عائدہ ثالثہ: بحمد اللہ تعالٰی یہاں سے واضح ہواکہ عدم ادراک امور دینویہ میں عذر باطل حجاب وحائل خشت و گل، اور ملا تفہیمی صاحب کا عذر طمطراق اشتغال واستغراق کہ صفحہ ۶۲ و ۶۳ میں لکھا:
ارواح طیبہ مجردہ ازابدان بہ جہت اشتغال عبادت رب حقیقی واستغراق بہ کیفیت آں التفات باکوان و حوادث این عالم ندارند ۲؎۔
اجسا م سے مجرد ارواح طیبہ رب حقیقی کی عبادت میں اشتغال اور اس کی کیفیت میں استغراق کے باعث اس دنیا کے موجودات وحوادث کی جانب التفات نہیں رکھتیں۔ (ت)
(۲؎ تفہیم المسائل استمداد از صاحب قبر مطبع محمدی لاہور ص ۵۸)
محض مہمل وناروا وپادر ہوا تھے۔
اقول جب تم لو گ کلام مشائخ سے مستدل اور اس کے اس معنی محال پر حامل ہو تو تمھیں ان اعذارِ باردہ کی کیاگنجائش!
اولاً مشائخ تو نفس موت کو منافی ادراک اور اس کی وجہ اتنفائے اصل قوت حساس وادراک مان رہے ہیں اور ان اعذار کا یہ حاصل کہ قوت مدرکہ توموجود وکامل مگر حجاب حائل یا التفات زائل۔
ثانیا وہ اس موت کو منافی مطلق ادراک بے تخصیص امور دنیویہ جان رہے ہیں اور تمھارے اعذار انہی امور خارجہ سے خاص___ ثالثاً حائل وحجاب بدن پر ہے اور کلام روح میں،
رابعاً پر دہ وحیلولت صرف مدفون کے لیے ہے صرف بعد دفن تاعدم انکشاف اور کلام عام بلاخلاف ۔
خامساً تمھارے حاجب وحائل کا پردہ تواسی دن چاک ہوچکا جس دن مشائخ نے وقت سوال سماع آواز نعال تسلیم کیا اورملا تفہیمی نے در وقت سوال وجواب ہمہ قائل سماع اند ۱سوال وجواب کے وقت سب سماع کے قائل ہیں۔ ت) کا مژدہ سنایا۔
(۱؎ تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص۸۱)
سادساً عبادت سے اشتغال اور اسی کیفیت میں استغراق تو سب اموات کو عام نہ مانئے گا یوں کہئے کہ منعم ہے تو لذت نعمت، یا معاذاللہ معذب ہے تو عذاب کی شدت میں مستغرق ہونا مانع سماع ہے۔ میں کہتا ہوں(عہ) اس لذت یا الم کی حالت میں سوال محال ہے یا ممکن برتقدیر اول دلیل استحالہ ارشاد ہو اور زیادہ تفصیل چاہئے تو مقصد اول نوع اول سوال اول کی تقریر یاد ہو برتقدیر ثانی ممکن کی جانبین وجود وعدم یکساں اور برزخ غیب اور غیب پر رجمابا بالغیب حکم لگانا ضلالت وعیب امام الحرمین ارشاد میں ارشاد فرماتے ہیں :
جو چیز یں ہم سے غائب ہیں ان میں کسی ممکن الثبوت امر کے ثابت ہو جانے کا حکم دلیل سمعی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (ت)
عہ تنبیہ: اقول بقائے روح وادراکات روح بعد فراق میں اگر استصحاب ناکافی سمجھ کر ہمیں مدعی بھی ہونا مانیے تو یہ دعوٰی ایسے نصوص قواطع واجماع ساطع سے ثابت جس میں موافق مخالف کسی کو مجال تامل نہیں، اخر مخالفین بھی تنعیم و تعذیب وادراکات امور برزخیہ مانتے ہیں، اس کے بعد مسئلہ نزاعیہ میں بداہۃً ظاہر ہمارے ساتھ ہے کہ جب مدر ک باقی ادراک باقی پھر جو نفی بعض مانے مدعی تخصیص وہ ہے دلیل پیش کرے اور اگر بالفرض بنظر ظاہر الفاظ عکس ہی مانے تو ہمارا دعوٰی سماع ہے، اور دلیل سمع جس کا وجوب تسلیم واجب التسلیم اور ورود مقصد دوم وسوم میں روشن ہوگیا تو کسی مقدمہ پر منع کی گنجائش نہیں اور دعوٰی پرتو منع کے منع ہی نہیں خصوصاً بعد اقامت دلیل لاجرم یہ اعذار بغصب منصب استدلال ہیں اور اب یہ قانون منا ظرہ وظائف منعکس فاحفظ تحفظ ۱۲منہ (م)
