BrailviBooks
Brailvi Books
فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
عہ۲: رواہ ابن حبان عن ابی ھریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
اسے ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
(۲؎ الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان حدیث۳۰۶۲ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۶ /۳۰
مواردالظماٰن کتاب الجنائز مطبوعہ مطبعۃ سلفیہ مدینہ منورہ ۱ /۱۹۲
مسند ابو یعلٰی حدیث ۶۵۶۷ مطبوعہ موسستہ علوم القرآن بیروت ۶/۱۰۶)
(۷) (اَصْبَحَ عَبْدُکَ ھٰذَا)اَصْبَحَتْ اَمَتُکَ ھٰذِہٖ قَدْ(تَخَلّٰی) تَخَلَّتْ عَنِ الدُّنْیَاوَ(تَرَکَھَا)ترکَتْھَا لِاَھْلِھَاوَ(افْتَقَر) افْتَقَرَتْ اِلَیْکَ وَاسْتَغْنَیْتَ عَنْہ ھَا وَقَدْ(کَانَ یَشْھَدُ)کانَتْ تَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ الَّااﷲُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ صَلَّی اﷲُتَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ط اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ(لَہ،) ھَا وَتَجَاوَزْعَنْہُ (ھا) وَاَلْحِقْہُ(ھا)بِنَبِیّہٖ(ھا)صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی علیہ وسلم (عہ۱) ۱؎۔
عہ۱: رواہ ابو یعلی بسند صحیح عن سعید بن المسید ان امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ من قولہ ، الحقنا بما قبلہ من المرفوعات للمناسبۃ ۱۲ کلھا منہ رضی اللہ تعالی عنہ ۔
عہ۱:اسے ابویعلی نے بسند صحیح حضرت سعید بن مصیب سے ، انہوں نے امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے انہی کے قول کے طور پر ( یعنی موقوفا) روایت کیا اسے ماقبل کی مرفوع دعاءوں کی مناسبت کے باعث ہم نے لاحق کردیا ۱۲ کلہا منہ رضی اللہ تعالی عنہ (ت)
(۱؎ المصنف لعبدالرزاق باب القراۃ الصلٰوۃ علی المیت حدیث ۶۴۲۱ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ۳ /۴۸۷
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائز مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۳/۲۹۲)
(۸) اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبُّھَا وَاَنْتَ خَلَقْتَھَا وَاَنْتَ ھَدَیْتَھَا لِلْاِسْلَامِ ط وَاَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَھَا وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِسِرِّھَاوَعَلَانِیَتِھَا جِئْنَاشُفَعَاءَ فَاغْفِرْلَھَا۔عہ۲ ۲ ؎۔
عہ۲ : رواہ ابوداؤد والنسائی والبیہقی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔(م)
ابوداؤد،نسائی اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
(۲؎ سُنن ابو داؤد باب الدعاء للمیت مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۰۰)
(۹) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِاِخْوَانِنَاوَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِنَااَللّٰھُمَّ (ھٰذَاعَبْدُکَ)ھٰذِہٖ اَمَتُکَ فَلَانُ(ابْنُ) بِنْتُ فُلَانٍ وَلَانَعْلَمُ اِلَّاخَیْرًا وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ (بھَا) مِنَّافَاغْفِرْلَنَاوَلَہ(لھَا) (عہ۱) ا؎
عہ۱: رواہ ابونعیم عن عبداﷲ بن الحارث بن نوفل عن ابیہ رضی اﷲتعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علمھم الصلٰوۃ علی المیت اللھم اغفر، الحدیث قال فقلت انااصغرالقوم فلن لم اعلم خیرقال فلا تقل الّا ماتعلم ۱۲کلھامنہ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔(م)
اسے ابونعیم نے عبداﷲ بن حارث بن نوفل سے انہوں نے اپنے والد رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے انہیں نمازِ جنازہ سکھائی اللم اغفر -- آخر حدیث تک--وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا میں لوگوں میں سب سے کم عمر ہُوں اگر مجھے کوئی خیر معلوم نہ ہو؟ فرمایا: تو تم وہی کہو جو جانتے ہو۱۲ کلہا منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ (ت)
(۱؎ کنز العمال بحوالہ ابو نعیم حدیث ۴۲۸۴۴ مطبوعہ موسسہ الرسالۃ بیروت ۱۵ /۷۱۴)
