Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
39 - 243
جب دعا کی نسبت صاف حکم ہے کہ اس میں کسل نہ کرو، بکثرت مانگو، رات دن مانگو، ہرحال مانگو۔ تو ایک بار کی دُعا پر اقتصار کیونکر مطلوبِ شرع ہوسکتا ہے۔لاجرم حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے قبل نماز وبعد نماز دونوں وقت میت کے لئے دعا فرمانا اور مسلمانوں کو دعا کا حکم دینا ثابت۔
مسلم عن ام سلمۃ رضی اﷲتعالٰی عنہا قالت قال رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذاحضرتم المریض اوالمیت فقولوا خیرافان الملٰئکۃ یؤمنون علی ماتقولون۳؎
امام مسلم حضرت ام سلمہ رضی اﷲتعالٰی  عنہا سے راوی فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بیمار  یا میّت کے پاس آؤ تو اچھی بات بولو، اس لئے کہ ملائکہ تمہاری باتوں پر آمین کہتے ہیں--
 (۳؎ صحیح مسلم      کتاب الجنائز       مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۳۰۰)
وھوعنھارضی اﷲتعالٰی عنھاقالت دخل رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی ابی سلمۃ وقدشق بصرہ فاغمضہ (الی ان قالت) ثم قال اللھم اغفر لابی سلمۃ وارفع درجتہ فی المھدیین واخلفہ فی عقبہ فی الغابرین واغفرلنا ولہ یارب العٰلمین وافسح فی قبرہ ونور لہ ۱؎فیہ،
وہی امام، انہی ام سلمہ رضی اﷲتعالٰی  عنہا سے راوی ہیں فرماتی ہیں:رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم ابوسلمہ کی وفات پر تشریف لائے تو ابھی ان کی آنکھ کھُلی ہوئی تھی سرکار نے بند کی(یہاں تک فرمایا) پھر سرکار نے دعاکی:اے اﷲ! ابو سلمہ کو بخش دے اور ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور پسماندان میں اس کا نیک بدل عطا فرما، اور ہمیں اور اسے اپنی رحمت سے چھپا، اس کی قبر کشادہ فرمادے اور اس کے لیے اس میں روشنی ونور پیدا فرما—
 (۱؎ صحیح مسلم   کتاب الجنائز        مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱/۱۔۳۰۰)
ابوداؤد والحاکم وصححہ عن امیرالمومنین عثمان رضی اﷲتعالٰی عنہ قال کان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذافرغ من دفن المیّت وقف علیہ وقال استغفر وا لاخیکم وسلوالہ التثبیت انہ الاٰن یسأل ۲؎۔
ابوداؤد و حاکم امیر المومنین حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے راوی حاکم نے اس حدیث کو صحیح بھی کہا --وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اﷲتعالٰی  علیکہ وسلم جب میّت کی تدفین سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے، اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت کرو اور اس وقت اس سے سوال ہونے والا ہے --
 (۲؎ سنن ابی داؤد     کتاب الجنائز          مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور   ۲ /۱۰۳)

 (مستدرک علی الصحیحین    کتاب الجنائز        مطبوعہ دارصادر بیروت            ۱ /۳۷۰)
احمد عن ابی ھریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نعی النجاشی لاصحابہ ثم قال استغفروالہ ثم خرج باصحابہ الی المصلی ثم قام فصلی بھم کما یصلی علی الجنازۃ۳؎
امام احمد ،حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے راوی ہیں کہ نبی صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نجاشی کے مرنے کی اطلاع دی پھر فرمایا: اس کے لئے دعائے مغفرت کرو۔پھر صحابہ کو لےکر نماز گاہ تشریف لے گئے پھر انہیں نماز پڑھائی جیسے جنازہ کی نماز پڑھی جاتی ہے--
 (۳؎ ،سند احمد بن حنبل    مروی ازابوہریرہ       مطبوعہ  دارالفکر بیروت            ۲ /۵۲۹)
ابن ماجۃ والبیھقی فی سننہ عن سعید بن المسیب قال حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہا فی جنازۃ فلما وضعھا فی اللحد قال بسم اﷲ وفی سبیل اﷲ وعلٰی ملّۃ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم، فلما اخذفی تسویۃاللبن علی اللحد، قال اللھم اجرھم من الشیطان ومن عذاب القبر، اللھم جاف الارض عن جنبیھا وصعدروحہا ولقہامنک رضوانا قلت یاابن عمراشیئ سمعتہ من رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ام قلتہ برأیک، قال انی اذاً لقادر علی القول بل شیئ سمعتہ من رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۱ ۱؎ھذہ روایۃ ابن ماجۃ وفی اخری فلما اخذفی تسویۃ اللحد قال اللھم اجرھا من الشیطان ومن عذاب القبر فلما سوی اللبن علیھا قام جانب القبر ثم قال اللھم جاف الارض من جنبیھاوصعدروحھا وتلقھا رضوانا ثم قال سمعتہ من رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۲؎۔
