دیکھو کیسی تصریح ہے کہ سارا کلام ونقض وابرام سماع جسمانی کے بارہ میں ہے۔ اسی میں ہے :
قلت ھذا من عائشہ یدل علی انھا ردت روایۃ ابن عمر المذکو رۃ ولکن الجمہو ر خالفوھا فی ذلک وقبلوا حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ الموافقۃ من رواہ وغیرہ ۲؎۔
یعنی میں کہتا ہوں یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ ام المومنین نے روایت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا رَد فرمایا مگر جمہور علماء نے اس بات میں ام المومنین کا خلاف کیا اور حدیث ابن عمر مقبول رکھی کہ اور صحابہ نے بھی اس کے موافق روایت کی۔
(۲؎ عمدۃ القاری شرح بخاری باب ماجاء فی عذاب القبر ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۸/ ۲۰۲)
یعنی ان لاشوں نے وہ ارشاد اقدس جسے جسمانی کا ن سے سنا، جمہور کا قول یہی ہے۔ (ت)
( ۳؎ عمدۃ القاری شرح بخاری باب ماجاء فی عذاب القبر ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۸/ ۰۲)
جواب سوم: جامع الجوابین۔
اقول قول مشائخ کہ میّت یا زید بعد موت نہیں سنتا، چار معنی کو محتمل کہ میّت حقیقی بدن مقر ۱ ہے اور روح پر بھی اطلاق کرتے اور زید عرفی بدن ہےمقر ۵ اور روح متعلق بالبدن بھی اس کے معنی، بہر حال موضوع میں بدن و روح دو احتمال ہوئے، یونہی سماع عرفی سمع آلات بدن ہے اور اس کے دوسرے معنی ادراک تام اصوات بروجہ جزئی اگر چہ بے ذریعہ آلات تو محمول میں بھی دو احتمال ہوئے اور حاصل ضرب چار:
(۱) بدن مردہ کو سمع آلات نہیں۔
(۲) بدن مردہ کو ادراک اصوات نہیں۔
(۳) روح مردہ کو سمع آلات نہیں۔
(۴) روح مردہ کو ادراک اصوات نہیں۔
پہلے تینوں معنی حق ہیں اور ہمارےکچھ مخالف نہیں، نہ مخالف کواصلاً مفید۔ کلام کے اگردو ہی معنی ہوتے ایک موافق ایک مخالف، تو مخالف کو اس سے سند لانے کاکوئی محل نہ تھا، نہ احتمالی بات پر مشائخ کرام کو منکر سماع متنازع فیہ کہنا صحیح ہوسکتا ہے، نہ کہ تین احتمالات صحیحہ کو چھوڑ کر از پیش خویش چوتھا احتمال جمالینا اور کلام کو بزور زبان خواہی نخواہی اپنی سند بتادینا کیسی جہالت واضحہ ہے!
جواب چہارم: مذہب حنفیہ میں معتزلہ بکثرت پیرے ہوئے ہیں یہ مشائخ کہ برخلاف عقیدہ اہلسنت منکر سماع ہیں وہی معتزلہ ہیں یہ جواب سیف اللہ المسلول مولٰنا المحقق معین الحق فضل الرسول قدس سرہ نے تصحیح المسائل میں افادہ فرمایا۔
اقول کلام مشائخ سے استناد مخالف دو مقدموں پر مبنی تھا، صغرٰی یہ کہ امتناع سماع متنازع فیہ قول اکثر مشائخ حنفیہ ہے جس کے ثبوت میں وہ عبارات خمسہ پیش کیں، اور کبرٰی مطویہ مستورہ یہ کہ جو قول اکثر مشائخ حنفیہ ہے فی نفسہٖ حق ہے یا ہم پر اس کی تسلیم واجب ہے، تقدیر اول پر دلیل تحقیقی ہوگی اور دوسرے پر الزامی، بہر حال اس کا ثبوت کچھ نہیں، اگلے تین جواب ان کے ْصغرٰی کی ناز برداری میں تھے یعنی کلام مشائخ میں سماع متنازع فیہ کا انکار ہر گز نہیں، اب یہ جواب اور باقی اجوبہ کبرٰی مستورہ کی خدمت گزاری کو ہیں کہ اگر مکابرہ واصرار وعناد واستکبار سے کسی طرح باز نہ آؤ اور خواہی نخواہی معانی صادقہ صحیحہ موافقہ احادیث صحیحہ عقیدہ اہلسنت وکلمات ائمہ کرام وخود اقوال مشائخ اعلام کو چھوڑ کر بے دلیل بلکہ خلاف دلائل واضحہ معنی کلام مشائخ یہی گھڑ و کہ ارواح موتی کو کسی طرح ادراک کلام نہیں ہوتا، تواب ہم ہر گز نہیں مانتے کہ اس قول کے قائل مشائخ اہلسنت ہوں جن کے ارشاد ہم پر حجت ہوں کیا مشائخ مذہب میں معتزلہ نہیں، درمختار کتاب النکاح فصل محرمات میں ایک مسئلہ کشاف زمخشری معتزلی سے نقل کیا اس پر علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمایا:
نقل ذلک عنہ لان الزمخشری من مشائخ المذہب وھوحجۃ فی النقل ۱؎۔
یہ مسئلہ اس سے اس لیے نقل کیا کہ زمخشری مشائخ مذہب سے ہے اور اس کی نقل پر اعتماد ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی المحرمات مصطفی البابی مصر ۲/۳۰۲ )
