اقول اولاً اس نابینائی کی کچھ حد ہے، بھلا یہ جوہرہ ودرمختار وکشف الغطا وغیرہا تصانیف حنفیہ کو ملاجی کہہ سکتے ہیں کہ میرے پیش نظر نہ تھیں تلخیص الادلہ کی عبارت تو خود ہی اپنے خصم کے کلام سے نقل کہ امام زاہد صفار کہ درطبقہ ثانیہ از مجہتدین فی المذہب ست درکتاب تلخیص الادلہ نو شتہ
وینبغی ان یلقن المیّت علی مذہب الامام اعظم والمقتدی المکرم ومن لم یلقن فھو علی مذہب الاعتزال ۲؎
یعنی امام اعظم وپیشوائے مکرم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب پرمیّت کو تلقین کرنا چاہئے، جوتلقین نہ مانے معتزلی ہے۔ اور انکھیں بند کرکے کہہ دیا کہ ''بعض شافعیہ زعم کردہ اند نہ حنفیہ'' مگر امام اجل مجہتدفی المذہب زاہد صفار کہ صرف دو واسطے سے امام ابویوسف وامام محمد کے تلمیذ رشید ہیں سرکار کے نزدیک علمائے حنفیہ سے نہیں۔
ثانیاً شافعیہ کا نسبت کرنا حنفیہ کے نسبت کرنے کا کیا نافی ومنافی ہے کہ عبارت برجندی سے نہ'' حنفیہ'' بھی نکال لیا خود سرکار اسی تفہیم کے صفحہ ۱۱۷ پر فرماتے ہیں:
از تخصیص شیئ بد کر نفی عماد عداہ لازم نیاید ور توضیح نوشتہ تخصیص الشیئ باسمہ لایدل علی نفی الحکم عما عداہ ۱؎۔
کسی خاص چیز کو ذکر کرنے سے اس کے ماسوا کی نفی لازم نہیں آتی، توضیح میں ہے کسی خاص چیزکا نام لینا یہ نہیں بتاتا کہ اس کے ماسوا سے حکم نفی ہے۔ (ت)
(۱؎ تفہیم المسائل معانقہ روز عید مطبع محمدی لاہور ص۱۱۳)
انھوں نے کلام شافعیہ میں دیکھ کر ان کی طرف نسبت کیا اس سے کیا لازم کہ حنفیہ نے نسبت نہ کیا اور بالفرض ان کا لازم سخن یہ ہوبھی تو جب صراحۃً انکھوں کے سامنے اجلہ حنفیہ کی تصریحات موجود تو کیا بعض علماء کے کلام سے نفی مفہوم ہونا محسوسات کو مٹادے گا، قاعدہ اجماعیہ عقل ونقل میں تو مثبت کو نافی پر مقدم رکھتے ہیں، دو علمائے معتمدین سے ایک فرماتا کہ حنفیہ نے ایسا نہ لکھا، دوسرا فرماتا لکھا، تولکھتا ہی ثابت ہو تا کہ اس نے نہ دیکھا لہذا انکار کیااور نہ دیکھنا کوئی حجت نہیں
ومن علم حجۃ علی من لم یعلم
(علم والاحجت ہے اس پر جسے علم نہیں۔ ت) نہ کہ ثبوت عیانی کو نفی بیانی سے دیدہ نادیدہ کردیں یعنی اگر چہ ہم انکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اکابر علمائے حنفیہ نے لکھا مگر فاضل برجندی جو لکھ چکے ہیں کہ شافعیہ نے کہا لہذا مجبوری ہے اب حس ومشاہدہ کی تکذیب ضروری ہے۔ سچ ہے آدمی وہابی ہو کر جماد لایسمع ولایفہم ہوجاتا ہے۔
