Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
38 - 243
راشد بن سعد(عہ) وضمرہ بن حبیب وحکیم بن عمیر کہ تینوں صاحب اجلّہ ائمہ تابعین سے ہیں فرماتے ہیں جب قبرپر مٹّی برابر کر چکیں اور لوگ واپس جائیں تو مستحب سمجھا جاتا تھا کہ میّت سے اس کی قبر کے پاس کھڑے ہوکر کہا جائے
یَافُلَانُ قُلْ (قُوْلِی)لَااِلٰہَ اِلَّااﷲ تین بار، پھر کہا جائے قُل (قُوْلِی)رَبیَ اﷲ وَدِنیْنِیَ الْاِسْلَامُ وَنَبِیِّیْ مُحَمَّد ط صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ  فقیرغفراﷲتعالٰی  اس قدر اور زائد کرتا ہے  وَاعْلَمْوَا (و اعْلَمِیْ)اَنَّ ھٰذَیْنِ الَّذِینَ اَتَیَاکَ (کِ) وْیَاْتِیَانِکَ نِکِ ھُوَعَبْدَانِﷲ لَایَضُرّانِ وَلَایَنْفَعَانِ اِلاَّ بِاذْنِ اﷲ فَلَاتَخَفْتَخَافِی وَلَاتَحزَنْتَحْزَنِیْ وَاَشْھَدْوَاَشْھَدِیْاَنَّ رَبَّکَ اﷲ وَدِیْنَکَ(دِیْنَکِ) الْاِسْلَامُ وَنَبِیَّکَ (نَبِیَّکِ)مُحَمَّدصَلَّی اﷲُتَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمْ ثَبَّتَنَااﷲ وَاِیَّاکَ بِالقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَٰی وۃِ الدُّنْیِا وِفِی الْاٰخِرَۃِ اِنَّہ، ھُوَالغَفُوْرُالرَّحِیْم o
ترجمہ: کہہ میرا رب اﷲ اور میرا دین اسلام اور میرانبی محمد صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم (فقیر غفراﷲتعالٰی  نے اس قدر اورزائد کیا) اور جان لے کہ یہ دو جو تیرے پائے پاس آے یا آئیں گے تو یہی دو بندے ہیں اﷲکے، نہ نفع دیں نہ نقصان پہنچایں مگر خداکے حکم سے ۔ تو نہ ڈر اور نہ غم کر ،اور گواہی دےکہ تیرا رب اللہ ہے اور تیرا دین اسلام، اور تیرے نبی محمد صلی ا ﷲتعالٰی  علیہ وسلم، ثابت رکھے ہمیں اﷲ، اور تجھ کو ٹھیک بات پر، دُنیا کی زندگی اور آخرت میں۔بیشک وہی ہے بخشنے والا مہربان۔
عہ: رواہ عنہم سعید بن منصور فی سننہ ۱۲منہ (ن)
ان سے اس کو سعید بن منصور نے پنی سنن میں روایت کیا(ت)
حدیثِ تلقین کی تخریج وتقویت فقیر نےکتاب
حٰیوۃ الموات فی بیان سماع الاموات
کے مقصد دوم و فصل پنجم اور مسئلہ تلقین کی روایات وتنقیح مقصد سوم فصل سیز دہم میں ذکر کی جس سے بحمد تعالٰی  وہابیہ کے تمام اوہام کی تسکین کافی ہوتی ہے،
وباﷲ التوفیق والحمد ﷲ رب العٰلمین وصلی اﷲتعالٰی علی سیدنامحمد واٰلہ اجمعین واﷲ سبحانہٗ وتعالٰی اعلم۔
اور خدا ہی سے توفیق ہے،اور ساری تعریف اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگاہے ،اور خدائے برترہمارے آقاحضرت محمد اور ان کی تمام آل پر رحمت نازل فرمائے اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے(ت)
مسئلہ نمبر۶۳: ازبمبئی جاملی محلہ مکان حاجی محمد صدیق جعفر مرسلہ مولوی محمد عمر الدین صاحب ۳ جمادی الاولٰی  ۱۳۱۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ بعد نمازِ جنازہ کے صفوف توڑ کر  یہ دُعا
اللھم لاتحرمنا اجرہ ولاتفتنا بعدہ واغفرلنا ولہ
یامثل اس کے کی جاتی ہے جیسا کہ بمبئی اور اس کے اطراف مانند مالا گاؤں وغیرہ بلاد میں قدیم الایام سے متعارف ومتعامل درست ہے یا نہیں؟ اور برتقدیر جواز بعض اشخاص جواس کو حرام و ممنوع کہتے ہیں ان کا قول صحیح ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب

بسم اﷲالرحمٰن الرحیم، الحمدﷲ مجیب الدعوات وافضل الصلٰوۃ واکمل التحیات علی معاذالاحیاء ومعادالاموات خالص الخیر ومحض البرکات فی الحٰی وۃ الاولی والحٰی وۃ العینی بعد الممات وعلٰی اٰلہ وصحبہ کریمی الصفات مابعد ماض وقرب اٰت اٰمین۔
اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ۔اوربہتر دروداورکامل تر تحیتیں ان پر جو زندوں کی پناہگاہ، مردوں کا مرجع، خالص خیراورمحض برکات ہیں، دنیا کی زندگی میں بھی، اور بعد موت کی بالاتر زندگی میں بھی، اور ان کی آل واصحاب پربھی، جوبزرگ صفات والے ہیں، جب تک کہ گزرا ہوا دوراورآنے والا قریب ہوتا رہے۔الٰہی قبول فرما!(ت)
اموات مسلمین کے لئے دُعاقطعاً محبوب وشرعاً مندوب جس کی ندب وترغیب مطلق پر آیات و احادیث بلاتوقیت و تخصیص، ناطق تو بلاشبہہ ہر وقت اُس پر حکم جواز صادق، جب تک کسی خاص وقت ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہ ہو مطلق شرعی کواز پیش خویش موقّت اور مرسل کو مقید کرنا، تشریع من عند النفس ہے اور نماز ہر چند اعظم واجل طرق ہے مگر اُس پر اقتصار کا حکم نہ اُس کے اغناد پرجزم، بلکہ شرع مبارک وقتاً فوقتاً بکثرت اور باربار تعرض نفخاتِ رحمت کا حکم فرماتی ہے کیا معلوم کس وقت کی دعا قبول ہوجائے۔ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا:
