Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
28 - 243
مسئلہ نمبر  ۴۱ :موضع بکہ جیبی والا ، علاقہ جاگل، تھانہ ہری پور ڈاک خانہ نجیب اﷲ خان     مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب   ۱۴ جمادی الاخرہ۱۳۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میّت اگر چہ بالغ ہو یا نابالغ ہو اُس کے جنازہ میں ولی داخل نہیں ہوا تو اس کا جنازہ ہوا یا نہیں :
الجواب

نماز ہوگئی جو نماز بے اجازت ولی پڑھی جائے ولی کو اختیار ہے کہ دوبارہ پڑھے۔ مگر جو پہلے پڑھ چکے ہیں وُہ دوبارہ نہیں پڑھ سکتے۔ پھر یہ بھی اس صورت میں ہے کہ پہلی نماز کسی ایسے نے پڑھی جس پر ولی کو ترجیح تھی، ورنہ اگر مثلاً بادشاہ  اسلام  یا قاضی شرع یا امام حی نے نماز پڑھادی تو ولی کو اعادہ کا اختیار نہیں کہ وہ اس بات میں ولی سے مقدم ہیں۔
فی الدرالمختار یقدم فی الصلٰوۃ علیہ السلطان اوامیر المصر ثم القاضی ثم امام الحی ثم الولی فان صلی غیرالولی من لیس لہ حق التقدم علی الولی ولم یتابعہ الولی اعادالولی ولوعلی قبرہ ان شاء لاجل حقہ لا لاسقاط الفرض ولذا قلنا لیس لمن صلی علیھا ان یعید مع الولی لان تکرارھاغیرمشروع وان صلی من لہ حق التقدم کقاض اونائبہ اوامام الحی اومن لیس لہ حق التقدم وتابعہ الولی لایعید ۱ ؎ اھ مختصراً۔واﷲتعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے: میّت کی نمازپڑھنے میں مقدم بادشاہ یاولیِ شہر ہے پھر قاضی پھر امامِ محلہ پھر ولی--اگر ولی کے علاوہ ایسے شخص نے جس کو ولی پر تقدم کا حق حاصل نہیں، نمازِ جنازہ پڑھ لی اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو دوبارہ پڑھ سکتا ہے خواہ قبر  پر ہی  پڑھے اسے یہ اختیار  اپنے حق کے سبب ہے اس لئے نہیں کہ فرضِ جنازہ ادا نہ ہوا تھا، اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ پہلے جو  پڑھ چکے تھے وہ ولی کے ساتھ ہوکر دوبارہ نہیں پڑھ سکتے-- اس لئے کہ نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں--اور اگر  پہلے ایسے شخص نے  پڑھی  جسے ولی پر تقدم کا حاصل ہے جیسے قاضی یا نائب قاضی یا امامِ محلہ یا ایسے شخص نے پڑھ لی جسے حقِ تقدم حاصل نہیں مگر ولی نے اس کی متابعت کر لی تھی تو دوبارہ نہیں پڑھ سکتا اھ مختصراً (ت)
مسئلہ نمبر۴۲: ازبریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب سلمہ اﷲ تعالٰی    ۳ رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ
چے می فرمایند علمائے کرام دریں مسئلہ کہ بوقت نمازِ مغرب جنازہ بیاید تقدیم نمازِ فرض بایدیانمازِ میّت۔
اس مسئلہ میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں کہ مغرب کے وقت جنازہ آئے تو پہلے نمازِ فرض کی ادائیگی ہو یا نمازِ جنازہ کی؟
الجواب

