Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
239 - 243
عائدہ ثانیہ: وکانھا الاولی بعبارۃ اخصر
 (گویا یہ زیادہ مختصر عبارت میں پہلا ہی ہے۔ ت) میّت میں حیات نہیں، اس سے مراد روح ہے یا بدن، اگر بدن تو بحث محض بیگانہ، اور اگر روح تو تم یہی مان کر اہلسنت سے خارج وبری اورا ن کی طرف ان کی طرف نسبت کرکے کذاب ومفتری ہوئے، اہلسنت ہر گز روح کے بے حیات نہیں مانتے اگر کہیے موت مجازی تو مانتے ہیں۔ 

اقول ہاں مگر اس کا اثر ادراکات روح پراصلا نہیں کما مرّمراراً ( جیساکہ کئی بار گزرا۔ ت) خود ملاجی کی عبارت بیہوشی مظہر حوالہ تفسیر عزیزی ابھی گزری اور تم صراحۃً وہ موت مان رہے ہوجو نافی ومنافی ادراک ہے اسی کو کلام مشائخ سے نقل کرتے اور اسی پر انکار سماع کی بناء رکھتے ہو توقطا موت حقیقی مراد لیتے ہو اور اسے روح کے لیے ماننا ، یہی اعتزال ہے۔ اگر کہئے معتزلہ توروح کے لیے موت منافی مطلق ادراک مانتے ہیں، ولہٰذا عذاب قبر محال جانتے ہیں اور یہاں مراد وہ موت ہے جسے صرف ادراک صور واصوات دنیاوی سے تنافی ہو نہ برزخیہ سے۔
اقول اولاً یہ تخصیص محض بے دلیل وباطل ہے، موت بھی مانو منافی ادراک بھی جانو، جیسا کہ کلام مشائخ میں مصرح ہے پھر اسے ادراک بعض دون بعض سے خاص کرو، یہ جہل اقبح ہے موت کہ منافی ادراک سے ہر ادراک کے منافی ہے اور نہیں تو کسی کے نہیں، خود اسی تفہیم المسائل میں براہ جہالت اپنی سند سمجھ کر نقل کیا۔
درمدارک نوشتہ توفیھا اماتتھا وھوان یسلب ماھی بہ (عہ۱)حیۃ حساسۃ دراکۃ۱؂۔
مدارک میں لکھا ہے: توفٰی کا معنی انھیں موت دینا وہ یہ کہ جس امر کی وجہ سے یہ زندہ، حساس، با ادراک ہیں اسے سلب کرلیا جائے۔ (ت)
 (۱؎ تفہیم المسائل    عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ    مطبع محمدی لاہور    ص۸۲ )
عہ ۱ : صحیح ہم چناں است ودرتفہیم المسائل ایں را ماھی جثۃ ساختہ ودرغلط نامہ ہم بہ تصحیحش نہ پرداختہ پر غلط است ۱۲منہ (م)
صحیح بھی اسی طرح ہے (ماھی بہ حیۃ) تفہیم المسائل میں اسے ماھی جثۃ بنادیا اور غلط نامہ میں بھی اس کی تصحیح نہ کی جبکہ یہ بلکل غلط ہے۔ (ت)
پھر لکھا :
امام راغب درمفردات گفتہ کہ الموت زوال القوۃ الحساسۃ ۲؎۔
امام راغب نے مفردات میں فرمایا: موت قوت احساس کے زوال کا نام ہے۔ (ت)
 (۲؎ تفہیم المسائل    عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ    مطبع محمدی لاہور    ص۸۲)
کیوں حضرات! جب راساً حس وادراک کی قوت زائل ہوگئی مدرکہ ہی چل دی تو اب ادراک بعض کا ہے سے ہوگا یارب! یہ موت کون سی کہ آدھی کو شنوا آدھی سے بہری، آدھی سے اندھی، ایک فرد ادراک بھی باقی ہے توحیات ثابت ہے اور موت منتقی کہ حیات باجماع (عہ۲) عقلاً شرط ادراک ہے اور موت منافی مشروط نہ بے شرط متحقق ہوگا نہ منافی منافی سے ملتصق۔
عہ ۲: ای ومن خالف فقدخرج من المعقول فکان لم یبق من اھل العقول وھم الشرذمۃ الذلیلۃ الصالحیۃ ۱۲ منہ (م)
یعنی جو بات ہو اوہ معقول سے خارج ہوا توا ہل عقول سے نہ رہا، اوریہ فرقہ ذلیلہ صالحیہ والے چند افراد ہیں۔ (ت)
ثانیاً یوں بھی اعتزال سے مفر کہاں، جب باوصف موت ادراکات امور برزخ علم وسمع وبصر باقی مانے تو اور معتزلہ کا مذہب نہ سہی، طوائف معتزلہ سے فرقہ صالحیہ کا مشرب سہی، جس کا ذکر آپ نے اسی تفہیم المسائل میں بہ شدت سفاہت مقابل اہلسنت کیاتھا کہ:
درشرح مواقف نو شتہ کہ تجویز قیام علم وقد رت وارادہ وسمع وبصر میّت مذہب فرقہ صالحیہ از معتزلہ لہ است ۱؎۔
شرح مواقف میں لکھا ہے کہ میّت کے ساتھ علم، قدرت، ارادہ اور سمع وبصرہ قائم ماننا معتزلہ کے فرقہ صالحیہ کا مذہب ہے۔ (ت)
 (۱؎ تفہیم المسائل        عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ        مطبع محمدی لاہور    ص۸۸)
