Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
35 - 243
اَلْمنَّۃُ الْمُمْتَازَۃ فِیْ دَعْوَاتِ الْجَنَازَۃ
 (نماز ِ جنازہ سے متعلق حدیث میں وارد شدہ دُعاؤں کا بیان اور تلقینِ میّت کا طریقہ)( ۱۳۱۸ ھ)
مسئلہ نمبر۶۲: مسئولہ حافظ حاجی قاری زائر سیّد محمد عبدالکریم صاحب     ۲۵جمادی الاُخرٰی  ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نمازِ جنازہ کی کےَ دعائیں ہیں؟
الجواب

مولٰنا الحافظ القاری الحاج الزائر السید الصالح القادری البرکاتی ادام اﷲ تعالٰی  کرامتکم فی الحاضرۃ والاٰتی، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،،
وہ تیرہ۱۳ د عائیں ہیں کہ نماز جنازہ کی احادیث میں وارد ہوئیں۔ فقیر نے انہیں جمع کرکے ایک اور کا اضافہ کیا انہیں میں گزارش کرتا ہوں کہ حفظ فرمالیں اور بالحاظ معنی جنائز اہلسنّت پر پڑھا کریں، جن کلمات کو دو خط ہلالی میں لے کر اُن پرخط کھینچ کر بالائے سطر دوسرے الفاظ لکھے جاتے ہیں وہ لفظ عورت کے جنازے میں اُن کلمات کی جگہ پڑھے جائیں ۔ فقیر آپ کو وصیّت کرتا ہے کہ میرا جنازہ پائیں تو نماز خود ہی پڑھائیں اور یہ سب دُعائیں اپنے خالص قادری قلب کے خضوع وخشوع سے پڑھیں اورقبرِ فقیر محتاج پر تلقین بھی کریں
وحسبنااﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الّا باﷲ العلی العظیم۔
ادعیہ بعد تکبیر سوم
(۱) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاھِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا اَللّٰھَمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہ مِنَّا فَاَحْیَہٖ عَلَی الْاِسْلَامِ  وَمَنْ  تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَانِ اَللّٰھُمَّ  لَاتَحْرِمْنَا  اَجْرَ (ہٗ)ھَا ، وَلَاتَفَتِّنَا بَعْدَ(ہٗ) ھَا  ۱؎ (عہ۱)۔
عہ۱:  رواہ احمد وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن حبان والحاکم عن ابی ھریرۃ واحمد وابویعلی والبیہقی وسعیدبن منصور فی سنن عن ابی قتادۃ رضی اﷲتعالٰی عنہما(م)
اسے امام احمد،ابوداؤد، ترمذی،نسائی، ابن حبان اور حاکم نے ابو ہریرہ سے۔ اورامام احمد ، ابویعلی، بیہقی اورسنن میں سعید بن منصور نے حضرت ابوقتادہ سے روایت کیا رضی اﷲ تعالٰی  عنہما۔(ت)
 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب الدعاء للمیت        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور     ۲/۲- ۱۰۱

جامع الترمذی    باب مایقول فی الصلٰوۃ علی المیت    مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی  ۱/۱۲۱

المستدرک علی الصحیحین    کتاب الجنائز    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۱/ ۳۵۸

مسند ابو یعلی    حدیث ۵۹۸۳    مطبوعہ موسستہ علوم القرآن بیروت        ۵/۳۷۶)
 (۲) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ (لھا) ، وَارْحمہٗ (ھا) ، وَعَافِہِ (ھا) وَاعْفُ عَنْہُ (ھا)  وَوَسِّعْ مَدْخَلَہٗ (ھا) وَاغْسِلْہٗ (ھا) بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقَّہُ (ھا) مِنَ الْخَطَایَاکَمَا نَقَّیۡتَ الثَّوْبَ الْاَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَابدِلْہُ (ھا) دَارًا خَیْرًامِنْ دَارِ ہ (ھا)  وَاَھْلاً خَیرًامِّنْ اَھْلِہٖ) (وَزَوْجًاخَیْرًا مِّنۡ زَوْجَہٖ (عہ۲) وَاَدْخْلِہُ (ھا) الْجَنَّۃَ وَاَعِذْہٗ (ھا)مِنۡ عَذَابَ الْقَبْرِ  مِنْ فِتْنَۃِالْقَبْرِ  وَعَذَابِ النَّارِ ۱؎۔
 (عہ۱)          عہ۲ : یعنی یہ الفاظ عورت کے جنازہ پر نہ پڑھے جائیں ۱کلھا منہ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔(م)
عہ ۱: رواہ مسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وابوبکر بن شیبۃ عن عوف بن مالک الاشجعی رضی اﷲتعالٰی عنہ۔(م)
اسے مسلم،ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اورابوبکر بن ابی شیبۃ نےحضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت کیا (ت)
(۱؎ صحیح مسلم         کتاب الجنائز        مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی  ۱ /۳۱۱