نمازِ مغرب راتقدیم بایدکما فی ردالمحتاربلکہ سنن راتبہ نیزبہ یفتی کما فی البحر وغیرہ اقول آرے اگر ضرورت داعیہ بتقدیم جنازہ است مثلاً شکمِ مُردہ منتفخ شد واندیشہ است کہ اگر دیر کنند منشک شود وہنوز در وقت سعتے ست کہ بتقدیم جنازہ فوت نہ شود آنگاہ لاجرم تقدیم جنازہ مے شاید بالاتفاق کما لا یخفی، واﷲ تعالٰی اعلم ۔
پہلے نمازِ مغرب ادا کرنا چاہئے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے بلکہ مقررہ سُنتوں کو بھی ادا کرلینا چاہئے۔اسی پر فتوٰی  ہے جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے اقول ہاں اگر ضرورت پہلے ادائے جنازہ کی طالب ہے مثلاً مُردہ کا پیٹ پھولا ہوا ہے اور اندیشہ ہے کہ اگر دیر کریں تو پھٹ جائے گا، اور ابھی وقت میں اتنی وسعت ہے کہ جنازہ پہلے ادا کرنے سے مغرب فوت نہ ہوگی تو ایسے وقت میں ناچار، بالاتفاق نماز جنازہ کی ادائیگی پہلے ہوگی، جیسا کہ پوشیدہ نہیں واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۴۳:   ۸شوال ۱۳۳۸ھ

ظہر کی نماز کا وقت ابھی شروع ہُوا پھر جنازہ بھی آیا، اور وقت بہت ہے، اب کون نماز مقدم ہو، اور سنّت کس وقت؟
الجواب

جب وقتِ ظہر وسیع ہے جنازے کی تقدیم کریں، ہاں اگر جنازہ لے جانے والے بھی اسی جماعتِ ظہر میں شریک ہوں گے کہ اگر جنازہ کی نماز  پہلے ہوجائے جب بھی جنازہ نمازِ ظہر سے فارغ ہونے کے لئے رکھا رہے گا اس کے تغیر کا اندیشہ نہ ہو تو ظہر کے فرض و سنّت پہلے پڑھیں اس دیر میں شاید اور نمازی بھی آجائیں اور جنازے  پر تکثیر ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۴۴: ازمرادآباد   محلہ گل شہید   مرسلہ مولوی جمیل الدین احمد صاحب     ۱۴صفر ۱۹۱۶ ھ
ماقولکم ایھا العلماء الراسخون والفقھاء الماھرون فی ان ولی المیت صلی علیہ او غیربانابتہ صلٰوۃ الجنازۃ اول وقت العصر قبل ان یصلی العصر ھل تجوز صلٰوۃ الجنازۃ قبل صلٰوۃ العصر ام لا وان  تجز فمن اعادھا بعد صلوۃ العصر باعتقاد انھا لاتجوز قبلھا ھل یکون مبتدعا شرعا اولا، بینوہ بیانا شافیا توجروا عنداﷲ اجرا وافیا۔
علمائے راسخین وفقہائے ماہرین کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے کہ اول وقت عصر میں ولی میّت نے یا اس کی اجازت سے دوسرے نے نمازِجنازہ ادائے عصر سے پہلے پڑھ لی تو عصر سے پہلے یہ نماز جائز  ہو ئی یا نہیں ؟ اگر جائز ہوئی تو بعد عصر جنازہ دوبارۃ پڑھے اس خیال سے کہ قبل عصر وہ جائز نہیں تو شرعاً مبتدع ہے یا نہیں؟ شافی طور پر بیان فرمائیں خداکے یہاں وافی اجر پائیں۔
الجواب

