Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
33 - 243
اقول وباﷲ التوفیق
(میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) نہ وہ استنباط مقبول ہے نہ اُس پر اعتماد جائز، اوّلاً وہ علی قاری کی ایک بحث ہے اور منقول کے حضور بحث اصلاً قابلِ التفات نہیں
کما نص علیہ فی ردالمحتار وغیرہ من معتمدات الاسفاروقداکثرنانقولہ فی فتاوٰنا۔
جیساکہ ردالمحتار وغیرہ معتمد کتابوں میں تصریح ہے اور بہت سی عبارتیں ہم نے اپنے فتاوٰی  میں نقل کی ہیں۔(ت)

اور اُسے مرقاۃ میں منقول بتانا جہل صریح ہے یا افترائے قبیح، پھر جزئیہ منصوصہ کتب مذہب کو قول قاری سے غیر صحیح کردینا سخت جرأت مردود ہے۔ فتاوائے اکثر منصوصاتِ ائمہ ومرسل بلاعز ولکھتے ہیں
کما لایخفی علٰی خادم الفقہ
 (جیسا کہ خادمِ فقہ پر  پوشیدہ نہیں۔ت) بلکہ قدمائے اہل فتاوٰے غالباً اقوالِ مشائخ کو معزو لکھتے ہیں اور نصوصِ مذہب کو بلاعزو خصوصاً جبکہ ائمہ مذہب سے ان میں اختلاف نہ منقول ہو۔شرنبلالی علٰی  دررالحکام میں ہے:
صرح بہ قاضی خان من غیر اسنادہ لاحد فاقتضٰی کونہ المذہب۱ ؎۔
(قاضی خان نے کسی کی طرف اسناد کئے بغیر اس کی صراحت فرمائی صراحت فرمائی تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مذہب ہو(ت) اور بالفرض ارشاد ائمہ مجتہدین فی المسائل یا تخریجِ مسائل ہی ہو تو علی قاری کو اپنی بحث سے اس کے رد کا کیا اختیار ہے، کیاوُہ ان میں نہیں جن کو فرمایا گیا:
امانحن فعلینااتباع مارجحوہ وماصححوہ کمالوافتوافی حیاتھم۲؎۔
مگر ہم پر اسی کی پیروی کرنی ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دی اور جسے صحیح کہا جیسے اگر  وُہ اپنی حیات میں فتوٰی  دیتے تو ہمیں یہی کرنا تھا۔ (ت)
 (۱؎ غنیـہ ذوی الاحکام حاشیۃ علی دررالحکام  نواقض الوضوء   مطبعہ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت مصر  ۱/ ۱۵ )

 (۲؎ دُرمختار  خطبۃ الکتاب  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۱۵)
جیسا کہ تصحیح القدوری للعلامہ قاسم  پھر ردالمحتار میں ہے :
فانہ لا یسعنامخالفتھم۳ ؎۔
 (کیونکہ ہمارے لئے ان کے خلاف جانے کی گنجائش نہیں۔ت)
 (۳؎ ردالمحتار  خطبۃ الکتاب   مصطفی البابی مصر     ۱ /۵۷)
ثانیاً اگر وہ منقول ہی ہوتی تو شروع حدیث کی نقول نصوص کتب معتمدہ فقہیہ کے خلاف مقبول نہیں،بلکہ نصوص تو نصوص کہ شروح حدیث کی تصریح صریح اشاراتِ کتب مذہب کے بھی معارض نہ مانی گئی۔شرح مشارق الانوار علامہ ابن مالک سے کہ علامہ علی قاری سے اقدم واعظم ہیں ایک مسئلہ منقول ہو ااس پر علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمایا :
ان ھذاالکتاب لیس موضوعالنقل المذہب واطلاق المتون والشرح یردہ۴؎۔
اس کی تالیف نقلِ مذہب کے لئے نہیں اور اطلاق متون وشروح اسکو ردکر رہی ہے۔(ت)
 (۴؎ ردالمحتار      خطبۃ الکتاب   مصطفی البابی مصر        ۱/ ۵۷)
