وہیں دفن ہونااسی لیے کہ یہی سنت ہے، نعش کو دور لے جانا نہ چاہئے، اور زیارت کو نہ آنا یوں کہ زیارت قبور میں عورات کا حصہ کم ہے۔ ام المومنین اگر معاذاللہ ادراک سماع ارواح کی منکر ہوتیں تو اس کلام وخطاب کے کیا معنی تھے، کیا کوئی عاقل اینٹوں پتھروں سے باتیں کرتا ہے؟ او رکیونکر منکرہوتیں حالانکہ دیکھتی سنتی جانتی تھی کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اموات سے سلام وکلام وخطاب فرمایا کرتے تھے،خودروایت فرماتی ہیں کہ میری ہر شب نوبت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم آخرشب مقبرہ بقیع تشریف لے جاتے اور فرماتے:
السلام علیکم دار قوم مومنین واتاکم ماتوعدون غدا مؤجلون وانا ان شاء اﷲ بکم لاحقون ۱؎۔ راوہ مسلم
سلام تم پر اے ان گھروں والے مسلمانو! اب تم کو ملا چاہتا ہے جس کا تم سے وعدہ ہے تمھاری معیاد کل کے دن ہے۔ اور خدا چاہے تو ہم تم سے ملنے والے ہیں اسے مسلم، نے روایت کیا۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الجنائز اصح المطابع کراچی ۱ /۳۱۴)
ولفظ النسائی مکان قولہ اتاکم الی موجلون وانا ایاکم متواعدون غدا ومواکلون ولابن ماجۃ من وجہ آجر واشار الیہ النسائی ایضا بعد السلام انتم لنافرط وانا بکم لاحقون ۲؎۔
اور نسائی میں اتاکم سے مؤجلون تک کی جگہ یہ الفاظ ہیں ہم اور تم آپس میں کل کے وعدے پر ہیں اور اسی پربھروسہ کیے ہوئے ہیں، اور ابن ماجہ کے الفاظ دوسرے ہیں، نسائی نے بھی لفظ ''سلام'' کے بعد اسی طرف اشارہ کیا ہے تم ہم سے پہلے پہنچ گئے اور خداچاہے تو ہم تم سے ملنے والے ہیں۔ (ت)
(۲؎ سنن نسائی الامر بالا ستغفار للمومنین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۸۷)
کیونکر منکرہوتیں، حالانکہ خود دریافت کرچکی تھیں کہ یا رسول اللہ ! کہ جب میں مدفونانِ بقیع کی زیارتوں کو جاؤں توا ن سے کیا کہوں، حکم ہوا تھا سلام کرکے یوں کہوں کہ ان شاء اللہ ہم تم سے ملنے والے ہیں۔
مسلم ونسائی وغیرھما عنہا فی حدیث طویل قالت قلت کیف اقول لھم یا رسول اﷲ قال قولی السلام علیکم اھل الدیار من المومنین المسلمین ویرحم اﷲ المستقدمین منا والمستاخرین وانا ان شاء اﷲ بکم لا حقون ۳؎۔
مسلم ونسائی وغیرہما نے حضرت صدیقہ سے ایک حدیث طویل میں روایت کیا، انھوں نے عرض کیا: میں ان سے کیا کہوں یا رسول اللہ؟ فرمایا: یوں کہو تم پر سلام اے قبر ستان والو مومنین مسلمین سے! خدا ہمارے اگلوں اور پچھلوں پر رحم فرمائے، بیشک ہم تم سے ملنے والے ہیں اگر اللہ نے چاہا۔ (ت)
(۳؎ سنن نسائی الامر بالا ستغفار للمومنین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۸۷)
بالجملہ ام المومنین صرف سماع جسمانی کا انکار فرماتی ہیں مگر از انجا کہ احادیث ثقات عدول شاہد ہیں ان واقعہ کے رَد کی طرف سبیل نہیں، جمہور علماء نے اس مسئلہ میں ان کا انکار قبول نہ کیا اور یہی مانا کہ اگر چہ تین دن گزر گئے ان خبیثوں کے ناپاک جسم پھُول پھَٹ گئے تھے اور شک نہیں کہ جسم مردہ ہرگز سننے کے قابل نہیں مگر پھر بھی انھوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد اسی گوش سر سے سنا کہ اللہ عزوجل نے ان کی زیادت حسرت کے لیے ان خالی جسموں کو اس وقت پھر زندہ فرمایا تھا اور اس میں آیات کی کچھ مخالفت نہ ہوئی کہ سنا اللہ عزوجل کی طرف سے ہوا، نہ وہ جِلاتا نہ یہ ان کانوں سے سنتے، وصف موتٰی آیت میں ملحوظ ہے یعنی میّت جب تک میّت ہے اسے سنا نہیں سکتے اور بعدہ، اعادہ روح، اب وہ میّت ہی نہیں تو آیات کا اصلاً محل ورود نہ رہا۔
اقول یہ تقریر کلام جانبین بحمد اللہ تعالٰی سب تکلفات سے مجانب ومنزہ ہے۔ اور اب ام المومنین پروہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ جب علم مانتی ہیں سماع کیوں نہیں مانتیں، علم روح کے لیے ہے سمع جسمانی بحالت موت جسم کیونکر ہوا، اور اب خود ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حدیث کہ امام احمد نے بسند حسن ان سے اسی قصہ بدر میں یہی لفظ روایت کیے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ما انتم باسمع لما اقول منھم
