مسئلہ نمبر ۵۰:از اجمیر شریف مرسلہ محمود الحسن ۲۳محرم ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ اگر جنازہ کو ایسی چارپائی پر رکھ کر نماز پڑھی کہ جس کے پائے ایک بالشت سے کم تھے تب تو نماز ہوگئی ورنہ نہیں۔ اور ثبوت میں شامی اورکبیری پیش کرکے کہتا ہے کہ جنازہ مثل امام کے ہے جس طرح امام کا ایک بالشت سے اوپر کھڑا ہونامفسدِ صلٰوۃ ہے اس صورت میں بھی پائے ایک بالشت سے زائد ہونا مانع صلٰوۃ جنازہ ہے۔ کیاواقعی اگر پائے ایک بالشت سے زیادہ ہوں تو مفسدِ صلٰوۃ جنازہ ہیں یا ایک بالشت ہونا اولٰی ۔اور اس سے زائد مکروہ یا مطلقاً خواہ جس قدر بھی پائے لمبے ہوں جائز ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب
زید کے اقوال سب باطل وبے اصل ہیں،نہ پایوں کی بلندی شرعاً کسی حد پر مخصوص رکھی گئی ہے، نہ ایک بالشت بلندی میں کچھ اولیت ،نہ ایک بالشت یاایک گز امام کی بلندی مفسدِ نماز ، نہ ہر بات میں جنازہ مثل امام ، یہ ہوساتِ عاطلہ وادہامِ باطلہ ہیں، جنازہ کا زمین پر رضا ہونا ضرور شرط ہے اگرچہ پائے کتنے ہی بلند ہوں اور امام بقدرِ امتیاز سب مقتدیوں سے اونچاہونامکروہ ہے نہ مفسد نماز۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۱: نمازِ جنازہ میں امام کے نیچے جانماز ہوتی ہے اور مقتدی سب زمین پر، یہ جائز ہے یا ناجائز؟بینواتوجروا
الجواب
صورتِ مستفسرہ میں جواز تو یقینی ہے۔ رہی کراہت اُس کے لئے بھی کوئی وجہ نہیں۔ نہ فقیر کو یاد کہ کسی کتاب میں اُسے منع لکھا ہو۔ دُرمختار میں جو اس مقدار کوجس سے امام ومقتدی میں امتیاز پایا جائے مکروہ لکھا وہاں بلندیِ موضع میں کلام ہے یعنی امام کو مقتدیوں سے اتنا اونچا کھڑاہونا مکروہ ہے جس سے امتیاز واقع ہو اور وجہ اس کی حدیث میں نہی آنا اور اہلِ کتاب سے مشابہت پایاجانا ہے کہ یہود وعنود اپنے امام کے لئے جائے بلند مقرر کرتے ہیں یہاں تک کہ نہی ومشابہت ثابت نہیں تو کراہت پر بھی حکم نہیں دے سکتے۔
دُرمختار میں ہے : امام کا تنہا کسی دُکان (اونچی جگہ) پر کھڑاہونا مکروہ ہے کیونکہ اس سے ممانعت آئی ہے اونچائی کی مقدار ایک ہاتھ ہے اس سے کم ہو توحرج نہیں اور کہاگیا کہ بس اتنی اونچائی جس کی وجہ سے وُہ ممتاز نظر آئے اوریہی اوجہ ہے۔
فی ردالمحتار قولہ للنھی وھوما اخرجہ الحاکم انہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نھی ان یقوم الامام فوق ویبقی الناس خلفہ وعللوہ بانہ تشبہ باھل الکتاب فانھم یتخذون لامامھم دکاناً۲ ؎۔ اھ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم صلی اﷲ تعالٰی علیہ سیدنا ومولٰنامحمد وعلی اٰلہ وصحبہ اجمعین وبارک وسلم اٰمین۔
ردالمحتار میں ہے : ممانعت کی حدیث وُہ ہے جسے حاکم نے روایت کیا کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ امام اوپر کھڑا ہو اور لوگ اسکے پیچھے نیچے رہیں۔ علماء نے اس کی علّت یہ بتائی ہے کہ اس میں اہل کتاب سے مشابہت ہے اس لئے وُہ امام کے لئے کوئی اونچی جگہ بناتے ہیں،بحر ،اھ۔اورخدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے،اﷲ تعالٰی کی رحمت ، برکت اور سلام ہو ہمارے آقا ومولو محمد رسول اﷲ اور ان کی آل واصحاب سب پر ۔الٰہی قبول فرما۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ /۴۳۴)
مسئلہ نمبر ۵۲: ۲۲شوال المکرم ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مُردہ کے نماز پڑھانے کے واسطے جو جا نماز ملتی ہے اس سے کُرتا اور کچھ کپڑا بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر جائز نہیں تو اس سے جونمازِ مفروضہ پڑھی گئی ہووُہ لوٹائی جائے گی یا نہیں؟ اوراس کفن سے یہ جانماز کے واسطے کپڑا نکالنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
