(۱) الٰہی ! بخش دے ہمارے زندے اورمردے ، اور حاضر اور غائب، اورچھوٹے اور بڑے، اور مرد اور عورت کو۔ الٰہی! تو جسے زندہ رکھے ہم میں سے اُسے زندہ رکھ اسلام پر، اور جسے موت دے ہم میں سے اُسے موت دے ایمان پر۔الٰہی ! ہمیں اس میّت کے ثواب سے محروم نہ کر۔ اور ہمیں اس کے بعد فتنہ میں نہ ڈال۔
(۲) الٰہی ! اس میّت کو بخش دے، اور اس پر رحم فرما، اور اسے ہر بلا سے بچا، اوراسے معاف کر، اور ا سے عزّت کی مہمانی دے، اور اس کی قبر کو وسیع کر، اور اسے دھودے پانی اور برف اور اولوں سے، اور اسے پاک کردے گناہوں سے جیسے تو نے پاک کیا سپید کپڑا مَیل سے، اوراسے بدل دے مکان بہتر اس کے مکان سے، اور گھروالے بہتر اس کے گھر والوں سے، اور زوجہ بہتر اس کی زوجہ سے۔ اور اسے داخل فرما بہشت میں ، اور اسے پناہ دے قبر کے سوال اور دوزخ کے عذاب سے۔
(۳) الٰہی ! یہ میّت تیرا بندہ اور تیری باندی کا بچّہ گواہی دیتا ہے کہ کوئی سچّا معبود نہیں مگر ایک اکیلا تُو، تیرا کوئی شریک نہیں ، اور گواہی دیتا ہے کہ محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، یہ محتاج ہے تیری مہربانی کا اور تُو بے نیاز ہے اس کے عذاب سے، یہ اکیلا رہا دُنیا اور دُنیا کے لوگوں سے، اگر یہ سُتھرا تھا تُو اسے ستھرا فرمادے اور اگر خطاوار تھا تو اسے بخش دے۔ الٰہی ! ہمیں محروم نہ کر اسکے ثواب سے اور گمراہ نہ کر اس کے بعد۔
(۴) الٰہی ! یہ تیرا بندہ تیری بندی کا بیٹا تیری باندی کا بچّہ ہے، نافذ اس میں حکم تیرا، تونے اسے پیدا کیا جن کے یہاں کوئی غریب الوطن اُترے۔ الٰہی ! اُسے اس کی حجت سکھا دے اوراُسے اُس کے لئے محمد صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے ملادے،ا ور اُسے ٹھیک بات پر ثابت رکھ کہ یہ تیرا محتاج ہے اور تو اس سے غنی ہے، یہ گواہی دیتا تھا کہ کوئی سچّا معبود نہیں سوائے اﷲ کے، پس اُسے بخش دے اور اس پر رحم فرما، اور ہمیں اس کے ثواب سے محروم نہ کر، اور اس کے فتنے میں نہ ڈال۔الٰہی ! اگر یہ سُتھرا تھا تو اسے ستھرا فرما دے اور اگر یہ خطاکار تھا اور اسے بخش دے۔
(۵) الٰہی ! تیرا یہ بندہ اور تیری باندی کا بچّہ تیری رحمت کا محتاج ہے اور تُو اُسے عذاب کرنے سے غنی ہے، اگر نیک تھا اُس کی نیکیاں زیادہ کر اور اگر بد تھا تو اُس سے درگزر فرما۔
(۶) الٰہی! تیرا یہ بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا گواہی دیتا تھا کہ کوئی سچّا معبود نہیں مگر اﷲ، اور یہ کہ محمد تیرے
بندے اور تیرے رسول ہیں(صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ) اور تُو اُس کا یہ حال زیادہ جاننے والا ہے ہم سے، اگر یہ نیک تھا تو اس کی نیکی بڑھا اور اگر بَد تھا تو اسے بخش دے، اور ہمیں اس کے ثواب سے محروم نہ کر اور اس کے فتنے میں نہ ڈال۔