ثالثاً اگربالفرض کسی کتابِ فقہ ہی میں ایک نقل شاذپائی جاتی تو نقل، مشہور کتبِ معتبرہ کثیرہ کے مقابل نہ مانی جاتی،
کمانص علیہ فی الشرنبلالیۃ والعقود الدریۃ وردالمحتاروغیرھاواکثرناالنقول فیہ فتاوٰنا و فی کتابنافی رسم المفتی۔
جیسا کہ شرنبلالیہ ، العقود الدریہ ، ردالمحتار وغیرہا میں اس کی تصریح ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی  میں اور رسم المفتی سے متعلق اپنی کتاب میں ان کی بہت سی عبارتیں نقل کی ہیں۔(ت)
رابعاً اگرشاذ بھی نہ ہوتی جب بھی اُسی ترتیب مذکور جامع التفاریق و محیط وحلیہ وغنیـہ وغیرہاپر اعتماد

ہوتا کہ نص حدیث اُسی طرف ہے اور علماء تصریح فرماتے ہیں:
لایعدل عن درایۃ ماوافقتھاروایۃ  ۱؎کمانص علیہ فی الغنیۃ وردالمحتار وغیرھا۔
کسی درایت سے عدول نہ ہوگاجب تک کوئی روایت اس کی موافقت کرتی ہو جیسا کہ غنیـہ اور ردالمحتار وغیرہما میں اس کی تصریح ہے(ت)
 (۱؎ ردالمحتار  مطلب اذاتعارض التعمیم   مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ۱/۵۳)
خامساً اس بحث واستنباط کا سارامدار اس پر ہے کہ روایت ابی داؤد میں
جزاھم ثلثۃ صفوف ۲؎
 (انہیں تین صفوں میں تقسیم کیا۔ت) کا لفظ وارد ہے،
 (۲؎ سنن ابی داؤد  باب فی الصفوف علی الجنازۃ  آفتاب عالم پریس لاہور  ۲/۹۵)
اور ایک شخص کو صف نہ کہیں گےترمذی کی اس حدیث میں
جزاھم ثلثۃ اجزا ۳؎۔
 (انہیں تین صفوں میں تقسیم کیا۔ت)
ہے اورجزمطلق ہے اور ہم ابھی حدیثِ مرفوع سے نقل کرچکے ہیں کہ نبی صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے ایک صف ایک ہی صاحب کی کی،
(۳؎ جامع الترمذی  ابواب الجنائز باب کیف الصلٰوۃ علی المیت الخ   امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی  ۱/۱۲۲)
علامہ قاری نے روایتِ ترمذی کی جوشرح ٹھرائی کہ ۳تین حصے کرنے سے مراد یہ ہے کہ بوُڑھے اوراُدھیڑ اور جوان یا علماء و طلبہ وعوام ،
حیث قال ای قسمھم ثلثۃ اقسام ای شیرخاوکہو لاوشبابااوفضلاء وطلبۃ العلم والعامۃ۴ ؎
انہوں نے کہا :ان کو تین۳ حصوں میں تقسیم کیا یعنی بوڑھوں، ادھیڑوں اور جوانوں میں یا علماء، طلباء اورعوام میں تقسیم کیا۔ا(ت)
 (۴؎ مرقاۃ المفاتیح    کتاب الجنائز(حدیث :۱۶۸۷)        المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ        ۴ /۱۷۰)
یہ بھی نرا اجتہادِ علّامہ ہے جس پر نہ حدیث مرفوع میں دلالت نہ اُس کی فرع فعل صحابی میں، نہ اُسے اس کی شرط
اذا صلی علٰی جنازۃ فتقال الناس علیھا  ۵؎
 (جب نمازِجنازہ پڑھی اور اس پر آدمی کم محسوس کئے ۔ت)پر ترتب، یہ مقتضی تجزیہ ہیں، نہ طالبِ توزیع، تویہ تفسیر بلاانشاء ہے، نہ شرع سے کہیں کسی نماز میں یہ تقسیم معہود کو بوڑھے الگ چھانٹے جائیں اور ادھیڑ جُدا اور جوان علیحدہ۔
 (۵؎ جامع الترمذی    ابواب الجنائز باب کیف الصلٰوۃ علی المیّت    امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہدہلی    ۱ /۱۲۲)
