Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
34 - 243
سابعاً کراہت انفرادصلٰوۃ مطلقہ میں ارشاد ہوئی ہے، صلٰوۃ جنازہ کا اُس سے الحاق محلِ منع ہے،تبیین الحقائق میں فرمایا:
صلٰوۃ الجنازۃ لیست بصلٰوۃ من کل وجہ وانما ھی دعاء للمیّت۲؎۔
نمازِ جنازہ ہر لحاظ سے نماز نہیں، یہ تو بس میّت کے لئے دُعا ہے۔(ت)
 (۲؎ تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق    باب الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ    مطبوعہ مطبعۃ کبرٰی  امیریہ مصر  ۱ /۱۳۷)
امام نسفی کتاب کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
حتی لایحنث بصلاۃ الجنازۃ لوحلف ان لایصلی فصارت کسجدۃ التلاوۃ۳؎۔
اگر نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی تو نمازجنازہ پڑھنے سے حانث نہ ہوگا، تو یہ سجدہ تلاوت کی طرح ہوئی(ت)
 (۳؎ سنن ابو داؤد    باب تسویۃ الصفوف     مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۸)
اقول بلکہ محل مقام میں صلاۃِ مطلقہ کا اُس سے بیّن تفاوت ہے۔ صلاۃ مطلقہ میں سب سے افضل صفِ اول ہے اور نماز جنازہ میں سب سے افضل صف اخیر۔صلاۃ مطلقہ میں جب تک پہلی صف پُوری نہ ہوجائے دوسری صف ہرگزنہ کی جائے گی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اتمواالصف المقدم ثم الذی یلیہ فماکان من نقص فلیکن فی الصف الموخر۴؎ رواہ احمد وابوداؤد والنسائی وابن حبان وابن خزیمۃ والضیاء فی المختارہ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔
اگلی صف پُوری کرو پھر وہ جو اس کے بعد ہے کہ جو کچھ کمی رہے پچھلی صف میں رہے۔اسے امام احمد ، ابوداؤد، نسائی، ابن حبان ، ابن خزیمہ اور مختارہ میں ضیاء نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔(ت)
(۴؎ سنن ابو داؤد    باب تسویۃ الصفوف        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور   ۱ /۹۸)
رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا :
الاتصفون کماتصف الملٰئکۃ عند ربھا
 (کیا تم ویسے صف نہیں لگاتے جیسے ملائکہ اپنے رب کے حضور صف لگاتے ہیں۔ت) صحابہ نے عرض کی:
یا رسول اﷲ وکیف تصف ملٰئکۃ عند ربھا
 (یارسول اﷲ ملائکہ اپنے رب کے حضور کیسے صف لگاتے  ہیں؟۔ت) ارشاد فرمایا:
یتمون الصف الاول ویتراصون فی الصف۱؎
 (پہلی صف پُوری کرتے ہیں اورصف کے اند خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ت)
رواہ مسلم وابوادؤد وابن ماجۃ عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ
 (اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے حضرت جابر بن سمرۃ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت کیا۔ت) اور نمازِجنازہ میں تفریقِ صفوف سب کو مسلّم۔
 (۱؂صحیح مسلم   باب تسویۃ الصفوف واقامتہا الخ        قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۱۸۱

   سنن ابی داؤد   باب تسویۃ الصفوف      آفتاب عالم پریس لاہور        ۱ /۹۷)
صلٰوۃ مطلقہ میں محاذاتِ زن حسب شرائط عشرہ مفسد نماز ہے اور نمازِ جنازہ میں اصلاً مفسد نہیں
کما نص علیہ فی الکتب قاطبۃ
 (جیسا کہ تمام کتابوں میں اس کی تصریح ہے۔ت) تو کیا بعید ہے کہ صف کے پیچھے انفراد صلاۃِ مطلقہ میں مکروہ ہو نہ نمازِ جنازہ میں
وبہ یضعف ماوقع فی الحلیۃ ان لو لاالحدیث لقلنا بکراھتہ۲؎
 (اور اسی سےحلیہ میں واقع یہ کلام ضعیف ہوجاتا ہے کہ اگر حدیث نہ ہوتی تو ہم اس کی کراہت کے قائل ہوتے۔ت)
 (۲؂  حلیہ المحلی شرح منیہ المصلی)
بالجملہ مسئلہ واضح ہے اور بحث طائع اور برخلاف حدیث وفقہ اُس پر اعتماد جہل فاضح ۔ اب رہا اصل سائل کہ یہ تفریق پانچ مقتدیوںمیں بھی کی جائے یا صر ف چھ سے مخصوص ہے۔اقول ہاں پانچ میں بھی کی جائے، ہمیں حدیث وفقہ نے بتایا کہ ارشادِ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم:
ما من مسلم یموت فیصلی علیہ ثلثۃ صفوف من المسلمین الا اوجب۳؎۔
