Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
29 - 243
مسئلہ نمبر ۴۵: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھانا تیار ہے جنازہ بھی تیار ہے تو پہلے کھانا کھائے یا مُردے کو دفن کرے؟
الجواب

جنازہ آگیا تو پہلے اس کی نماز پڑھ لے اس کی نماز میں ایسی دیر نہیں ہوتی ، پھر بھوک وغیرہ وہی ( عہ) ضرورتیں لاحق ہیں تو دفن کے لئے بعد کھانا کھانے، کے جائے یا فقط نماز پر قناعت کرے، جبکہ لے جانیوالے موجود ہوں اور اس کے نہ جانے سے کوئی شرعی حرج شرعی نہ آتا ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
عہ: کھانا سامنے آیا اورکھانے کے بعد جنازہ مل جائیگا، یا پہلے جنازہ میں شرکت کرے تو بھوک کی وجہ سے دل کھانے کی طرف رہے کھانا ٹھنڈا ہوکر بے مزا ہوجائے گا، یا اس کے دانت کمزور ہیں روٹی ٹھنڈی ہوجائےگی اور چبائی نہ جائے گی۱۲(م)
مسئلہ نمبر ۴۶:  ازٹاہ اسٹیشن دیورنیا     مرسلہ شیخ نیاز احمد صاحب     ۹ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک جنازہ کی نماز میں کچھ لوگ بلاوضو وبلاتیمم شریک ہوگئے اُن کی نماز ہوئی یا نہیں؟ اور ان کی نسبت کیا حکم ہے؟ اورا یک شخص نے کہا کہ انہوں نے کچھ بُرا نہ کیا کہ نمازِ جنازہ میں صرف امام کی طہارت ضروری ہے مقتدیوں کی طہارت کی حاجت نہیں، اُس کایہ قول کیساہے؟ بینوا توجروا
الجواب

