Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
40 - 243
اقول وھو وان کان مرسلابطریقتہ فالمرسل حجۃ عندنا وعندالجمہورثم الثالث عندنا توثیق الواقدی کما افادہ المحقق حیث اطلق فی الفتح ثم الاصل فی الالفاظ الشرعیۃ فالصلٰوۃ حملھا علی معانیھا الشرعیۃ فالصلٰوۃ غیرادعاء ثم التاسیس خیرمن التاکید فالدعاء غیرالصلٰوۃ۔
اقول یہ  حدیث اگرچہ اپنے دونوں طریقوں مُرسل ہے مگر مُرسل ہمارے نزدیک اور جمہور کے نزدیک حجت ہے—پھر ہمارے نزدیک ثابت یہی ہے کہ امام واقدی ثقہ ہیں جیسا کہ امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں افادہ فرمایا--پھرالفاظ شرعیہ میں اصل یہ ہے کہ اپنے شرعی معانی پر محمول ہوں تو صلاۃ ، غیردعا ہے--پھر تاسیس(از سرنو کوئی افادہ) تاکید سے بہتر ہے، تو دعا،غیرصلاۃ ہے۔(ت)
پھر جب دُعا مستحب اور مطلقاً مستحب اوراکثار مستحب اورقبل نماز بعد نماز ہرطرح مستحب، توبعد نماز متصلاً اس سے کون مانع، بلکہ یہ وقت تو خاص مظنہ نفحاتِ ربانیہ ہے کہ عمل صالح خصوصاً نماز حالتِ رحمت ورحمتِ الٰہی سبب اجابت، ولہذا دُعا سے پہلے تقدیم عمل صالح مطلوب ہوئی،
کما فی الحصن قال القاری وتقدیم عمل صالح ای قبل الدعاء لیکون سببالقبولہ کما فی حدث ابی بکر رضی اﷲتعالٰی عنہ فی صلٰوۃ التوبۃ علی ماسیاتی فی اصل الکتاب ورواہ الاربعۃ وابن حبان۱؎۔
جیسا کہ حصن حصین میں ہے -- اس کی شرح میں مولانا علی قاری نے فرمایا: عمل صالح کی تقدیم، یعنی دُعا سے قبل نیک کام کی بجا آوری تاکہ قبولِ دعاء کا سبب ہو، جیسا کہ نمازِ توبہ میں حضرت ابوبکر رضی اﷲتعالٰی  عنہ کی حدیث میں ہے، جیسا کہ اصل کتاب حصن حصین میں آرہا ہے اور اسے اربعہ(ابوداؤد ، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ)اور ابن حبان نے روایت کیا۔(ت)
(۱؎ حرز ثمین شرح حصن حصین    حواشی حصن حصین آدابِ دُعا ص ۱۷   حاشیہ ۱۵    افضل المطابع لکھنؤ    ص۹)
ولہذا ختمِ قرآن واتمامِ صوم ونمازِ پنجگانہ بلکہ ہر نمازِ مفروض بلکہ ہر فرض کے بعد دعا کی ترغیب احادیث میں آئی ہے جن میں نمازِ جنازہ بھی قطعاً داخل،
الترمذی وحسنہ والنسائی عن ابی امامۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قالت یارسول اﷲای الدعاء اسمع قال جوف اللیل الاخر ودبرالصلوات المکتوبات۲؎
ترمذی بافادہ تحسین اور نسائی حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے راوی ہیں ، وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ! کون سی دُعا سُنی جانے والی ہے؟ فرمایا: وُہ جواخیر شب کے درمیان ہو اور فرض نمازوں کے بعد—
 (۲؎ جامع الترمذی   ابواب الدعوات    مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۸۸)
قال القاری التقیید بھالکونھا افضل الحالات فھی ارجی لاجابت الدعوات اھ۱؎۔
علامہ علی قاری نے فرمایا: بعد فرائض کی تقیید اس لئے ہے کہ یہ سب افضل حالت تو اس میں قبولِ دعا کی امید زیادہ ہے اھ۔
 (۱؎ حرز ثمین شرح حصن حصین    حواشی حصن حصین اوقات الاجابۃ ص ۲۲    حاشیہ ۱۶   افضل المطابع لکھنؤ ص۱۴)
البیھقی والخطیب وابونُعَیم وابن عساکر عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم مع کل ختمۃ دعوۃ مستجابۃ ۲؎،
بیہقی، خطیب، ابونعیم اورابن عساکر حضرت انس رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ہر ختم قرآن کے ساتھ ایک دعا مقبول ہوتی ہے--
 (۲؎ کنز العمال بحوالہ البیہقی عن انس رضی اﷲ تعالٰی  عنہ  حدیث ۲۳۱۴  مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت  ۱ /۵۱۷)
احمد والترمذی وحسنہ وابن ماجۃ وحزیمۃ وحبان فی صحاحھم والبزارعن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ثلثۃ لاترددعوتھم الصائم حین افطر۳؎الحدیث،
امام احمد، ترمذی بافادہ تحسین ، ابن ماجۃ ، ابن خزیمہ ، ابن حبان اپنی صحاح میں اور بزار(اپنی مسندمیں) حضرت ابوہریرہ رضی ا ﷲتعالٰی  عنہ سے راوی ہیں وُہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کا ارشاد ہے: تین شخص ہیںجن کی دعا رد نہیں ہوتی ایک روزہ دار جب افطار کرے،الحدیث--
 (۳؎ سنن ابن ماجہ     باب فی الصیام لاتر دعوتہ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۲۶)
الطبرانی فی الکبیر عن العرباض بن ساریۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من صلی صلٰوۃ فریضہ فلہ دعوۃ مستجابۃ ومن ختم القراٰن فلہ دعوۃ مستجابۃ ۴؎،
طبرانی معجم کبیر میں حضرت عِرباض بن ساریہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے وُہ نبی کریم صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: جس نے فرض نماز اداکی اس کی ایک دعا مقبول ہوتی ہے اور جس نے قرآن ختم کیا اس کی بھی ایک دعا مقبول ہوتی ہے--
 (۴ ؂المعجم الکبیر مروی عِرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ   حدیث ۶۴۷  مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت   ۸ /۲۵۹)
الدیلمی فی مسند الفردوس عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ من ادی فریضۃ فلہ داﷲ دعوۃ مستجابۃ۱؎،
دیلمی مسند الفردوس میں امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالٰی  وجہہ سے راوی ہیں جس نے کوئی فریضہ ادا کیا خدا کے یہاں اس کی ایک دعا مقبول ہوتی ہے--
 (۱؎ کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن علی رضی اﷲ عنہ  حدیث ۱۹۰۴۰ مطبوعہ مؤسستہ الرسالۃ بیروت  ۱۷ /۳۱۳)
Flag Counter