ثالثاً طرفہ جہالت یہ کہ مطلق انکار کی جانب معتزلہ منسوب ہے نہ اس خصو صیت سے تصحیح المسائل میں کب فرمایا تھا کہ انکار باین خصوص منسوب بہ معتزلہ ہے۔ اسے ذی ہوش!حاصل کلام تویہی تھا کہ انکار تلقین مذہب معتزلہ ہے اور امام ابن ہمام اس کا مبنٰی، بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منکر سماع تھے لہذا تلقین سے منکر ہوئے تو ظاہر ہوا کہ منکرین سماع معتزلہ ہیں اگرسرے سے بخصوص انکار سماع جانب معتزلہ نسبت ہوتی توا س توسیط کی کیا حاجت تھی ویسے ہی کہہ دیاجاتاکہ دیکھو انکار سماع قول معتزلہ بتایا گیا،ہاں اس پرایک شبہ ہوتا تھا کہ بعض اہلسنت (عہ)بھی تو منع تلقین کی طرف گئے اور جب اس کا مبنٰی وہ ہے تو یہ بھی اس کے قائل ٹھہریں گے، تصحیح میں اس وہم کے دفع کو توجیہ فرمادی کہ ان کا انکار انکار سماع پر مبنی نہیں بلکہ ان کے نزدیک تلقین کا بیکار یا ثابت ہونا ذی ہوش نے اسے نسبت بایں خصوص کا دعوٰی سمجھ لیا یہ فہم سقیم او راداعائے تفہیم
ولاحوال ولاقوۃ الاّ باللہ العلی العظیم۔
عہ: اقول سابقا مذکور ہو اکہ ظاہر الروایۃ سے منع ثابت نہیں اور امام صفا ر خود امام اعظم پر تلقین مانتے اور منکر کو معتزلی جانتے ہیں اور شک نہیں کہ معتزلہ قدیم سے شامل اہل مذہب ہیں اورا نھیں بر بنائے جمادیت موتٰی انکار تلقین لازم ، ابتداءً وہی لوگ اپنے مذہب فاسد کی بنا پر منکر تھے، لہذا امام صفار اس حصہ پر حاکم بعد مرور زمان بعض متاخرین اہلسنت نے کلمات مشائخ مذکورین میں انکار اور ظاہر الروایۃ میں عدم ثبوت دیکھ کر انکار کیا اور عدم فائدہ یا عدم ثبوت سے رنگ توجیہ دیا لہذا اب انکار دوطرفہ منقسم ہوگیا بوجہ جمادیت خاص بمعتزلہ اور بعض اہلسنت کا بوجوہ دیگر جیسا کہ کلام امام نسفی سے گزرا
فاعملہ فعسی ان لا یتجاوز الواقع عنہ ۱۲ منہ
(اسے اچھی طرح جان لے ہوسکتا ہے واقعہ ا س سے متجاوز نہ ہو ۱۲منہ ۔ ت)
ھذا وانا اقول وباللہ التوفیق
سب این وآن سے درگزرے تواب دلائل ساطعہ قاطعہ حاکم ہیں کہ یہ قطعا مذہب معتزلہ ہے مثلاً حجت اولٰی کلام کا ہے میں مفروض ہوا روح میں سماع سے کیا مراد لیا، ادراک مطلق اگر چہ بے ذریعہ آلات اور یہ مشائخ دلیل کیا لا رہے ہیں کہ وہ مردہ ہے، بے حس ہے فہم وادراک کے قابل نہیں، یہ کہ ہزار بار سن چکے ہو کہ روح کی نسبت ان اعتقاد ات سے اہل سنت پاک ومنزہ ہیں یہ معتزلہ وغیرہم ضالین ہی کے خیالات بد مزہ ہیں خود آپ ہی اسی تفہیم میں فرماتے ہیں:
مذہب بعض معتزلہ آنِ است کہ اگر میّت جماد ست دران حیات وادراک نیست ۱؎۔
بعض معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ میّت جماد ہے اس میں حیات ادراک نہیں۔ (ت)
(۱؎ تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی مطبع محمدی لاہور ص۸۱)
اور اس میں فرمایا :