(۱۰) اَللّٰھُمَّ اِنَّ فُلَانَ(ابْنُ)بِنْتَ فُلَانٍ فِیْ ذِمَّتِکَ وَحَبْلِ جَوَارِکَ فَقِہٖ (ھَا) مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّار ِوَاَنْتَ اَھْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَمْد ط اَللّٰھُمَّ فَاغْفِرْلَہ(ھَا) وَارْحَمْہُھَااِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ۔( عہ۲) ۔ ۲۔
عہ۲: رواہ ابو داود ابن ماجۃ عن واثلۃ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ (م)
اسے ابوداود اور ابن ماجہ نے واثلہ بن اسقاء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا
(۲؎ سنن ابی داؤد باب الدعاء للمیت مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۰۱
سنن ابن ماجہ باب ،اجاء فی الدعاء فی الجنازہ علی الجنازۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۹)
(۱۱) اَللّٰھُمَّ اَجِرْھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ط اَللّٰھُمَّ جَافِ الْاَضَ عَنْ جَنْبَیْھَا وَصَعِّدْ رُوْحَھَا وَلَقِّھَامِنْکَ رِضْوَاناً(عہ۱) ۔۱۔
عہ۱: رواہ ابن ماجۃ عن ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما۔(م)
اسے ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
(۱؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی ادخال المیت القبر مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۲)
(۱۲) اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ خَلَقْتَنَاوَنَحْنُ عِبَادُکَ ط اَنْتَ رَبُّنَا وَاِلَیْکَ مَعَادُنَا۔( عہ۲) ۲؎۔
عہ۲: رواہ البغوی وابن مندۃ والدیلمی فی مسندالفرود عن ابی حاصر رضی اﷲ تعالٰی عنہ (م)
اسے بغوی ، ابن مندہ اور مسند الفردوس میں دیلمی نے ابو حاصر رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
(۲؎ کنزالعمال بحوالہ الدیلمی حدیث ۴۲۸۴۹ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱۵ /۷۱۵)
(۱۳) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَاوَصَغِیْرِنَاوَکَبِیْرِنَاوَشَاھِدِنَاوَغَائِبِنَا
اللّٰھُمَّ لَاتَحْرِمْنَااَجْرَ(ہ)ھَا وَلَاتَفْتِنَّا بَعْدَ(ہ)ھَا (عہ۳) ۳ ؎۔
۳؎ رواہ البغوی عن ابراہیم الاشھالی عن ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ(م)
اسے بغوی نے ابراہیم اشہالی سے ، انہوں نے اپنے والد رضی اﷲتعالٰی سے روایت کیا۔(ت)
(۳؎ کنز العمال بحوالہ بغوی حدیث ۴۲۲۹۹ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱۵ /۵۸۶)
(شرح السنۃ باب فی صلٰوۃ الجنازۃ والدعاء للمیت مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۵۵)
(۱۴) اَللّٰھُمَّ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ یَابَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَاذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِاَنِّیْ اَشْھَدُاَنَّکَ اَنْتَ اﷲُالْاَحَدُالصَّمَدُالَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہ، کُفُوًا اَحَدo اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍنَّبِیِّ الرَّحْمَۃِ صَلّی اﷲ تعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ط اَللّٰھُمَّ اِنَّ الْکَرِیْمَ اِذَا اَمَرَ بِالسُّئَوالِ لَمْ یَرُدَّہ اَبَدًا وَقَدْاَمَرْتَنَا فَدَعَوْنَاوَاَذِنْتَ لَنَا فَشَفَعْنَا وَاَنْتَ اَکْرَمُ الْاَکْرَمِیْنَ فَشِفِّعْنَا فِیْہِ (ھَا) وَارْحَمْہُ (ھَا) فِیْ وَحْدَتِہ (ھَا) فِیْ وَحْشَتِہ (ھَا) وَارْحَمْہُ (ھَا) فِیْ غُرْبَتِہ(ھَا) وَارْحَمْہُ (ھَا) فِیْ کُرْبَتِہٖ (ھَا) وَاَعْظِمْ لَہ (ھَا) اَجْرَہ (ھَا) ونَوّرلہ (ھَا) قَبْرَہ (ھَا) وَبَیِّضْ لَہ (ھَا) وجہہ (ھَا) وبَرّدلہ (ھَا)مضجعہ (ھَا) و عطّر لہ (ھَا) مَنْزِلَہ (ھَا) وَاَکْرِمْ لَہ (ھَا) نُزُلَہ (ھَا) یَاخَیْرَالْمُنْزِلِیْنَ یَاخَیْرَالْغَافِرِیْنَ وَیَاخَیْرَالرَّاحِمِیْنَ اٰمِیْن اٰمِیْن اٰمِین صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِالشَّافِعِیْنَ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ ط وَالْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۵
عہ: زادہ الفقیر غفرلہ الکریم القدیر ۱۲کلہا منہ رضی اﷲتعالٰی عنہ (م)
یہ دُعا فقیر نے زیادہ کی، رب کریم وقدیر اس کی مغفرت فرمائے ۱۲کلہا منہ رضی اﷲتعالٰی عنہ(ت)