تم میرا فرمانا کچھ ان سے زیادہ نہیں سنتے (جسے علماء نے بشرط محفوظی رجوع ام المومنین پرمحمول کیا تھا کہ جب متعدد صحابہ کرام حاضران واقعہ سے روایت سنی انکار سے رجوع فرمائی) ممکن کہ اثبات سماع روح پر محمول ہو کر نفی واثبات میں تنافی نہ رہے کہ شاذ ومحفوظ کا قصہ چلے یعنی ام المومنین ان لفظوں پر انکار نہیں کرتیں انھیں تو خود حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں بلکہ انکار(عہ) اس معنی پر ہے جو اوروں نے سمجھا یعنی جسمانی نہ مانو کہ خلاف آیت ہے بلکہ مراد حضور سمع رو ح ہے ،
عہ:امام عینی کا بھی ایک کلام اس مسلک کی طرف ناظر:
فان ام المومنین لما وھمت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم فی حدیث تعذیب المیّت ببکاء اھلہ وشبھت وھمہ فیہ یوھمہ فی حدیث القلیب قال العینی وجہ المشابھۃ بینھما حمل ا بن عمر علی الظاھر المراد منہما ای من الحدیث غیر الظاھر ۱؎ الخ بیدان الاظھر من کلامھا رضی اﷲ تعالٰی عنہا ھو المسلک الاول واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)
تو ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا نے جب حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کی میّت کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میّت کو عذاب دینے۔'' والی حدیث کے بارے رائے کو وہم قرارد یا اور ان کی اس رائے کو قلیب والی حدیث میں ان کے وہم کی طرح قرار دیا، اس پر علامہ عینی نے فرمایا دونوں حدیثوں میں وجہ مشاہت یہ ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دونوں حدیثوں کا ظاہری مفہوم مراد لیا جبکہ ان دونوں کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے الخ مگر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا کے کلام سے پہلا مسلک ہی زیادہ واضح ہے واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری مخاطبۃ النبی ْصلی اللہ علیہ وسلم اہل القلوب بعد موتہم ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۷/ ۹۳)
میں بحمدا للہ تعالٰی بعد اتضاح مراد اس کی حاجت نہیں رکھتا کہ قول ام المومنین کے جواب میں امام اسمٰعیلی وامام بیہقی وامام سہیلی و امام سبکی واما م عسقلانی وامام سیوطی وامام قسطلانی ومولانا علی قاری وشیخ محقق وعلامہ زرقانی وغیرہم اکابر کے کلام نقل کروں اگر چہ یہ سب اس وقت میرے پیش نظر ہیں، مگر ہاں امام عینی کی بعض عبارات نقل کروں گا کہ یہ وہی عینی شارح کنز ہیں جن سے اس مسئلہ میں مخالف نے جہلا استناد کیا،
عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری کتاب الجنائز باب ماجاء فی عذاب القبر میں فرماتے ہیں:
فان قلت ماوجہ ذکر حدیث ابن عمر وحدیث عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم وھما متعارضان فی ترجمۃ عذاب القبر قلت لما ثبت من سماع اھل القلیب کلامہ وتوبیخہ لھم دل ادراکھم کلام بحاسۃ السمع علی جواز ادراکھم الم العذاب ببقیۃ الحواس، فحسن ذکر ھما فی ھذہ الترجمۃ ثم التوفیق بین الخبرین ان حدیث ابن عمر محمول علی ان مخاطبۃ اھل القلب کانت وقت المسئلۃ وقتھا وقت اعادۃ الروح الی الجسد ، وان حدیث عائشۃ محمول علی غیر وقت المسئلۃ فبھذا یتفق الخبران ۱؎۔
یعنی بخاری نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی حدیث کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان
لاشوں سے خطاب کیا اور فرمایا سنتے ہیں ، ا ور حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث کہ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جانتے ہیں، د ونوں اس عذاب قبر میں اس لیے ذکر کیں کہ جب انھوں نے حس گوش سے کلام سن لیا تو باقی حواس سے عذاب کا الم بھی ادراک کرلیں گے، اور ان حدیثوں میں موافقت یوں ہے کہ ابن عمر کی حدیث خطاب وقت سوال نکیرین پر محمول ہے اس وقت بدن میں روح آجاتی ہے اور ام المومنین کی حدیث او روقت پر محمول ہے جب بدن خالی رہ جاتا ہے یوں دونوں حدیثں متفق ہوجائیں گی۔ (ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح بخاری باب ماجاء فی عذاب القبر ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۸/ ۲۰۲)