لیکثرمن الدعا۱؎اخرجہ الترمذی والحاکم عن ابی ھریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ وقال صحیح واقروہ،
دعا کی کثرت کرے۔ اسے ترمذی وحاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت کیا اورحاکم نے کہا صحیح ہے، اور علماء نے اسے برقرار رکھا۔(ت)
 (۱؎ جامع الترمذی    ابواب الدعوات    مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲/۱۷۴)
مستدرک حاکم و صحیح ابن حبان میں انس رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے ہے حضور اقدس صلوات اﷲ تعالٰی  وسلامہ علیہ وآلہٖ فرماتے ہیں:
لاتعجز وافی الدعاء فانہ لن یھلک مع الدعاء احد۱؎۔
دُعا میں کسل وکمی نہ کرو کہ دعا کے ساتھ کوئی ہلاک نہ ہوگا—
 (۱؎ المستدرک علی الصحیحین   کتاب الدعاء     مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۱ /۴۹۴)
قال فی الحرز المعنی لاتقصرواولاتکسلوافی تحصیل الدعاء۲؎۔
حرزِثمین میں ہے معنٰی  یہ ہے کہ دُعاء کی بجاآوری میں کوتاہی و سستی نہ کرو۔(ت)
 (۲؎ حرزثمین شرح حصن حصین    حدیث مذکور کے تحت   افضل المطابع لکھنؤ        ص۱۱)
مسند ابویعلٰی  میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی  عنہما سے مروی،رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تدعون اﷲتعالٰی فی لیلکم ونھارکم فان الدعاء سلاح المؤمنین۳؎۔
رات دن اﷲ تعالٰی  سے دُعا مانگتے رہو کہ دعا مسلمان کا ہتھیار ہے۔
 (۳؎ مسند ابویعلٰی     حدیث ۱۸۰۶  الدعوات الخ    مطبوعہ موسستہ علوم القرآن بیروت    ۲ /۳۲۹)
طبرانی کتاب الدعاء ، ابن عدی کامل، امام ترمذی، نوادر  و بیہقی شعب الایمان میں بعد ابو الشیخ و قضاعی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا سے روایت کرتے ہیں،حضور سرورِ عالم صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲیحب الملحین فی الدعاء۴؎۔
بیشک اﷲتعالٰی  بکثرت وباربار دعا کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
 (۴؎ نوادرالاصول        الاصل الثمانون والمائۃ فی الالاحاء والدعاء    مطبوعہ دارصادر بیروت        ص۲۲۰)
طبرانی معجم کبیر میں محمد بن مسلمہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے راوی حضور پُرنور سیّدالمرسلین صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان لربکم فی ایام دھرکم نفحات فتعرضوا لھالعل ان یصبکم نفحۃ منھا فلا تشقون بعدھا ابدا۵؎۔
یعنی تمہارے رب کے لئے زمانے کے دنوں میں کچھ عطائیں، رحمتیں، تجلّیاں ہیں توان کی تلاش رکھو (یعنی کھڑے بیٹھے لیٹے ہروقت دُعا مانگتے رہو، تمہیں کیا معلوم کس وقت رحمتِ الٰہی کے خزانے کھولے جائیں) شاید ان میں کوئی تجلی تمہیں بھی پہنچ جائے کہ پھر بد بختی نہ آئے۔
 (۵؎ المعجم الکبیر     مروی ازمحمد بن مسلمہ حدیث ۵۱۹   مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت          ۱۹ /۲۳۴)
قال العلامۃ المناوی فی التیسیر تعرضو الھا بتطھیر القلب وتزکیۃ من الاکدار والاخلاق الذمیمۃ والطلب منہ تعالٰی فی کل وقت قیاما وقعودا و علالجنب و وقت التصرف فی الشتغال الدنیا فان العبد لایدری فی ای وقت یکون فتح خزائن المنن۱؎۔
علامہ منادی نے تیسیر میں فرمایا: تو انہیں تلاش کرو اس طرح کہ دلوں کو کدورتوں اور بُرے اخلاق سے پاک وصاف کرلو، اور باری تعالٰی  سے کھڑے، بیٹھے، لیٹے، دیناوی کام کرتے، ہروقت مانگتے رہو، اس لئے کہ بندے کو کچھ پتا نہیں کہ کس وقت رحمت کے خزانے کُھل جائیں۔(ت)
(۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر  حدیث ان لربکم کے تحت مذکور ہے  مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ۱/۳۳۹)
سراج المنیر میں اس کے مثل ذکر کرکے فرمایا :
قال الشیخ حدیث حسن۲؎
 (شیخ فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ت)
 (۲؎ السراج المنیر شرح الجامع الصغیر    حدیث مذکورہ کے تحت    مطبوعہ مطبعۃ ازہریۃ مصریۃ مصر   ۲/ ۱۱)
Flag Counter