اس جانماز سے دو۲ غرضیں لوگوں کی ہیں: ایک یہ اکثر نمازِ جنازہ راستے وغیرہا بے احتیاطی کے مقامات پر ہوتی ہے، مسجد کہ صاف وپاکیزہ رکھی جاتی ہے اُس میں نماز جنازہ منع ہے تو بغرض احتیاط امام کے نیچے جانماز بچھا دیجاتی ہے کہ سب مقتدیوں کے لئے اس کا مہیا کرنا دشوار ہوتا ہے اور اگر فرض کیجئے کہ وہ تمام جگہ ایسی ناپاک ہے کہ کسی کی نماز نظر بواقع نہ ہوسکے تو جانماز کے سبب امام کی تو ہوجائے گی اور اسی قدر سب مسلمانوں کی طرف سے ادا ئے فرض وابرائے ذمّہ کے لئے کافی ہے کہ نمازِ جنازہ میں جماعت شرط نہیں،دوسرے نفعِ فقیر کہ وہ جانماز بعد نماز کسی طالب علم یا اور فقیر پر تصدیق کردی جاتی ہے، اور یہ دونوں غرضیں محمود ہیں تواس کے جواز میں کلام نہیں، اورجس فقیر پر وہ تصدق کی گئی اسکی مِلک ہے کُرتا وغیرہ جو چاہے بنائے اُس میں نماز مکروہ بھی نہیں، نہ اصلاً حاجتِ اعادہ ۔ کمالایخفی(جیساکہ واضح ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۳: ازمنڈی ہلدوانی ،ضلع نینی تال ، مرسلہ حفیظ احدمستری ۲۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
نماز جنازہ کے وقت امام کے سامنے جو جانماز بچھاتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
جائز ہے
وقد بینا الحکمۃ فیہ فی فتاوٰنا
(اور اس کی حکمت ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کی ہے۔ت)
مسئلہ نمبر ۵۴: ۲۳شوال ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک بزرگ کے مزار پر چادریں چڑھائیں، اور زیات کے مجاور نے اپنے قبضہ میں لاکر ان چادروں کو عمرو کے ہاتھ فروخت کیا اور عمرو نے بکر کے ہاتھ،پس اس حالت میں بکر نے اس کا اوڑھ کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب
اگر تصریحاً عُرف ورواج سے یہ امر ثابت ہے کہ وہ چادریں مجاوروں کے لینے کے لئے چڑھائی جاتی ہیں تو مجاور مالک ہوگیااور بیع جائز ہوئی اوراُسے اوڑھ کر نماز پڑھنے میں حرج نہیں،اوراگر چادراس لئے چڑھائی کہ مزار پر رہے تو وُہ ملکِ زید پر باقی ہے اور بیعین اس کی اجازت پر موقوف ہیں ،اگر جائز کردے گا نافذ ہوجائیں گی ورنہ باطل۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۵: ازکلی ناگر پرگنہ پُورن پور ضلع پیلی بھیت مکان علن خان نمبر دار مرسلہ اکبرعلی شاہ ۱۶جمادی الاولٰی ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازِ جنازہ میں مقتدی فقط سبحانپڑھ کرخاموش ہوجائیں اورکچھ نہ پڑھیں یا سبحان ،درود شریف ،دعاجو کچھ امام پڑھے مقتدی بھی پڑھیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب
مقتدی بھی سب کچھ پڑھیں کہ نمازِ جنازہ میں صرف ذکر ودُعاہے قرائت قرآن نہیں، اور مقتدیوں کو صرف قرأت قرآن عظیم ہی منع باقی دُعااذکار میں وہ امام کے شریک ہیں۔
فی الرحمانیہ فی الطحطاوی یکبرون الافتتاح مع رفع الیدین ثم یقرؤن الثناء ثم یکبرون ویصلون علی النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ثم یکبرون ویستغفرون للمیت ثم یکبرون ویسلمون ولایرفعون ایدیھم فی التکبیرات الثلث ولاقرأۃ فیہا ۱؎۔
رحمانیہ میں ہے:طحطاوی میں ہے کہ کانوں تک ہاتھ لے جانے کے ساتھ تکبیر افتتاح کہیں، پھر ثناء پڑھیں، پھر تکبیر کہیںاور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر درود پڑھیں، پھر تکبیر کہیں اور میت کے لئے اتغفار کریں پھر تکبیر کہیں اور سلام پھیریں۔بعد کی تینوں تکبیروں میں ہاتھ نہ اُٹھائیں۔اورنمازِ جنازہ میں قرأت ِ قرآن نہیں۔(ت)
(۱؎ رحمانیہ)
خزانۃ المفتین میں ہے :
وان کان المیت غیربالغ فان الامام ومن خلفہ یقولون اللھم اجعلہ لناذخراشافعاومشفعا۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اگر میّت نابالغ ہوتو امام اورمقتدی سب کہیں گے اے اﷲ! اسے ہمارے لئے آگے جانےوالا کردے اوراسے ہمارے لئے ذخیرہ بنادے، اور شفاعت کرنے والا، مقبول الشفاعۃ کردے۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)