سنن النسائی    الدعاء للمیت    مطبوعہ طور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱/  ۲۸۱)
 (۳) اَللّٰھُمَّ عَبْدُ کَ (اَمَتُکَ)وَابْنُ (وَبِنْتُ) اَمَتِکَ یشْھَدُ (تشْھَدُ)اَنْ لّاَ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ وَیَشْھَدُ(تَشْھَدُ) اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ اَصْبَحَ فَقِیْرًا (اَصْبَحَتْ فَقِیْرَۃً) اِلٰی رَحْمَتِکَ وَاَصْبَحْتَ غَنِیًّاعَنْ عَذَابِہٖ)ھَا تَخَلّٰی (تَخَلَّتْ) مِنَ الدُّنْیَاوَاَھْلِھَااِنْ کَانَ زَاکِیاً (کَانَتْ زَاکِیَۃً) فَزَکِّہٖ)ھَا وَاِنْ کَانَ مَخْطِئًا(کَانَت مُخۡطِئَۃً)  فَاغْفِرْ(لہٗ)لَھَا اَللَّھُمَّ لَاتَحْرِمْنَااَجْرَ(ہٗ) ھَا وَلَاتُضِلَّنَابَعْدَ(ہٗ)ھَا ۲؎(عہ۲)
عہ ۲ :  رواہ الحاکم عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہ(م)
اسے حاکم نےحضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی  عنہما سے روایت کیا۔(ت)
  (۲؎ المستدر ک علی الصحیحین    کتاب الجنائز    مطبوعہ دارالفکر بیروت   ۱ /۳۵۹)
 (۴) اَللّٰھُمَّ(ھٰذَاعَبْدُکَ)ھٰذِہٖ اَمَتُکَ ابْنُ عَبۡدٍ) بِنْتُ بْنُ اَمَتِکَ مَاضٍ فِیْہِ)ھَا حُکْمُکَ، خَلَقْتَہٗ (ھَا) وَلَمْ یَکُ (تَکُ ھِیَ ) شَیْئًامَّذْکُوْرًا، نَزَلَ (لَت) بِکَ وَاَنْتَ خَیْرُمَنْزُوْلً  بِہٖ ط اللھم لقنہ(ھا) حجتہ(ھا)   و الحقہ (ھا) بنبیہ محمد  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم   وَثَبِّتْہ (ھا) بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فَاِنَّہ(ھَا)اَفْتَقَرَ (افتَقَرَتْ) اِلَیْکَ وَاسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ(ھَا)کَانَ یَشْھَدُ (کانَتْ تَشْھَدُ) اَنْ لّاَاِلٰہَ اِلّاَاﷲُ فَاغْفِرْلَہُ(ھا) وَارْحَمْہُ(ھا)  وَلاَ تَحۡرِمۡنَا اَجۡرَہُ (ھا)وَلَاتَفَتِّنَا بَعْدَ ہٗ (ھا)اللّٰھُمَ اِنْ کَان زَاکِیًا (کانَت زَاکِیَۃً) فَزَکِّہٖ(ھا) وَاِنْ کَان خاطئا (کانت خاطِئَۃً ) فَاغْفِرْلَہ(ھا) ۱؎ عہ۱۔
عہ: رواہ عن امیرالمومنین علی کرّم اﷲ تعالٰی وجہہ ۱۲(م)
    اسے امیر المومنین علی کرم اﷲوجہہ سے روایت کیا ۱۲(ت)
 (ا؎ کنز العمال    صلٰوۃ الجنائز    حدیث ۴۲۸۶۴    مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت    ۱۵ /۷۱۸)
قال الامام ابن الجزری وشرح حصنہ(زاکیا) ای طاہرامن الذنوب فزکہ ای فطھرہ بالمغفرۃ ورفع الدرجات اھ وتعقبہ العلامۃ القاری بانہ لایخفی عدم المناسبۃ بین تفسیرہ زاکیابطاھر ای من الذنوب وبین قولہ وطھرہ بالمغفرۃ اھ
امام ابن الجزری نے اپنی حصن حصین کی شرح میں فرمایا:زاکیاکامعنی گناہوں سے پاک ، فزکہ کا معنی : اسے مغفرت فرماکر اور درجات بلند فرماکر خوب پاک کردے اھ اس پر علامہ قاری نے تنقید کی کہ زاکیاکی تفسیر (گناہوں سے  پاک ) اور( مغفرت فرماکر اسے گناہوں سے پاک کردے)ان دونوں میں مناسبت نہ ہونا واضح ہے اھ
اقول لابدع فی سؤال المغفرۃ بالطاھرۃ من الذنوب قدکان سیّدالطاھرین امام المعصومین صلی اﷲتعالٰی علیہ وعلیھم  یستغفرالیہ کل یوم مائۃ مرّۃ وذلک ان العبد وان جل ماجل لایبلغ عماعملہ شکر نعمۃ اﷲتعالٰی ابدا ولایخلواعامۃ الصالحین عن تقصیر مابالنظر الی ما ینبغی لجلال وجہ الکریم فالمغفرۃ فی حقھم ان یتجاوز عن ذلک ولایعاملھم قدر اعمالھم بل قدر افضالہ والیہ اشارۃ بقولہ رحمۃ اﷲتعالٰی ورفع الدرجات قال القاری واغرب الحنفی بقولہ، الاولی ان یقال ای زدفی زکاتہ وطھارتہ اھ ۔
