| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
مسئلہ نمبر ۳۸: ازچتور گڑھ محلہ چھیپیان مسئولہ جمیع مسلمان گنگرار ۱۵محرم ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اگر ہجڑہ مر جائے اُس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے یا نہیں؟ اور اگر پڑھی جائے تو نیّت مرد کی جائے یا عورت کی؟
الجواب ہجڑہ اگر مسلمان ہے تواُس کے جنازہ کی نماز فرض ہے،اور نیت میں مرد عورت کی تخصیص کی کوئی حاجت نہیں۔ مرد وعورت دونوں کی ایک ہی دعا ہے، خصوصاً یہ ہجڑے جو یہاں ہوتے ہیں مرد ہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو عورت بناتے ہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۳۹: ازمین پوری مسئولہ مجیب اﷲ صاحب ۲۹ جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نمازِ جنازہ کے لئے امامت میں احق افضل کون ہے؟ کیا امام جامع مسجد یا قاضی اس معنٰی میں نکاح خوانی کرتا ہوا ور لیاقت کچھ نہیں رکھتا، صرف معمولی اردو کی کتابیں دیکھے ہوئے ہو وُہ بلااذن طلب کئے میّت کے ورثاء یا اولیاء سے نمازِ جنازہ پڑھا سکتا ہے؟ اور بموجودگی کئی افضل واعلم بالسنۃ عالم واحق بالامامۃ اُس کا نماز پڑھنا کیسا ہے؟ یہ جو عام طور پر رائج کہ اوّل وارث یا ولی میت سے اذن لیتے ہیں نماز پڑھانے کا یہ کیا کچھ ضروری چیز ہے؟ اور کون امام بلااذن طلب کئے بھی نماز پڑھا سکتا ہے؟ بینواتؤجّروا۔
الجواب:نمازِ جنازہ ولیِ میّت کا حق ہے، دوسرا کہ اس کے اذن کا محتاج ہے، اگر بے اُس کے اذن کے پڑھائے اُسے اعادہ نماز جائز ہے حالانکہ نمازِ جنازہ کی تکرار مشروع نہیں۔ نکاح خوانی کا قاضی کوئی عہدہ شرعی نہیں وہ بے اذنِ ولی ہرگز نہیں پڑھا سکتا۔ یونہی جامع مسجد کا امام اگر میّت جمعہ وغیرہ اُس کے پیچھے نہ پڑھتا ہو یا وُہ علم وفضل میں ولی میّت سے زائد نہ ہو۔ اسی طرح امام الحی یعنی مسجد محلہ کا امام، ہاں اگر میّت اُن کے پیچھے نماز پرھا کرتا تھا۔ اور یہ فضل دینی میں ولی سے زائد ہیں تو بے اذنِ ولی پڑھاسکتے ہیںاور اصحابِ ولایت عامہ مثلاً سلطانِ اسلام یا اس کا نائب، حاکمِ شہر یا اس نائب، قاضی شرع جسے سلطانِ اسلام نے فصلِ مقدمات پر مقرر کیا یا اس کا نائب، یہ لوگ ولی پر مقدم ہیں،انہیں ولی سے اجازت لینے کی مطلقاً حاجت نہیں، اور صورتِ مذکورہ کے علاوہ دونوں امام اور یہ والیانِ عام اگر نماز پڑھادیں توولی کو حقِ اعادہ نہیں مگر فرض ِ کفایہ اداہوجائے گا، ولی نے اگر ان کی اقتدا کرلی فبہا کہ اذن ابتدامیں نہ تھا تو اب ہوگیا اور اگر اقتدا نہ کی تُواُسے جائز ہے کہ دوباہ پڑھے، اور جو پہلی جماعت میں شریک نہ ہولئے تھے انہیں اس جماعتِ ولی میں شرکت کی اجازت ہے۔ تنویرالابصار و درمختار میں ہے :
یقدم فی الصلوۃ علیہ السلطان اونائبہ (الاولی ثم نائبہ کمافی الفتح وغیرہ ش) ثم القاضی (ثم خلیفۃالولی ثم خلیفۃ القاضی امداد عن زیلعی ش) ثم امام الحی وتقدیم الولاۃ واجب وتقدیم امام الحی بشرط ان یکون افضل من الولی والا فالولی کما فی المجتبٰی (قلت عن البقالی) وشرح المجمع للمصنف (قلت عن العتابی)(وامام الحی وامام المسجد الخاص بالمحلۃ وانما کان اولٰی لان المیت رضی بالصّلٰوۃ خلفہ فی حال حیاتہ فینبغی ان یّصلی علیہ بعد وفاتہ ش) وفی الدرایۃ امام الجامع (عبرعنہ فی شرح المنیۃ بامام