Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
27 - 243
فی الدرالمختار یقدم فی الصلٰوۃ علیہ السلطان ان حضر اونائبہ وھوامیرالمصر(ثم القاضی)ثم صاحب الشرط ثم خلیفۃ ثم خلیفۃ القاضی (ثم امام الحی)فیہ ایھام وذلک ان تقدیم الولاۃ واجب وتقدیم امام الحی مندوب فقط بشرط ان یکون افضل من الولی والافالولی اولٰی(ثم الولی) بترتیب عصوبۃ الانکاح الا الاب فیقدم علی الابن اتفاقا الاان یکون عالماوالاب جاھلافالابن اولٰی فان لم یکن لہ ولی فالزوج ثم الجیران ولہ ای للولی ومثلہ کل من یقدم علیہ (الاذن لغیرہ فیھا)لانہ حقہ فیملک ابطالہ (الا) انہ (ان کان ھناک من یساویہ فلہ) ای لذلک المساوی ولواصغرسنا (المنع) لمشارکتہ فی الحق اماالبعیدفلیس لہ المنع۱؂ اھ باختصار۔
درمختار میں ہے : نماز جنازہ پڑھانے میں مقدم سلطانِ اسلام ہے اگر وہ موجود  ہو یا اس کا نائب، یہ شہر کا حاکمِ اسلام ہے۔ پھر قاضی ،پھر کوتوال، پھر اس کا خلیفہ پھر قاضی کا خلیفہ، پھر امام محلہ۔ اس میں برابری کا ایہام ہے اور حکم یہ ہے کہ حکّام کی تقدیم واجب ہے اور امام محلہ کی تقدیم صرف مندوب ہے بشرطیکہ ولی سے افضل ہو، ورنہ ولی بہتر ہے۔ پھر ولی ۔نکاح کرانے میں عصبہ ہونے کی جوترتیب ہے وہی یہاں بھی ہوگی مگر باپ کہ وہ بیٹے پر یہاں بالاتفاق مقدم ہے لیکن اگر بیٹا عالم اور باپ جاہل تو بیٹااولٰی  ہے۔ اگر کوئی نہ ہو تو شوہر پھر ہمسائے۔ ولی کوا ور اسی کی طرح ہر اُس شخص کو جسے دوسروں پر تقدم ہے یہ حق حاصل ہے کہ کسی اور کو اذن دے دے کیونکہ یہ اس کا حق ہے تو اسے باطل کرنے کا اختیار ہوگا۔لیکن وہاں اگر کوئی اس کے مساوی ہو تو اسے اگر چہ وُہ عمر میں چھوٹا ہی ہو۔ دوسرے کو روکنے کا حق حاصل ہے کیونکہ حق میں وہ اس کا شریک ہے ہاں بعید کو روکنے کا اختیار نہیں اھ باختصار۔
 (۱؎ درمختار      باب صلٰوۃ الجنائز        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۲۲)
وفی ردالمحتار قولہ(ثم امام الحی) وانما کان اولی لان المیت رضی بالصّلٰوۃ خلفہ فیہ حال حیاتہ فینبغی ان یصلی علیہ بعد وفاتہ قال فی شرح المنیۃ فعلی ھذالوعلم انہ کان غیر راض بہ حال حیاتہ ینبغی ان لایستحب تقدیمہ اھ قلت ھذامسلم ان کان عدم رضاہ بہ لوجہ صحیح والافلا تامل۱؎۱ ھ مافی ردالمحتار ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ۔
ردالمحتار میں ہے: امامِ محلہ اس لئے اولٰی  ہے کہ مرنے والا اپنی زندگی میں اس کے پیچھے نماز پڑھنے پر راضی تھا تو بعد وفات بھی اسی کو پڑھانا چاہئے--شرح منیہ میں ہے: اس تعلیل کے پیش نظر اگر وُہ زندگی میں اس سے راضی نہ تھا 

تواس کی تقدیم مستحب نہ ہونی چاہئے اھ--میں کہتا ہوں یہ اُس صورت میں مسلّم ہے جب اُس کی ناراضی کی صحیح وجہ تحت ہوورنہ نہیں--تامل کرو--ردمحتار کی عبارت ختم ہوئی--میں نے دیکھا اوراسکے حاشیہ پر میں نے یہ لکھاہے :
 (۱؎ ردالمحتار     باب صلٰوۃ الجنائز     مطبوعہ مصطفی البابی مصر     ۱ /۶۴۹)
اقول سیأتی بعد سطران الحق انما ھوللولی وانما یستحب تقدیم امام الحی لاجل التعلیل المذکور فاذافاتت العلۃ فلیفت المعلول ولادخل فی ذلک لکون عدم رضاہ بوجہ صحیح فلیتامل۔
اقول چند سطور بعد آرہا ہے کہ حق ولی ہی کا ہے اورامامِ محلہ کی تقدیم تعلیلِ مذکور کے باعث مستحب ہے تو جب یہ علّت فوت ہوتو معلول بھی فوت ہوگا اوراس میں کسی وجہ صحیح کے تحت اس کی ناراضی ہونے کو کوئی دخل نہیں--تامل کرنا چاہئے۔