(۷) تیرے اُس بندے نے صبح کی کہ الگ ہو آیا دنیا سے اور اسے چھوڑ دیا اس کے لوگوں کے لئے، اور تیرا محتاج ہُوا اور تُو اس سے غنی ہے۔ اور بیشک یہ گواہی دیتا تھا کہ کوئی سچّا معبود نہیں سوا اﷲ کے اور محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم، الٰہی !اُسے بخش دے اور اس سے درگزر ،فرما اور اُسے ملادے اس کے نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے۔
(۸) الٰہی ! تو اس جنازے کا پروردگار ہے، اور تونے اسے پیدا کیا، اور تونے اسے اسلام کی راہ دکھائی،اور تونے اس کی جان قبض کی، اور تو خوب جانتا ہے اُس کا چھُپا اور ظاہر حال، ہم حاضر ہوئے ہیں اور شفاعت کرنے تواسے بخش دے۔
(۹)الٰہی ! بخش دے ہمارے سب بھائیوں بہنوں کو اور اصلاح کردے ہمارے آپس میں، اور ملاپ کردے ہمارے دلوں میں۔ الٰہی ! یہ تیرا بندہ فلاں بن فلاں ہے اور ہم تو اس کو اچھا ہی جانتے ہیں اور تجھے اس کا علم ہم سے زیادہ ہے تو ہمیں اور اُسے بخش دے۔
(۱۰) الٰہی ! بیشک فلاں بن فلاں تیری پناہ اور تیری امان کی رسی میں ہے تو اسے بچا سوالِ نکیرین اور عذابِ دوزخ سے کہ تو وعدہ پورا کرنے والا سب خوبیوں کا اہل ہے۔الٰہی ! تو اسے بخش دے اوراس پر رحم کر بیشک تو ہی ہے بخشنے والا مہربان ۔
(۱۱) الٰہی! اسے پناہ دے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے، الٰہی دُور کر زمین کو اس کی دونوں کروٹوں سے، اور آسمان پر لے جا اس کی روح کو، اور اسے اپنی خوشنودی عطا کر۔
(۱۲) الٰہی! بیشک تونے ہمیں پیدا کیا اور ہم تیرے بندے ہیں اور تُو ہمارا رب اور تیری ہی طرف ہمیں پھرنا ہے۔
(۱۳) الٰہی ! بخش دے ہمارے اگلے پچھلے اور زندہ اور مردہ اورخوردوکلاں اور حاضر اور غائب کو۔الٰہی ! ہمیں محروم نہ کر اُس کے ثواب سے اور ہمیں فتنے میں ڈال اُس کے بعد۔
(۱۴) اے اﷲ، اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان، اے زندہ، اے پائندہ، اے نہا بنانیوالے آسمانوں اور زمینوں کے، اے بزرگی وعزت بخشنے والے! میں تجھ سے مانگتاہوں اس وسیلہ سے کہ میں گواہی دیتاہوں کہ تو ہی ہے اﷲ یکتا بے نیاز کہ نہ کوئی اس کے اولاد نہ وہ کسی سے پیدا، نہ کوئی اس کے جوڑ کا۔الٰہی ! میں تجھ سے مانگتاہوں اور تیری طرف منہ کرتا ہوں وسیلے سے تیرےنبی محمد کے کہ رحمت کے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔الٰہی ! بیشک کریم جب خود حکم سوال کا دیتا ہے تو اس سوال کو کبھی رَد نہیں کرتا۔اور بیشک تونے ہمیں حکم دیا تو ہم نے دُعا کی، اور تونے ہمیں اجازت دی تو ہم نے شفاعت کی ،اور تو ہر کریم سے بڑھ کرکرم والا ہے، تو ہماری شفاعت اس میّت کے حق میں قبول فرما، اور اس پر رحم کر اس کی تنہائی میں، اور اس پر رحم کر اس کی گھبراہٹ میں، اور اس پر رحم کر اس کی بیکسی میں، اوراس پر رحم کراس کی تکلیف میں، اور اسے بڑا ثواب دے، اور اس کی قبر نورانی کر، اور اس کا چہرہ پُرنور کر، اور اس کی خواب گاہ ٹھنڈی کر، اور اس کی جگہ معطر کرے، اوراسے عزّت والی مہمانی دے، اے سب میزبانوں سے بہتر، اے سب بخشنے والوں سے بہتر، اے سب مہربانوں سے بہتر! قبول فرما، قبول فرما، قبول فرما۔ درود و سلام وبرکات اتار سب شفیعوں کے سردار محمد اور اُن کی آل اور اصحاب سب پر۔ اور سب خوبیاں اﷲ کو جو سارے جہان کا پروردگار۔
