Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
32 - 243
اب کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین گزارش ذیل میں کہ کتابِ فقہ سے دو امر بالہدایۃ ماخوذ ہوتے ہیں۔صلاۃ جنازہ میں شخص واحد کی صف کا کراہت سے مستثنٰی  ہونا ونیز شخص واحد کو علی الاصح بہ تبعیت دیگر صفوف صف سے تعبیر کیا جانا، اولٰی  ہونا زیادتی صف اول کی بمقابلہ صف دوم اور صف دوم بمقابلہ صف سوم کی، حتی کہ واسطے زیادتی صف اوّل کے سات نمازی ہونے کی حالت میں صف اولٰی  میں تین اشخاص کا کھڑا کیا جانااور صف ِ سوم میں صرف ایک شخص کا رہنا پسند کیاگیا، حالانکہ ممکن تھا کہ ہر صف میں دو دو نفر کھڑے کئے جاتے۔یہ پتا کسی کتاب سے نہیں چلتا ہے فقہائے کرام نے اس ترتیب پسندیدہئ خود کااستخراج کس حدیث یا نص سے کیا اور حضرت ملّا علی قاری نے کس بنا پر ان کی مخالفت پسند کی کہ شخص واحد کے صف کے وجود ہی سے انکار فرمادیا۔ 

جس سے ترتیب پسندیدہ فقہاءِ کرام بالکلیہ غلط وعبث ہوئی جاتی ہے۔ پس ہدایت خواہ ہوں کہ اس اختلاف ترتیب صفوف ثلاثہ کے متعلق جو کچھ تحقیق وتنقیح موافق ملتِ احناف رحمہم اﷲ ہوبحوالہ کتب بخوبی صراحت سے تحریر فرماکر عنداﷲ ماجور وعندالناس مشکور ہوں، نیز یہ بھی ہدایت فرمائی جائے کہ بحالت نفر اورصفِ سوم میں شخصِ واحد کا کھڑا ہو یا جملہ مقتدیوں کی ایک ہی جماعت کی جائے کہ صفوفِ ثلاثہ کی ترتیب کم از کم سات اشخاص کا ہونا سب کتب میں مرقوم ہے، اس سے کم کی نسبت کچھ ذکر نہیں ہے حالانکہ ترتیب چھ اشخاص کی بھی ممکن ہے۔
الجواب

سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے استاد امامِ اجل عطاء بن ابی رباح تابعی جلیل تلمیذ ام المومنین صدیقہ و ام المومنین ام سلمہ وابوہریرہ و ابوسعید خدری و عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی  عنہم اجمعین روایت فرماتے ہیں :
ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علی جنازۃ فکانواسبعۃ فجعل الصف الاول ثلثۃ والثانی اثنین والثالث واحدا ۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی، صرف سات آدمی تھے، حضورا قدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے پہلی صف تین آدمیوں کی کی ، دوسری صف دو کی اور تیسری صف ایک شخص کی۔
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
فی القنیۃ ثم ان کان القوم سبعۃ فاتموھا ثلثۃ صفوف یقدم احدھم وخلفہ ثلثہ وخلفہم اثنان وخلفہا واحد انتہی قلت ویشھدلہ ان عطاء بن ابی رباح روی ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلہ وصحبہ وسلم صلی علی جنازۃ فکانو سبعۃ (وساق الحدیث وقال) ولو لاھذاالحدیث لقنا بکراھۃ جعل الواحد صفالامرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہ وصحبہ وسلم للمنتبذ وراء الصف فی الصلٰوۃ المطلۃ باعادتھاکما تقدم فی موضعہ، اللھم الاان یقال ان ذلک ایضااذالم یکن فیہ تحصیل مصلحۃ مقصودۃمن وھی السعے فی حصول المغفرۃ للمیت کمااخبرہ الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱ ؎۔
قنیہ میں ہے:اگر سات آدمی ہوں توپوری تین صف بنائیں، ایک آگے ہو، تین اس کے پیچھے، دو ان کے پیچھے ایک ان کے پیچھے(عبارت قنیہ ختم)میں کہتا ہوں اس کا ثبوت اس حدیث سے ہے کہ حضرت عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وآلہٖ وصبحہٖ وسلم نے ایک جنازہ پر نمازپڑھی صرف سات آدمی تھے(آگے حدیث ذکر کی،پھر کہا) اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو ایک شخص کی صف بنانے کو ہم مکروہ کہتے۔ کیونکہ حضور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم نے صلاۃ مطلقہ میں صف کے پیچھے الگ تھلگ کھڑے ہونے والے کو نماز لوٹانے کا حکم فرمایا جیسا کہ یہ اپنے موقع پر بیان ہوچکا ہے --مگر یہ کہا جائے کہ وہ بھی اُس وقت ہے جب اس میں نماز کی مصلحت مقصودہ کہ بجاآواری نہ ہو،، اوریہاں نماز کی ایک مصلحت مقصودہ موجود ہے وہ ہے میت کے لئے۱حصولِ مغفرت کی کوشش، جیسا کہ شارع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے خبر دی ہے۔(ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