الجمعۃ ش) اولٰی من امام الحی (قلت والظاہر ان تقدیمہ ایضاندبی بشرط کونہ افضل من الولی والعلۃ فیہ ایضاکون المیت رضیہ امام لہ فی حیاتہ فلو لم یکن من یصلی الجمعۃ کالمرأۃ مثلااوکان یصلی خلف غیرہ لم یقدم علی امام الحی اذالم یکن المیت یصلی خلفہ لایقدم علی الولی قال ش لما یأتی من ان الاصل ان الحق للولی وانما قدم علیہ الولاۃ وامام الحی لمامرمن التعلیل وھوغیرموجودھنا) ثم الولی بترتیب عصوبۃ الانکاح، فان صلے غیرالولی ممن لیس لہ حق التقدم علی الولی ولم یتابعہ عادالولی ولوھی قبرہ ان شاء لاجل حقہ لا لاسقاط الفرض ولذا لیس لمن صلی علیھا ان یعید من الولی لان تکرارھا غیرمشروع۱؎ انتہی مزید امنی کل مصدر بلفظۃ قلت مختومابھلال۔ واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔
نمازِ جنازہ میں مقدم سلطان ہے یا اس کا نائب (بہتر یہ کہنا ہےکہ: پھر ا س کانائب ، جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں ہے -- شامی )پھر قاضی (پھر حاکم شہر کا نائب ، پھر قاضی ک نائب--امداد --اززیلعی -- شامی) پھر امامِ محلہ اور حکام کی تقدیم واجب ہے اور امامِ محلہ کی تقدیم مستحب ہے بشرطے کہ ولی سے افضل ہو،ورنہ ولی بہتر جیسا کہ مجتبٰی میں( میں کہتا ہوں:بقالی سے منقول) ہے اور مصنّف کی شرح مجمع میں(میں کہتاہوں :عتابی سے منقول)ہے (امام محلہ سے مُراد وہ کو جو مسجدِمحلہ کا امام ہو ، اس کے اولٰی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مرنے والے نے زندگی میں اس کی اقتداء پسند کی تو بعدوفات اس کی نماز جنازہ اسی کو پڑھانا چاہئے--شامی) درایہ میں ہے کہ امام جامع مسجد(شرح منیہ میں اسے امامِ جمعہ سے تعبیر کیا --شامی )امامِ محلہ سے بہتر ہے۔ (میں کہتا ہوں: ظاہر یہ ہے کہ اس کی تقدیم بھی استحبابی ہے بشرطے کہ ولی سے افضل ہو۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ مرنے والے نے زندگی میں اسے اپنا امام پسند کیا، تومیّت اگر جمعہ پڑھنے والا نہیں، جیسے عورت، یا دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے والا اُس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تو وہ بھی ولی پر مقدم نہ ہوگا۔شامی نے کہا اس لئے کہ آگے آرہا ہے کہ اصل میں حق ولی کا ہے، اس پر حکام اور امام محلہ کی تقدیم تعلیل مذکور کے باعث تھی وہ علت ہی یہاں موجود نہیں) پھر ولی جو نکاح کرانے میں عصبہ ہونے کی ترتیب کے اعتبار سے ہے تو اگر ولی کے علاوہ کسی ایسے نے نماز پڑھی جسے ولی پر حق تقدم حاصل نہیں اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی پھر پڑھ سکتا ہے اگرچہ قبر، اگر چاہے۔ یہ اجازت اس کے حق کے سبب ہے، اس وجہ سے نہیں کہ فرض جنازہ ادا نہ ہوا۔اسی لئے پہلے جو لوگ پڑھ چکے ہوں انہیں ولی کے ساتھ اعادہ کی اجازت نہیں اس لئے کہ نمازِ جنازہ کی تکرار غیر مشروع ہے۔ عبارت ختم ہوئی ۔درمیان میں ہلالین کے اندر قلت (میں کہتا ہوں)کے ساتھ حوالوں کا میری جانب سے اضافہ ہے، اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے۔(ت)
(۱ ؎ درمختار شرح تنویرالابصار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۳-۱۲۲) ( ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ /۵۹۰)
مسئلہ نمبر۴۰: از ملک بنگال ضلع سلہٹ ڈاکخانہ آدم پور ،گھوڑ مرا مرسلہ حافظ عبدالحمید صاحب امام مسجد
