Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
31 - 243
مسئلہ نمبر ۵۶: ازلشکر کانپور محلہ توپخانہ بازار قدیم، چھوٹی مسجد ، مرسلہ محمد یوسف علی صاحب ۲۰صفر مظفر۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازِ جنازہ میں سلام ہاتھ چھوڑنے کے بعد پھیرنا چاہئے یا قبل ہاتھ چھوڑنے کے ،افضل کیا ہے؟
الجواب

ہاتھ باندھنا سُنّت اس قیام کی ہے جس کے لئے قرار ہو،
کما فی الدرالمختاروغیرہامن الاسفار
 (جیساکہ درمختار وغیرہ کتابوںمیں ہے۔ت) سلام وقتِ خروج ہے اُس وقت ہاتھ باندھنے کی طرف کوئی داعی نہیں، توظاہر یہی ہے کہ تکبیر چہارم کے بعد ہاتھ چھوڑ دیاجائے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم
مسئلہ نمبر ۵۷: ازبنارس کچی باغ     مسئولہ مولوی محمد ابراہیم صاحب     ۱۰ ذیقعدہ۱۳۳۹ھ

بہارِ شریعت جلد ۴ میں ہے چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ کھول کر سلام پھیرے(درمختار، ردمحتار ) حالانکہ ان کتابوں میں ہاتھ کھولنے کاذکر نہیں سخت اضطراب ہے رفع فرمائیے۔
الجواب

جس روزآپ کا سوال آیا حسنِ اتفاق سے اُس کے دوسرے دن بریلی سے مولوی امجد علی صاحب میرے ملنے کے لئے یہاں آئے میں نے اُن سے پوچھا انہوں نے فرمایا یہ مسئلہ طویل متعدد مسائل پر مشتمل ہے اوراس کے آخر میں میں نے درمختار اور ردالمحتار وغیرہما لکھا ہے۔وغیرہما سے یہان میری مراد فتاوٰی  رضویہ ہے۔ وہاں جو کچھ مذکور ہے اس کا بعض درمختار سے لیا گیا اور بعض ردالمحتار سے اور کوئی ذکر مسنون ،توہاتھ باندھے رہنے کی کوئی وجہ نہیں۔ تکبیررابع کے بعد خروج عن الصلاۃ کاوقت ہے اور خروج کے لئے اعتماد کسی مذہب میں نہیں۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۸: 

نمازِ جنازہ میں تکبیر اخیر کے بعد السلام علیکم ورحمۃایک بار کہا بعد یاددہانی تکبیر کہی اور پھر سلام پھیرا۔
الجواب

دوسری صورت میں نماز ہوجانا بھی اُسی صورت میں ہے کہ اس نے بھول کر سلام پھیرا ہو، اور اگر قصداً پھیرا یہ جان کر کہ نمازِ جنازہ میں تین تکبیریں ہیں، تو یہ نماز بھی نہیںہوگی۔واﷲ تعالٰی  اعلم
مسئلہ نمبر ۵۹: از شہرمرادآباد محلہ مغلپورہ حصہ اول۔ مرسلہ مولوی سید اولاد علی صاحب  ۹رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازِ جنازہ کا مسبوق فوت شدہ تکبیروں کو  پُورا کرے تو ان میں کس کس تکبیر میں کیا کیا پڑھے؟
الجواب

اگر جنازہ اُٹھالیا جانے کا اندیشہ ہوجلد جلد تکبیریں بلادُعا کہہ کر سلام پھیر دے ورنہ ترتیب وار پڑھے ۔مثلاً تین تکبیریں فوت ہوئیں تو چوتھی امام کے ساتھ کہہ کر بعد سلام پہلی تکبیر کے ثناء پھر درود پھر دعاپڑھے اوردو۲ فوت ہوئیں تیسری امام کے ساتھ دُعا، چوتھی کے بعد سلام، پھر اول کے بعد ثناء دوم کے بعد درود، اور ایک ہی فوت ہوئی تو بعد سلام ایک تکبیر کے بعد ثناء ۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۰: ازکانپور بوچڑ خانہ مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی عبدالرحمن جلشانی طالبعلم مدرسہ فیض عالم ۲۳ ربیع الاول ۱۳۱۲ھ
ماجوابکم ایھاالعلماء رحمکم اﷲ تعالٰی
اس مسئلہ میں کہ مُردہ کی نمازِجنازہ نہ پڑھی ہو تو کتنے دن تک پڑھنا جائز ہے؟
الجواب

جب تک بدن میت کا سالم ہونا مظنون ہواور یہ امر اختلاف موسم وحال زمین وحال میّت سے جلدی ودیر میں مختلف ہوجاتاہے،گرمی میں جلد بگڑجاتاہے سردی میں بدیر ،زمین شور یانمک میں جلد ، سخت وغیر شور میں بدیر ،فربہ مرطوب جلد، خشک والاغر بدیر، تواس کے لئے معین نہیں کرسکتے۔
  فی الدر،دفن واھیل علیہ التراب بغیر صلٰوۃ اوبھا بلاغسل صلی علی قبرہ مالم یغلب علی الظن تفسخہ من غیر تقدیر ھو الاصح ۱ ؎۔
درمختار میں ہے بغیر نماز کے، یابغیر غسل کے نماز پڑھ کر میّت کو دفن کردیاگیا اوراس پر مٹی ڈال دی گئی تو اس کی قبر پر نماز پڑھی جائے جب تک اس کے پھٹنے کا ظن غالب نہ ہو، اس میں کسی حد کی تعیین نہیں یہی اصح ہے۔
(۱؎ درمختار        باب صلٰوۃ الجنائز        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۲۳)
فی ردالمحتار لانہ یختلف باختلاف الاوقات حراً وبرداً والمیت سمناً وھزالاوالامکنۃ بحر، وفی الحلیۃ نص الاصحاب علی انہ لایصلی علیہ مع الشک فی ذلک ذکرہ فی المفید والمزید وجوامع الفقہ وعامۃ الکتب، وعللہ فی المحیط بوقوع الشک فی الجواز اھ وتمامہ فیہا اھ ملخصین ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے: اس لئے کہ اس میں سردی گرمی کے لحاظ سے مردے کے فرق سے، اورمقامات کے فرق سے فرق پڑتا ہے، بحر-حلیہ میں ہے کہ ہمارے علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ اس میں شک ہو تو نماز نہ پڑھی جائےگی۔ اسے مفید،مزید، جوامع الفقہ اورعامہئ کتب میں بیان کیا ہے۔محیط میں اس کی علّت یہ بتائی کہ جواز میں شک ہوگیااھ

