عائدہ رابعہ: ادراکِ روح مشروط بجسم ہیں یا نہیں، توضیح مقام یہ کہ وہ جو ملا تفہیمی نے اہل سنت سے نقل کیا کہ ادراکِ الم ولذت کے لیے وقت تنیعم وتعذیب ( جسے وقت ایلام وتعذیب کہا اور ان کے نصیبوں لذت کے حصے کا بھی الم ہی رہا) ایک نوع حیاتِ میّت آجاتی ہے اور اس سے سماع لازم نہیں (قطع نظر اس سے کہ فقرہ آن مستلزم سماع نیست عبارات مستندہ میں نہیں) یہ قول اہلسنت بھی قطعاً بدن ہی کے حق میں ہے کہ قبر میں عود حیات اسی کےلیے ہوتا ہے، اور اگر حدوث زیادت تعلق بالبدن وقت انعام وایلام وسوال کو روح کے لیے عود حیات سے تعبیربھی کیجئے توا س سے اگر فرق پڑے گا توا دراکات جسمانیہ میں جس کا حاصل تفاوت آلیت بدن کی طرف آئل مگر اہلسنت کے نزدیک ادراکات روح بدن پر موقوف نہیں تو وہ ان تعلقات حادثہ سے پہلے بھی ویسے ہی مدرکہ عالمہ مبصرہ سامعہ تھی جیسی ان کے بعد یہ تفاوت کہ ایک نوع حیات ملتی ہے جس سے ادراک لذت والم تو ہو اور سماع نہ وہ وہاں ماشی نہیں آخر یہاں گھٹا بڑھا کیا یہی بدن سے تعلق، پھر اس سے ادراکاتِ روح کو کیا علاقہ تھا کہ اس کے تفاوت سے وہ متفاوت ہوں بخلاف بدن کہ اس کے ادراکات بنفسہٖ نہیں بلکہ تعلق روح ہی کے باعث ہیں اور تعلقات متفات تو وقت مفارقت سلب کلی ادراک ہوگا اور جتنا تعلق بڑھتا جائے گا ادراک بڑھے گا۔ لہذا ممکن کہ تعذیب وتنعیم کے لیے تعلق کے مدارج متوسط سے وہ درجہ دیا جائے کہ بدن صرف ادراک لذت والم کا آلہ کار پائے اس کے ذریعہ سے سماع وابصار ہاتھ نہ آئے اورسوال وکلام کےلیے اس سے اعلٰی درجہ ملے جس کے باعث سمع بدن کا بھی رستہ کھلے اور وجہ وہی کہ یہ سب امور روح وجسم دونوں سے متعلق ہیں تنعیم وتعدیب میں مشارکتِ بدن کو صرف اسی قدر درکار،اور سوال میں شرکت کو سمع بھی مطلوب، غرض کلام اہلسنت بدن پر محمول کیجئے ۔ اور یقینا یہی ہے تو آپ کا مطلب فوت ، محنت رائگاں، اور خواہ مخواہ روح کے گلے باندھیے تو ضلال اعتزال نقد وقت ہے مفر کہاں !بالجملہ بحمد اللہ توفیق الٰہی رفیق اہلسنت اور خذلان وحرمان نصیب اہل بدعت ہے جو تیر ان کی کمان سے وصل پاتے ہیں فصل سے پہلے انھیں کے منہ پر پلٹا کھاتے ہیں، علمائے اعلام کے جتنے کلام بہزار جانکا ہی اپنی دلیل بنا کر لاتے ہیں وہ انہی کے دشمن قاتل اور اہلسنت کے سچے دلائل بن جاتے ہیں، الحمد اللہ ملاجی کا ہاتھ یکسر خالی ہوگیا اس ساری بحث میں ان کی تمام چہ می گوئیوں کا حرف بحرف قلمع قمع ہولیا، مُلاجی! اب توہمیں اجاز ت دیجئے کہ آپ ہی کے صفحہ عکس (عہ)حلق کے شکم زادبول آپ ہی کے منہ پر پلٹ دیں کہ:
بے چارہ (قنوجی) عیارہ پختہ جنون خام کارہ کہ ازروی کیش خویش کو روکربل خشت وحجر بلکہ از انہم بترشدہ است بتصور اینکہ من ہر چہ خواہم نگاشت عامہ مومنین بران اعتماد خواہند ساخت ہر چہ درشکم داشت از دہان برآورد افسوس کہ مردمان رعایت این بیچارہ کہ شبہادریں باب محنت کشیدہ نہ کردہ تغلیط وے ظاہر کردیم پس ایں معاملہ طشت از بام شد۔