ذی ہوش کو اتنی نہ سوجھی کہ اہل سنت نے کس دن موصوف بالموت کو بحال موصوفی بالموت موصوف بالادراک مانا تھا، وہ تو جس کے لیے ادراکات مانتے ہیں اسے ہرگز میّت نہیں کہتے ہمیشہ زندہ جانتے ہیں، مگر ہاں اب آپ نے روح کو میّت بھی مانا اور عذاب قبر ٹھیک کرنے کے لیے ادراکاتِ برزخیہ بھی ثابت کیے، یہ عین مذہب صالحیہ سے وہ بھی اسی طور پر قائل عذاب ہوئے ہیں، اسی مستخلص الحقائق مستند مائۃمسائل کی عبارت جواب اول کی دلیل ہفتم میں گزری کہ صالحی کے نزدیک میّت باوصف موت معذب ہوتا ہے، نیز اسی کفایۃکی اسی بحث میں ہے :
عن ابی الحسن الصالحی یعذب المیّت من غیر حیاۃ اذالحیاۃ عندہ لیست بشرط لثبوت الالم۲؎۔
ابوالحسن صالحی سے منقول ہے کہ میّت کو بغیرحیات کے عذاب ہوتاہے اس لیے کہ اسی کے نزدیک ثبوت الم کے لیے حیات شرط نہیں۔ (ت)
 (۲؎ کفایۃ مع فتح القدیر    باب الیمین فی الضرب الخ      نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۴۶۱)
نیز وہی امام عینی عمدۃ القاری میں بعد ذکر مذہب صالحی فر ماتے ہیں :
وھذا خروج عن العقول لان الجماد لاحس لہ فکیف یتصور تعذیبہ ۳؎۔
اوریہ معقول سے خروج ہے اس لیے کہ جماد کے پاس حِس نہیں ہوتی توا س کی تعذیب کیونکر متصور ہوگی۔ (ت)
 (۳؎ عمدۃ القاری شرح بخاری    باب المیّت یسمع خفق النعال    بیروت        ۸ /۱۴۷)
اگرکہیے ہم یہ ادراکات بعودِ حیات مانتے ہیں بخلاف صالحی اقول ذرا ہوش میں آکر بھلا اس عود حیات پہلے بھی روح کو ادراک امور برزخیہ تھا یا نہیں، اگر نہیں تو حجاب منکشف اور عذر منکسف، ثابت ہواکہ تم نے روح کو وہی موت مانی جو منافی مطلق ادراک ہے۔ اب عام معتزلہ میں جا ملے، اور اگر ہاں تو عود حیات کا حیلہ اٹھ گیا۔روح میّت بحال ممات بےعود حیات صاحب ادراکات تھی۔ اب معتزلہ صالحیہ میں جا ملے۔ مفر کدھر، کیا یاد کروگے کہ کسی سے پا لا پڑا تھا، ہاں مفراس میں تھا کہ ان سب اقوال وابحاث کو دربارہ بدن مانئے اور روح کو ان تمام بر دومات سے پاک وصاف جانیے، بدن ہی کو مشائخ مردہ وبے فہم کہتے اور اسی کے سماع بحال موت سے انکار رکھتے ہیں، اب ٹھکانے سے آ گئے مگر ہیہات کہا تم اور کہا حق کا قول
واﷲ المستعان علی کل متکبر جھول
 (ہر متکبر جاہل کے برخلاف اللہ تعالٰی حامل ومدد گار ہے۔ ت)
ثالثا صریح جھوٹے ہو، کلام مشائخ میں نشان تخصیص مفقود، بلکہ ان کے بطلان پر تنصیص موجود ، کیا انھوں نے موت کو منافی ادراک بتاکر شبہ عذاب قبر وارد نہ کیا؟ کیا عود حیات سے اس کا جواب نہ دیا؟ کیا خود ملا تفہیمی نے اپنی پاؤں میں تیشہ زنی کو نہ کہا کہ:
مقصود فقہاء ازنفی سماع دریں مقام نفی سماع عرفی و حقیقی ہر دو ست زیرا کہ فقہا نفی سماع مطلق کردہ اند نہ بتقیید عرف واگر نفی صرف سماع عرفی نہ حقیقی مقصود می بود حاجت جواب دادن از مسئلہ عذاب قبر نبود وتوجیہ کردن دیگر وقائع کہ برسماع موتٰی دال است فھل ھذا الا توجیہ بما لایرضٰی بہ قائلہ ۱؎۔
اس مقام پر نفی سماع سے فقہاء کا مقصود سماع عرفی وحقیقی دونوں کی نفی ہے اس لیے کہ فقہا نے سماع کی نفی مطلق کی ہے نہ کہ عرف کی جگہ قید لگا کر۔ اگر حقیقی نہیں ـ صرف عرفی سماع کی نفی مقصود ہوتی تو مسئلہ عذاب قبرکا جواب دینے کی ضرورت نہ تھی اور وسرے وقائع جو سماع موتی پر دلالت کرتے ہیں نہ ان کی توجیہ کی ضرورت تھی یہ ایسی توجیہ ہے جس پر اس کا قائل راضی نہ ہو (ت)
 (۱؎ تفہیم المسائل    عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ    مطبع محمدی لاہور    ص۸۳)
توقطعاً ثابت کہ وہ اس موت کو منافی مطلق ادراک مانتے اور اس کے ہوتے امور برزخ کا ادراک بھی منتفی جانتے ہیں تو جب کلام روح پر محمول ہوا قطعاً آفت اعتزال سے نامعزول ہوا۔
Flag Counter