اورپُوری بات اسی میں ہے
اھ بہ تلخیص۔واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     باب صلٰوۃ الجنائز    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۲ /۲۲۴)
مسئلہ نمبر ۶۱:  ازخیر آباد ضلع سیتاپور محلہ میانسرائے مدرسہ عربیہ قدیم    مرسلہ مولوی سید فخرالحسن صاحب رضوی ۱۹  ربیع الآخر ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازِ جنازہ میں جب ایک امام اور پانچ مقتدی ہوں تو بنظر حصولِ نعمتِ بشارت مغفرت تین صفوف اس طرح کرلی جائیں کہ صف اوّل ودوم میں دو دو نفر اورصف سوم میں ایک نفر ہو۔ کیونکہ عباراتِ فقہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازِجنازہ میں ایک شخص کی صف کراہت سے مستثنٰی  ہے جیسا کہ صاحب ردالمحتار بحوالہ کتاب محیط تحریر فرماتے ہیں۔
قال فی المحیط، ویستحب ان یصف ثلاثۃ صفوف حتی لوکانو اسبعۃ یتقدم احدھم للامامۃ ویقف وراء ثلاثۃ ثم اثنان ثم واحد اھ فلو کان الصف الاول افضل فی الجنازۃ ایضالکان الافضل جعلھم صفاواحداولکرہ قیام الواحد وحدہ کماکرہ ۱؎ اھ۔
محیط میں تحریر کیا گیا کہ مستحب ہے کہ تین صفیں ہوں یہاں ک کہ اگر سات آدمی ہوں تو ایک امام ہوجائے تین اس کے پیچھے کھڑے ہوں پھر دوپھرایک۔ تو اگر جنازہ میں پہلی صف افضل ہوئی توان سب کو ایک صف میں کر دینا بہتر ہوتا ہے اور تنہا ایک کا کھڑاہونا مکروہ ہوتا جیسے غیر نمازِ جنازہ میں مکروہ ہے اھ۔
 (۱؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ الجنائز        مطبوعہ دارالطباعۃ المصریۃ مصر      ۱ /۵۸۶)
اسی طرح عالمگیریہ میں ہے بحوالہ کتاب تاتارخانیہ اورقنیہ میں بحوالہ کتاب جامع التفاریق للبقالی وعین الہدایہ میں اور رسالہ تجہیز وتکفین میں یہی ترتیب درج ہے اس اتفاق عبارات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ طریقہ پسندیدہ فقہائے کرام یہی ترتیب مذکور ہے۔فقط
الجواب 

جس حدیث میں یہ بشارت ہے اُس میں تین صفوف مروی ہیں پس جہاں تک ہر ایک صف میں کم از کم دوتین آدمی ہوسکیں ایساکرنا عمدہ ہے کیونکہ ایک شخص کو صف نہیں کہتے ہیں۔ ورنہ پھر تین مقتدی ہوں تو تین صف کرنی چاہئے ۔ حالانکہ یہ شاید کسی فقیہ کو پسندیدہ نہ ہو۔ اس حدیث کہ شرح میںمراقاۃ ملّا علی قاری میں یہ عبارت منقول ہے :
وفی جعلہ صفوفااشارۃ الی کراہۃ الانفراد ۲؎۔
اور اس کے چند صف بنانے میں اکیلے ہونے کی کراہت کی جانب اشارہ ہے۔(ت)
 (۲؎ مراقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب المشی الجنازۃ الخ     مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان          ۴/ ۶۴)
اس کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ اکیلا نہ ہو تو یہ اشارہ ہے۔محیط کی روایت الانفرادکے غیر صحیح ہونے پر، بہر حال پانچ مقتدیوں میں اس تکلف کی حاجت نہیں ہے۔ اورقاعدہئ کلیہ ہے کہ کراہت سے بچنا استحباب کے حاصل کرنے کا مقدم ہے اور روایات نہی عن انفراد سے استثنائے صلٰوۃ جنازہ موجہ نہیں معلوم ہوتاہے، نیز مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:
واقل الصف ان یکون اثنین علی الاصح۱ ؎۔
  اصح یہ ہے کہ صف کم سے کم دو کی ہو۔(ت)
(۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ        باب المشی بالجنازہ الخ        مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان         ۴ /۶۵)
پس کراہت انفراد اس عبارت سے خوب ظاہر ہوگئی۔ یہ تفریع تفریعاتِ مشائخ سے معلوم ہوتی ہے۔ ائمہ ثلاثہ سے منقول نہیں۔حضرت مولانا محمود حسن صاحب نے اس میں یہ فرمایا کہ ایک شخص کی صف نہیں ورنہ تین کی تین صف کرنی چاہئے۔ وھو بعید۔کتبہ عزیز الرحمان
Flag Counter