سادساً ہمیں مسلم کہ فی نفسہٖ مستقل صف کم از کم دو کی ہوگی، مگر صف یا صفوف کے ساتھ اگر ایک شخص صف جداگانہ ہوتو اُس پر بھی ضرور اطلاقِ صف ہے اور یہی ہمارےا س مسئلہ میں ہے۔تواصل مبنائے انکار ہی ساقط وباطل ہے، اﷲ عزوجل فرماتاہے:
یوم یقوم الروح والملٰئکۃ صفا۱ ؎
جس دن کھڑے ہون گے روح اور ملائکہ صف باند ھ کر ۔
(۱؎ القرآن     ۷۸ /۳۸)
ابن جریر اس آیت کی تفسیرمیں سیدناعبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے راوی:
الروح ملک فی السماء السابعۃ و اعظم من السموات ومن الجبال ومن  الملئکۃ  یسبح کل یوم اثنی  عشر  الف تسبیحۃ  یخلق  اللہ من کل تسبیحۃ ملکا من الملئکۃ یجی یوم القیمۃ صفا وحدہ ۲؂
یہ روح فرشتہ ٓآسمان ہفتم مہں ہے وہ آسمانوں اور پھاڑوں اور سب فرشتوں سے اعظم ہے ،وہ روزانہ بارہ ہزار تسبیحیں کرتا ہے اللہ عزوجل ہر تسبیح سے ایک فرشتہ بناتاہے یہ روح  (فرشتہ) روز قیامت اکیلا ایک صف ہو گا .
 (۲؎ جامع البیان المعروف تفسیر ابن جریر    تخت آیہ مذکورہ    مطبوعہ مطبعۃ میمنیہ مصر        ۳۰/۱۳)
معالم التنزیل میں با روایت عطاء ابن ابی رباح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے اس آیت کی تفسیر میں ہے :
الروح ملک من الملئکۃ ما خلق اللہ تعالی مخلوقا اعظم منہ فااذا کان یوم القیمۃ قام  وحدہ صفام وقامت الملئکۃ کلھم صفا واحدافیکون اعظم خلقۃ مثلہ ۔؂۳
روح ایک فرشتہ ہے اﷲ تعالٰی  نے کوئی مخلوق جسم میں اس سے بڑی نہ بنائی۔ جب قیامت کا دن ہوگا وُہ اکیلا ایک صف ہوکر کھڑا ہو  گااور تمام فرشتے ملکر ایک صف، تو اس کی جسا مت ان سب کے برابر ہوگی۔
 (۳؎ معالم النزل علی ہامش تفسیر الخازن    تخت آیہ مذکورہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۷ /۲۰۳۔ ۲۰۲)
امام ابوعمر ابن عبدالبر ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرمایا:
المرأۃ وحدھا صف۴؎
اکیلی عورت ایک صف ہے۔
 (۴؎ التمہید       حدیث الخامس لاسحاق       مطبوعہ المکتبۃ القدوسیۃ لاہور        ۱ /۲۶۸)
صحیح بخاری شریف میں :
المرأۃ وحدھا تکون صفا ۵؎
تنہا عورت ایک صف ہوتی ہے۔حدیث عطاء سے گزرا
جعل الصف الثالث واحد۶؎
نبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے ایک شخص کو تیسری صف میں کیا۔
 (۵؎ صحیح البخاری        باب المرأۃ وحدھا تکون صفّاً    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۱۰۱)
امام احمد کی روایت مذکورہ میں بھی ایک شخص کو صف کہا کہ
کرہ ان یکون الواحد صفاً۱؎
 (اسے ناپسند کیا کہ ایک آدمی صف ہو۔ت)نہ یہ کہ
الصف لایقوم بواحد اصلا
 (ایک آدمی سے بالکل صف بنتی ہی نہیں۔ت) اور یہیں سے ظاہر ہو گیا کہ تین آدمیوں کی صفیں نہ ہوسکنے سے اعتراض جہالت فاحشہ ہے۔
فکم من شیئ یصح ضمناولایصح قصدا
 (بہت سی چیزیں ضمناً ہوں تو صحیح ہیں اور قصداً صحیح نہیں۔ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
Flag Counter