وفی الباب احادیث اخراوردنابعضہافی رسالتنا سرورالعیدالسعیدفی حل الدعاء بعد صلاۃ العید(۱۳۰۷ھ)
اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں جن میں سے کچھ ہم نے اپنے رسالہ
سرور العیدالسعیدفی حل الدعاء بعد صلاۃ العید (۱۳۰۷ھ)
میں نقل کی ہیں۔ خود رب العزت عزوجل ارشاد فرماتا ہے :
فاذافرغت فانصب، والٰی ربک فارغب۲؎۔
جب تو نماز سے فارغ ہو تودُعا میں مشقت کر اور اپنے رب کی طرف زاری وتضرع کے ساتھ راغب ہو(ت)
فاذا فرغت من الصلوۃ فانصب اتعب فی الدعاوالی ربک فارغب تضرع۳۔
جب تونماز سے فارغ ہوتودعامیں مشقت کراوراپنے رب کی طرف زاری وتضرع کے ساتھ راغب ہو۔(ت)
(۳جلالین نصف ثانی الم نشرح مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۵۰۰)
بالجملہ دُعائے مذکور کے جواز میں شک نہیں، ہاں دفعِ احتمالِ زیادت کو نقضِ صفوف کرلیں اسی قدر کافی ہے کہ اس کے بعد احتمالِ زیادت کا اصلاً محل نہیں ہے، جس طرح بعدِ ختمِ نمازِظہر ومغرب و عشاء ادائے سنن کے لئے مقتدیوں کو کسرِ صفوف مسنون، کہ اس کے بعد کسی آنے والے کو بقائے جماعت کا احتمال نہیں ہوسکتا۔
علامہ محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں :
لفظ البدائع اما المقتد ون فبعض مشائخناقالوالاحرج فی ترک الانتقال لانعدام الاشتباہ علی الداخل عندمعاینۃ فراغ مکان الامام عنہ، وروی عن محمد انہ قال مستحب للقوم ایضاان ینقضوا الصفوف ویتفرقوا لیزول الاشتباہ علی الداخل المعاین الکل فی الصلاۃ الیعید عن الامام ولماروینا من حدیث ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ (ف) وھذافی الذخیرۃ انہ روی عن محمد ومشی علیہ رضی الدین فی المحیط ناصّا علی انہ السنۃ۱؎۔اھ
بدائع عبارت یہ ہے : رہا مقتدیوں کا حکم توہمارے بعض مشائخ نے فرمایا وُہ اگراپنی جگہ سے نہ ہٹیں تو کوئی حرج نہیں اس لئے کہ آنے والا جب امام کی جگہ خالی دیکھ لے گا تو اسے بقائے جماعت کا شبہہ نہ رہ جائےگا۔ اور امام محمد سے روایت ہے کہ اُنہوں نے فرمایا:قوم کے لئے بھی مستحب ہے کہ صفیں توڑدیں اور منتشر ہوجائیں تاکہ ایسے شخص کو شبہہ نہ ہوجو بعد میں آئے اور سب کو نماز میں دیکھے، اور اما م سے دور ہو۔ اور اس حدیث کی وجہ سے بھی جو ہم نےحضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی --اورذخیرہ میں یہ ہے کہ یہ امام محمد سے روایت ہے اور اسی پر محیط میں رضی الدین نے مشی فرمائی اس تصریح کے ساتھ کہ یہی سنّت ہے اھ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع فصل فی بیان مایستحب للامام الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۶۰)
ف:حلیہ مجھے دستیاب نہیں اس لئے بدائع الصنائع کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ نذیر احمد
ثم اقول یہ بھی لحاظ لازم کہ صرف اس دُعا کی غرض سے جنازہ اٹھانے کو تعویق ودرنگ میں نہ ڈالیں کہ یہاں شرعاً تعجیل مامور ہے اور دُعا کچھ تعویق پر موقوف نہیں، اتنے
کلمات اللھم لا تحرمنا اجرہ ولاتفتنا بعدہ واغفرلنا ولہ،
بلکہ اس سے زائد جنازہ اٹھاتے اٹھاتے کہہ سکتے ہیں
(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)امام ابن حاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں:
ان بعض من یعتنون بہ من الموتی یترکونہ بعدان یصلی علیہ فی المسجد ویقفون عندہ، ویطولون الدعاء وبعضھم یفعل ماھواکثر من ذلک وھوتکبیرالمؤذنین اذذاک علی ماتقدم من زعقاتھم ویطولون فی ذلک، والسنۃ التعجیل بالمیّت الٰی دفنہ ومواراتہ وفعلھم یضدذلک، فلیحذرمن ھذا واﷲالمستعان۲؎۔
انہیں جس مُردے سے اعتنا ہوتا اُسے نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد مسجد میں چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے پاس ٹھہر کر دیر تک دُعا کرتے ہیں، اور بعض اس سے زیادہ کرتے ہیں، وہ یہ کہ اُس وقت مؤذنین تکبیر کہتے ہیں جیسا کہ ان کی بلند بانگوں کاذکر پہلے ہوچکا ہے۔اور اس میں طول دیتے ہیں۔ جب کہ سنت یہ ہے کہ میّت کو لے جاکرجلد دفن کریں اور ان لوگوں کا عمل اس کے برخلاف ہے، تواُس سے بچنا چاہئے ۔اور خدا ہی سے مدد طلبی ہے۔(ت)
(۲؎ المدخل لابن الحاج صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۳/۲۶۳)