جنازہ کی نماز مثل اور سب نمازوں کے بغیر طہارت کے ہر گز صحیح نہیں ۔وہ پڑھنے والے گنہگار ہوئے اورانہوں نے بہت سخت بُرا کیا اوراُن کی نماز ہرگز ادا نہ ہوئی۔ نمازِ جنازہ میں صرف طہارتِ امام شرط ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اگر ایسا ہو جب بھی اُس میت کی نمازِ جنازہ اداہوجائیگی اور وہ فرض کفایہ ساقط ہوجائے گا کہ جب امام طاہر تھا تواس کی نماز صحیح ہوگئی، اس فرض کے ادا کرنے کو اتنا کافی ہے کہ اس میں جماعت شرط نہیں یہ معنی نہیں ہیں کہ فقط طہارت امام صحت نماز مقتدیان کے لئے بھی کفایت کرتی ہے مقتدیوں کو بے طہارت پڑھ لینی جائز ہے،یہ محض جہالتِ فاحشہ ہے، جس نے یہ فتوی بیہودہ دیا وہ شرعاً تعزیر دئے جانے کے قابل ہے کہ جاہل کو مفتی بنناحرام ہے۔
فی ردالمحتار اماالشروط التی ترجع الی المصلی فھی شروط بقیۃ الصلٰوۃ من الطھارۃ الحقیقۃ بدناوثوباومکاناوالحکمیۃ وسترالعورت ولاستقبال والنیۃ سوی الوقت۱ ؎۔
ردالمحتار میں ہے : نمازِ جنازہ پڑھنے والے سے متعلق شرطیں وہی ہیں جو بقیہ نمازوں سے متعلق کہ بدن ، جامہ،جگہ نجاستِ حقیقیہ سے پاک ہو،بدن نجاست حکمیہ سے بھی پاک ہو، سترِعورت ہو، استقبالِ قبلہ اور نیّت ہووقت کی شرط نہیں۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ الجنائز     مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱ /۵۸۲)
اُسی میں ہے :
لاصحۃ لھابدون الطھارۃ ۲؎۔
 بغیر طہارت کے نمازِ جنازہ صحیح نہیں۔ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ الجنائز     مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر   ۱/ ۵۸۲)
درمختار میں ہے :
لو ام بلاطہارۃ والقوم بھااعیدت وبعکسہ لاکمالوامت امرأۃ ولوامۃ لسقوط فرضہا بواحد ۳؎۔
اگر امام بے طہارت ہے اور مقتدی باطہارت تو جنازہ پھر سے پڑھنا ہے اور اس کے برعکس ہے تو اعادہ نہیں ، جیسے اگر کوئی عورت امامت کردے خواہ کنیز ہی ہوتو اعادہ نہیں اس لئے کہ ایک کے پڑھ لینے سے بھی فرض اداہوجاتا ہے(ت)
 (۳؎ دُرمختار    مطبوعہ  مطبع مجتائی دہلی    ۱ /۱۲۱)
ردالمحتار میں ہے  :
ای لاتعاد لصحۃ صلوۃ الامام وان لم تصح صلٰوۃ من خلفہ۱؎۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یعنی اعادہ اس لیئے نہیں کہ امام کی نماز صحیح ہوگئی اگرچہ پیچھے والوں کی نماز صحیح نہ ہوئی۔
واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی  اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ الجنائز  مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر   ۱/ ۵۸۲)
مسئلہ نمبر ۴۷ : ازگوالیار     مسئولہ مولوی محمد محمود الحسن صاحب    ۱۳ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
 (۱) ایک جنازے کی نماز میں زید نے لوگوں کو جنہوں نے جوتوں میں سے پیروں کو نکال کر اور جُوتے کے اوپرپَیر رکھ کر نماز پڑھنا چاہا، روکاکہ پَیر جوتوں سے مت نکالو جُوتے پہنے ہوئے نماز درست ہے۔ عمرو نے ایک شخصیّت کے الفاظ میں کہا کہ کوئی کہتاہے جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھو، جوتے سب اتار ڈالیں۔ چنانچہ بعض نے زید کے کہنے پر عمل کیا بعض نےعمرو کے کہنے پر۔ بعد نماز بحث پیش آئی۔زید نے تحریری جواب میں کہ رسول خدا نے نماز میں جوتا اتارا، مقتدیوں نے بھی اتار ا،پیغمبر صاحب نے دریافت کیا تم نے جوتے کیوں اتارے؟ جواب دیا کہاتباع کیا۔ آپ نے فرمایامجھ سےجبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ جوتے میں ناپاکی ہے۔پس معلوم کرلینا چاہئے،عمرو کو ایسا کہنا خلاف تھا اس لئے کہ وہ کیسے برجستہ الفاظ صدر کہہ سکتا تھا اس لئے ناپاکی کا ثبوت نہیں رکھتا تھا، مقامی حالت میں جہاں جوتے اتار کر نماز پڑھنے کے واسطے عمرو نے کہا تھا یہ تھی کہ وہاں گھوڑے وغیرہ پیشاب کرتے ہیں، جوتے پہنئے ہوئے جسقدر لوگ تھے اُن کے جوتے خشک تھے، پس اس حالت میں شرعاً عمرو کا کہنا صحیح سمجھا جائے گا یا زید کا؟
 (۲) عمرو مذکور نے ایک مرتبہ ایسا بھی کیا کہ نمازِ جنازہ دوبار پڑھائی، زید نے اس کو مکروہ کہا، اور جب عمرو کی جانب سے لوگوں نے بحث کی تواُس نےعلاوہ مکروہ کے آثارِ فتنہ اوربدعت بھی ثابت کیا ، کیا زید کا کہنا حق ہے؟
الجواب