قضایامیں سے ممکنات بھی ہیں ان کی دوجانبوں میں سے کسی ایک کے جزم کی کوئی سبیل نہیں تو اللہ تعالٰی اس کے بیان کے لیے اپنے فضل و رحمت سے رسولوں کو مبعوث فرمایا۔ (ت)
(۲؎ شرح عقائد نسفی بحث فی ارسال الرسل دارالاشاعۃ العربیۃ شوکت لاسلام قندھار ص۹۸)
تفسیر کبیرمیں ہے :
کل ماجاز وجودہ عدمہ عقلا لم یجز المصیر الی الاثبات اوالی النفی الابدلیل ۳؎۔
عقلاًجس کا وجود اور عدم دونوں ممکن ہو اس میں دلیل سمعی کے بغیر اثبات یانفی کی طرف جانے کا جواز نہیں(ت)
(۳؎ تفسیر کبیر)
لاجرم اشتغال کے سبب عدم سماع کا شگوفہ مہمل وبیکار ہو کر رہ گیا اور شرع مطہر سے جداگانا دلیل کی حاجت رہی کہ یہ تلذذ وتالم مانع سماع ہیں اگر دلیل نہیں اور بیشک نہیں تو آپ کا خذلان وخسران ظاہر وعیان، ورنہ وہ دلیل ہی نہ دکھائے، عبث وناتمام باتوں میں کیوں وقت گنوائیے۔
سابعاً اگر یہ اشتغال مانع سماع ہوتا خواہ تمھاری ہو سات عاطلہ خواہ جہاں فلاسفہ کے مقدمہ باطلہ سے جس کی دھجیاں امام فخرالدین رازی وغیرعلماء اڑا چکے کہ نفس آن واحد میں دو چیزوں کی طرف توجہ نہیں کر سکتا تو واجب کہ اہل برزخ کو کلام ملائک کا بھی سماع نہ ہوتا کہ استغراق مانع کے آگے سماع سماع سب ایک سے حالانکہ تالی قطعاً باطل ہے تو یوں ہی مقدم، غرض استغراق کو امور برزخیہ ودنیویہ میں فارق بنانا چاہا تھا وہ خود محتاج فارق ہے۔
ثامناً العظمۃ ﷲ والضراعۃ الی ا ﷲ
(عظمت وبزرگی اللہ کے لیے ہے اور ضعف وذلالت اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے۔ ت) وہ موت کا تازہ صدمہ اٹھائے ہوئے روح جس کا ادنٰی(عہ) جٹھکا سو ضرب شمشیر کے برابر ،
ؕؕؕؕؕؕؕؕؕ
عہ: ابن ابی الدنیا عن الضحاک بن حمزۃ مرسلا عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۱۲
اسے ابن ابی الدنیا نے ضحاک بن حمزہ سے مرسلاً نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)
جس کا صدمہ(عہ ۱) ہزار ضرب تیغ سے سخت تر ، بلکہ ملک الموت (عہ ۲)کا دیکھنا ہی ہزار تلوار کے صدمہ سے بڑھ کر، وہ نئی جگہ وہ نرمی تنہائی، وہ ہرطرف بھیانک بیکسی چھائی، اس پر وہ نکیرین کا اچانک آنا وہ سخت ہیبت ناک صورتیں دکھانا کہ آدمی دن کو ہزاروں کے مجمع میں دیکھے تو حواس بجانہ رہیں، کالارنگ (عہ ۳) نیلی انکھیں (عہ ۴) دیگوں (عہ ۵) کے برابر بڑی، ابرق کی طرح شعلہ زن سانس (عہ ۶) جیسے آگ کی لپیٹ،
عہ ۱: الخطیب فی التاریخ عن انس ابن مالک عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والحارث ابن ابی اسامہ بسند جید عن عطاء بن یسارمرسلا ۱۲۔
