Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
238 - 243
نیز ص ۸۹ پر:
 (آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) جواب دادند کہ چوں انبیاء راحیات دنیاوی حاصل وجسد ایشاں نیز باقی است لہذا محل استبعاد سماع وعرض نیست ۲؎۔
آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جب انبیاء کو حیات دنیاوی حاصل ہے اور ان کا جسم بھی باقی ہے تو سماعت اور پیشی کو بعید سمجھنے کاموقع نہیں۔ (ت)
 (۲؎ تفہیم المسائل        عدم سماع موتٰی از صاحب قبر    مطبع محمدی لاہور        ص۸۵)
طرفہ بکف چراغ دیکھیے عبارت نقل کی اور دعوٰی وہ نقل کیا کہ بعض گویند تحقیق ہمیں است (بعض کہتے ہیں تحقیق یہی ہے۔ ت) خیر وہ بعض ہی سہی اب اس اجماع کی خیر نہ رہی جو بکمال وقاحت ص ۹۳ پر فرمایا:
باجملہ از کتاب وسنت واجماع امت ثابت کہ موتٰی راسماع حاصل نیست ۳؎۔
بالجملہ کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ مردوں کو سماعت حاصل نہیں ہے۔ (ت)
 (۳؎ تفہیم المسائل        عدم سماع    مطبع محمدی لاہور   ص۸۸)
مگر تم کیا شرماؤ ہر رنگ کی کہہ دینے کے قدیم دھنی ہو ص ۷۸ پر یہی جولکھ گئے :
وآنکہ از عبارت مرقات سماع سائر کہ اموات سلام وکلام رادرعرض اعمال اقارب برآنہا در بعض ایام آرند جوابش آنکہ مراد از سلام وکلام سلام کلام زائران است نہ دیگراں ۱؎۔
مردوں پر بعض ایام میں اہل قرابت کے اعمال پیش ہونے کے تحت مرقات کی عبارت سے تمام مردوں کے لیے سلام ونقل سننا نقل کرتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ سلام وکلام سے مراد زیارت کرنے والوں کا سلام وکلام ہے دوسروں کا نہیں۔ (ت)
 (۱؎ تفہیم المسائل        استمداد از صاحب قبر    مطبع محمدی لاہور    ص۷۲)
سچ ہے بوکھلائے ہوؤں کا کیاکہنا ؎

وہ شرمائی ہوئی نظریں وہ گھبرائی ہوئی باتیں

نکل کر گھر سے وہ گھر نا ترا اُمیدواروں میں
حجت ثانیہ: پھر مشائخ نے جب وقت سوال سماع مانا تو اس کی وجہ یہ بتائی کہ اب روح جسم میں دوبارہ آئی جب کلام روح کی طرف آئے تو اس جواب کا صاف یہ حاصل کہ روح جب تک بدن سے جدا تھی بے حس وبے ادراک تھی جسم میں آنے کے باعث اس وقت پھر مدرک ہوگئی۔ یہ صراحۃً بدن کو شرط ادراک ماننا ہے کہ سو بار سن چکے کہ یہ مذہب نامہذب معتزلہ ہے اب یہ یا تو
اکثر مشائخنا
کی طرف نسبت غلط مانیے تو اپنی ہی سند بگاڑئے۔ اپنے ہی پاؤں پرتیشہ ماریے، ورنہ یقینا قطعاً ان سے وہی معتزلہ مراد ہیں بعد قیام حجج قاطعہ کے حیلوں حوالوں ٹالے بالوں کی کیا گنجائش ہے نہ اب اس سوال کا موقع کہ پھر یہ شراح اسے کیوں بے اظہار خلاف عقل کرلائے،

