اور نصرانیوں کا معاذاﷲ جنازہ کےساتھ ہونا یابعد دفن ٹوپی اتار کر سلامی دینا اُن کا اپنا فعل تھا جس کے سبب مسلمان کو کافر نہیں ٹھہراسکتے۔ اور یہ بدگمانی کہ اگر یہ اُن کا ہم مذہب نہ ہوتا تو وُہ جنازہ میں کیوں شرکت کرتے، محض مردود ہے۔ ایسے اوہام پر بنائے احکام نہیں، نہ کہ معاذاﷲ معاملہ کفر و اسلام جس میں انتہادرجہ کی احتیاط لازم، بلکہ اس کا عکس دُوسرا گمان قوی تر ہے کہ اگر وُہ اسے اپنا ہم مذہب جانتے، اپنی روش پر تجہیز وتکفین کرتے۔ مسلمانوں کو اس کا جنازہ کیو ں دیتے، غرض اس صورت میں نماز پڑھنے والوں نے فرضِ خدا اداکیا اُن پر اصلاًلازم نہیں۔ الزام اُن پر اُن سے معاملہ مرتدین کرنا چاہیں اور اگر بہ ثبوت ِ شرعی ثابت ہو کہ میّت عیاذاً باﷲ تبدیل مذہب کرکے عیسائی ہوچکا تھا تو بیشک اُس کے جنازہ کی نماز اور مسلمانوں کی طرح اس کی جہیز وتکفین سب حرام قطعی تھی۔
قال اﷲتعالٰی
ولاتصل علٰی احدمنھم مات ابداولاتقم علی قبرہ۲ ؎۔
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: ان میں سے جوبھی مرے نہ کبھی ان کی نمازِ جنازہ پڑھو اورنہ اس کی قبر پر کھڑے ہو (ت)
(۲؎ القرآن ۹ /۸۴)
مگر نماز پڑھنے والے اگر اس کی نصرانیت پر مطلع نہ تھے اور بربنائے علم سابق اسے مسلمان سمجھتے تھے نہ اس کی تجہیز وتکفین ونماز تک اُن کے نزدیک اس شخص کا نصرانی ہوجانا ثابت ہوا، توان افعال میں وہ اب بھی معذور وبے قصور ہیں کہ جب اُن کی دانست میں وہ مسلمان تھا اُن پر یہ افعال بجالانے بزعمِ خود شرعاً لازم تھے، ہاں اگر یہ بھی اس کی عیسائیت سے خبردار تھے پھر نماز وتجہیز وتکفین کے مرتکب ہوئے قطعاً سخت گنہ گار اور وبالِ کثیر میں گرفتار ہوئے، جب تک توبہ نہ کریں نماز ان کے پیچھے مکروہ،
جیسا کہ یہ فاسق کا حکم ہے جس کی صراحت متعدد کتابوں میں موجود ہے اور جس کی توضیح وتنقیح غنیـہ وغیرہا میں ہوچکی ہے۔(ت)
مگر معاملہ مرتدین پھر بھی برتنا جائز نہیں کہ یہ لوگ بھی اس گناہ سے کافر نہ ہوں گے۔ ہماری شرع مطہر صراطِ مستقیم ہے، افراط وتفریط کسی بات میں پسند نہیں فرماتی، البتہ اگر ثابت ہوجائے کہ اُنہوں نے اُسے نصرانی جان کر نہ صرف بوجہ حماقت وجہالت کسی غرض دُنیوی کی نیّت سے بلکہ خوداسے بوجہ نصرانیت مستحق تعظیم وقابل تجہیر وتکفین ونمازِ جنازہ تصور کیا تو بیشک جس جس کا ایسا خیال ہوگا وہ سب بھی کافر و مرتد ہیں اور ان سے وہی معاملہ برتنا واجب جو مرتدین سے برتا جائے اور ان کی شرکت کسی اور طرح روا نہیں، اور شریک ومعاون سب گنہگار ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۳۶: ازلکھیم پور کھیری مکان حافظ محمد حسین سوداگر ، مرسلہ حکیم محمد تفـضل حسین صاحب
ماہ جمادی الاولٰی ۱۳۱۹۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہل شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھنا اہلسنّت وجماعت کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کسی قومِ سنّت والجماعت نے نماز کسی شیعہ کی جنازہ کی پڑھی تو اس کے لئے شرع میں کیا حکم ہے۔
الجواب
اگر رافضی ضروریاتِ دین کا منکر ہے، مثلاً قرآن کریم میں کُچھ سوُرتیں یا آیتیں یا کوئی حرف صرف امیرا لمومنین عثمان ذی النورین غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ یا اور صحابہ خواہ کسی شخص کا گھٹایا ہوا مانتا ہے۔یا مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم خواہ دیگر ائمہ اطہار کوا نبیائے سابقین علیہم الصّلٰوۃ والتسلیم میں کسی سے افضل جانتاہے۔ اور آجکل یہاں کے رافضی تبرائی عموماً ایسے ہی ہیں اُن میں شاید ایک شخص بھی ایسا نہ نکلے جو ان عقائدِ کفریہ کا معتقدنہ ہو جب تو وہ کافر مرتدہے اور اس کے جنازہ کی نماز حرام قطعی وگناہ شدیدہے۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
ولاتصل علی احدمنھم مات ابداولاتقم علی قبرہ انھم کفرواباﷲ ورسولہ وماتوا وھم فاسقون۱؎۔
کبھی نماز نہ پڑھ اُن کے کسی مردے پر، نہ اس کی قبر پرکھڑا ہو، انہوں نے اﷲ ورسول کےساتھ کفر کیا اور مرتے دم تک بے حکم رہے۔
(۱؎ القرآن ۹ /۸۴)
اگر ضروریاتِ دین کا منکر نہیں مگر تبرائی ہے تو جمہور ائمہ وفقہا کے نزدیک اس کا بھی وہی حکم ہے۔
