| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
ثالثاً اجماع اہلسنت کے مناقض ہے۔ رابعاً خود ان کاکلام مضطرب ومتناقض ہے۔ خامساً بوجوہ قاہرہ مجروح ومرجوح ہے۔ سادساً حمل علی البدن نہ مانومحتمل تو ہے اور محتمل صالح معارضہ نہیں۔ سابعاً اگرکوئی حدیث اثبات سماع میں نہ ہوتی توسلام خود منصوص ومجمع علیہ ہے اور کلام کاظاہرسے صرف وعدول باجماع علماء مردودومخذول۔
ثامناً تم خود مان چکے کہ مردے زائروں کاسلام سنتے ہیں(مائۃ مسائل جواب سوال ۱۹) پھر ثبوت سماعِ موتٰی میں کیا محل کلام رہا جب قوت سماع حاصل اور خود خارج کی آوازسنناسمجھنا ثابت تو آوازسب ایک سی اورفرق تحکم باطل وعلی التنزل یہ ایجاب جزئی اس سلب کلی مشائخ کاضرور نقیض ومبطل، توجس کلام کو خود باطل مان چکے اس سے استناد ہوس عاطل۔
تاسعاً بحث ایک امر کے وجودوعدم ونفس الامری میں ہے وہ مشائخ نافی اور یہ ائمہ مثبت ہیں، مثبت مقدم، عاشرا اگربالفرض دونوں پلے ہرطرح برابرہوں توامرمستوی رہا، اور سماع ماننے میں نفع بے ضرر ہے کہ جب مردوں کو مدرک جانیں گے قبور کے پاس کلام بیجا سے باز رہیں گے، افعال منکرہ سے حیاکریں گے۔ اور پتھرجانا توبیباک ہوں گے، یوں بھی انکار سماع میں ضرر واندیشہ ضیرہے اور اثبات سماع محض نفع وخیرہے۔
ختم اﷲ تعالٰی لنا علٰی محض نفع وخیروحفظنا من کل ضروضیر والحمدﷲ ربّ العالمین وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا محمّد واٰلہ وصحبہ اجمعین اٰمین۔
اﷲ تعالٰی ہمارا خاتمہ محض نفع وخیرپرکرے اورہرضرر ونقصان سے ہمیں بچائے۔ اور سب خوبیاں اﷲ کے لیے جو سارے جہانوں کارب ہے اور اﷲ تعالٰی ہمارے آقاحضرت محمد اور ان کے تمام آل واصحاب پردرودنازل فرمائے، الٰہی قبول فرما!(ت)
وہ تین جواب ان کے صغرٰی پرعائد تھے، یہ تین ان کے کبرٰی پروارد۔ او راوپر گزارش ہوچکا کہ یہ ارخائے عنان ہے حق تحقیق وحقیقت حق جواب اول سے عیاں ہے
والحمدﷲ رب العٰلمین۔
فقیر نے اس مسئلہ یمین وکلام اُمّ المومنین کے متعلق کو زیرحدیث ۴۵وحدیث ۵۱ بشرط جواب مولوی مجیب صاحب دورآئندہ پرمحول رکھاتھا مگراﷲ عزوجل دارین میں جزائے خیروافی و وافر عطافرمائے۔ مولٰینا المکرم ذی الفضل والکرم، ناصرسنن، کاسرفتن، محب دین متین، صدیقنا مولوی محمدعمرالدین سنی حنفی قادری مجیدی نزیل بمبئی سلمہ اﷲ تعالٰی کو کہ اس بحث نفیس وجلیل ومہم کی تحریر وتحبیر پرمصرہوئے جس کے باعث ہنگام طبع کتاب دونوں مقام مذکورمیں ان مباحث کی طرف عود کے وعدے بڑھائے گئے، خیال تھا کہ ایک آدھ جزلکھ دیاجائے جومقصد سوم کی کسی فصل میں بطورفائدہ اندراج پائے گا۔ طبیعت علیل، ذہن کلیل، مدت معالجات طویل، جس کے سبب قوت ضعف معاذاﷲ تاحدتعطیل۔ بااینہمہ نام فرصت معدوم وقلیل، روزانہ امصارواقطار سے ورودفتاوائے کثیروجزیل، مگرجب لکھنا آغازہوا بارگاہ واہب الفیض عزجلالہ سے درفیوض بازہوا، بحمداﷲ تعالٰی وہ جواہرعالیہ وزواہرغالیہ عطافرمائے کہ فقیرحقیر کی حیثیت ولیاقت سے بد رجہا وراتھے لہٰذا اس تذییل جلیل کو رسالہ مستقلہ کیا اور بلحاظ تاریخ الوفاق المتین بین سماع الدفین وجوب الیمین(۱۳۱۶)لقب دیا جوبانصاف بے اعتساف اسے دیکھے گا ان شاء اﷲ تعالٰی بدل صاف شہادت دے گا کہ مسئلہ یمین آج حل ہوا جسے مخالف موافق، موافق مخالف سمجھاکرتے تھے، اس کا عقدہ اب منحل ہوا، جن کلمات کو مخالفین اپنی دلیل بنایاکرتے اب وہ کلمے خود اُنہی کوذلیل بنائیں گے، جن اقوال کو موافقین محتاج جواب سمجھے اب انہی کو اپنی دلیل بنائیں گے اور اس کے ساتھ بفضلہ تعالٰی تفہیم المسائل کی ساری بالاخوانیاں بھی نیچی پڑیں، صبح سنت شرق حق سے چمکی، باطل کی ظلمتیں دھواں بن کر اُڑیں۔ یہ سب بحمداﷲ تعالٰی ادنٰی تصدق کفش برداری اعلٰحضرت سیدالعلماء المحققین، سندالفضلاء المدققین، حامی السنن، ماحی الفتن، حجۃ الخلف، بقیۃ السلف، اعلم علماء العالم، سیدناالوالدالماجد المکرم حضرت مولانا محمدنقی علی خاں صاحب حنفی قادری برکاتی وکمترین برکات خاک بوسی آستان فیض نشان اقدس حضرت امام العرفاء الکاملین، سنام الاولیاء الواسلین، بدرالطریقۃ، بحرالحقیقۃ، حبرالشریعۃ، اقوی الذ ریعہ، سیدی ومولای ومرشدی وکنزی وذخری لیومی وغدی حضورسیدنا سیدشاہ آل رسول احمدی مارہروی
رضی اﷲ تعالٰی عنھا واتم نورھما ونورقبورھما واعادعلینا فی الدارین برکاتھما ورزقنا بمنّہ برھما اٰمین الٰہ الحق اٰمین
(اﷲ تعالٰی دونوں حضرت سے راضی ہو اور ان کا نور کامل فرمائے، ان کی قبروں کومنورکرے، دارین میں ہمارے اوپر ان کی برکتیں عائد فرمائے اور اپنے کرم سے ہمیں ان کی فرمانبرداری نصیب کرے، قبول فرما اے الٰہ برحق قبول فرما۔ت) ہے۔
والحمداﷲ رب العالمین
جواہلسنت ان حروف سے نفع پائیں مامول کہ دونوں حضرات عالیہ کو ایصال ثواب فاتحہ سے شادفرمائیں اور اس فقیرحقیر اور مولانا مولوی محمدعمرالدین صاحب موصوف کوکہ اس نفیسہ جلیلہ کے محرک تالیف اور
الدال علی الخیر کفاعلہ
(خیر کی راہ بتانے والا اسی کی طرح ہے جو خیر کو عمل میں لانے والاہے۔ت) کے مصداق منیف ہوئے اور عالی ہمتان زمن محبان دین وسنن حاجی اسحٰق آدم صاحب صباغ پلبندری وحاجی ابوحاجی حبیب صاحب پلبندری میمن ایمن حفظہمااﷲ تعالٰی عن الفتن والمحن کوجن کی ہمت بلند سے اصل کتاب اور جامع فضائل، قامع رذائل مولانا مولوی محمداسمٰعیل صاحب قادری نقشبندی شاذلی سلمہ العلی الولی کو جن کی سعی جمیل سے یہ اجزائے تذییل جلیل منطبع اواہلسنت ان جواہردینیہ سے منتفع ہوئے، دعائے عفووعافیت وخیروبرکات دنیاوآخرت سے یادفرمائیں۔ صحیح حدیث میں ہے: پس پشت اپنے بھائی مسلمان کے لیے دعاپرملائکہ کہتے ہیں آمین ولک بمثلہ تیری یہ دعاقبول اور اس کے مثل تجھے بھی حصول