اقول ویسے ہی نقل کر لائے جس طرح امام عبدالرشید بن ابی حنیفہ ولوالجی وامام طاہر بن احمد وغیرہما اجلہ کرام نے بشیر مریسی معتزلی کا قول یوں ہی نقل کیا گویا یہی اصل مذہب ہے جس طرح علامہ محقق زین العابدین بن ابراہیم وفہامہ مدقق علاء الدین محمد دمشقی نے ابو علی جبائی معتزلی کا قول یوں نقل کیا گویا یہی مذہب مشائخ ہے جس کا بیان فائدہ جمیلہ فصل سیزدہم میں گزرا، خود انھیں امام ابن ہمام نے فتح القدیرباب نکاح الرقیق میں ایک مسئلہ محیط سے نقل کیا، پھر فرمایا:
ھکذا تواردھا الشارحون ۲ ؎
شارحین یکے بعد دیگرے یو نہی لکھتے چلے آئے، پھر فرمایا: یہاں مقتضائے نظراس کے خلاف ہے۔ پھر اسے بیان کرکے فرمایا:
فھذا وھو الوجہ وکثیرا مایقلد الساھون الساھین ۳؎
سخن موجہ یہی ہے اور اکثر ہوتاہے کہ بھولنے والے بھولنے والوں کی پیروی کرلیتے ہیں،
(۲؎ فتح القدیر    با ب نکاح الرقیق    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۲۷۰)

(۳؎ فتح القدیر    با ب نکاح الرقیق    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۲۷۰)
علامہ بحرنے بحرالرائق آخر کتاب البیوع باب المتفرقات میں ایک مسئلہ پر اعتراض کیاکہ اس میں مصنفین نے خطا کی اور یہاں خطاز یادہ قبیح واقع ہوئی، پھر فرمایا:
وانا متعجب لکونھم تدا ولوا ھذہ العبارات متونا والشروحا وفتاوی ولم ینتہوالما اشتملت علیہ  من الخطاء بتغیر الاحکام واﷲ الموفق للصواب وقد یقع کثیرا ان مؤلفا یذکر شیئا خطأفی کتاب فیأتی من بعدہ من المشائخ فینقلون تکل العبارۃ من غیر تغییر ولاتنبیہ فیکثر الناقلون لھاد اصلھا الواحد مخطی کما وقع فی ھذا الموضع ولاعیب بھذا علی المذھب لان مولنا محمد بن الحسن ضابط المذھب لویذکر علی ھذا الوجہ قد بنھنا علی امثل ذٰلک فی الفوائد الفقیہ فی قول قاضی خاں وغیرہم ثم نبھت علی ان اصل ھذہ العبارۃ للناطفی اخطأ فیہ ثم تداولوھا ۱؎ (ملخصا)
یعنی مجھے تعجب ہے کیونکہ ان عبارتوں کو متون وشروح و فتاوٰی سب میں ایک دوسرے سے لیتے نقل کرتے چلے آئے اور اس میں خطا پر متنبہ نہ ہوئے کہ احکام بدلے جاتے ہیں اور اللہ ہی صواب کی توفیق دینے والا ہے اور کھبی بکثرت واقع ہوتاہے کہ ایک مصنف براہ خطا ایک بات اپنی کتاب میں ذکر فرماتاہے پھر بعد کے آنے والے مشائخ اسے ویسے ہی بلا تنبیہ نقل کرتے چلے جاتے ہیں توا س کےناقل بکثرت ہوجاتے ہیں، حالانکہ اصل میں ایک شخص کی غلطی تھی، جیسا یہاں واقع ہوا، اور اس سے مذہب پر کوئی طعن نہیں آتا کہ ہمارے سردار امام محمد محرر مذہب نے اس طورپر ذکر نہ کیا اور اسی طرح ایک واقعے پرہم نے فوائد فقہیہ میں تنبیہ کی کہ امام قاضی خاں وغیرہ یعنی صاحب خلاصہ وصاحب ولوالجیہ وغیرہم نے ایک حصر فرمایا اور وہ غلط تھا پھر میں نے آگاہ کردیا کہ یہ اصل خطا ناطفی سے واقع ہوئی ان کے بعد مشائخ اسے یونہی نقل کرتے رہے۔
