ میں، تاخیر بوجہ آخر ہے، نہ بغرضِ دعا۔ ولہذا فقہائے کرام نے
لایقوم للدعاء
(دعاکے لئے نہ ٹھہر۔ت) فرمایا نہ لایدعو قائما(ٹھہرنے کی حالت میں دُعا نہ کرے۔ت)یا
لایدعوبعدھا اصلا
(بعد جنازہ بالکل دعا نہ کرے۔ت) لاجرم حدیث سے ثابت کہ صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم نے امیر المومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کے جنازہ مبارک کے گرد ہجوم کیا اور چار طرف سے احاطہ کرکے کھڑے ہوئے اور امیرالمومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم بھی اس مجمع میں شامل اورامیر المومنین شہید رضی اﷲتعالٰی عنہ کے دعاء وثناء میں شریک ہوئے ۔صحیح بخاری و صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے مروی:
واللفظ لمسلم وضع عمربن الخطاب علی سریرہ فتکنفہ الناس یدعون ویثنون ویصلون علیہ قبل ان یرفع، وانا فیھم قال فلم یرعنی الارجل قداخذ بمنکبی من ورائی فالتفت الیہ فاذاھوعلی فترحم علی عمر وقال ماخلفت احدااحب الی ان القی اﷲبمثل عملہ منک وایم اﷲان کنت لاظن ان یجعلک اللہ مع صاحبیک ۱؎۔ وفی روایۃ للبخاری قال انی لواقف فی قوم یدعون اﷲ لعمر بن الخطاب وقد وضع علی سریرہ اذارجل من خلقی قد وضع مرفقہ علٰی منکبی یقول رحمک اﷲان کنت لارجو ان یجعلک اﷲمع صاحبیک۱؎ الحدیث
یعنی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کا جنازہ رکھا تھا ، لوگ چارطرف سے احاطہ کئے ہوئے اُن کے لئے دُعاوثناء میں مشغول تھے ، میں بھی اُنہیں دُعا کرنے والوں میں کھڑا تھا ناگاہ ایک شخص نے پیچھے سے آکر میرے شانے پر کہنی رکھی میں نے پلٹ کر دیکھا تو علی مرتضٰی کرم اﷲ وجہہ تھے۔جنازہ شریفہ کی طرف مخاطب ہوکر بولے: اﷲآپ پر رحم فرمائے آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا نہ چھوڑا جو مجھے آپ سے زیادہ پیاراہوکہ میں اُس کے سے عمل کرکے اﷲ تعالٰی سے ملوں، اورخدا کی قسم مجھے امید واثق تھی کہ اﷲتعالٰی آپ کو آپکے دونوں صاحبوں سید المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم و امیرالمومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی رفاقت نصیب فرمائے گا۔الحدیث
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی۲ /۲۴۶)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب المناقب مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۵۱۹)
ثم اقول ہر شخص اپنے نفس میں دُعا کرے دوسروں سے تاکید وتقاضا میں مصروفی واشتغال یانہ کرنے والوں سے نزاع وجلال کا وہ محل نہیں کہ وُہ وقت اعتبار وتفکر واتعاظ وتدبر کا ہے، نہ غافلانہ رفع اصوات وبحث ومنازعت کا۔
وقد وردت فی ذلک اثارکثیرۃ عن الصحابۃ الکرام والتابعین الاعلام رضی اﷲ تعالٰی عنہم وصرحت بہ العلماء الحنفیۃ والمالکیۃ والشافعیۃ وغیرھم قدست اسرارھم۔
اس بارے میں صحابہ کرام اور تابعین اَعلام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے کثیر آثار وارد ہیں۔حنفی،مالکی، شافعی اور ان کے علاوہ علماء قدست اسرارہم نے اس کی صراحت فرمائی ہے(ت)
امید کرتا ہوں کہ یہ وہ قول فصل وحکم عدل ہو، جسے ہرذی انصاف پسند کرے و
باﷲ التوفیق
رہا مظنہ فساد اعتقاد کہ ایسے مواضع میں اکثر دستاویز مانعین ہوتا ہے اور اُسے جہلاً خواہ تجاہلاً موجب منع وتحریم نفس فعل وبجائے ترک مواظبت
ولومن البعض المقتدٰی بھم
(اگرچہ مداومت کا ترک بعض مقتداء وپَیشوا حضرات سے ہی عمل میں آجائے۔ت) مواظبت ترک مطلق کے وجوب پر دلیل ٹھہراتے ہیں، عندالتحقیق یہ صرف ان کی تلمیع سحیق ہے،حق یہ کہ جہاں ایسا ہوتو صرف ترک احیاناً اُس کے ازالہ میں کافی،
کما نص علیہ العلماء فی غیرماکتاب
(جیسا کہ علماء نے متعدد کتابوں میں اس کی صراحت فرمائی ہے۔ت) (یعنی اگر یہ گمان ہوکہ لوگ واجب سمجھیں گے تو کبھی ترک بھی کردے۔نہ یہ کہ ہمیشہ ترک کرنا واجب ہوجائے ۔مترجم) اور وہ بھی عموماً ضروری نہیں صرف علمائے مشار الیہم بالبنان کی جانب سے کفایت کرتا ہے کہ اُنہیں کے افعال پر نظر ہوتی ہے اور وہی باعثِ ہدایت عوام،
(اور اﷲ ہی سلامتی کے راستوں کی ہدایت دینے والا ہے، روزِقیامت تک درودوسلام ہو اس کے حبیب، اور ان کے معززآل واصحاب پر، اور ان کے واسطے ہم پر بھی اے بزرگی وعزت والے! اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم زیادہ کامل ومحکم ہے۔ت)