۱۸جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھماقولکم رحمکم اﷲتعالٰی اندریں مسئلہ کہ خدیجہ بی بی زوجہ مولوی عبدالحکیم صاحب رحلت نمود درحق صلٰوۃ جنازہ ولی زن شوہرش باشد یا پدرش وبراداران وعمام اومگر پدر وغیرہ اقارب مذکورین جاہلان بے علم اندبخلاف شوہر، نیز از جانب شوہر عم او حافظ عبدالحی امام الحی موجود ست پس ولایتِ نماز دو رصورت مذکورہ ازیناں کراست مخفی مبادکہ ازدو۲ سال علمائے سلہٹ دریں مسئلہ باہم اختلافہا دارند۔ اُمید کہ رفع شک فرمایند۔بینواتوجروا
آپ رحمکم اﷲ تعالٰی کا اس مسئلہ میں کیا قول ہے کہ خدیجہ بی بی زوجہ عبدالحکیم صاحب کا انتقال ہوا، نماز جنازہ کے حق میں عورت کا ولی اس کا شوہر ہوگا یاباپ ،بھائی ،چچا؟ مگر باپ وغیرہ اقارب مذکورین جاہل بے علم ہیں، جب کہ شوہر صاحب علم ہے اور شوہر کی جانب سے اس کے چچا حافظ عبدالحمید امامِ محلہ بھی موجود ہیـں، توصورت مذکورہ میں نماز کی ولایت ان میں سے کس کے لئے ہے۔ واضح ہو کہ دو۲ سال سے سلہٹ کے علماء اس مسئلہ میں باہم اختلاف رکھتے ہیں۔امید ہے کہ شک دور فرمائیں گے۔بیان فرمائیں اجر پائیں۔
الجواب درولایتِ نمازِ جنازہ شوہر از ہمہ اقارب موخرست ایں ولایت ہمچو ولایت نکاح بترتیب عصوبت و قرابت اقرب فالاقرب رارسد اگر زیناں ہیچکس نباشد شوہر مقدم بود۔
نمازِ جنازہ کی ولایت شوہر تمام اقارب کے بعد ہے ۔یہ ولایت ،ولایتِ نکاح کی طرح عصبہ ہونے اور قریبی ہونے کی ترتیب پر قریب تر پھر قریب تر کے لئے ہوتی ہے--اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تواُس وقت شوہر مقدّم ہوگا۔
وجہل آناں مانع حق آناں نیست، ایشاں را رواست کہ ہر کراخواہند بامامت امر کنند۔مامور ایشاں ہمچوایشاں مقدم برزوج بود کہ متاخر را اگرچہ خود عصبہ باشد بامامور متقدم حقِ منازعت نیست گو اجنبی باش۔
اور ان کا جہل ان کے حق سے مانع نہیں، ان کے لئے روا ہے کہ جسے چاہیں امامت کا حکم دے دیں، ان کامامور بھی ان ہی طرح شوہر پر مقدم ہوگا کہ متاخر کو--اگر چہ عصبہ ہو-- مامور کے ساتھ نزاع کا حق نہیں گو وُہ اجنبی ہو۔
وآں کہ امام الحی را استحباباً تقدیم دادہ اند بحکم تعلیل ونظر برمانِ خاص درجنازہ مردان ست۔زنان رابامسجد وامام چہ کا ر کہ ایشاں نہ حاضر جماعت می شوند نہ شرعاً اجاتش دادندپس درصورت مستفسرہ ولایتِ نماز پدرِ خدیجہ رابود۔
اور امامِ محلہ کو جو تقدیم دی گئی ہے اس کی علت اور زمانہ حال پر نظر کرتے ہوئے--وہ مردوں کے جنازے سے خاص ہے۔عورتوں جو مسجد اور امام سے کیاکام کہ یہ حاضر جماعت ہوتی ہیں نہ ان کو شرعاً اس کی اجازت ہی ہے--تو صورت مسئولہ میں نمازکی ولایت خدیجہ کے والدکو ہوگی۔
آرے اگر خدیجہ از مولوی عبدالحکیم پسرے عاقل بالغ داشتے حقِ تقدم مراورا بودے کہ پسر بر پدر در عصوبت مرجح است وآں پسر را شرع فرمود کہ پدرِ خود مولوی عبدالحکیم راتقدیم دہ وبپاسِ ادب پیش او پامنہ بایں صورت مولوی عبدالحکیم راتقدم بودے۔
ہاں اگرخدیجہ کا مولوی عبدالحکیم سے کوئی عاقل بالغ لڑکا ہوتا تواسے حق تقدّم ہوتا کیونکہ عصبہ ہونے میں بیٹے کو باپ پر ترجیح حاصل ہے--اور اس لڑکے کو شریعت حکم دیتی ہے کہ اپنے باپ مولوی عبدالحکیم کو آگے کر، اورادب کا لحاظ کرکے اس کے آگے قدم نہ رکھ۔ اس طرح مولوی عبدالحکیم کو تقدم ہو جاتا۔