| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
جو فرق مراتب گماکر خلط مبحث کر ےجاہل ہے یا غافل ذاہل ،برزخ ومعاد امور غیبیہ ہیں جن میں قیاس و اجتہاد کو دخل نہیں، ان کاپتا تو نبی امین الغیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہی کے ارشاد سے چل سکتا ہے نہ مشائخ کی رائے سے۔ بلکہ علمائے کرام کو اس میں اختلاف ہے کہ عقائد میں تقلید مقبول ہے یا نہیں۔ اللہ تعالٰی کو ایک، رسول کو سچا، جنت ونار کو موجود، سوال و عذاب ونعیم قبرکو حق جاننے میں اس کا کوئی محل نہیں کہ فلاں فلاں مشائخ ایسا فرماتے تھے محض ان کے اعتبار پر مان لیا ہے ۔ ہاں عقائد میں کتاب وسنت واجماعِ اُمت و سواد اعظم اہل سنت کا اتباع ہے۔ اس لیے کہ خدا رسول نے ہمیں بتا دیا کہ اجماعِ ضلالت پر ناممکن اور سوادِ اعظم کا خلاف ا بتداع ہے۔ اب کتاب مجید دیکھئے تو بلاشبہ ثابت فرمارہی ہے کہ روح میّت نہیں، روح بے ادراک نہیں، روح کے ادراک بدن پر موقوف نہیں، روح فناے بدن کے بعد باقی ومدرک رہتی ہے برخلاف ان عبارات مشائخ کے جنھیں تم نے روح پر عمل کرکے صریح کتاب اللہ کے خلاف کردیا۔ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سنئے تو کیسی صریح وصحیح وجلیل وجزیل حدیثیں سماع موتٰی ثابت فرمارہی ہیں جنھیں سن کر پتھر موم ہوجائے۔ اجماع مانگیے تو اس نقول اوپر منقول، سواد اعظم درکار تو اس کا نمونہ مقصد سوم سے آشکار۔ یارب! پھر خلاف کی طرف راہ کدھر، بھلا یہ تو برزخ ومعاد کا مسئلہ ہے جن کے لیے کوئی فصل وباب کُتب فقہ میں نہ پائے گا کہ وہ بحث فقہ سے یکسر جدا ہیں، کسی قول یافعل کا موجب کفر ہوناتو خود افعالِ مکلفین ہی سے بحث ہے۔ اس کے بیان کو کتب فقہ میں ''باب الردۃ'' مذکور اور صدہا اقوال وافعال پر انہی مشائخ کے بیشمار فتوائے کفر مسطور، مگر محققین محتاط تارکین تفریط وافراط باآنکہ سچے دل سے حنفی مقلد اور ان مشائخ کرام سے خادم و معتقد ہیں۔ زینہار ان پر فتوٰی نہیں دیتے اور حتی الامکان تکفیر سے احتراز رکھتے بلکہ صاف فرماتے ہیں کہ اگر کوئی روایت ضعیفہ اگر چہ دوسرے ہی مذہب کی دربارہ اسلام مل جائے گی اسی پر عمل کریں گے، اور جب تک تکفیر پر اجماع نہ ہولے کافر نہ کہیں گے، وہی درمختار جس میں
اما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ ۱؎ الخ
اسی میں ہے:
الفاظہ تعرف فی الفتاوٰی بل افردت بالتالیف مع انہ لا یفتی بالکفر بشیئ منھا الا فیما اتفق المشائخ علیہ کما سیجیئ قال فی البحر وقد الزمت نفیس ان لا افتی بشیئ منھا ۲؎۔