(۱) اگر وہ جگہ پیشاب وغیرہ سے ناپاک تھی یا جن کے جوتوں کے تلے ناپاک تھے اور اس حالت میںجوتا پہنے ہوئے نماز پڑھی اُن کی نماز نہ ہوئی، احتیاط یہی ہےکہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھ لی جائے کہ زمین یا تلاناپاک ہو تو نماز میں خلل نہ آئے۔ردالمحتار میں ہے :
قد توضع فی بعض المواضع خارج المسجد فی الشارع فیصلی علیہا ویلزم منہ فسادھا من کثیر من المصلین لعموم النجاسۃ وعدم خلفہم نعالھم المتنجسۃ۱؎۔
کبھی بعض مقامات مین بیرونِ مسجد سڑک پر جنازہ رکھ کر نماز پڑھی جاتی ہے اس سے بہت سے لوگوں کی نمازکا فسادلازم آتاہے کیونکہ وہ جگہیں نجس ہوتی ہیں اور لوگ اپنے نجاست آلود جوتے اتارتے نہیں(ت)۔
 (۱؎ ردالمحتار      باب صلٰوۃ الجنائز    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر   ۱/ ۵۹۴)
اُسی میں ہے :
فی البدائع لوصلی علٰی مکعب اعلاہ طاھر وباطنہ نجس عندمحمد یجوز لانہ صلی فی موضع طاہر کثوب طاھر تحتہ ثوب نجس اھ وظاہرہ ترجیح قول محمد وھوالاشبہ ۲؎ (ملخصاً)
بدائع میں ہے:اگر کسی ایسے مکعب پر نماز پڑھی جس کا بالائی حصہ پاکہے اور اندرونی حصہ ناپاک ہے تو امام محمد کے نزدیک جائز ہے، اس لئے کہ نماز پاک جگہ اداہوئی جیسے کوئی پاک کپڑاہو جس کے نیچے دوسراناپاک کپڑا ہو اھ۔

اس کا ظاہر امام محمد کے قول کی ترجیح ہے اور وہی اشبہ ہے(ملخصاً) (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب مفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیما    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر   ۱ /۴۲۱)
زید نے بیانِ حدیث میں غلطی کی، حدیث میں تولفظ نجاست نہیں لفظ قذر ہے یعنی گِھن کی چیز ، جیسے ناک کی آمیزش وغیرہ نجاست ہوتی ہے تو نماز سرے سے پڑھی جاتی کہ نماز کا ایک جُز باطل ہونا ساری نماز کو باطل کردیتا ہے، واﷲتعالٰی  اعلم
 (۲) نمازِ جنازہ جب ولی پڑھائے یاباذنِ ولی ہوجائے تو دوبارہ پڑھنا جائز نہیں،
کما ھو مصرح فی جمیع الکتب وتفصیلہ فی رسالتنا النھی الغحاجز عن تکرار صلٰوۃ الجنائز۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیسا کہ تمام کتابوں میں اس کی تصریح ہے اور اس کی تفصیل ہمارے رسالے النہی الحاجز عن تکرارصلاۃ الجنائز میں ہے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)
مسئلہ نمبر  ۴۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نمازِ جنازہ اس طرح ادا کرنا کہ میّت چارپائی پر ہو اور چارپائی کے پائے ایک ہاتھ سے زائد بلند ہوں جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کس دلیل سے جائز ہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب

نماز کے وقت میت کا چارپائی پر ہونا صدرِ اولٰی  معمول مسلمانان ہے اس کے پائے حسبِ عادت ہاتھ بھر یا کم یا کبھی زائد ہرطرح کے ہوتے ہیں، کبھی اس پر انکار نہیں ہوا۔ جو ہاتھ بھر سے تھوڑے زائدکو ناجائز بتائے وہ سند دے۔ جس نے ناجائز کہا جس نے ناجائز لکھا اور ہرگز سند نہ دے سکے گا،اُس وقت اُس پر کُھل جائے کہ اُس کا ناجائز کہنا شریعت مطہرہ پر افتراء تھا۔ ہاں اگر پلنگ اتنا اونچا ہوکہ قدِ آدم سے زائد ، جس میں امام کی محاذات میت کے کسی جزو سے نہ ہو البتہ نماز ناجائز ہوگی کہ محاذات شرط ہے، مگر کوئی پلنگ اتنا اونچا نہیں ہوتا ۔
فی ردالمحتار عن جامع الرموز عن تحفۃ الفقہاء ان رکنھا القیام ومحاذاتہ الٰی جزء من اجزاء المیت۱ ؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم
ردالمحتار میں جامع الرموز سے،اس میں تحفۃ الفقہاء سے منقول ہے نماز جنازہ کا رکن قیام ہے اور نمازی کا میت کے کسی جز کے مقابل ہونا ہے واﷲ تعالٰی  اعلم۔
 (۱؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ الجنائز     مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۲۰۸)
Flag Counter