اسے خطیب نے تاریخ میں حضرت انس بن مالک سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا، اور حارث بن ابی اسامہ نے بسند جید عطاء بن یسار سے مرسلا روایت کیا۔ (ت)
عہ۲ : ابو نعیم فی الحلیۃ عن واثلۃ بن الاسقع عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲
اسے ابو نعیم نے حلیہ میں واثلہ بن اسقع سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)
عہ۳ : حدیث عن الترمذی وحسنہ وابن ابی الدنیا والاٰجری فی الشریعۃ وابن ابی عاصم فی السنۃ والبیھقی عن ابی ھریرہ عن النبی صـلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۱) اسے ترمذی نے بافادہ تحسین روایت کیا اورابن ابی الدنیا نے، اور شریعہ میں آجری نے اور سنہ میں ابن ابی عاصم نے اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔
(۲) البیھقی فی عذاب القبر عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔
اور بیہقی نے عذاب قبر میں حضرت ابن عباس سے انھوں نے بنی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔(ت)
عہ۴ : حدیث اول و ۳ابن المبارک فی الزھد وابن ابی شیبۃ والاٰجری والبیہقی عن ابی الدرداء من قولہ۱۲
حدیث اول و ۳ ابن المبارک نے زہد میں اور ابن ابی شیبہ آجری اور بہیقی نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ان کے کلام میں (موقوفاً) روایت کیا (ت)
عہ۵: حدیث ۴ الطبرانی فی الاوسط وابن مردویۃ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱۲
حدیث ۴ طبرانی نے معجم اوسط میں ،ا ور ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی۔ (ت)
عہ۶ : حدیث۲ و ۵ ابویعلی وابن ابی الدنیا عن النعیم، حدیث ۶ ابوداؤد فی البعث والحاکم فی التاریخ والبیھقی فی عذاب القبر عن امیر المومنین عمر، حدیث ۷ وابن ابی الدنیا عن ابی ہریرۃ، حدیث ۸ وھو وابوالنعیم و الاٰجری والبیھقی عن عطاء ابن الیسار مرسلا کلھم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲
حدیث۲ و۵ کو ابویعلی و ابن ابی الدنیا نے نعیم سے روایت کیا، حدیث ۶ ابوداؤد نے بعث میں، حاکم نے تاریخ میں اور بیہقی نے عذاب قبر میں امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، حدیث ۷ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی، حدیث ۸ ابن ابی الدنیا ، ابو نعیم، آجری اور بیہقی سب نے عطاء بن یسار سے مرسلا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی۔ (ت)
بیل (عہ ۱)کے سینگوں کی طرح لمبے نوک دار کیلے، زمین(عہ ۲) پر گھسٹتے سرکے پیچدہ بال(عہ ۳)، قدوقامت جسم وجسامت بلاقیامت کہ ایک شانے سے دوسرے تک (عہ ۴)منزلوں کا فاصلہ ، ہاتھوں(عہ ۵)میں لوہے کاوہ گرز کہ ا گر ایک بستی کے لوگ بلکہ جن وانس (عہ ۶) جمع ہوکر اٹھاناچاہیں نہ اْٹھا سکیں، وہ گرج (عہ ۷)کڑک کی ہولناک آوازیں، وہ دانتوں (عہ ۸) سے زمین چیرتے ظاہر ہونا، پھر ان آفات پر آفت یہ کہ سیدھی طرح بات نہ کرنا، آتے ہی جھنجھوڑ (عہ ۹)ڈالنا، مہلت نہ دینا کڑکتی (عہ۱۰) جھڑکتی آوازوں میں امتحان لینا