صلاۃ الجنازۃ مشروعۃ فی کل وقت حتی فی الاوقات الثلثۃ ان حضرت فیھا، فی الدرالمختار ینعقد نفل بشروع فیھا بکراہۃ التحریم لا ینعقد الفرض وماہوملحق بہ کو اجب لعینہ کو تر و سجدۃ تلاوۃ وصلٰوۃ جنازۃ تلیت الاٰیۃ فی کامل و حضرت الجنازۃ قبل لوجوہ کاملا فلایتادی ناقصا فلو وجبتا فیھالم یکرہ فعلھما ای تحریما وفی التحفۃ الافضل ان لاتؤخر الجنازۃ ۱؎ اھ فی ردالمحتار  مافی التحفۃ  اقرہ فی البحر والنھر والفتح والمعراج لحدیث ثلث لایؤخرن منھا الجنازۃ  اذاحضرت  ۲؎اھ
نمازِ جنازہ ہر وقت مشروع ہے یہاں تک کہ تینوں اوقات مکروہہ میں بھی، اگر اُسی وقت آیا ہو۔درمختار میں ہے: ان اوقات میں نماز نفل کراہت تحریم کےساتھ ہوجائےگی ، فرض نہ ہوگا اور وہ بھی جواس سے ملحق ہے جیسے واجب لعینہ، جیسے وتر اور سجدہ  تلاوت و نمازِ جنازہ جبکہ آیتِ سجدہ کامل وقت میں پڑھی گئی ہو اور جنازہ وقت مکروہ سے پہلے آگیا ہو اس لئے کہ ان کا وجوب کامل ہُوا تو ناقص طور پر ادائیگی نہ ہوگی، ہاں اگر ان دونوں کا وجوب ان ہی اوقات میں ہوا ہو تو ان اوقات میں ان کی ادائیگی مکروہِ تحریمی نہیں۔تحفہ میں ہے : افضل یہ ہے کہ جنازہ میں دیر نہ کی جائے اھ۔ ردالمحتار میں ہے:تحفہ میں جو مذکور ہے اسے بحر،نہر، فتح اور معراج میں برقرار رکھا ہے کیونکہ حدیث میں ہے: ۳تین چیزوں میں دیر نہ کی جائے ان میں سے ایک یہ جنازہ ہے جب آجائے اھ۔
 (۱؂درمختار    کتاب الصلٰوۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۶۱)

(۲؂ ردالمحتار     کتاب الصلٰوۃ     مصطفی البابی مصر        ۱/۲۷۵)
واعتقاد انھا لاتجوز قبل صلٰوۃ العصر جہل فاضح او زیخ واضح وافتراء بلا امتراء علی الشریعۃ الغراء نعم ان ضاق الوقت یجب تقدیم العصر لکن قدمت صحت واذاصلاھا الولی اوغیرہ باذنہ فلاتجوز اعادتھاکماحققناہ بتوفیق اﷲ تعالٰی بما لامزید فی رسالتنا النھی الحاجز عن تکرارصلٰوۃ الجنائز  ( ۱۳۱۵ھ) فی السراج الوھاج والبحرالرائق وردالمحتار وجامع الرموز الجوھرۃ النیرۃ والھندیۃ ومجمع الانھر وغیرھا ان صلی الولی علیہ لم یجز ان یصلی احدبعدہ  ۱؎اھ وفی الدرالمحتاراومن لیس لہ حق التقدم وتابعہ الوللی لایعید۲ ؎ اھ مختصرا واﷲتعالٰی اعلم۔
اور یہ خیال ہے کہ نمازِ عصر سے پہلے جنازہ ناجائز ہے رسواکن جہالت ہے یا کھلی ہوئی گمراہی، اور شریعت مبارکہ پر قطعی افتراء --ہاں اگر وقت تنگ ہو تو پہلے عصر پڑھنا ضروری ہے لیکن اگر نمازِ جنازہ پہلے پڑھ لی تو وہ بھی صحیح ہوگئی--اور جب ولی نے یا اس کی اجازت سےدوسرے نے نمازِ جنازہ پڑھ لی تو دوبارہ پڑھنا جائز نہیں جیسا کہ ہم نے بتوفیق الٰہی اپنے رسالہ النھی الحاجز تکرارصلٰوۃ الجنائز میں اس کی بھر پور تحقیق کی ہے— سراج  وہاج، بحرالرائق ، ردالمحتار ، جامع الرموز ، جوہرہ نیّرہ ، ہندیہ ، مجمع الانہر وغیرھما میں ہے: اگر ولی نے جنازہ پڑھ لیا تواس کے بعد کسی کو پڑھنا جائز نہیں اھ درمختار میں ہے : یاکسی ایسے شخص نے پڑھا جسے ولی پر حقِ تقدم حاصل نہیں مگر ولی نے اس کی متابعت کرلی تو دوبارہ نہیں پڑھ سکتا اھ مختصراً۔اورخدائے برتر خوب جاننے والا ہے (ت)
 (۱؂البحرالرائق بحوالہ سراج الوہاج   فصل السلطان احق بصلٰوتہ  مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۲ /۱۷۲)

(۲؎ درمختار    باب صلٰوۃ الجنائز        مطبوعہ مجتبائی دہلی      ۱/۱۲۳)
Flag Counter