فائدہ: نویں اور دسویں دعاؤں میں اگر میّت کے باپ کانام معلوم نہ ہو اس کی جگہ
آدَمْ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلَام
کہے سب آدمیوں کے باپ ہیں۔اگر خود میّت کا نام بھی نہ معلوم ہو تو نویں دعا میں لفظ
ھٰذَا عَبْدُکَ یا ھٰذِہٖ اَمَتُکَ
پرقناعت کرے فلاں ابن فلاں یا بنت فلاں کو چھوڑ دے اور دسویں میں اُس کی جگہ
عَبْدُکَ ھٰذَا
(یہ تیرا بندہ) یا عورت ہو تو
اَمَتُکَ ھٰذَا
(تیری یہ باندی) کہے۔
فائدہ: میت کا فسق وفجور اگر معاذاﷲ معلوم ہو تو نویں دُعا میں
لَانَعْلَمُ اِلّا خَیرًا
کی جگہ
قَدْ عَلِمْنَا مِنْہُہَا خَیْرًا
کہے کہ اسلام ہر خیر سے بڑھ کر ہے
وَاﷲ غَفُوْر رَّحِیْم۔
فائدہ: ان دعاؤں میں بعض مضامین مکرر بھی ہیں اوردُعا میں تکرار مفید و مستحسن ہے، جیسے جلدی ہو یا یاد کرنے میں دِقّت جانے تو دائے اول ودوم وسوم اور چہارم بالقول الثابتتک اور ہشتم اور دوازدہم تک پڑھے، ان شاء اﷲ یہی کافی ووافی ہے، یہ نصف سے کم بھی کم رہ گیا اور چاہے تو چہارم دہم بھی ملالے اب بھی نصف سے کچھ زائد رہے گا، اور وقت مساعدت کرے تو سب کا پڑھنا اولٰی ہے، امام جتنی دیر میں یہ دعائیں پڑھے مقتدی دعائے مشہور کے بعد اگر ان ادعیہ سے کچھ یاد نہ ہو صرف آمین آمین کہتے رہیں۔
طریقہ تلقینِ قبر:
حدیث میں(عہ) ہے حضور سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب تمہارا کوئی بھائی مسلمان مرے اوراس کی قبر پر مٹی برابر کر چکو تو تم میں سے ایک شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہوکر کہے
یَافُلَانَ ابْنَ بِنْتِ فُلَانَۃٍ
کہ وہ سُنے گا اور جواب نہ دے گا۔ پھر کہے یا فلاں بن بنت فلانۃوہ سیدھا ہوکر بیٹھ جائے گا پھر کہے، پھر کہےیا فلاں بن بنت فلانۃ وہ کہے گا ہمیں ارشاد کر، اﷲ تعالٰی تجھ پر رحم فرمائے۔مگر تمہیں اس کے کہنے کی خبر نہیں ہوتی۔ پھر کہے
(نکیرین ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے چلو ہم اس کے پاس بیٹھیں گے جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے۔ اس پر کسی نے عرض کی:یارسول اﷲ! اگر اس کی ماں کا نام معلوم نہ ہو،فرمایا:توحوّا کی طرف نسبت کرے۲؎۔
عہ: عن رواہ الطبرانی المعجم الکبیر والضیاء فی الاحکام وابن شاہین فی ذکر الموت واٰخرون کماذکرنا فی حیاۃ الموت۱۲منہ(م)
اسے طبرانی نے معجم کبیر میں ،ضیاء نے احکام میں، ابن شاہین نے ذکر الموت میں روایت کیا اوردوسرے حضرات نے بھی روایت کیا، جیسا کہ ہم نے رسالہ حیاۃ الموت میں بیان کیا ہے ۱۲منہ(ت)