بے چارہ (قنوجی) عیار، پختہ جنون، خام کار، جو اپنے مذ ہب کی رو سے اندھا، بہرا بلکہ اینٹ پتھر، بلکہ ان سے بھی بدتر ہوچکا ہے، اس خیال سے کہ میں جو کچھ لکھ دوں گا عام مسلمان اس پر اعتماد کرلیں گے، جو کچھ شکم میں رکھتا تھا زبان پر لایا، افسوس کہ یہ بے چارہ جس نے اس باب میں کئی رات مشقت جھیلی ہم لوگوں نے اس کی رعایت نہ کرکے اس کی تغلیظ ظاہر کردی تو یہ معاملہ طشت ازبام ہوگیا، (ت)
عہ: ارقام نجومیہ میں۱۳۸ کو قلح لکہتے ہیں جس کا عکس حلق ۱۲منہ (م)
والحمد اﷲ رب العٰلمین وقیل بعدا للقوم الظالمین۔
اور ساری تعریف اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اور کہا گیا ہلاکت ہو ظالموں کے لیے۔ (ت)
جواب پنجم : فرض کیا کہ وہ معتزلہ نہیں مشائخ اہلسنت ہی ہیں، مگر یہ مسئلہ کچھ فقہیہ نہیں صاحب مائۃ مسائل کو اقرار ہے کہ فقہ سے جدا متعلق باخبار ہے سائل نے سوال کیا تھا:
سماعت موتٰی کلام احیاء در شرح جائز است یا گناہ کدام گناہ؟
مردوں کا زندوں کا کلام سننا شریعت میں جائز ہے یا گناہ، کون ساگناہ؟ (ت)
آپ اس کے جواب میں اظہار علم فرماتے ہیں کہ:
عادت وتکیہ کلام سائل آنست کہ درہر جامی پرسدجائز است یاگناہ کدام گناہ درین مقام پرسیدن باین عبارت نمی سز دزیرا کہ جواز وگناہ درافعال واعمال مے شود واین متعلق باخبار است کہ این امر ثابت است یا نہ ۱؎، ملخصاً۔
سائل کی عادت اور تکیہ کلام یہ ہے کہ ہرجگہ پوچھتا ہے جائز ہے یا گناہ؟ کون سا گناہ؟ یہاں ان الفاظ سے سوال مناسب نہیں اس لیے جواز اور گناہ افعال واعمال میں ہوتاہے۔ اور یہ اخبار سے متعلق ہے کہ یہ امر ثابت ہے یا نہیں؟ ملخصاً (ت)
اور جب مسئلہ علم فقہ سے ہی نہیں تو حنفیت وشافعیت کی تخصیص یا تقلید بعض یا اکثر مشائخ سے اسے تعلق یعنی چہ۔ متعلق باخبار ہے اخبار واحادیث کے خلاف غیر ماخذ سے اخذ کیا معنی، عرض تمہید یہ اٹھا کر بخلاف نصوص صریحہ، احادیث صحیحہ جواب یوں دینا:
پس جواب این ست کہ نزد اکثر حنفیہ سماعتِ موتٰی ثابت نیست ۲؎۔
پس جواب یہ ہے کہ اکثر حنفیہ کے نزدیک سماعِ موتٰی ثابت نہیں۔ (ت)
اقول صدر کلام میں واضح ہوچکا کہ یہ کلام ہمارے ائمہ مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہم سے منقول نہیں، استدلال مسئلہ منصوصہ میں طبع آزمائی مشائخ ہے۔ فقہیات میں ائمہ کرام کے بعد مشائخ اعلام کی تقلید بھی علی الراس والعین کہ:
(ہر بات میں کوئی نکتہ اور ہرنکتہ کا کوئی موقع ہوتا ہے۔ ت)
موافق مخالف سب اہل عقول کا قدیمی معمولی کہ ہر فن کی بات اس کی حدتک محدود مقبول ،تحقیق حلال وحرام میں فقہ کی طرف رجوع ہوگی، اور صحت وضعف حدیث میں تحقیقات فن حدیث کی طرف طبی مسئلہ نحو سے نہ لیں گے، نہ نحو ی طب سے علماء فرماتے ہیں شروحِ حدیث میں جو مسائل فقہیہ کتب فقہ کے خلاف ہوں مستند نہیں بلکہ تصریح فرمائی کہ خود اصولِ فقہ کی کتابوں میں جو مسئلہ خلاف کتب فروع ہومعتمد نہیں، بلکہ فرمایا جو مسئلہ کتب فقہ ہی میں غیر باب میں مذکور ہو مسئلہ مذکور فی الباب کا مقادم نہ ہوگا کہ غیر باب میں کبھی تساہل راہ پاتا ہے۔
وقد بینناکل ذلک فی رسالتنا المبارکۃ ان شاء اﷲ تعالٰی فصل القضاء فی رسم الافتاء۔
یہ سب ہم نے اپنے رسالہ فصل القضاء فی رسم الافتاء میں میں کیا ہے جو بابرکت ہے اگر اللہ تعالٰی نے چاہا (ت)