اقول جوگناہوں سے پاک ہے اس کے لئے دعائے مغفرت کوئی اجنبی اور نامناسب چیز نہیں۔ پاکوں کے سردار،معصوموں کے امام حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم روزانہ خدا کی بارگاہ میں سو بار استغفار کرتے۔ بات یہ ہے کہ بندہ جتنا بھی بزرگ ہوجائے اس کا عمل اﷲ تعالٰی  کی نعمتوں کے کامل شکر کی حد تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ رب کریم کی بزرگی شان کے لحاظ سے عامہ صالحین کسی نہ کسی کی کمی سے خالی نہ ہوں گے توان کے حق میں مغفرت یہ ہے کہ اس سے درگزر فرمائے اوران کےساتھ ان کے اعمال کے حساب سے نہیں بلکہ اپنے فضل وکرم کے لحاظ سے معاملہ فرمائے اور ابن جزری رحمۃ اﷲ علیہ نے اسی بات کی طرف اپنے قول(اور درجات بلند فرماکر) سے اشارہ فرمایا--علامہ علی قاری فرماتے ہیں:علامہ حنفی نے یہ عجیب وغریب بات لکھی کہ اس کی تفسیر میں یہ کہنا بہتر ہوگا کہاس کی ستھرائی اور پاکی میں اضافہ فرما
اقول مرجعہ الی ماذکرنا ای ان کان طاھرا من الذنوب فزدنی طھارتہ بمغفرۃ التقصیر فی شکرک الخطیر وقدفسرہ القاری نفسہ بقولہ ای فزد فی احسانہ کما فی روایۃ اھ لایعبد عن قول الحنفی کثیرا
—اقول اسکا مآل بھی وہی ہے جوہم نے بیان کی اگر گناہوں سے پاک ہے تو اس کی پاکی میں اضافہ فرما اس طرح کہ اپنے عظیم شکر کی بجا آوری میں اس کی تقصیر کو  بخش دے --اورخود مولانا قاری نے اس کی تفسیر  ان الفاظ میں کی ہے: یعنی اس کی نیکی میں اضافہ فرما جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے اھ—
وانا اقول وباﷲ التوفیق بل ھومن تزکیۃ الشھودد ای ان کان زاکیا فاظھرفی ملکوتک انہ ذاک واشھدلہ بذاک وھذا لیس بتاویل بخلاف ماتقدم وباﷲ التوفیق کلھا منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔(م)
اقول وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں  اور توفیق خدا ہی سے ہے) بلکہ یہ تزکیہ شہود سے ہے (گواہوں کا تزکیہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی باطنی عدالت وپرہیز گاری جانچ کر ظاہر کردی جائے ) یعنی اگر وہ پاکیزہ ہے تو اپنی بادشاہت میں اس کی یہ حالت عیاں کردے اور اس کے لئے اس پر گواہ لے لے۔ یہ اس کا لفظی معنی ہے، تاویل نہیں کہ گزشتہ معانی تاویل تھے، اور توفیق خدا ہی سے ہے۔(ت)
 (۵)اللّٰھُمَّ عَبْدُکَ اَمَتُکَ  وَا(بْنُ)بَنْتُ  اَمَتِکَ احْتَاج(احتاجَت) اِلٰی رَحْمَتِکَ وَاَنْتَ غَنِی عَنْ

عَذَابِہٖ (ھا) اِنْ کَانَ (کانَتْ) مُحْسِنًا(مُحْسِنَۃً)  فَزِدْفَیْ اِحْسَانِہٖ(ھا) وَاِنْ کَا نَ (کانَتْ)مُسِیْئًا (مُسِیْئَۃً) فَتَجَاوَزْ عَنْہُ(عَنْھَا) ۱؎عہ۱ ۔
    عہ۱:رواہ الحاکم عن یزید بن رکانہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔(م)
اسےحاکم نے یزید بن رکانہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت کیا۔(ت)
 (۱؎ المستدرک علی الصحیحین  کتاب الجنائز    مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ /۳۵۹)
Flag Counter