(۱؎ البحرالرائق        باب المتفرقات    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۶/۱۸۵)
فقیرکہتا ہے غفراللہ تعالٰی کہ اس قسم کا ایک واقعہ عظیمہ امام اجل ابوجعفر طحاوی کی طرف ایک ترجیح و افتا کی نسبت واقع ہوا جس میں تداول وتوارد نقول آج تک چلا آیا اور ہمارے زمانے تک کسی نے اس پر متنبہ نہ فرمایا یہاں تک کہ سب میں متاخر محقق مبصر علامہ شامی کوبھی وہی راستہ بھایا مگر فقیر غفراللہ المولی القدیر نے بدلائل ساطعہ قاطعہ امام طحاوی کا فتوٰی نہ اس پر بلکہ قطعا اس کے برعکس ہونا خود کلام امام ممدوح کے اٹھارہ نصوص ودلائل سے ثابت کردکھا یا اور اس بارے میں محض بغرض ا ظہار حق وحفظ مذہب ودفع تشنیع مخالفین ایک خاص رسالہ
الزھر الباسم فی حرمۃ  الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم(۱۳۰۷ھ)
معرض تصنیف میں لایا
وﷲ الحمد حمد اکثیراعلی ماوھب من جزیل العطا یا مانحن فیہ
(اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے کثیر حمد اس پر جو اس نے جزیل عطاؤں سے نوازا۔ ت) میں  اگر کلام  مشائخ کے یہ معنی لوں جس سے موت وبے ادراک روح ثابت ہوتویہاں امر آسان تر ہے کہ اصل مسئلہ میں کوئی دقت نہیں صرف بیان دلیل میں محض بے حاجت یہ تخلیط واقع ہوئی، اس تقدیر پریہاں بھی قطعا جزما یہی ہوا کہ مشائخ مذہب سے معتزلہ نے یہ دلیل ذکر کی، پھر بعض مشائخ اہلسنت نے سہوا نقل کردی ، پھر نقول در نقول ہو تی چلی گئیں، تنقیح وتنبیہ کی طرف توجہ رہ گئی۔ اب متاخرین اکثر مشائخنا کہا ہی چاہیں یہی وجہ ہے کہ خود ان علمائے اعلام اہلسنت کے کلام جابجا اس کے خلاف واقع ہوئے جس کے پچیس شواہد دلیل ۱۱ میں سن چکے یہاں سہواً معتزلہ کا قول لکھ گئے اور خود یہیں اور دیگر مواقع میں جابجا اپنا عقیدہ حقہ متعددوجوہ سے ظاہر ہوا وللہ الحمد۔
کیوں ملاّ تفہیمی صاحب! اب اپنے اعذار باردہ واستعبادات کا سدہ دیکھیے کدھر گئے وباللہ التوفیق اور حقیقۃً یہ سب تمھاری خوبیاں ہیں، نہ تم معانی حقہ صحیحہ صادقہ چھوڑ کر بزور زبانِ وزور وبہتان یہ معنی باطل گھڑو، نہ اس جوا ب کی حاجت ہو، انصافاً اپنے استعبادوں کو آپ ہی بیٹھ کر رؤو۔ ہمارے نزدیک نہ مشائخ کرام نے خطا کی نہ ان کا کلام حاشاکسی عقیدہ اہلسنت نہ اپنے کسی کلام دیگر کے معارض، نہ یہاں باہم متعارض ومتناقض جس کی تحقیق قاہر اوپر سن چکے، وللہ الحمد۔
جلیلہ عظیمہ: رہی ملاجی کی پچھلی نزاکت کہ:
انکار سماع موتٰی بطور یکہ مامی کنیم مذہب معتزلہ فہیمدن محض غلط است زیرا کہ مذہب بعض معتزلہ آن ست کہ میّت جمادا ست درحیات وادراک نیست پس تعذیب آن محال واہلسنت گویند کہ ہر چند کہ درمیّت حیات نیست مگر جائز است کہ خدا تعالٰی دران نوعے از حیات بقدر ادراک الم عذاب ولذت وتنعم عندالایلام والتعذیب پیداکند وآں مستلزم سماع نیست ۱؎۔
جس طرح ہم سماع موتٰی کا انکار کرتے ہیں اسے معتزلہ کا مذہب سمجھنا محض غلط ہے۔ اس لیے کہ معتزلہ کا مذہب یہ کہ میّت جماد ہے اس میں حیات وادراک نہیں تو اس کی تعذیب محال ہے۔ا ور اہل سنت کہتے ہیں کہ ہر چند کہ میّت میں حیات نہیں مگر ہوسکتا ہے کہ خدا تعالٰی اس میں ایک نوع حیات پیدا کردے اس قدر کہ الم پہنچانے اور عذاب دینے کے وقت عذاب کی تکلیف اورا ۤسائش کی لذت کا ادراک کرے اور یہ سماع کو مستلزم نہیں۔ (ت)
 (۱؎ تفہیم المسائل         عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ        مطبع محمدی لاہور    ص۸۱)
ہمارے کلمات سابقہ کے ناظر پراس عذر بد تراز گناہ کی حقیقت خوب منکشف ہے پھر بھی ملا جی کی خاطر کیجئے کلام کو چندعوائد جلیلہ سے ترصیف تازہ دیجئے اور باذنہٖ تعالٰی ازالہ ہر گونہ اوہام کا ذمہ لیجئے۔
فاقول و بحول اللہ اصول:
عائدہ اولٰی: نجدی صاحبو! ناحق اہلسنت کا دامن پکڑتے اور اپنے  مذہب کی جان زار کے پیچھے پڑتے ہو، اہلسنت کے یہاں تمھاری گزر نہیں، وہ کہ وقت تنعیم وتعذیب اعادہ حیات کا مالہ خواہ ناقصہ بدن کے لیے مانتے ہیں نہ کہ روح کے لیے کہ وہ تو ان کے نزدیک مرتی ہی نہیں، اگر تم لوگ صرف سماع جسم باسماع جسمانی بذریعہ آلات جسم کے منکراور سماع روح بے توسط بدن کے معترف ومقرر ہوتے تو ضرور اہلسنت سے موافق اور ان کے  اس مسئلہ سے انتفاع کے مستحق ہوتے، مگر یوں ہی خلاف  کب باقی رہتاہے تو خاص ہمارا مذہب وعین مراد چشم ماروشن دل ماشا تھا مگر حاشا تم ہر گز اس کے قائل نہیں اس میں تمھارا مطلب کہ اولیائے مدفونین سے طلب دعا پتھر کو ندا ہے کب برآتا کیوں ملاجی! ذرا نگاہ روبرو ، کیا آپ ہی وہی نہیں ہیں جو اسی تفہیم کی اسی بحث میں بکمال وقاحت وشوخ چشمی اپنا مذہب نامہذہب بزور زبان بنانے کے لیے ایک گھڑی ہوئی فرضی کتاب خیال تصنیف غرائب فی تحقیق المذاہب سے سند لائے اور اس کی وساطت سے سیدنا امام اعظم وہمام اقدام رضی اللہ تعالٰی عنہ پر جیتے افترا اٹھائے۔ آپ اگر چہ خیال (عہ۱)علماء گھڑلینے فرضی کتابوں (عہ۲)کی ساختہ عبارتیں پیش کردینے کی پختہ ماہر کارہیں جن کے حال صواعق وتفہیم وغایۃ الکلام کے مطالعہ سے آشکار ہیں،
عہ ۱: مثل ناصر کہانی جس کے مطالبہ پر بکمال حیاداری صاف کہہ دیا گو نا صر فاکہانی بناشد کلام درکلام است ۱۲منہ (گو ناصرفا کہانی نہیں ہے کلام درکلام ہے  ۱۲منہ۔ ت)