پھر یہ منع بے شاہد نہیں بلکہ اس کی صاف سند واضح موجود خود یہی امام ابن الہمام جن کے کلام سے اکثر مشائخ کی طرف انکار سماع کی نسبت نقل کرتے ہوا سی کلام میں فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اکثر مشائخ کا تلقین موتٰی سے انکار کرنا اس پر مبنی ہے کہ وہ سماع موتٰی سے منکر ہیں اور خود اسی کلام میں تلقین مذکور کوفرمایا:
اس تلقین کامطلوب ہونا اہلسنت وجماعت کی طرف منسوب ہے اور اس کا انکار معتزلہ کی طرف ۔
اورکلام امام صفار سے صاف صریح تصریح گزری کہ منع تلقین مذہب معتزلہ ہے۔ کشف الغطاء کا قول گزرا کہ جو تلقین نہیں مانتا معتزلی ہے، جوہرہ و درمختار کی عبارت گزری کہ اہلسنت کے نزدیک تلقین امرشرعی ہے تو صاف ظاہر ہو اکہ یہ مشائخ منکران سماع وہی منکران تلقین معتزلی ہیں، یہ سند واضح بہ تفصیل تام تصحیح المسائل میں مذکور تھی
(۱؎ فتح القدیر باب الجنائز مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۲ /۶۸)
با اینہمہ صاحب تفہیم المسائل نے منہ زوری سے کہا:
از اکثر مشائخنا کہ ایں ہمام مشائخ رانسبت بخود کردہ معتزلہ مراد گرفتن از بس مستعبد ست و درکلام کدامی اہلسنت چنیں واقع نہ شدہ وابن ہمام رامعتزلی قرار دادن کار معترض است وآں مسئلہ کہ خلاف عقیدہ حنفیہ اہلسنت باشد دراں ہرگز علی الاطلاق نخواہند گفت کہ ایں قول علمائے حنفیہ است کما لا یخفی علی من لہ ادنی رجوع الی الکتب پس مادامیکہ وقوع لفظ اکثر مشائخنا درکلام اہلسنت ومراد بودن از اں معتزلہ ثابت نہ کنند چگونہ ایں توضیح بمعرض تسلیم درآید ۲؎۔
آکثر مشائخنا سے کہ ابن ہمام نے مشائخ کو اپنی طرف نسبت کیا ، معتزلہ مراد لینابہت مستعبد ہے اور کسی سُنی کے کلام میں ایسا واقع نہ ہوا، ابن ہمام کو معتزلی ٹھہرانا معترض کا کام ہے، جو مسئلہ حنفیہ اہلسنت کے عقیدے کے خلاف ہو ا س میں علی الاطلاق ہر گز نہ کہیں گے کہ یہ علمائے حنفیہ کا قول ہے۔ جیسا کہ کتابوں کی طرف ادنٰی رجوع رکھنے والے پر مخفی نہیں، تو جب تک کلام اہلسنت میں اکثر مشائخنا آنا اور اس سے معتزلہ کا مراد ہونا ثابت نہ کریں، یہ توضیح کیسے تسلیم کی جاسکتی ہے (ت)
(۲؎ تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی مطبع محمدی لاہور ص۸۱)
اقول ا س ساری تطویل لاطائل کا صرف ا س قدر حاصل بے حاصل کہ کلام اہلسنت میں اکثر مشائخنا سے معتزلہ کا ارادہ مستعبدہ خلاف ظاہر ہے یہ کہنا اس وقت اچھا معلوم ہوتا کہ یا تو علامہ معترض نے یوں ہی بے سند فرمادیا ہو تا کہ یہاں معتزلہ مراد ہیں یا آپ جواب سند سے عہدہ برآہولیتے اور جب کچھ نہیں تو منع مؤید بسند واضح صرف استعباد مخالفت ظاہرسے مندفع نہیں ہوسکتا۔ ہر ادنٰی خادم علم جانتا ہے کہ ظاہر صالح دفن ہے نہ حجت اسحقاق تو اس سے مقدمہ ممنوعہ پر اقامت دلیل چاہناجہالت کہ وہ محل استحقاق ہے اور مقام دفع میں آکر منع سند مقصود ہو تو اورسخت ترجہالت
کما لایخفی علی اھل العلم
(جیسا کہ اہل علم حضرات پرمخفی نہیں۔ ت) ہاں جواب سند کی طرف بھی ایک عجیب نزاکت سے توجہ کی فرماتے ہیں:
وانکار تلقین رانسبت بہ معتزلہ بعض علمائے شافعہ زعم کردہ اند نہ حنفیہ چنانچہ د ربرجندی نوشتہ ولایلقن بعد الدفن عندنا وعندالشافعی یلقن و زعم بعض اصحابہ انہ مذہب اھل السنۃ والاول مذہب المعتزلۃ وایشا انکار تلقین را مطلقا نسبت بمعتزلہ کردہ اند نہ انکار بخصوصیت این وجہ کہ سماع موتٰی رانیست کما زعم المعترض۱؎۔
بعض علمائے شافعیہ نے انکار تلقین کو معتزلہ کی طرف منسوب کیا ہے نہ کہ حنفیہ نے ، جیسا کہ برجندی میں لکھا ہے۔ ہمارے نزدیک بعد دفن تقلین نہ ہوگی اور امام شافعی کے نزدیک تلقین ہوگی، ان کے بعض اصحاب نے فرمایا کہ یہ اہلسنت کا مذہب ہے اور اول معتزلہ کا مذہب ہے،۔ اور انھوں نے مطلقا انکار تلقین کو معتزلہ کی طرف منسوب کیاہے، نہ خاص اس وجہ سے انکار کہ مردہ کو سماع نہیں جیسا کہ معترض نے گمان کیا ۔ (ت)