جیسا کہ خلاصہ ، فتح القدیر ، تنویر الابصار ، درمختار ، ہدایہ وغیرہا عام کتب میں ہے۔اور اگر صرف تفضیلیہ ہے تو اُس کے جنازے کی نماز بھی نہ چاہتے، متعدد حدیثوں میں بد مذہبوں کی نسبت ارشاد ہوا:
ان ماتوا فلا تشہدوھم ۱؎
وُہ مریں تو ان کے جنازہ پر نہ جائیں۔ولاتصلواعلیہم۲؎انکے جنازے کی نمازنہ پڑھو۔ نماز پڑھنے والوں کو توبہ استغفار کرنی چاہئے۔
(۱؎ تاریخ بغداد ترجمہ ۴۲۴۰ الحسین بن الولید الخ دارالکتاب العربی بیروت ۸ /۱۴۴
سنن ابن ماجہ الحسین بن الولید الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۰۰
مسندِ اما م اعظم بیان ذم القاریۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ص۱۴)
(۲؎ کنز العمال بحوالہ ابن النجار عن انس رضی اﷲ عنہ حدیث ۳۲۵۲۹ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱۱ /۵۴۰)
اوراگر صورت پہلی تھی یعنی وہ مُردہ رافضی منکرِ بعض ضروریاتِ دین تھا اور کسی شخص نے با آں کہ اُس کے حال سے مطلع تھا دانستہ اس کے جنازے کی نماز پڑھی اُس کے لئے استغفار کی جب تو اُس شخص کی تجدید اسلام اوراپنی عورت سے ازسر نو نکاح کرنا چاہئے۔
حلیہ میں قرافی سے نقل کیا اوراسے برقرار رکھا کہ: کافر کے لئے دُعائے مغفرت کفر ہے کیونکہ یہ خبر الٰہی کی تکذیب کا طالب ہے(ت)
(۳؎ حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی)
مسئلہ نمبر ۳۷:ازثمن برج وزیرآباد ضلع گوجرانوالا ، پنجاب ۔ مرسلہ محمد خلیل اﷲ صاحب پنشنر رسالدار،
۲۳ ربیع الاول ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل صُورت میں ایک شخص جو شیعہ اثناء عشری مذہب رکھتا ہے اور کلمہ
لا الٰہ الاﷲ محمدرسول اﷲ علی خلیفۃ بلا فصل
وغیرہ اعتقاداتِ مذہبِ شیعہ کا معتقد ہے فوت ہوا ہے اُس کا جنازہ ہمارے امام حنفی المذہب جامع مسجد مے پڑھایا اوراس کو غسل دیا، نیز اس کے ختم میں شامل ہوا، شیعہ جماعت نے امام مذکور کے نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد دوبارہ شیعہ امام سے متوفی مذکور کی نماز جنازہ پرھائی۔ کیا امام مذکور حنفی المذہب کا یہ فعل ائمہ احناف کے نزدیک جائز ہے۔ اگر ناجائز ہے تو کیا امام صاحب مذکور کا یہ فعل شرعاً قابلِ تعزیر ہے اور کیا تعزیر ہونی چاہئے؟
الجواب
صورتِ مذکورہ میں وُہ امام سخت اشد کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا، اُس نے حکمِ قرآ نِ عظیم کا خلاف کیا،
قال اﷲ تعالٰی
ولاتصل علٰی احد منھم مات ابدا۱؎۔
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: ان کے کسی مُردے کی نمازِ جنازہ کبھی نہ پڑھو۔(ت)
(۱؎ القرآن ۹ /۸۴)
تعزیر یہاں کون دے سکتا ہے، اس کی سزا حاکمِ اسلام کی رائے پر ہے، وُہ چاہتا تو پچھتر کوڑے لگاتا اور چاہتاتو قتل کرسکتا تھا کہ اُس نے مذہب کی توہین کی۔ اُس کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اسے امامت سے معزول کرنا واجب ،
تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے :
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانۃ شرعا۲؎۔
اس لئے کہ اسے امام بنانے میں تعظیم ہے جبکہ شرعاً ان پر اس کی اہانت واجب ہے(ت)
(۲؎ تبیین الحقائق باب الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ مطبوعہ مطبعہ کبرٰی امیریۃ مصر ۱ /۱۳۴)
فتاوٰی حجہ و غنیـہ میں ہے:
لوقد موافاسقایاثمون۳؎
(اگر لوگوں نے کسی فاسق کو امام بنایا تو گنہگار ہوں گے۔ت)
(۳؎ غنیـۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ اس نے کسی دنیوی طمع سے ایسا کیا ہو، اگر دینی طور پر اسے کارِ ثواب اور رافضی تبرائی کو مستحق غسل ونماز جان کر یہ حرکاتِ مردودہ کیں تو وُہ مسلمان ہی نہ رہا۔ اگر عورت رکھتا ہو اس کے نکاح سے نکل گئی کہ آجکل رافضی تبرائی عموماً مرتدین ہیں
کما حققناہ فی ردالرفضۃ
(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ ''ردالفضہ'' میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)اوربحکم فقہائے کرام تو نفسِ تبرا کفر ہے
کما فی الخلاصۃ وفتح القدیر وغیرہا کتب کثیرۃ
(جیسا کہ خلاصہ اور فتح القدیر وغیرہ بہت سی کتابوں میں ہے۔ت) نہ کہ نمازِ جنازہ
کما فی الاعلام وغیرہ وبیناہ فی فتاوٰنا
(جیساکہ الاعلام بقواطع الاسلام میں ہے اور ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