غنیـہ شرح منیہ میں ہے :
یستحب ان یصفوا ثلثۃ صفوف حتی لوکانوا سبعۃ یتقدم احدھم للامامۃ ویقف ورائہ ثلثۃ دوراھم اثنان ثم واحدذکرہ فی المحیط لقولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من صلی علیہ ثلثہ صفوف غفرلہ رواہ ابوداؤد والترمذی وقال حدیث حسن والحاکم وقال صحیح علٰی شرط مسلم ۲؎ اھ قلت رواہ احمد وابن ماجۃ وابن سعد فی الطبقات والبیھقی فی السنن وابن مندۃ فی المعرفۃ کلھم عن مالک بن ھبیرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ بالفاظ شتی وکلھافی نظری بحمداﷲتعالٰی ۔
تین کرنا مستحب ہے یہاں تک کہ اگر سات آدمی ہوں تو ایک شخص امامت کے لئے آگے ہواور اس کے پیچھے تین کھڑے ہوں، ان کے پیچھے دو، پھر ایک۔ اسےمحیط میں ذکر کیا ہے کیونکہ حضور صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کا ارشادہے: جس پر تین صفیں نماز پڑھیں اس کی بخشش ہوجائے۔اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا۔اورترمذی نے کہا حدیث حسن ہے۔اورحاکم نے روایت کیا اور کہاصحیح برشرطِ مسلم ہے اھ میں کہتا ہوں: اسے امام احمد ، ابنِ ماجہ، طبقات میں ابنِ سعد ، سنن میں بیہقی ،معرفہ میں ابن مندہ نے بھی روایت کیا ہے۔ان سبھی محدثین نے حضرت مالک بن ہبیرہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے بالفاظِ مختلفہ روایت کیا اور بحمدہ تعالٰی  سب میری نطر میں ہیں۔(ت)
 (۲؎ غنیۃالمستملی شرح منیہ    فصل فی الجنائز     مطبوعہ سہیل الیڈمی چوک اردو بازار لاہور   ص۵۸۸)
رحمانیہ میں عقابیہ سے ہے :
لوکان القوم سبعاقاموا ثلثۃ صفوف یتقدم واحد وثلثۃ بعدہ واثنان بعدہ وواحد بعدہ لان فی الحدیث من صلی علیہ ثلثۃ صفوف غفرلہ۳؎  اھ قلت وافرد الضمیر فی''بعدی'' فی اخرین ارجاعالہ الی الصّف۔
اگر سات آدمی ہوں تو تین صف میں کھڑے ہوں،ایک آگے ہو، تین اس کے بعد، دو اسکے بعد، اور ایک اسکے بعد ۔اس لئے کہ حدیث میں ہےجس کا جنازہ تین صفیں پڑھیں اس کی مغفرت ہوجائے اھ میں کہتاہو ں دو اخیر والے''اس کے بعد'' میں ضمیر واحد اس لئے رکھی کہ مرجع صف کو بنایا ہے(ت)
 (۳؎ رحمانیہ)
حلیہ وغنیـہ وردالمحتار شروع معتمدہ میں اورجامع التفاریق ومحیط و عتابیہ وتاتار خانیہ وعالمگیریہ فتاوٰی  مستندہ اور کتبِ مذہب میں ان کا کہیں خلاف نہیں۔ لاجرم امام ابن امیر الحاج نے جنازہ میں ایک شخص کے صف ہونے کی کراہت کو امام احمد بن حنبل سے ایک روایت کی طرف نسبت فرمایا :
حیث قال بعد ماقدمناعنہ ھذاوعن احمد انہ کرہ ان یکون الواحد صفا۱ ؎۔
اس طرح کہ ہماری نقل کردہ عبارت کے بعد فرمایا : یہ محفوظ رکھو، اور امام احمد سے ایک روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کی صف کو مکروہ جانا۔(ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اپنے مذہب میں کراہت کی کوئی روایت ہوتی تو وہی احق بالذکر تھی، صرف مذہب غیر کی طرف نسبت پر اکتفا نہ کی جاتی۔ غرض فقہ یہ ہے اور حدیث وہ، پھر مخالفت کیا معنی۔ رہا وہ اشارہ جو مرقاۃ میں استنباط کیا اور اس کے سبب جُہّال نے نصوصِ حدیث وفقہ کو بالائے طاق رکھ دیا۔
Flag Counter