ثم قال فی ردالمحتار واما امام مصلی الجنازۃ الذی شرطہ الواقف وجعل لہ معلوما من وقفہ فھل یقدم علی الولی کامام الحی ام لاللقطع بان علۃ الرضا بالصلٰوۃ خلفہ فی حیاتہ خاصۃ بامام المحلۃ واستظھر المقدسی انہ کالاجنبی مطلقالانہ انما یجعل للغرباء ومن لاولی لہ۔
آگے ردالمحتار میں ذکر ہے کہ: اب سوال یہ ہے کہ وہ امام جو جنازہ پڑھانے کے لئے مقرر ہو، جس کی وقف کرنے والے نے شرط کی ہے اور وقف سےاس کے لئے تنخواہ مقرر کردی ہےکیا امام محلہ کی طرح وُہ بھی ولی پر مقدم ہوگایامقدم نہ ہوگا؟کیونکہ قطعی بات ہے زندگی میں اقتدا سے راضی ہونے کے علت صرف امام محلہ کے حق میں ہے--امام مقدسی نے اظہار فرمایا کہ وہ بالکل اجنبی کی طرح ہے کیونکہ اس کا  تقرر مسافروں  اور ایسے مُردوں کے لئے ہوتا جن کا کوئی ولی نہ ہو۔
اقول وھذاولی لمایاتی من ان الاصل ان الحق للولی وانماقدم علیہ الولاۃ وامام الحی لمامر من التعلیل وھوغیرموجودھنا، والفرق بینہ وبین الامام الراتب ظاہر لانہ لم یرضہ للصلٰوۃ خلفہ فی حیاتہ بخلاف الراتب، قال فی شرح المنیۃ الاصل ان  الحق فی الصلٰوۃ للولی ولذاقدم علی الجمیع فی قول ابی یوسف و روایۃ عن ابی حنیفۃ لان ھذاحکم یتعلق بالولایۃ عن ابی حنیفۃ لان ھذا حکم  یتعلق  بالولایۃ کالانکاح الا  ان الاستحسان وھو ظاہر الروایۃ  تقدیم السلطان ونحوہ لمامر من الوجہ قولہ(بترتیب عصوبۃ  الانکاح) فلاولایۃ للنساء ولاللزوج الا انہ احق من الاجنبی قلت والظاہر ان ذوی الارحام داخلون فی الولایۃ، والتقیید بالعصوبۃ لاخراج النساء فقط فھم اولی من الاجنبی وھو ظاھر یؤید تعبیرالھدایۃ بولایۃ النکاح، قولہ(فیقدم علی الابن اتفاقا) ھوالاصح وقیل ھذاقول محمد وعندھمالابن اولی،قال فی الفتح انماقدمنا الاسن بحدیث القسامۃ لیتکلم اکبرھما وھذایفید ان الحق للابن عندھما وھذا یفید ان الحق للابن عندھما الا ان السنۃ عن یقدم اباہ ویدل علیہ قولھم سائر القرابات اولی من الزوج ان لم یکن لہ منھا ابن فان کان فالزوج اولٰی منھم لان الحق للابن وھویقدم اباہ ولا یبعد ان یقال ان تقدیمہ علی نفسہ واجب بالسنۃ اھ،
اقول(میں کہتا ہوں) یہ بہتر ہے اس لئے کہ آگے آرہا ہے کہ اصل یہ حق ولی کا ہے اس پر حُکّام اورامام محلّہ کی تقدیم تعلیل مذکور کے سبب ہے اوروہ علت یہاں موجود نہیں-- اوراس امامِ جنازہ اور پنجگانہ کے امام مقرر کے درمیان فرق ظاہر ہے اس لئے اس نے زندگی میں اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا جبکہ امام مقرر کا حال یہ نہیں،شرح منیہ میں ہے کہ اصل یہ ہے کہ نماز کاحق ولی کو ہے۔ اسی لئے امام ابویوسف کے نزدیک اور امام ابو حنیفہ سے ایک روایت میں وُہ سب سے مقدم ہے ۔اس لئے کہ یہ ایساحکم ہے جس کا تعلق ولایت سے ہے جیسے نکاح کرانے کا معاملہ ہے، مگر استحسان یہ ہے کہ یہاں سلطان وغیرہ مقدم ہوں جس کی وجہ بیان ہوچکی ۔اور یہی ظاہرالروایہ ہے__ عبارت درمختار (نکاح کرانے میں عصبہ ہونے کی جو ترتیب ہے وہی ہوگی) اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے ولایت نہیں، اور شوہر کے لئے بھی نہیں مگروُہ اجنبی سے زیادہ حقدار ہے--  میں کہتاہوں ظاہر یہ ہے کہ ذوی الارحام بھی ولایت میں داخل ہیں اور عصبہ ہونے کی قید صرف عورتوں کو خارج کرنے کے لئے ہے  تو وہ اجنبی سے اولٰی  ہوں گے۔ اوریہ ظاہر ہے جس کی تائید ہدایہ کے الفاظ ''ولایت نکاح'' سے ہوتی ہے --عبارت درمختار (باپ بیٹے پر یہاں بالاتفاق مقدم ہے) یہی اصح ہے۔ اور کہا گیا کہ یہ امام محمد کا قول ہے اور شیخین (امام اعظم و امام ابویوسف) کے نزدیک بیٹا اولٰی  ہے-- فتح القدیر میں ہے: ہم نے زیادہ عمر والے کو مقدم کیا حدیثِ قسامت کے پیشِ نظرجس میں ہے کہ''دونوں میں جو زیادہ بڑا ہے وُہ کلام کرے''--اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ شیخین کے نزدیک حق بیٹے کاہے۔مگر سنّت یہ ہے کہ وُہ اپنے باپ کو آگے کرے، اس پر علماء کا یہ کلام دلالت کررہاہے: دیگر اہلِ قرابت شوہر سے اولٰی  ہیں اگرشوہر کا اس عورت سے کوئی بیٹا نہ ہو ،اگرہو تو شوہر اُن سے اولٰی  ہے۔ اس لئے کہ حق بیٹے کا ہے اوروُہ اپنے باپ کو آگے کرے گا--اور یہ کہنا بعید نہ ہوگا کہ بیٹے کا باپ کو اپنی ذات پر مقدم کرنا ازروئے حدیث واجب ہے اھ—۔
وفی البدائع وللابن فی حکم الولایۃ ان یقدم غیرہ لان الولایۃ ان یقدم غیرہ لان الولایۃ لہ وانما منع عن التقدم لئلا یستخف بابیہ فلم تسقط ولایتہ بالتقدیم قولہ (الاان یکون الخ)قال فی البحرولوکان الاب جاھلاوالابن عالماینبغی ان یقدم الابن الاان یقال ان صفۃ العلم لاتوجب التقدیم فی صلٰوۃ الجنازۃ لعدم احتیاجھالہ واعترضہ فی النھر بمامرمن ان امام الحی انما یقدم علی الولی اذاکان افضل قال نعم علل القدروری  کراہۃ تقدم الابن علی  ابیہ بان فیہ استخفافابہ وھذایقتضی وجوب تقدیمہ مطلقااھ قلت وھذامؤید لمامر عن الفتح۱ ؎اھ مافی ردالمحتار ملخصا ملتقطا،
بدائع میں ہے : حکم ولایت کے تحت بیٹے کو یہ اختیار حاصل ہے اور خود آگے بڑھنے سے اس کو اس لئے روکا گیا کہ اپنے باپ کی بے ادبی کا مرتکب نہ ہو، تو دوسرے کو آگے بڑھانے کا حق اُس سے نہ گیا۔عبارتِ دُرمختار (مگر یہ کہ بیٹا عالم ہو) بحر میں ہے: اگر باپ جاہل اور بیٹاعالم ہوتو بیٹے کو آگے کرنا چاہئے ۔ مگر یہ کہا جائے کہ علم نماز جنازہ میں تقدم کا موجب نہیں کیونکہ اس میں علم کی ضرورت نہیں، اس پر نہر میں یہ اعتراض ہے کہ امامِ محلہ ولی پر اُسی وقت تقدّم پاتا ہے جب اُس سے افضل ہو۔ ہاں قدوری نےباپ پر بیٹے کا تقدم مکروہ ہونے کی علّت یہ بتائی کہ اس میں باپ کی تقدیم مطلقاً ضروری ہے اھ-- میں کہتا ہوں اس سے اس کلام کی تائید ہورہی ہے جو فتح القدیر کے حوالے سے گزرا۔ 

تلخیص وانتخاب کے ساتھ ردالمحتار کا مضمون ختم ہوا۔
 (۱؎ ردالمحتار     باب الصلٰوۃ الجنائز     مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ۱/۵۰۔ ۶۴۹)
وفی الخانیۃ ثم الھندیۃ من الصلٰوۃ، رجل بنی مسجدا وجعلہ ﷲ تعالٰی فھو احق الناس بمرمتہ وعمارتہ والاذان والاقامۃ والامامۃ ان کان اھلالذلک، فان لم یکن فالرای فی ذٰلک الیہ۲ ؎اھ(ملخصا) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
خانیہ پھر ہندیہ کتاب الصلٰوۃ میں ہے : کسی شخص نے مسجد تعمیرکی اورا سے خداکے لئے وقف کردیاتو اس کی مرمت ، عمارت، اذان ، اقامت اور امامت کا وہ سب لوگوں سے زیادہ حقدار ہے اگر وہ اس کا اہل ہو ورنہ اس بارے میں رائے اُسی کی لی جائے گی اھ(یعنی دوسرے کو مقرر کرنے کا حق اسی کو ہوگا) اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے۔(ت)
 (۲؎ فتاوی ہندیہ    الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلٰوۃ الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور   ۱ /۱۱۰)
Flag Counter