یعنی الفاظ کفر کتب فتاوٰی میں معروف ہیں بلکہ ان کے بیان میں مستقل کتابیں تصنیف ہوئیں، اس کے ساتھ ہی یہ کہ ان میں سے کسی کی بناء پر فتوٰی کفر نہ دیاجائیگا مگر جہاں مشائخ کا اتفاق ثابت ہو جیسا کہ عنقریب کلام مصنف میں آتا ہے۔ بحرالرائق میں فرمایا: میں نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ ان میں سے کسی پر فتوٰی نہ دوں۔
(۱؎ درمختار مقدمۃ الکتاب(رسم المفتی) مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵) (۲؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۵)
تنویر الابصارمیں ہے :
لایفتی بتکفیر مسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسن اوکان فی کفرہ خلاف ولوروایۃ ضعیفۃ ۳؎۔
کسی مسلمان کے کفر پر فتوٰی نہ دیا جائے جبکہ اس کا کلام اچھے پہلو پر اتار سکیں یا کفر میں خلاف ہو اگر چہ ضعیف ہی روایت سے۔
(۳؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶)
ردالمحتار میں ہے :
قال الخیرالرملی اقول ولوکانت الروایۃ لغیراھل مذھبنا ویدل علٰی ذلک اشتراط کون مایوجب الکفر مجمعاً علیہ۱؎۔
یعنی علامہ خیرالدین رملی استادصاحبِ دُرمختار نے فرمایا اگرچہ وہ روایت دوسرے مذھب مثلاً شافعیہ یامالکیہ کی ہو اس لیے کہ تکفیر کے لیے اُس بات کے کفرہونے پر اجماع شرط ہے۔
(۱؎ ردالمحتار باب المرتد مصطفی البابی مصر ۳ /۳۱۶)
یہ علامہ بحر صاحب البحر و علامہ خیررملی و مدقق علائی دربارہ تقلید جیسا تصلب شدید حق وسدید رکھنے والے ہیں ان کی تصانیف جلیلہ بحر واشباہ و رسائل زینبہ ودر و فتاوٰی خیریہ وغیرہا کے مطالعہ سے واضح مگریہاں اُن کے کلمات دیکھئے کہ جب تک اجماع نہ ہو فتوٰی مشائخ پرعمل نہ کریں گے، ہم نے التزام کیاہے کہ اس پرفتوٰی نہ دیں گے تو وجہ کیاوہی کہ یہ بحث اگرچہ افعال مکلفین سے متعلق ہے مگر فقہ کادائرہ تو حیثیت حلال وحرام تک منتہی ہوگیا، آگے کفرواسلام، اگرچہ یہ اعظم فرض وہ اخبث حرام، مگراصالۃً اس مسئلہ کافن علم عقائدوکلام، وہاں تحقیق ہوچکاہے کہ جب تک ضروریات دین سے کسی شئے کاانکارنہ ہو کفرنہیں تو ان کے غیرمیں اجماع ہرگز نہ ہوگا، اور معاذاﷲ ان میں سے کسی کاانکارہوتو اجماع رُک نہیں سکتا، لہٰذا تمام فتاوٰی ونقول سے قطع نظر کرکے مسائل اجماعیہ میں حصر فرمادیا۔ جب یہاں یہ حال ہے توہمارامسئلہ جس میں نہ فعل مکلف نہ حلت وحرمت بلکہ ایک امربرزخ کے ثبوت وعدم ثبوت کی بحث ہے کیوں کتاب وسنت واجماع امت وسوادِاعظم ساداتِ ملت سے منقطع ہوکر مرہون نقول بعض کتب فقہیہ ہونے لگا
وھذاھو حق التحقیق والحق احق بالتصدیق
(یہی حق تحقیق ہے اور حق اس کازیادہ حقدارہے کہ اس کی تصدیق کی جائے۔ت)