ابن ماجہ اوربیہقی سنن میں حضرت سعید بن مسیب سے راوی ہیں۔وُہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالٰی  عنہ کے ساتھ ایک جنازہ میں حاضر تھا جب انہوں نے جنازہ کو لحد میں رکھا تو کہا: اﷲ کے نام سے، اﷲکی راہ میں، اور اﷲ کے رسول صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کے دین پر--پھر جب لحد پر کچی اینٹیں درست کرنے لگے تو کہا: اے اﷲ! اسے شیطان سے اور عذابِ قبر سے پناہ میں رکھ، اے اﷲ! اس کی کروٹوں سے زمین جدا رکھ، اس کی روح کو اوپر پہنچا، اوراسے اپنی خوشنودی عطافرما--میں نے عرض کیا:اے ابن عمر ! یہ کوئی ایسی دُعا ہے جو آپ نے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے سُنی ہے یا اپنی رائے سے کی ہے؟-- فرمایا: ایسا ہے تو وُہ دُعاکرسکتاہوں جو میں نے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے سنی ہے۔ یہ ابن ماجہ کی روایت ہے --اور دوسری روایت میں یُوں ہے کہ جب لحد برابر کرنے لگے توکہا: اے اﷲ!اسے شیطان سے اور عذاب قبر سے پناہ میں رکھ۔ پھر جب اس پر اینٹیں برابر کردیں تو قبر کے کنارے کھڑے ہوکر یہ دعا کی: اے اللہ اس کی کروٹوں سے زمین کوجدارکھ، اس کی روح کواُوپر  پہنچا اوراسے اپنی خوشنودی عطافرما--پھر فرمایا: میں نے اسے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے سُناہے۔(ت)
 (۱؎ سنن ابن ماجہ    باب ماجاء فی ادخال المیت القبر     مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی        ص۱۱۲)

(۲؎ السنن الکبرٰی     کتاب الجنائز             مطبوعہ دارصادر بیروت        ۴ /۵۵)
احادیث اس بارہ میں حدِ شہرت واستفاضہ پر ہیں، انہیں میں سے حدیث عبداﷲ بن ابی بکر وعاصم بن عمر بن قتادہ مروی مغازی واقدی ہے کہ جواب عہ میں مذکور ہوئی۔
عہ: یعنی جواب مجیب اول کہ بغرض تصدیق از بمبئی آمدہ بود عبارتش ازیں مقام اینست۔
یعنی مجیب اول کا جواب جو تصدیق کے لئے بمبئی سے آیاتھا اس جگہ سے اس کی عبارت یہ ہےاگر اس پر بھی تسلی نہ ہو تو زیادہ صریح لیجئے،کبیری شرح منیہ عبداﷲبن ابی بکر سے روایت ہے :
قال لما التقی الناس بموتۃ جلس رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علی المنبر وکشف لہ مابینہ وبین الشام فھوینظرالٰی معترکھم فقال علیہ الصلٰوۃ والسلام اخذالرایۃ زید بن حارثۃ فمضی حتی استشہد وصلی علیہ ودعا لہ وقال استغفروالہ دخل الجنۃ وھویسعی ثم اخذالرایۃ جعفر بن ابی طالب فمضی حتی استشھد وصلی علیہ رسول اﷲتعالٰی علیہ وسلم ودعالہ وقال استغفروا لہ دخل الجنۃ فھو یطیر فیھا بجناحین حیث شاء ۱؎۔
جب مقامِ موتہ میں لڑائی شروع ہوئی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اﷲعزوجل نے حضور صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم  کے لئے پردے اُٹھا دئےکہ ملک شام اور وہ معرکہ حضور صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم دیکھ رہے تھے، اتنے میں حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا: زید بن حارثہ نے جھنڈا اٹھایا ور لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہوا۔حضور صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے انہیں اپنی صلاۃ ودعاء سے مشرف فرمایا اور صحابہ کو ارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو، بیشک وُہ دوڑتاہوا جنت مین داخل ہوا۔حضور صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا: پھرجعفر بن ابی طالب نے علم اُٹھایا اور لڑتا رہا یہاں یک کہ شہید ہوا،حضور صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے ان کو اپنی صلاۃ ودُعا سے شرف بخشا اورصحابہ کوارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو وہ جنت میں داخل ہوا اور اس میں جہاں چاہے اپنے پروں سے اڑتا پھرتاہے۔(ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی    فصل فی الجنائز        سہیل اکیڈمی لاہور      ص۵۸۴)
اسی حدیث شریف سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نے بعد نماز جنازہ کے دعا کی ہے اور صحابہ کرام کو بھی آپ نے امر فرمایا ہے پس صورتِ مسئولہ کے جواز میں کیا کلام رہا انتہی منہ ۱۲رضی اﷲتعالٰی  عنہ(م)
Flag Counter