عہ ۲: مثل القول المعتمد فے الکلام مع عمل المولد جس میں تُک بھی ٹھیک ملانی نہ آئی، معتمد بفتح میم اور مولد بکسرلام اور پھر عمل مولد پر یا اس میں کلام کی جگہ عمل مولد کے ساتھ گفتگو وکلام ؎
بے حیا باش ہر چہ خواہی کن  ۱۲منہ (م)
بعض احباب فقیر نے خاص آپ حضرات کی ایسی ہی دیانتوں کے بیان میں رسالہ سیف المصطفی علی ادیان الافترالکھا اور اس میں ایک سو ساٹھ دیانات کبرائے طائفہ کو جلوہ دیا  مگر اس گھڑت کی ابتدا شاید سرکار سے نہ ہو، تفہیم سے پہلے ایک سہسوانی وہابی صاحب رسالہ سراج الایمان میں اس کے بادی ہوئے ہیں، بہر حال یہ گندی بوکا عطر فتنہ سہسوان کی گھانی سے ہو یا قنوج کی ، ذرا ایمان سے بتائے کہ آپ حضرات کی اس خانگی ساخت پر دنیا میں کوئی اور بھی مطلع ہے کہیں اس کتا ب کا نام ونشان بھی ہے ، کسی اورنے بھی اس سے استناد کیا یا کہیں اس کا نام لیا ہے؟ اللہ اللہ صدہا سال سے مسئلہ سماع ومسئلہ استمداد زیر بحث ہے صدہا کتابوں میں ان کے بیان آئے آج تک کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ خود امام مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ان میں نص صریح موجود ہے، اب گیارہ سوبرس بعد ان  حضرات کو امام کاارشادمعلوم  ہو ا، اور وہ بھی کس کتاب میں، جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے اس کا نام سنا، خیر اب تو یہ باحیا متدین حضرات کب کے  مرکر جماد لایفہم ولایتکلم ہوگئے، اہلسنت نے ان کی حیات ہی میں مطالبہ کیا تھاکہ حضرت! یہ ساختہ عبارت فتاوٰی غرائب میں تو ہے نہیں جواب دیا کہ یہ اور رسالہ غرائب فی اختلاف المذاہب ہے ۔ اور کبھی کہا، فی تحقیق المذاہب ہے___ عرض کی گئی: آپ کے پاس ہے یا کہیں اور دیکھا؟ کہا: مفتی سعداللہ صاحب کے یہاں ہے۔ مفتی صاحب مرحوم سے پوچھا گیا، انھوں نے فرمایا: میں اصلا اس کتاب سے واقف نہیں، اللہ اللہ حیا کا پایا یہاں تک پہنچا اور پھر ؎

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے
مقدس متدینوں کو عبارت بھی گھڑنی نہ آئی، سہل سہل محاورہ وقواعدکی مطابقت نہ پائی، اس کے الفاظ وبندش کی رکاکت خود ہی کافی شہادت ہے کہ بے علم ہندیوں کی اوندھی گھڑت ہے، عبارت حاشیہ(عہ) پر ہے ہر صاحب ذوق سلیم دیکھے اور دادِ انصاف دے۔
عہ: درغرائب فی تحقیق المذاہب راوی الامام ابو حنیفۃ من یأتی القبور باھل الصلاح فیسلم ویخاطب ویتکلم ویقول یا اھل القبور ھل لکم من خبر وھل عند کم من اثرالی ان اتیتکم و نادیتکم من شھور ولیس سوا لی منکم الا الدعاء فھل د ریتم ام غفلتم فسمع ابو حنیفۃ یقول مخاطبۃ لہم فقال ھل اجابوالک فقال لافقال لہ ستحقالک وتربت یداک کیف تکلم اجساد الا یستطیعون جوابا ولایملکون شیأ ولایسمعون صوتا وقرأ وما انت بمسمع من فی القبور ۱؎ انتھی۱۲