مسلمانوں میں سے کوئی فوت ہوگیا اور اس پر مسلمانوں کی تین صفوں نے نماز جنازہ پڑھا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔(ت) کی برکت حاصل کرنے کو حتی الوسع حاضرین کی تین صفیں کی جائیں، اگر صفِ اخیر  صرف ایک شخص کی ہو۔ یہ بات پانچ مقتدیوں میں یقینا حاصل۔ پہلی دو صفیں دو دو کی ہوں کہ دو آدمی صلٰوۃ مطلقہ میں بھی مستقل صف ہیں۔
 (۳؂ مشکٰوۃ المصابیح   باب المشی بالجنازہ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۴۷)
موطائے امام مالک و مصنّف عبدالرزاق میں انس رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے ہے :
قام رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وصففت اناوالیتیم من ورائہ ۱؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں نے اوریتیم نےحضور کے پیچھے صف لگائی۔(ت)
 (۱؎ موطاء امام مالک     جامع سبحۃ الضحٰی    مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی        ص۱۳۷)
موطائے امام محمد میں عبداﷲ بن عتبہ سے ہے :
قال دخلت علٰی عمر بن الخطاب بالھاجرۃ فو جدتہ یسبح فقمت ورائہ فقربنی فجعلنی بحذائہ عن یمینہ فلما جاء یرفاء تاخرت فصففناوراءہ۲؎۔
میں حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے یہاں دوپہر کو آیا تو انہیں نفل پڑھتے ہوئے پایا، میں ان کے پیچھے کھڑاہوگیا ،انہوں نے مجھے قریب کرکے اپنے برابر دائیں کرلیا، پھر جب یرفا آگیا تو میں پیچھے ہوگیا، ہم دونوں نے ان کے پیچھے صف بنالی(ت)اور تیسری صف ایک کی، فقہائے کرام نے کہ چھ ہی مقتدیوں کی صورت لکھی،
 (۲؎ مؤطا امام محمد  باب الرجلان  یصلیان جماعۃ   مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی  ص۱۲۴)
اوّلاًبعض صور پر اقتصار بعض دیگر کا نافی نہیں،ردالمحتار میں ہے :
لا یلزم ان یکون ماسکت عنہ مخالفافی الحکم لماذکرہ کمالایخفی۳؎۔
ضروری نہیں کہ جس سے سکوت ہو وہ حکم میں اس کے مخالف ہو جو مذکور ہے جیسا کہ واضح ہے(ت)
  (۳؎ ردالمحتار   )
ثانیاً اقول اس کے لئے تین سبب ہیں : اوّل صورت مذکوہ حدیث کے ذکر سے تبرک۔دوم  اس پر تنبیہ کہ چھ مقتدیوں کی صورت میں اگرچہ ہر دوشخصوں کی ہوسکتی ہے مگر بہ اتباع سنت یونہی کریں کہ پہلی صف تین کی، دوسری دو کی، تیسری ایک کی۔سوم کراہت انفراد کاکامل ازالہ کہ باوصف تیسر تعدد انفراد اختیار کیا، اگر کہیے چھ مقتدیوں کی اس ترتیب میں کوئی اور حکمت بھی،اقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اپنے افعال کی حکمتیں خوب جانتے ہیں نظرظاہر میں یہاں دو۲ حکمتیں معلوم ہوتی ہیں :
اوّلاًجمع تام ہے اور جمع تام گویا صفتِ تام ہے ولہذا ایک روایت میں تین عورتوں کو جمیع صفوف مابعد کی نماز کا قاطع بتایا، اور ظاہرالروایۃ میں بھی اسے اس درجہ قوی بتایا کہ ایک صف کودوسری کا حائل نہ جانا، اور ان کی محاذات میں آخر صفوف تک تین  تین  مردوں کی نماز پرحکمِ فساد فرمایا۔فتح القدیر میں ہے :
الصحیح ان بالصلاۃ بالثلاث تفسد صلٰوۃ واحد عن یمینھن واٰخرعن شمالھن وثلثۃ ثلثۃ الٰی اٰخر الصفوف وفی روایۃ الثلث کالصف التام فتفسد صلٰوۃ جمیع الصوف التی خلفھن ۱؎۔
صحیح یہ ہے کہ تین عورتوں سے ایک ان کے دائیں والے مرد کی، ایک ان کے بائیں والے کی ، اورآخری صف تک ہرصف سے تین تین مردوں کی نماز فاسد ہوجاتی ہے-- اور ایک روایت میں ہے تین گویا پوری صف ہے تو ان کے پیچھے کی تمام صفوں کی نماز فاسد ہوجائے گی۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر   باب الامامۃ   مطبوعہ نوریہ ضویہ سکّھر   ۱ /۳۱۶)
اس معنوی کثرت وقوت کی تحصیل کو صفِ اوّل مین تین شخص رکھے۔ثانیاًاس میں تعدیل فضل ہے کہ جمع میں برکت ہے ایک سے دو۲ میں زائد، دو۲ سے تین۳ میں، اور صفوف جنازہ میں آخری فالآخر افضل ہے۔ پہلی سے دوسری افضل، دوسری سے تیسری تو اس ترتیب سے ہر صف کے لئے چار فضل حاصل ہو گے۔ پہلی صف میں باعتبار صف ایک، بلحاظِ رجال تین دوسری صف میں صف اور رجل دونوں کے اعتبارسے دو دو تیسری میں بااعتبار صف تین با لحاظ  رجل ایک،
واﷲ ذولفضل العظیم، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم
 (اور اﷲ بڑے فضل والا ہے--اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ت)
Flag Counter