جواب ششم: اقول سب جانے دو، یہ بھی مانا کہ یہ قول مشائخ یہاں حجت اور فی نفسہٖ قابلِ قبول ومتابعت ہے، اب اس سے زیادہ تنزل کاکوئی درجہ نہیں تاہم ہم پر اس سے احتجاج اصلاً موجہ نہیں، کسی دلیل کافی نفسہٖ کافی وصالح تعویل ہونا اور بات، اور اس سے ثبوت اور اتمام حجت ہونا اور، مثلاً قیاس دلیل شرعی ہے مگرنص کے آگے نامقبول، حدیث صحیح احاد حجت شرعیہ ہے مگر اجماع کے سامنے غیرمعمول، وعلٰی ہذا القیاس، ولہٰذا حدیث کی صحتِ حدیثی وصحت فقہی میں زمین وآسمان کافرق ہے، جس کی تحقیق انیق فقیر کے رسالہ
الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھومذھبی (عہ)
میں ہے، ان مشائخ کے اگریہ قول ہیں تو صدہا اکابراعلام کے ارشادات جلیلہ ہماری طرف ہیں، جن کا ایک نمونہ مقصد سوم نے ظاہرکیا اور ان میں اجلہ ائمہ ومشائخ علمائے حنفیہ بھی ہیں، تم نے پانچ متاخرین کے قول ذکرکیے ہم نے پچاس سے زائد وعلمائے حنفیہ مجتہدین فی المذہب وفقہاء النفس وعمائد محققین سلف وخلف کے ارشادات دکھائے ہیں جن میں خود اُن پانچ سے بھی امام نسفی و امام عینی و امام ابن الہمام شامل، ادھر اگر ایک کتاب میں اکثرمشائخنا کالفظ لکھا ہے تو ادھر متعدد کتب میں اجماع اہلسنت مذکورہوا ہے، اب دو راہیں ہیں، تطبیق وترجیح۔ ان میں تطبیق ہی اولٰی واول وبتصریح علماء حتی الوسع اسی پرمعوّل، اسے اختیارکیجئے تو بحمداﷲ سبیل واضح ہے کہ اثبات سماع روح کے لیے ہے اور انکار سماع بدن پرمحمول، اس کی تقریر اور اس کے منافع وفوائد کی تذکیر جواب اول میں مفصلاً تحریر، اور اگرتوفیق نہ ملے تو بہت خوب باب ترجیح کھلے، یوں بھی باذنہٖ تعالٰی میدان ہمارے ہی ہاتھ رہے گا۔
عہ: اس کاسوال شہرارکاٹ سے آیاتھا لہٰذا تاریخی لقب ''اعزالنکات بہ جواب سوال ارکات '' ہے، یہ رسالہ غیرمقلدوں کے اس مشہور مغالطہ کے رَد بلیغ میں ہے کہ امام اعظم نے خود فرمادیاہے جب حدیث صحیح ہوجائے تو وہی میرامذہب ہے، ایک غیرمقلد نے یہ اعتراض بہت طمطراق سے چھاپا اور حنفیہ سے طلب جواب ہوایہاں بھی وہ پرچہ بھیجا جس کے جواب میں بفضلہ تعالٰی یہ مختصرونافع رسالہ تحریرہوا ۱۲منہ(م)
اوّلاً ہماری طرف احادیث کثیرہ ہیں تمہاری طرف ایک بھی نہیں، کتنی حدیثوں میں سن چکے کہ
ان المیّت لیسمع
بیشک مردہ سنتاہے۔ یہ بھی کسی حدیث میں آیا کہ المیّت لایسمع مردہ نہیں سنتا۔ اور یہی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ :
لایعدل عن درایۃ ما وافقتھا روایۃ ۱؎، کما فی الغنیۃ وردالمحتار۔
درایت سے عدول نہ ہوگا جب کوئی روایت بھی اس کے موافق ہو، جیسا کہ غنیہ و ردالمحتار میں ہے(ت)
(۱؎ ردالمحتار واجبات الصلوٰۃ مصطفی البابی مصر ۱ /۳۴۳)
ثانیاً روح کی موت وبے ادراکی اور اس کے ادراکات کاجسم پرتوقف کہ تمہارے طورپرمفاد کلام مشائخ ہے کتاب اﷲ کے خلاف ومعارض ہے۔