غرائب فی تحقیق المذاہب میں ہے: امام ابو حنیفہ نے ایک شخص کو دیکھا جو اہل صلاح کی قبروں کے پاس آتا ہے تا کہ سلام کرے اور خطاب کرے اور کہے اے اہل قبور! کیا تمھیں کچھ خبر ہے اور کیا تمھارے پاس کچھ اثر ہے یہاں تک کہ میں تمھارے پاس آیا اور مہینوں سے تم کو پکارا اور میرا سوال تم سے صرف دعا کا ہے، تو کیا تمھیں پتا چلا یا تم غافل رہے، تو ابو حنیفہ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہنے والے کو سنا تو فرمایا کیا انھوں نے تجھے جواب دیا؟ اس نے کہا نہیں، تو اس سے فرمایا: تیری بربادی ہو اور تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں تو کیسے کلام کرتا ہے ایسے جسموں سے جو جواب نہیں دے سکتے اور کچھ اختیار نہیں رکھتے اور کوئی آواز نہیں سنتے، اور یہ پڑھا: تم انھیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں ہیں۔ ختم (ت)
 ( ۱؎ تفہیم المسائل        عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ        مطبع محمدی لاہور    ص۸۷)
تفہیم المسائل ص ۹۱جو لفظ سُرخی سے لکھے ہیں تفہیم میں یونہی ہیں انھیں کوئی غلطی نا سخ نہ سمجھے نہ وہ ناسخ تفہیم کی خطاء ہیں بلکہ خود مصنف تفہیم وضاع اول کی، اس لیے کہ غلط نامہ تفہیم میں بھی ان کی تصحیح نہ کی، اور تفہیم صفحہ ۶۸ میں ہے:
احتمال غلطی کاتب ہم مرتفعہ درصحیح نامہ غلطنامہ کتاب مطبوعہ ہم بغلطی این لفظ تعرض نہ کردہ اھ
کا تب کی غلطی کا احتمال بھی مرتفع ہے کہ مطبوعہ کتاب کے غلط نامہ اور صحیح نامہ میں اس لفظ کے غلط ہونے پر توجہ نہیں کی گئی اھ (ت)

بھلے مانس کو ینطق ویتفوہ ویذکر ویحدث ویشافہ ویحاور وغیرہا یاد نہ تھے ورنہ انھیں بھی یخاطب ویتکلم ویقول کا ساتھی نتھی کردیتا  ۱۲منہ (م)
بعض اصحاب فقیر سلمہم اللہ تعالٰی نے ایک لحیم شحیم وہابی ہیڈ مولوی کے رد میں مبسوط رسالہ نشاط المسکین علٰی حلق البقر السمین لکھا اس میں اس عبارت غرائب کی دھجیاں بروجہ احسن اڑاکر اخیر میں علامہ قنوجی کے اسے نقل کرکے انتہی لکھ دینے پر عجیب لطیفہ لکھا ہے جس کاذکر خالی ازلطف نہ ہوگا، قال سلمہ اللہ تعالٰی ابھی سے انتہا لکھ دی اس کے بعد تو فرضی صاحبِ غرائب نے اس قول کی محدثانہ سند گھڑی ہے:
حیث قال بعد نقلتم حدثنا بذلک المعدوم بن مسلوب العد می ثنا ابوالفقدان الخیالی ثنا موھوم بن مفروض اللیسی ح ثنا الکذاب بن  المفتری ناالوضاع الذو ری انا من(عہ) لا یثق بہ الانجدی کلاھما عن ابی التلبیس الضلالی من بن ضلال قبیلۃ من بنی المختلق قال سمعت ھاتفا من الھواء یھتف بذلک ،فلا ادری احفظت ام نسیت لکن اشھدوا ان الذی یحدثکم بھذ کذاب مبین۔