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ارحم ضعفنا یا کریم یا جمیل صل وسلم علی نبی الرحمۃ واٰلہ الکرام وسائر الامۃ اٰمین اٰمین یاارحم الراحمین۔
عہ۱ :حدیث پنجم ۱۲ عہ۲ :حدیث چہارم و پنجم ۱۲ عہ۳ : دوم و ششم وہفتم ۱۲
عہ۴ :حدیث سوم۱۲ عہ ۵ :حدیث پنجم۱۲ عہ۶: حدیث ششم و ہفتم ۱۲
عہ۷: حدیث پنجم ۱۲ عہ۸ :حدیث دوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم ۱۲
عہ۹: حدیث دوم، ششم، ہفتم ۱۲
عہ۱۰ : حدیث دوم و ہشتم وحدیث ۹ احمد والطبرانی فی الاوسط والبیھقی وابن ابی الدنیا عن جابر۔ حدیث ۱۰ وابن ابی عاصم و ابن مردویۃ والبیہقی بوجہ اٰخرعنہ، حدیث ۱۱ والاٰجری فی الشریعۃ عن ابن مسعود کلاھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ۱۲ ۔
حدیث ۲ و ۸ و ۹ امام احمد نے اور معجم اوسط میں طبرانی نے اور بیہقی وابن ابی الدنیا نے حضرت جابر سے روایت کی۔ حدیث ۱۰ ابن ابی عاصم، ابن مردویہ اور بہیقی نے ان ہی سے ا یک دوسرے طریق سے روایت کی۔ حدیث ۱۱آجری نے شریعہ میں حضرت ابن مسعود سے ، دونوں حضرات نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا، رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ (ت) ۱۲
ایسے عظیم وقت میں شاید آپ کا استغراقی خیال تو یہی حکم لگائے کہ کھلے میدان میں توپ کی آواز بھی سننے میں نہ آئے مگر مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صحیح حدیثیں ارشاد فرمارہی ہیں کہ ایسی حالت میں اتنے پردوں میں مردہ ایسی خفی آواز جوتوں کی پہچل سنتا ہے جس کا تمھیں خود اعتراف ہے اور وہی امام عینی مستند مائۃ مسائل شرح صحیح بخاری شریف میں فرماتے ہیں :
فیہ ذھول عماورد فی بعض الاحادیث ان صاحب القبر کان یسأل فلما سمع صریر السبتتین اصغٰی الیہ فکاد یھلک لعدم جواب الملکین فقال لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم القھما لئلا توذی صاحب القبر ذکرہ ابوعبداﷲ الترمذی ۱؎۔
یعنی اس قائل کو یادنہ رہاوہ جو ایک حدیث میں ایا ہے کہ قبر والے سے سوال ہورہا تھا اتنے میں جوتوں کی پہچل اس نے سنی ادھر کان لگائے جواب میں دیر ہوئی، قریب تھا کہ ہلاک ہوجائے، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس جوتا پہن کر چلنے والے سے فرمایا انھیں اتارڈال کر مردے کوایذا نہ پہنچے۔ یہ حدیث ابوعبداللہ محمد ترمذی نے ذکر فرمائی۔ (ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری با ب المیّت یسمع خفق النعال ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۸ /۴۷ ۱)
اورپھر وہ سننا بھی کاہے سے، گوشِ سر جس کا ادراک بہ نسبت ادراک روح بہت قاصر ومقصود، تو بداہۃً ثابت کہ احوال برزخ آپ کے اوہام عادیہ سے منزلوں دور، اور عادات معہودہ دار دنیا پر ان کا قیاس باطل و مہجور۔