والحمدﷲ ربّ العالمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔
الحمداﷲ! آج اس رسالہ سے تصانیف فقیر کاعددایک سواسی۱۸۰ہوا۔ اکرم الاکرمین جل جلالہ، قبول فرمائے اور فقیرحقیرواہلسنت کے لیے دارین میں حجت نجات بنائے آمین! حسن اتفاق یہ کہ یہ رسالہ سمع ارواح کے باب میں ہے اور شمار تصانیف میں ایک سواسی ۱۸۰ اور اسمائے الٰہیہ میں صفتِ سمع پردال اسم پاک سمیع ہے اس کے عددبھی یہی۔
نسئل السمیع ان یسمع دعواتنا ویسترعوراتنا ویومن روعاتنا ویقضی حاجاتنا ویغفرسیّآتنا ویصلی ویسلّم ویبارک علٰی سیّدنا الکریم النبی المکین محمد واٰلہ وصحبہ اجعین، کان ذلک لیوم ھواول نصف الاٰخرمن اٰخرالنصف الاول من اول النصف الاٰخر من العشر الثانیۃ من المائۃ الرابعۃ من الالف الثانی من ھجرۃ سیدالمرسلین مولی الاٰمال ومولی الامانی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم وبارک علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ وذریّتہٖ وحزبہٖ وعیالہٖ قدرحسنہٖ وجمالہٖ وجُودہٖ و نوالہٖ اٰمین اٰمین والحمدﷲ ربّ العالمین سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لاالٰہ الاانت استغفرواتوب الیک سبحان ربک ربّ العزّۃ عمّا یصفون وسلامٌ علی المرسلین والحمدﷲ ربّ العالمین۔
ربّ سمیع سے سوال ہے کہ ہماری دعائیں سن لے، ہمارے عیوب چھپائے، ہمارے خوف کی چیزوں کوامن دے، ہماری حاجتیں پوری فرمائے، ہمارے گناہ مٹائے،اور ہمارے کریم آقا بزرگ نبی حضرت محمد اور ان کی سب آل واصحاب پردرودوسلام اور برکت نازل فرمائے، یہ امیدوں کے عطافرمانے والے، آرزؤوں کے مولا،حضرت سیدالمرسلین کی ہجرت کے ہزارہ دوم کی چوتھی صدی کے دوسرے عشرے میں سے نصف آخر کے اوّل (۱۳۱۶) میں سے نصف اول کے ماہ آخر(جمادی الآخرہ) کے نصف آخر کے روزاول(۱۶) کوہوا۔ اﷲ تعالٰی ان پردرودوسلام اور برکت نازل فرمائے اور ان کی آل، اصحاب، اولاد، جماعت اور عیال پربھی، ان کے حسن وجمال اور جودونوال کے بقدرقبول فرما۔ اور تمام تعریف اﷲ کے لیے جوسارے جہانوں کا رب ہے۔ اے اﷲ! تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتاہوں، اور شہادت دیتاہوں کہ تیرے سواکوئی معبودنہیں، تیری بارگاہ میں توبہ واستغفار کرتاہوں۔ پاکی ہے تیرے رب کے لیے جو عزت کامالک ہے، ان باتوں سے جو وہ بناتے ہیں، اور سلام ہورسولوں پر، اور تمام حمد اﷲ کے لیے جوسارے جہانوں کاپروردگارہے۔(ت)