تمھاری منقولہ عبارت کے بعد ہے: ہم سے بیان کیا معدوم بن مسلوب عدمی نے ___ کہا ہم سے بیان کی ابوالفقدان خیالی نے  ___ کہا ہم سے بیان کیا موہوم بن مفروض لیسی نے ___ دوسری سند: ہم سے بیان کیا کذاب بن مفتری نے _ کہا ہم سے بیان کیا وضاع زُوری نے ___ کہا ہمیں خبردی اس نے جس پر کوئی نجدی ہی اعتماد کرے، دونوں (موہوم اور یہ مجہول) راوی ہیں ابوالتلبیس ضلالی سے۔ جوبنی مختلق کے ایک قبیلہ بنی ضلال سے ہے ___ اس نے کہا ___ میں نے ہوا سے ایک ہاتف کو یہ پکارتے سنا تومجھے پتانہیں کہ مجھے یا د ہے یا میں بھول گیا لیکن اس پر گواہ رہو کہ تم سے جو شخص یہ بیان کررہا ہے کُھلا ہو اکذاب ہے۔ (ت)
عہ:  ھذا وان کان مبھما لکن لا یضر لانہ فی المتابعات فقد رواہ من الضلال موھوم بن مفروض کما سمعت منفی بن المفقود اٰخرون خرائب فی شرح الغرائب ۱۲منہ (م)
یہ راوی اگر چہ مبہم ہے مگر کوئی ضرر نہیں اس لیے کہ وہ متابعات میں ہے کیونکہ ضلالی سے اس کو موہوم بن مفروض نے روایت کیا ہے جیساکہ آپ نے سُنا، نیز منفی بن مفقود اور کچھ دوسرے لوگوں نے بھی روایت کیا ہے ۱۲ خرائب شرح غرائب۔ (ت)
ہم کہتے ہیں
الکذوب قدیصدق
 (بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ بول دیتا ہے۔ ت) بیشک یہ پچھلا اس نے سچ کہا
ولاحول ولاقوۃ الابا اللہ العلی العظیم اھ کلام سلمہ ربہ
اچھا یہ سب جانے دو، اگرسچے ہو تو لکھ دو ہاں مردے احیاء کا کلام ضرور سنتے ہیں مگر نہ وگوش بدن بلکہ قوت روح سے، کیا اسے تم کہہ سکتے ہو؟ ہر گز نہ کہو گے، اب پردہ کھُل گیا اور صاف ادراک روح کا انکار ظاہر ہوا اور اپنے اسی دعوٰی پر کلام مشائخ ڈھالا اور وہ موت وبے ادراکی وبے حسی کاسارا نزلہ روح پر ڈالا، تو اب کیا محل انکار ہے کہ یہ قطعا مذہب معتزلہ فجار ہے۔ رہایہ کہ وہ منکر عذاب ہیں تم قائل عذاب، اس تفرقے سے تمھارا ان کا وہ اتفاق زائل نہیں ہوتا مثلا(عہ) کوئی پورا وہابی اپنی نیچرت کے زور میں دعوٰی کربیٹھے کہ سیدنا عیسٰی نبی اللہ صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ، علیہ ضرور سولی دئے گئے، یہود عنود نے انھیں قتل کیا، توا س سے یہی کہا جائے گا کہ تیرا یہ قول مذہب نصارٰی ہے۔ کیا وہ اس کے جواب میں کہہ سکتاہے کہ سولی دیاجانا جس طرح وہ مانتا ہے مذہب نصارٰی سمجھنا محض غلط ہے اس لیے کہ مذہب نصارٰی یہ ہے کہ وہ کفارہ ہونے کے لیے سولی دئے گئے، معاذاللہ تین دن جہنم میں رہ کر خدا کے ہاتھ پر جا بیٹھے، اور وہ شخص کہتا ہے کہ ہر چند سولی دئے گئے مگر کفارہ وغیرہ خرافات ہیں کیا اس فرقہ کے سبب اس کا وہ قول مذہب نصارٰی ہونے سے خارج ہوجائے گا!
عہ :  وہابیت کا کمال وہی نیچریت ہے  ۱۲منہ (م)
Flag Counter