بعض معتزلہ کہ آیہ کریمہ وماانت بمسمع من فی القبور درانکار تعذیب استدلال می کردند عینی درہمیں شرح بہ جواب ایشاں نوشتہ کہ عدم اسماع مستلزم عدم ادراک نیست ۲؎۔
آیت کریمہ ''تم انھیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں ہیں'' سے بعض معتزلہ کا انکار تعذیب پراستدلال تھا، عینی نے اسی شرح میں ان کا جواب لکھا کہ نہ سنانا عدم ادراک کو مستلزم نہیں۔ (ت)
(۲؎ تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی مطبع محمدی لاہور ص۸۳)
افسوس صاحب تفہیم المسائل کی بیہوشی ص ۶۳پر یہ اَنکہی بھی بلواگئی :
ہر چند بعضے گویند کہ شہداراہم حیات مثل انبیا بجسد است مگر ایں قول مختار اہل تحقیق نیست انچہ تحقیق است این ست کہ حیات انبیاء بسلامت جسد وروح ہر دوست وحیات شہداء صرف بقائے روح است بلکہ تخصیص شہدا نیز بایں معنی لغوست زیراکہ ارواح رامطلقاً خواہ روح شہید باشد یاروح عامہ مومنین یا روح کافرو فاسق باین معنی مردہ نتواں مردگی صفتِ بدن است کہ شعور ادراک وحرکات وتصرفات بہ سبب تعلق روح باوے از وے ظاہر مے شدند وحالانمی شوند کذا فی تفسیر العزیزی وبعضے گویند کہ تحقیق ہمیں است کہ شہداء راہم حیات مثل انبیاء بجسد است چنانچہ درتفسیر روض الجنان تحت آیہ کریمہ ولاتقولوا لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات بل احیاء می نویسد علماء درتفسیر آیت واحوال شہداء خلاف کردند، عبداللہ ابن عباس وحسن بصری گفتند ایشاں زندہ اند بارواحہم واجسادہم بامدادو شبانگاہ روزی بایشاں می رسد وایشاں خرم اند بانچہ خدا بایشاں می دہد چنانچہ دردیگر آیت فرمود من قولہ تعالٰی یرزقون فرحین بما اٰتاھم اﷲ من فضلہ وبعضے دیگر گفتند ارواح ایشاں زندہ باشند وروزی برایشاں عرض مے کنند بامداد وشبانگاہ چنانکہ برارواح آل فرعون اتش عرضہ می کنند فی قولہ تعالٰی النار یعرضون علیھا غدوا وعشیّا وعلمائے محققان بیشتر برقول اول اند۱؎ انتہی
بعض کہتے ہیں کہ انبیاء کی طرح شہید کے لیے بھی جسم کے ساتھ زندگی ہے۔ مگر یہ قول اہل تحقیق کا مختار نہیں تحقیق یہ ہے کہ انبیاء کی زندگی جسم وروح دونو ں کی سلامتی کے ساتھ ہےاور شہدا کی زندگی صرف بقائے روح کے ساتھ ہے بلکہ اس معنی میں شہداء کی تخصیص لغو ہے اس لیے کہ ارواح کو مطلقاً خواہ شہید کی روح ہو یا عام مومنین کی روح یا کافر وفاسق کی روح کسی کو اس معنٰی میں مردہ نہیں کہہ سکتے، موت بدن کی صفت ہے کہ شعور وادراک اور حرکات وتصرفات روح کے تعلق کی وجہ سے اس سے ظاہر ہوتے تھے اور اب نہیں ہوتے ایسا ہی تفسیرعزیزی میں ہے: اور بعض کہتے ہیں کہ تحقیق یہی ہے کہ شہداء کے لیے بھی انبیاء کی طرح جسم کے ساتھ زندگی ہے جیساکہ آیہ کریمہ ''اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں'' کے تحت تفسیر روض الجنان میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر اور شہداء کے احوال میں علماء کا اختلاف ہے۔ عبداللہ بن عباس اور حسن بصری فرماتے ہیں شہداء جسم وروح کے ساتھ زندہ ہیں صبح وشام انھیں رزق ملتا ہے اور یہ اس پر خوش ہیں جو خدا انھیں دیتا ہے جیساکہ دوسری آیت میں باری تعالٰی کاارشاد ہے انھیں رزق دیا جاتا ہے وہ اس پر خوش ہیں جو اللہ نے اپنا فضل انھیں عطا کیا، بعض دیگر کہتے ہیں ان کی روحیں زندہ ہوتی ہیں او ر ا ن ہی پر صبح وشام رزق پیش کرتے ہیں۔ جیسے فرعونیوں کی روحوں پر آگ پیش کرتے ہیں ارشادباری تعالٰی ہے: وہ صبح وشام آگ پر پیش ہوتے ہیں، اور اکثر علما ئے محققین پہلے قول پر ہیں۔ ختم (ت)
(۱؎ تفہیم المسائل استمداد از صاحب قبر مطبع محمدی لاہور ص۵۸ و ۵۹)
کیو ں ملاجی! اب نسبت کی خبریں کہیے جب اہل سنت کے نزدیک ہر فاسق وکافر کی روح زندہ ہے موت صرف بدن کے لیے ہے اسی کے ادراکات زائل ہوتے ہیں تو اب سماع موتٰی میں کیا مجال مقال رہی جوابات سابقہ کی تقریر کیسی روشن طورپر ثابت ہوگئی، تفہیم المسائل کی ساری عرق ریزی کیسی خاک میں ملی، اب یہ کلام مشائخ جس میں موت وبےفہمی وبے حسی کی تصریحیں ہیں روح پر محمول ہو مشائخ اہلسنت کا کلام نہ ہونا کیسا واضح و منجلی والحمد اللہ العظیم العلی، اور عجیب لطیفہ یہ کہ ساتھ ہی خوش وقتی میں آکر تفسیر روض الجنان کی عبارت بھی نقل فرماگئے، جس نے رہی سہی ڈھول سے کھال بھی کھوئی، اس میں صرف تصریح ہے کہ سید نا عبداللہ ابن عباس وحضرت امام حسن بصری واکثر علمائے محققین شہداء کے اجسام بھی زندہ مانتے ہیں، اور اسی کو ظاہر آیہ کریمہ سے مؤکد کیا اور بعض کی طرف سے اس کا جو جواب نقل کیا پر ظاہر کہ نری تاویل ہی تاویل ہے، کہاں ارشاد الٰہی میں یرزقون روزی دئے جاتے ہیں اور کہاں یہ معنی کہ روزی انھیں دیتے نہیں دکھا دیتے ہیں ؎
شربت بنماید وچشیدن نگزارند
( یہ یوں ہی ہے کہ شربت پی لیا ہے اور چکھا نہیں)
اب خدارا اپنے اانکاری دھرم کی ایک ٹانگ توڑئے، شہداء ہی کے لیے سماعت مانیے انھیں سے استمداد جائز جانئے کہ یہاں تو جسم روح سب کچھ زندہ ہیں، کسی جھوٹے حیلے کی بھی گنجائش نہیں جس طرح کہ تم خود اس تفہیم کے صفحہ ۸۸ پر لکھ چکے ہو:
درسماع انبیاء علیہم السلام کلامے نیست کہ ایشاں راحیات حاصل است ۱؎۔
انبیا ء علیہم السلام کے سننے میں کوئی کلام نہیں ان حضرات کوحیات حاصل ہے۔ (ت)
(۱؎ تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی از صاحب قبر مطبع محمدی لاہور ص ۸۳)